ماہ رجب المرجب مروجہ بدعات 11-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Sunday, July 14, 2019

ماہ رجب المرجب مروجہ بدعات 11-2019


ماہِ رجب المرجب ... مروجہ بدعات

تحریر: جناب قاری محمد اقبال (الریاض)
سنت نبوی کی روشن شاہراہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اورجنت کا راستہ ہے؛ جبکہ دین میں بدعات کا اجراء ضلالت اور جہنم کا راستہ ہے۔ اللہ کے رسول e کا فرمان ہے:
’’میں تمہیں سیدھی روشن شاہراہ پر چھوڑ کر جارہا ہوں۔ اس کی رات بھی دن کی طرح روشن اور واضح ہے۔ میرے بعد کوئی ہلاکت اور تباہی چاہنے والا ہی اس راہ سے ہٹے گی۔(احمد)مطلب یہ کہ سنت کی راہ جنت اوررضائے الٰہی کی راہ ہے مگر بدعت کی راہ اختیار کرنے والے کے لیے جہنم اور تباہی مقدر ہے۔                         
اسلام کے صاف ستھرے اور پاکیزہ دین کو اسی دین کے نام لیواؤں نے مختلف بدعات کے اجراء کے ذریعے چیستاں بنا کر رکھ دیا ہے۔ ویسے تو کوئی بھی مہینہ بدعات وخرافات سے خالی نہیں رہنے دیا گیا مگر رجب وہ مہینہ ہے جسے کثرت رسوم و بدعات سے ظلمات بعضہا فوق بعض کا مظہر بنا دیا گیا ہے۔
رجب کے لغوی معنی عزت واحترام کے ہیں۔ زمانہ جاہلیت میں اس مہینے کا بہت زیادہ احترام کیا جاتا تھااس لیے اس ماہ کو رجب کے نام سے موسوم کر دیا گیا۔ صحیح احادیث میں رجب کو چار حرمت والے مہینوں میں سے ایک شمار کیا گیا ہے۔ بقیہ تین مہینے یہ ہیںجو لگا تار ہیں۔ ذوالقعدہ، ذوالحجۃ اور محرم ۔ حدیث سے اس کی حرمت تو ثابت ہوتی ہے مگر اس کے علاوہ اس کی کوئی خاص فضیلت یااس مہینہ میں کسی خاص عبادت کے افضل ہونے کا کوئی ثبوت نہیں۔
رجبی عمرہ:
بعض لوگ بطور خاص اس مہینے میں عمرہ کرنے کو بہت اجرو ثواب کا کام سمجھتے ہیں۔ اس عمل پر کوئی دلیل کتاب وسنت اور عمل صحابہ میں نہیں پائی جاتی۔اس کے بجائے آپ e نے رمضان المبارک میں عمرہ کرنے کو حج کے برابر ثواب والاعمل قرار دیا ہے۔ اسی طرح حج کے مہینوں میں عمرہ کرنے کی بھی خاص فضیلت وارد ہے۔ یہ مہینے شوال، ذوالقعدہ اور ذوالحجہ ہیں۔ صحیحین میں ام المؤمنین سیدہ عائشہr کا یہ قول مروی ہے کہ
[مَا اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّہِﷺ فِي رَجَبٍ قَطُّ۔] (البخاری: ۱۷۷۶، و مسلم: ۱۲۵۵)
’’رسول اللہe نے رجب میں کبھی عمرہ ادا نہیں کیا۔‘‘
کسی خاص زمانے میں متعین عبادت نہیں کی جا سکتی جب تک اس پر شرعی دلیل موجود نہ ہو۔ ہاں البتہ اگر کوئی شخص رجب کی خاص فضیلت کا اعتقاد رکھے بغیر رجب میں مکہ مکرمہ چلا جائے اور عمرہ کرے تو اس میں کوئی حرج والی بات نہیں۔
صلوٰۃ الرغائب:
سب سے پہلے ہم اس بدعت کا ذکر کریں گے جو رسو ل اللہ e کے دنیا سے تشریف لے جانے سے قریبا پونے پانچ سو سال بعد دین میں داخل کرنے کی کوشش کی گئی۔ایک من گھڑت روایت کو بنیاد بنا کر اس بدعت کی عمارت کھڑی کی گئی۔اس موضوع روایت کے مطابق یہ ایک نماز ہے جس کا نام اس کے وضاعین نے ’’صلاۃ الرغائب‘‘ رکھا۔ یہ نماز ماہ رجب المرجب کی پہلی جمعرات کا روزہ رکھنے کے بعد جمعہ کی شب مغرب اور عشاء کی نمازوں کے درمیان ادا کی جاتی ہے۔اس نماز کی بارہ رکعتیں ہوتی ہیں۔ ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیرا جاتا ہے۔ نماز کی ہر رکعت میں سورۃ الفاتحہ کے بعد تین مرتبہ سورۃ القدر اور بارہ مرتبہ سورۃ الاخلاص پڑھی جاتی ہے۔نماز کے اختتام پرستر مرتبہ یہ درود شریف پڑھا جاتا ہے:  [اللَّہُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ الأُمِّيِّ وَآلِہِ۔] پھر دو سجدے کیے جاتے ہیں۔ ہر سجدے میں ستر مرتبہ [سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِکَۃِ وَالرُّوحِ] پڑھا جاتا ہے۔ سجدے کے بعد یہ دعا ستر مرتبہ پڑھی جاتی ہے: [رَبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ وَتَجَاوَزْ عَمَّا تَعْلَمْ إِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیزُ الاَعْظَمُ]، پھر دوسرے سجدے میں بھی اسی طرح کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد نماز پڑھنے والا اپنی جو بھی حاجت بیان کرے گا اس کی وہ حاجت پوری کی جائے گی۔ اس خود ساختہ نماز کی ایسی ایسی مبالغہ آمیز فضیلتیں بیان کی گئی ہیں کہ جن سے یہ نماز خود بخود باطل اور بدعت ثابت ہو جاتی ہے۔مثلا یہ کہ اس نماز کی ادائیگی پر اس کے سارے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیںچاہے وہ سمندر کی جھاگ اور درختوں کے پتوں کے برابر ہوں۔ وہ روز قیامت اپنے خاندان کے ستر افراد کی سفارش کر سکے گا۔اس نماز کا ثواب جب قبر میں آئے گا تو صاحب قبر اس سے کہے گا: تم کون ہو؟ اللہ کی قسم!میں نے تم سے زیادہ حسین، خوش گفتار اور خوشبو دار جسم نہیں دیکھا۔یہ کہے گا: میں تمہاری اس نماز کا ثواب ہوں جو تم نے رجب کی فلاں رات میں پڑھی تھی۔ آج میں تمہارا حق لوں گا، قبر میں تمہاری تنہائی دور کروں گا، تمہاری وحشت کو دور کروں گا، روز قیامت میں تمہارے سر پر سایہ فگن رہوں گااور تم کبھی خیر سے محروم نہیں رہو گے۔پھر وہ خوشخبری سنائے گا کہ آج تو میری وجہ سے عذاب قبر سے بچ گیا ہے۔ علامہ ابن الجوزیa نے اس نماز والی روایت کو موضوع یعنی من گھڑت قرار دیا ہے۔ سب سے پہلے یہ نماز سن ۴۸۰ ہجری میںبیت المقدس میں ادا کی گئی۔
احباب گرامی قدر! اندازہ فرمائیں کہ جو عبادت عہد نبوی میں نہ رسول اللہ e نے اداکی، نہ صحابہ کرام نے کی، نہ تابعین کرام نے نہ تبع تابعین نے یہ عبادت کی۔ وہ چیز جو پونے پانچ سو برس تک دین کا حصہ نہ تھی، اچانک اتنی مدت کے بعد وہ دین کا حصہ کیسے بن گئی؟! شیخ الاسلام امام ابن تیمیہa فرماتے ہیں:
’’صلاۃ الرغائب کی دین میں کوئی اصل نہیں بلکہ یہ ایک بعد میں ایجاد کردہ بدعت ہے۔یہ جماعت کے ساتھ پڑھنا مستحب ہے نہ ہی انفرادی طور پر اس کی ادائیگی درست ہے، بلکہ صحیح مسلم میں ثابت ہے کہ نبی کریم e نے جمعہ کی رات قیام کرنے کے لیے اور جمعہ کے دن کو روزہ رکھنے کے لیے خاص کرنے سے منع فرمایا ہے۔اس نمازکی مشروعیت کے سلسلے میں جو اثر ذکر کیا گیا ہے اس کے جھوٹ اور من گھڑت ہونے پر علماء متفق ہیں۔ سلف اور ائمہ نے سرے سے اس کا ذکر ہی نہیں کیا۔ (مجموع فتاویٰ: ۲۳/۱۳۲)
اس ماہ کی ایک اور بدعت رجبی کونڈوں کے نام سے مشہور ہے۔تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ بہت سے لوگ ماہ رجب کی ۲۲ تاریخ کو کونڈے بھرتے ہیں۔ اس بدعت کو ثابت کرنے کے لیے ایک جھوٹی کہانی گھڑی گئی۔ ہندوستان کے ایک شخص نے داستان عجیب نامی کتاب میںاس بدعت کا تذکرہ ’’نیاز نامہ امام جعفر صادق‘‘ کے عنوان سے کیا ہے۔
اصل میں اس کے پیچھے رافضیوںکی ایک گھناؤنی سازش کارفرما ہے ۔ بات در اصل یہ ہے کہ ۲۲ رجب سیدنا امیر معاویہt کی وفات کا دن ہے۔یہ لوگ ان کی وفات کے دن خوشی مناتے ہیںاور اس دن میں کھانے پینے کا خصوصی اہتمام کرتے ہیں۔ لیکن اپنے ا س خبث باطن پر پردہ ڈالنے کے لیے لکڑہارے کی داستان تراشی گئی ہے۔کہا جاتا ہے کہ برصغیر میں سب سے پہلے یہ بدعت ریاست رامپور میں امیر مینائی لکھنوی کے خاندان میں شروع کی گئی۔
جشن معراج:
ماہ رجب کے حوالے سے ایک اور بدعت ۲۷ رجب کو جشن معراج کے نام سے جاری کی گئی ہے۔اس رات میں مختلف عبادتیں انجام دی جاتی ہیںجن کے بارے میں کتاب وسنت میں کوئی دلیل نہیں پائی جاتی۔ستائیسویں کی رات کو قیام کرنا‘ نمازشب معراج پڑھنا،محفلیں منعقد کرنا، واقعہ اسراء ومعراج پڑھنا کہ یہ رات ہی معراج کی رات ہے۔ بغیر کسی شرعی دلیل سے بعض ایام کو دیگر ایام پر فوقیت دینا یا انہیں افضل سمجھناایک غلط عقیدہ ہے۔اس رات کو جشن منانا اور اسے عبادتوں کے لیے مختص کرنا کئی ایک لحاظ سے غلط اور نامناسب ہے۔
سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ ۲۷ رجب کو ہی شب معراج سمجھنا درست عمل نہیں۔اس کے دن‘ مہینے اور سال کا درست تعین نہیں کیاجاسکا۔ تاریخ وسیرت کے علمائے کرام نے چھ مختلف اقوال پر اختلاف کیا ہے اس لیے ستائیسویں کی شب ہی کو شب معراج سمجھنا ٹھیک نہیں۔(الرحیق المختوم ، ص: ۱۹۷)
اگر اس رات کا ٹھیک ٹھیک پتہ چل بھی جائے تو بھی اس رات میں مخصوص عبادات انجام دینا درست نہیں‘ جس کا نبی کریم e نے حکم دیا نہ اس پر عمل کیا۔نہ آپe کے اصحاب کرام سے یا خلفائے راشدین سے یہ عمل ثابت ہے ۔ اس جشن کو مناتے وقت بہت سے غیر شرعی اور نامناسب امور انجام دیے جاتے ہیں۔ اس میں بالعموم ایسے لوگ شریک ہوتے ہیں جوشرعی فرائض تک کی ادائیگی کا اہتمام نہیں کرتے۔ بعض پانچ وقت کی نماز ادا کرنے کے لیے مسجدمیں تو جاتے نہیں، مگر اس قسم کی محفلوں میں بڑی سرگرمی اور اہتمام سے شریک ہوتے ہیں۔یہ بہت سی احادیث صحیحہ کا انکار بھی ہے جن میں دین میں بدعات داخل کرنے سے سختی سے منع کیاگیا ہے۔
رجبی صیام وقیام:
ماہ رجب کی مروجہ بدعات میں سے ایک یہ ہے کہ خصوصیت کے ساتھ اس مہینہ میں قیام وصیام کا اہتمام کیا جاتا ہے۔اس مہینے کی پہلی، دوسری، تیسری اور ساتویں تاریخ کا روزہ اور کبھی پورے مہینے کا روزہ رکھا جاتا ہے۔ ان روزوںکوسنت ثابت کرنے کے لیے کچھ ایسی احادیث کا سہارا لیا جاتا ہے جو ضعیف ہیں یا من گھڑت ہیں۔شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہa اس مسئلے پر یوں رقمطراز ہیں:
رجب اور شعبان کے مہینوں کو ایک ساتھ روزے یا اعتکاف کے لیے مخصوص کرنے کے متعلق نبی اکرم e، صحابہ کرام ، یا ائمہ مسلمین سے کوئی چیز وارد نہیں۔بلکہ صحیح بخاری ومسلم میں یہ بات ثابت ہے کہ اللہ کے رسولe ماہ شعبان میں کثرت سے روزہ رکھتے تھے۔ آپe پورے سال میں ماہ شعبان سے زیادہ کسی مہینے میں نفلی روزے نہیں رکھتے تھے۔البتہ جہاں تک رجب کے روزے کی بات ہے تو اس کے بارے میں ساری احادیث ضعیف بلکہ موضوع ہیں۔ اہل علم ان میں سے کسی کو لائق اعتماد اور قابل عمل نہیں سمجھتے۔یہ احادیث ضعیف روایات کے اس گروہ میں سے نہیں ہیں جو فضائل کے سلسلے میں بیان کی جاتی ہیں بلکہ یہ گھڑی ہوئی حدیثیں ہیں۔(مجموع فتاوی: ۲۹۰-۲۹۱)
علامہ ابن رجب حنبلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
’’ماہ رجب کے روز ے کی فضیلت میں نبی کریمe اور آپ کے صحابہ کرام] سے کوئی چیز صحیح ثابت نہیں۔‘‘(لطائف المعارف ، ص: ۱۴۰)
علامہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’ماہ رجب کی فضیلت یا اس کے روزے کی فضیلت یا اس کے کسی مخصوص دن کے روزے کی فضیلت، یا اس کی کسی مخصوص رات میں قیام کرنے کی فضیلت میں کوئی صحیح حدیث وارد نہیں جو قابل حجت ہو ۔مجھ سے پہلے امام اسماعیل الہروی نے بھی اسی بات کی صراحت فرمائی ہے۔ ‘‘ (تبیین العجب بما رود فی فضل رجب، ص: ۵)
علامہ حافظ ابن حجرa ماہ رجب کے روزے کے سلسلے میں نبی کریم e کے طریق کار کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں:
’’آپ e نے مسلسل تین مہینوں رجب، شعبان اور رمضان المبارک کے روزے نہیں رکھے جیسا کہ بعض لوگوں کا طریقہ ہے۔ نہ ہی آپ نے رجب کا روزہ رکھا اور نہ ہی اس کے روزے کو پسند فرمایا۔ بلکہ آپ سے رجب کے روزے کی ممانعت کے سلسلے میں حدیث وارد ہے جسے امام ابن ماجہ نے ذکر کیا ہے۔‘‘ (زاد المعاد: ۲/۶۴)
اس کے علاوہ صحابہ کرام کی ایک جماعت سے رجب کے روزے کی کراہت مروی ہے؛ یہاں تک کہ سیدنا عمر فاروقt رجب کے مہینے میں روزہ رکھنے والے کو درہ لگایا کرتے تھے جب تک کہ وہ کھانے کے برتن میں اپنا ہاتھ نہ ڈال دیتا۔ آپt فرماتے تھے: رجب کیا ہے؟ رجب کی تعظیم تو اہل جاہلیت کیا کرتے تھے جب اسلام کا زمانہ آیا تو اسے چھوڑ دیا گیا۔
البتہ اگر کوئی شخص ہر ماہ ایام بیض کے تین روزے رکھتا ہے یا صوم داؤدی پر عمل پیرا رہتا ہے یعنی ایک دن روزہ رکھتا اور ایک دن افطار کرتا ہے تو ایسا شخص رجب میں بھی اپنے معمول کے مطابق روزہ رکھے تو اس میں حرج والی کوئی بات نہیں۔
فرع اور عتیرہ رجب:
ایک اور رسم جو زمانہ جاہلیت ہی سے عربوں میں چلی آتی تھی اس کا نام ’’فرع‘‘ اور ’’عتیرہ‘‘ ہے۔ ’’فرع‘‘ کا مطلب  ہے جانور کا پہلا بچہ، عرب اونٹ اور بکری کے پہلے بچے کو اپنے بتوں کے نام پر ذبح کیا کرتے تھے۔
حرمت والے چار مہینوں میں سے ایک ہونے کی وجہ سے وہ ماہ  رجب کی تعظیم کیا کرتے تھے اور اس میں بتوں کے نام پرجانور ذبح کیا کرتے تھے۔ عتیرہ رجب اس جانور کو کہا جاتا تھا جسے ماہ رجب میں بتوں کے نام پر قربان کیا جاتا تھا۔عید الاضحی کی طرح یہ چیز ان میں عام طور سے رائج تھی ۔ اسلام آیا تو نبی کریم e نے کچھ عرصہ بعد اس قبیح رسم کا خاتمہ کر دیا۔ نبی کریم e نے اعلان فرما دیا کہ [لَا فَرَعَ وَلَا عَتِیرَۃَ۔] (صحیح البخاری: ۵۲۳۱) ’’ اب کوئی فرع اور عتیرہ نہیں ہو گا۔‘‘
بلکہ شریعت نے  اپنے ماننے والوں کوعید الاضحیٰ کا تہوار عطا فرمایا کہ اس روز عید مناؤ اور اللہ کے نام پر اپنے بہترین پیارے پیارے جانور ذبح کرو۔ لہٰذا رجب کی افضلیت کا اعتقاد رکھتے ہوئے اس مہینے میں جانور ذبح کرنا جائز نہیں ۔ اس میں اہل جاہلیت کی مشابہت بھی ہے اور نبی کریم e کے حکم کی خلاف ورزی بھی پائی جاتی ہے۔ ماہ رجب میں عمومی طور پر جانور ذبح کرنے پر کوئی پابندی نہیں مگراس مہینے کی خاص فضیلت کا اعتقاد رکھ کر اور یہ سمجھ کر جانور ذبح کرنا کہ یہ بڑے ثواب کا کام ہے تو یہ اسی زمانہ جاہلیت کے عتیرہ کی مانند ہو جائے گا۔
ان کے علاوہ بھی کچھ بدعات لوگوں میں رائج ہو گئی ہیں جن کی تفصیل کی یہاں گنجائش نہیں ۔ ان کا ذکر اجمالی طور پر کیاجاتا ہے۔
1          رجب کی پہلی تاریخ کو ہزاری نماز پڑھنا۔
2          پندرہویں رجب کو اُمّ ِداؤد کی نماز پڑھنا۔
3          مُردوں کی طرف سے اس مہینہ میں صدقہ وخیرات کرنا۔
4          اس ماہ میں بطور خاص قبروں کی زیارت کرنا(خصوصا نبی کریم e کی قبر مبارک کی زیارت کرنا)۔
5          اس ماہ میں چند مخصوص دعائیں پڑھناجن کا کتاب وسنت میں کوئی ذکر نہیں۔
6          یمن میں سیدنا معاذ بن جبلt کے اسم گرامی سے موسوم ایک مسجد ہے بطور خاص اس کی زیارت کے لیے لوگ اہتمام کرکے جاتے ہیں۔ فرض کریں کہ واقعی اس جگہ سیدنا معاذ بن جبلt نے نماز ادا کی ہو تب بھی خصوصی طور پر اس کے لیے سفر کرنے کی شریعت میں گنجائش نہیں۔


No comments:

Post a Comment

View My Stats