امریکی جیلوں میں اسلام 11-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Sunday, July 14, 2019

امریکی جیلوں میں اسلام 11-2019


امریکی جیلوں میں اسلام

تحریر: جناب حافظ عبدالوحید سوہدروی
امریکہ کی جیلوں کے اندر بفضل خدا تبلیغ دین کا کافی کام ہو رہا ہے۔ اس کا کریڈٹ جیلوں کا ماہانہ دورہ کرنے والے بیرونی حضرات کو نہیں بلکہ جیلوں کے اندر مسلمان ہو جانے والے قیدیوں کو جاتا ہے۔ ان میں اکثریت سیاہ فام امریکیوں کی ہے جن کو جولائی ۱۹۶۴ء میں سول رائٹ بل کے تحت برابری کے حقوق ملے تھے۔ اس سے قبل وہ سفید فام امریکیوں کے غلاموں کی طرح زندگی بسر کر رہے تھے اور ان ہی کے مذہب کے پیروکار بن چکے تھے۔ ان کے معاشی حالات اچھے نہ ہونے کی وجہ سے ان میں جرائم کی شرح بھی زیادہ ہے۔ چنانچہ امریکہ کی جیلوں میں تقریبا ۷۵ فیصل آبادی ان ہی لوگوں کی ہے۔ ان سیاہ فام قیدیوں میں سے مختلف جیلوں میں صرف ایک سے پانچ فیصد تعداد مسلمان قیدیوں کی ہو گی۔ بعض جیلوں میں کوئی بھی مسلمان نہیں۔ جیل میں داخل ہونے کے وقت اکثر قیدیوں کی عمر ۲۰ سے ۳۰ سال کے لگ بھگ ہوتی ہے۔
مسلمان قیدیوں کی اکثریت وارث دین محمد مرحوم کی پیروکار ہے جن کے والد عالیجاہ محمد امریکہ میں کالے مسلمانوں کے مذہبی لیڈر تھے اور ان کو مقام نبوت پر فائز سمجھا جاتا تھا۔ ان کی جماعت کا نام نیشن آف اسلام تھا۔ ان کی زندگی ہی میں ان کے بیٹے وارث دین محمد کے عقائد درست ہو چکے تھے جن پر والد کی طرف سے تبلیغ پر پابندی لگا دی گئی تھی مگر ۱۹۷۵ء میں والد کی وفات کے بعد جب فراخان کی سرکردگی میں ان کے والد کے ساتھ مخلص گروپ نیشن آف اسلام پر قابض ہو گیا تو وارث دین محمد نے الگ گروپ بنا کر کام شروع کر دیا۔ اس طرح کالے مسلمان دو حصوں میں تقسیم ہو گئے۔ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ اب دونوں گروپ ایک دوسرے کے قریب آ رہے ہیں۔ لہٰذا جیلوں میں کالے مسلمان بھی ان ہی دو گروپوں میں تقسیم ہیں۔ البتہ جیلوں کے اندر اور باہر اکثریت وارث دین محمد مرحوم کے پیروکارں کی ہے۔ وارث دین محمد ستمبر ۲۰۰۸ء میں کسی کو اپنا جانشین بنائے بغیر وفات پا گئے۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے۔ آمین!
ہر جیل میں عیسائی قیدیوں کے لیے چرچ بنا ہوتا ہے جس میں ایک پادری اور ایک نائب پادری کا تقرر سرکاری خرچے پر ہوتا ہے۔ ان کو چیپلن کہا جاتا ہے۔ قریبا پچیس تیس سال قبل سے مسلمان قیدیوں کی رہنمائی کے لیے بھی جیلوں میں مسلم چیپلن کا تقرر شروع ہوا مگر پندرہ بیس جیلوں کے لیے ایک مسلم چیپلن کی شرح سے جو کہ پھر بھی غنیمت ہے‘ تقریبا ۹۰ فیصد مسلم چیپلن وارث دین محمد کے گروپ سے ہیں جن کی علمی استعداد کا کچھ نہ پوچھیے۔
چیپلن کی معاونت کے لیے قیدیوں کو مذہبی لیکچر دینے کی غرض سے مہینہ میں ایک دو بار بیرونی رضا کاروں کو خصوصی ٹریننگ کے بعد جیل میں جانے کی اجازت ہوتی ہے۔ چنانچہ مسلمان رضا کاروں نے بھی جیلوں میں جا کر تبلیغ کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے جس کی وجہ سے قیدیوں کے عقائد میں اب رفتہ رفتہ مثبت تبدیلی آ رہی ہے۔ زیادہ تر رضا کار اپنے طور پر جیل کا وزٹ کرتے ہیں۔ بعض شہروں میں یہ کام منظم انداز سے ہو رہا ہے۔ مثلاً ہمارے شہر ہوسٹن میں جو کہ ریاست ٹیکساس کا سب سے بڑا اور امریکہ کا چوتھے نمبر پر شہر ہے۔ (نیویارک‘ شکاگو اور لاس اینجلس کے بعد) اسلامک سوسائٹی آف گریٹر ہوسٹن کے تحت ہر ماہ دو رضا کاروں پر مشتمل ۶۰ ٹیمیں‘ ریاست کی ۶۰ مختلف جیلوں کا ماہانہ دورہ کرتی ہیں جس کے نتائج بحمد اللہ اچھے برآمد ہو رہے ہیں۔ قانون مساوات کی وجہ سے کئی جیلوں میں شیعہ‘ صوفی اور مرزائی رضا کار بھی جاتے ہیں۔
رضا کاروں کو چیپلن کی منظوری سے قیدیوں کو دینے کے لیے قرآن پاک اور اسلامی کتابیں اندر لے جانے کی اجازت ہوتی ہے جس کی وجہ سے ان کے محدود علم میں اضافہ ہونے کی ساتھ ساتھ وسعت نظر بھی پیدا ہو رہی ہے۔ کئی قیدی مختلف مساجد اور تنظیموں کو خطوط لکھ کر انفرادی طور پر بھی مفت کتابیں حاصل کرتے ہیں۔ الحمد للہ! دارالسلام ہوسٹن برانچ نے قیدیوں کو مفت کتب بھیجنے کے لیے جیل فنڈ قائم کر رکھا ہے مگر دن بدن قرآن وحدیث اور دیگر اسلامی کتب کی مانگ بڑھتی جا رہی ہے۔ جسے ہم فنڈز میں کمی کے باعث پورا نہیں کر پا رہے۔ جب باری آنے پر دو چار ماہ کی تاخیر سے آرڈر بھیجا جاتا ہے تو کئی قیدیوں کی ایک جیل سے دوسری جیل میں ٹرانسفر ہو چکی ہوتی ہے اور کتب واپس آجاتی ہیں۔ علاوہ ازیں اپنی جیب سے خرچ کرنے والے قیدیوں کے لیے دار السلام نے پچیس فیصد رعایت دینے کی پالیسی اپنا رکھی ہے جس سے صاحب حیثیت قیدی فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
جیل کا دورہ کرنے پر بعض اوقات ہمیں حیران کن انکشافات سے بڑی مسرت ہوتی ہے۔ مثلاً بعض قیدی اپنی فرصت کا بھر پور فائدہ اٹھاتے ہوئے قرآن پاک کے ترجمہ کو اس طرح از بر کر لیتے ہیں جیسے کسی حافظ کو قرآن پاک یاد ہوتا ہے کیونکہ دوران لیکچر جب ہم کسی آیت کا ذکر کرتے ہیں تو وہ فورا آیت نمبر اور سورت نمبر کا حوالہ زبانی بتا کر ہمیں ورطۂ حیرت میں ڈال دیتے ہیں۔ سبحان اللہ‘ اس طرح آیات کے نمبر تو حافظ قرآن کو بھی یاد نہیں ہوتے۔
جیل کے اندر اسلام پھیلنے کا بڑا سبب:
’’دیے سے دیا جلتا ہے۔‘‘
جیل کے مسلم قیدیوں میں بلا مبالغہ ۹۹ فیصد ایسے نو مسلم قیدیوں کی تعداد ہے جنہوں نے جیل کے اندر ہی اسلام قبول کیا ہوتا ہے۔ وہ اس طرح کہ جب کوئی ایک شخص مسلمان ہو جاتا ہے تو وہ اپنی برادری کے دوسرے افراد کو قائل کرنے کی بھر پور کوشش کرتا ہے۔ چونکہ وہ بائبل سے آشنا اور اس کے تناقضات سے بخوبی واقف ہوتے ہیں (جو ہمارے لیے ناممکن ہے) جسے وہ دکھا کر اور بائبل وقرآن کا تقابلی جائزہ پیش کر کے مد مقابل کو قائل کر لیتے ہیں۔ جب ہم جیل میں جاتے ہیں تو انہیں صرف کلمہ پڑھا کر اسلام میں داخل کرنے کی پگڑی اپنے سرباندھ لیتے ہیں۔ جبکہ اصل کام نومسلم قیدیوں نے کیا ہوتا ہے جس کے کریڈٹ کے وہ حقدار ہیں۔ اب نو مسلم قیدیوں کے بغیر کسی نمونہ کے اسلامی احکامات پر عمل پیرا ہونے کے چند واقعات ملاحظہ کیجیے۔
1         ایک جیل میں ہم نے ظہر کی نماز پڑھی تو قیدیوں میں سے ہی ان کے امام نے بالجہر تلاوت کی (جس طرح مغرب‘ عشاء اور فجر کی نمازوں میں کی جاتی ہے) مگر ہلکی اونچی آواز میں۔ بعد از نماز دریافت کرنے پر اس نے کہا کہ سورۂ نمبر ۱۷ کی آیت نمبر ۱۱۰ میں اسی طرح حکم ہے۔ قارئین بھی اس آیت کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں:
’’کہہ دیجیے کہ اللہ کو اللہ کہہ کر پکارو یا رحمان کہہ کر جس نام سے بھی پکارو تمام اچھے نام اسی کے ہیں۔نہ تو تو اپنی نماز بہت بلند آواز سے پڑھ اور نہ بالکل پوشیدہ‘ بلکہ اس کے درمیان کا راستہ تلاش کر لے۔‘‘
                سبحان اللہ! بے چارے قیدیوں نے قرآن کے ترجمہ کے مطابق جس طرح سمجھا عمل شروع کر دیا۔ ہمیں امید رکھنی چاہیے کہ ان شاء اللہ نیک نیتی سے کیا ہوا ان کا ہر عمل عند اللہ مقبول ہو گا چاہے غلط ہی کیوں نہ ہو۔ کیونکہ نہ ہی ان کی رسائی تفسیر وحدیث کی کتابوں تک ہے اور نہ ہی علماء تک۔ جب میں نے ان کو اس آیت کی شان نزول اور نبی اکرمe کی سنت سے آگاہ کیا تو بحمد اللہ انہوں نے تسلیم کر لیا۔
2         قیدیوں کو ہفتہ میں دو تین بار مذہبی اجتماع کرنے کی اجازت ہوتی ہے جس کا دورانیہ دو تین گھنٹے کا ہوتا ہے‘ اس کا نام انہوں نے تعلیم کلاس رکھا ہوا ہے۔ یہ تعلیم عموما جیل کے چرچ میں ہوتی ہے اور درمیان میں ظہر یا عصر کی نماز کا وقت آجاتا ہے۔ چرچ میں رکھی ہوئی سیدنا عیسیٰu اور سیدہ مریمr کی مورتیوں اور تصویروں کو اگر ممکن ہو تو قبلہ کی جانب سے ہٹا دیتے ہیں وگرنہ ان کو ڈھانپ دیتے ہیں۔ ایک جیل کے چرچ میں تحیۃ المسجد کے دو نفل پڑھنے کا اہتمام دیکھا اور قیدیوں میں اس مسئلہ پر اختلاف محسوس کیا تو ان کو سمجھایا کہ چرچ پر مسجد کے حکم کا اطلاق نہیں ہو گا۔ آپ لوگ تو مجبوری سے اس مقام پر نماز پڑھتے ہیں وگرنہ سیدنا عمرt نے دوران خلافت بیت المقدس کے سفر میں باوجود عیسائی پادریوں کی پیشکش کے چرچ میں نماز نہیں پڑھی تھی۔ الحمد للہ! بات ان کی سمجھ میں آگئی اور اختلاف مٹ گیا۔
3         جیل قانون کے مطابق کچھ کچھ وقفہ سے قیدیوں کی گنتی ہوتی رہتی ہے۔ ایک روز ہم ظہر کی نماز باجماعت پڑھ رہے تھے کہ آفیسر نے گنتی کی آواز لگا دی۔ قیدی بیچارے نماز چھوڑ کر گنتی کرنے والے افسر کے روبرو حاضر ہو گئے۔ بعد میں ان کو سمجھایا کہ ایسے وقت میں نماز ہی شروع نہ کیا کریں کہ توڑنی پڑ جائے۔
میری ہر ماہ کے پہلے ہفتہ (سنیچر) کے روز دو جیلوں میں جانے کی ابتداء تو الحمد للہ ۱۸-۲۰ سال قبل ہوئی تھی مگر کسی جیل کے اندر پہلی بار جمعہ پڑھانے کا اتفاق اپریل ۲۰۱۱ء میں ہوا۔ جب میں ایک مسلم چیپلن کے ہمراہ اندر گیا تو اپنی طرح اس کی چھان بین‘ تلاشی اور جوتے اترتے ہوئے دیکھ کر حیران ہوا کہ ان بیچاروں کے ساتھ بھی ہمارے جیسا سلوک ہو رہا ہے۔ دراصل جیل میں داخل ہوتے وقت ہر کسی کو ان مراحل سے گزرنا پڑتا ہے جن سے آج کل لوگوں کو امریکہ اور یورپ کے ایئرپورٹوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ چاہے وہ جیل میں کام کرنے والا افسر ہو‘ رضا کار ہو یا قیدیوں سے ملاقات کرنے والا ان کا رشتہ دار‘ سب کی مکمل چھان بین ہوتی ہے۔ یہ سب کچھ ۱۱/۹ کے بعد سے شروع ہوا۔ اس سے قبل کا زمانہ ہمیں اچھی طرح یاد ہے کہ صرف اپنا شناختی کارڈ دکھا کر اندر چلے جاتے تھے۔ اب موجودہ صورت حال عذاب نہیں تو کیا ہے؟
جس طرح امریکہ کی کسی جیل میں بتوفیقہ میرا یہ پہلا خطبہ تھا اسی طرح معلوم ہونے کی حد تک جیلوں کی تاریخ میں بھی یہ پہلا موقعہ تھا کہ قیدیوں نے کسی بیرونی خطیب کا خطبہ جمعہ سنا ہو۔ اگرچہ اکثر جیلوں میں قیدی جمعہ کا اہتمام کرتے ہیں۔ اس جیل میں جمعہ پڑھنے والے قیدیوں کی تعداد ۸۰ کے لگ بھگ تھی۔ بمطابق سنت پڑھے جانے والے جمعہ میں ان کے لیے کافی چیزیں تھیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اسے بلا ریاء وسمعہ قبول فرما لے۔ آمین!
میں نے اب ہر ماہ میں ایک جمعہ جیل والوں کے لیے مختص کر دیا ہے اور ان شاء اللہ دوسرے خطیبوں کو بھی اس کی ترغیب دلاؤں گا مگر مشکل یہ ہے کہ ابھی امریکہ کی مساجد میں انگلش دان علماء کی بہت کمی ہے‘ جو خطیب تنخواہ پر کہیں متعین ہیں وہ مسجد انتظامیہ کی مرضی کے بغیر بغرض جمعہ کہیں جا نہیں سکتے۔ امریکہ کی نئی پالیسی کے مطابق اب کسی غیر ملکی عالم کا امریکہ میں آنا ایک حد تک ناممکن ہو چکا ہے بلکہ اب تو امریکہ میں رہائش پذیر علماء کو کسی نہ کسی بہانے سے ملک بدر کیا جا رہا ہے۔ ابھی چار ماہ قبل ہمارے شہر سے ایک خطیب کو عوامی غم وغصہ کے باوجود کچھ عرصہ جیل میں رکھنے کے بعد ملک سے نکال دیا گیا جو ۱۲ سال سے یہاں پر دین کی خدمت کر رہا تھا۔ کئی علماء جو امریکی شہری ہیں اس وقت جیلوں میں ہیں۔ اس معاملہ میں قارئین سے خصوصی دعا کی درخواست ہے۔
جیل کے مسلم قیدی غیر مسلموں کو اپنے لیکچر میں آنے کی دعوت دیتے ہیں۔ ایسے آنے والوں کو وہ گیسٹ (مہمان) کہتے ہیں۔ کئی دفعہ تو وہ کافی تعداد میں ہوتے ہیں۔ یہ بھی تبلیغ دین کا ایک اچھا ذریعہ ہے۔ لیکچر کے بعد سب کو سوال وجواب کا موقع دیا جاتا ہے۔
 قیدیوں کو کام کی اُجرت:
جیل کے اندر بعض قیدیوں کو کام کرنے کی اجرت بھی دی جاتی ہے مگر آپ حیران ہوں گے کہ صرف ایک کواٹر یا دو کواٹر فی گھنٹہ یعنی ایک ڈالر کے چوتھائی یا نصف حصہ کے حساب سے جبکہ جیل کے باہر کم از کم اجرت سوا سات ڈالر فی گھنٹہ مقرر ہے۔
 جیل میں کھانے کے اوقات:
بعض جیلوں میں قیدیوں کو صبح کا ناشتہ رات کے اڑھائی بجے‘ دوپہر کا کھانا صبح ۳۰:۹ بجے اور رات کا کھانا سہ پہر کے وقت دیا جاتا ہے جس کی حکمت ما سوائے قیدیوں کو جگراتے کی سزا دینے کے اور کچھ سمجھ نہیں آتی۔
 جیل میں قیدیوں کی موج:
یہاں کی سب جیلیں ایئر کنڈیشنڈ اور آرام دہ ہیں۔ کھیل کود اور ٹیلیویژن کی سہولت بھی میسر ہے۔ کھانا اچھا ملتا ہے۔ یوں سمجھیے کہ امریکہ کے قیدی ہمارے ملک کے فوجیوں سے بھی زیادہ مزے میں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سرکاری اعداد وشمار کے مطابق رہا ہونے والے قیدیوں میں سے ۲۷ فیصد کوئی نہ کوئی جرم کر کے پھر جیل واپس آجاتے ہیں۔ ما سوائے مسلم قیدیوں کے جن کی شرح واپسی الحمد للہ بہت کم ہے۔
 سرکاری اعداد وشمار:
امریکہ کی ریاست کیلی فورنیا کے بعد ریاست ٹیکساس میں سب سے زیادہ سرکاری جیلیں ہیں جن کی تعداد ۱۱۲ ہے۔ جن میں ایک لاکھ پچاس ہزار قیدی محبوس ہیں۔ ان کی خدمت اور نگرانی کرنے والے عملے کی تعداد ۴۱ ہزار ہے۔ گویا ہر تین چار قیدیوں کے لیے ایک خدمت گار یا افسر کا تقرر ہے۔ اس سے آپ قومی دولت کے ضیاع کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ ہر قیدی کی رہائش وخورد نوش پر روزانہ پچاس ڈالرز خرچ آتے ہیں۔
 غیر سرکاری جیل:
امریکہ میںسرکاری جیلوں کے علاوہ غیر سرکاری جیلیں بھی ہوتی ہیں جو مختلف تنظیمیں ہسپتالوں کی طرح بزنس کے طور پر چلا رہی ہیں۔ جب سرکاری جیلوں میں گنجائش نہیں رہتی تو فالتو قیدی انہیں منتقل کر دیئے جاتے ہیں۔ نیز کم خطرناک مجرم بھی ان جیلوں میں رکھے جاتے ہیں۔ عام آدمی دونوں جیلوں میں فرق محسوس نہیں کر سکتا البتہ رضا کاروں کو پتہ ہوتا ہے۔
 رضا کاروں کی ٹریننگ کلاس:
ہر دو سال بعد رضا کاروں کو ۴ گھنٹہ کی ٹریننگ لینا پڑتی ہے جس میں بہت سارے موضوعات زیر بحث آتے ہیں۔ خصوصی طور پر جیل میں ناگہانی صورت حال پیدا ہونے یا قیدیوں کا کسی کو یرغمال بنا کر مطالبات پیش کرنا جیسے امور سے متعلق ہدایات ہوتی ہیں۔ قیدیوں کی نگرانی کرنے والے ہر افسر کو بوقت ضرورت قیدی کی آنکھوں میں سپرے کرنے کے لیے آلہ دیا جاتا ہے جسے کیمیکل ایجنٹ کہا جاتا ہے۔ اگر کوئی رضا کار اس سے متاثر ہو جائے تو اس کے اثرات زائل کرنے کے لیے ہدایات دی جاتی ہیں۔
گذشتہ سال ماہ اپریل میں لی گئی ٹریننگ کلاس میں ہم پر واضح کر دیا گیا کہ یرغمال بنانے کے معاملہ میں کسی اونچ نیچ کی ذمہ داری حکومت پر نہیں ہو گی۔ چونکہ جیل میں بڑے سے بڑا مجرم بھی ہوتا ہے لہٰذا رضا کار بن کر جیل کے اندر جانا اپنے آپ کو معمولی خطرے میں ڈالنے والی بات نہیں۔ بس اللہ پاک ہی حفاظت کرنے والے ہیں۔ دعا ہے کہ وہ ہماری مساعی کو قبول فرما لے۔ آمین!


No comments:

Post a Comment

View My Stats