مولانا عبدالغفور ناظم آبادی 11-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Sunday, July 14, 2019

مولانا عبدالغفور ناظم آبادی 11-2019


مولانا عبدالغفور ناظم آبادی

تحریر: جناب مولانا محمد یوسف انور
۲۲ فروری جمعۃ المبارک کی فجر کے وقت ہمارے بچپن کے دوست اور رفیق خاص مولانا عبدالغفور ناظم آبادی رحلت کر گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون! اگرچہ وہ طویل عرصے سے مختلف عوارضات میں مبتلا تھے تا ہم کمزوری ونقاہت کے باوجود خطبہ جمعہ ارشاد فرماتے اور گاہے گاہے عوامی اصرار پر درس قرآن وحدیث کے لیے بھی قرب وجوار میں چلے جاتے۔ کبھی وہ دور تھا کہ برسوں پیشتر شبان اہل حدیث کی کانفرنسوں اور تبلیغی جلسوں میں ابتدائی تقریر انہی کی ہوتی۔ بعد ازاں بیرونی علماء کو خطاب فرماتے۔ جماعت کے معروف مبلغ مولانا محمد رفیق مدن پوری a کے ساتھ اکثر جلسوں میں ان کی شرکت رہتی۔ دونوں کا انداز بیان قریبا ایک جیسا عام فہم اور عوام الناس میں مقبول تھا۔ پنجاب کے گوشہ گوشہ میں ان کی وعظ وتذکیر کے پروگرام رہتے لیکن ضلع فیصل آباد کے دیہات وقصبات میں زیادہ تر انہوں نے دعوت وارشاد کے میدان میں نام پیدا کیا۔ ان کے خطبۂ جمعہ میں دور دراز محلوں سے اور شہر ومضافات سے آکر سامعین اپنے قلوب کو منور کرتے۔ توحید واتباع رسولe پر جب وہ خطاب کرتے اور قرآنی آیات کی سادہ مگر میٹھی آواز میں تلاوت کرتے تو ایک سماں بندھ جاتا۔
مرحوم میرے ہم عمر اور کلاس فیلو تھے۔ تقسیم ملک کے موقع پر ان کے آباؤ واجداد امرتسر ضلع کے شہر مقام سلطان ونڈ سے ہجرت کر کے فیصل آباد آئے جبکہ ان کی عمر سات برس تھی۔ مڈل تک تعلیم کے بعد انہیں دار العلوم اوڈانوالہ داخل کرایا گیا۔ دو تین سال وہاں زیر تعلیم رہنے کے بعد فیصل آباد کلیہ دار القرآن والحدیث میں انہوں نے داخلہ لیا۔ ۱۹۶۱ء میں کلیہ سے فارغ التحصیل ہونیوالوں میں وہ اور میں بھی شامل تھے۔ ہمارے دوسرے ساتھیوں میں استاذ مکرم شیخ الحدیث مولانا محمد عبداللہ ویرووالویa کے دونوں صاحبزادے حافظ محمد داؤد مرحوم‘ حافظ عبدالرحمنd‘ حافظ عبدالرزاقa فاروق آبادی‘ مولانا صہیب حسنd بن استاذی مکرم مولانا عبدالغفار حسنa‘ مولانا عبدالقدوس چشتیاںd‘ مولاان فضل الرحمن ہزاروی سیالکوٹ‘ مولانا محمد صدیق ہزارویa‘ حافظ محمد احمد d برادر اصغر مولانا عبدالرحیم اشرفa تھے۔
ہمارے اساتذہ کرام میں شیخ الحدیث مولانا محمد عبداللہa کے علاوہ مولانا حافظ احمد اللہ بڈھیمالویa‘ مولانا عبداللہ حسنa‘ پروفیسر غلام احمد حریری اور دیوبندی عالم دین مولانا محمد خاں کے اسماء گرامی خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ دار القرآن والحدیث سے فراغت کے بعد میں نے جامعہ سلفیہ میں حضرت العلام حافظ محمد گوندلویa‘ مولانا شریف اللہ خاں اور حافظ عبدالسلام بن محمدd کے والد گرامی حافظ محمد بھٹویa کے تعلیم وفیض سے استفادہ کیا۔
ہمارے ممدوح مولانا عبدالغفور ناظم آبادی مرحوم بلاشبہ میدان تبلیغ کے شہسوار تھے۔ ان کی بھر پور جوابی تقریر وخطابت کی بہت سی یاد داشتیں اور باتیں میرے دل ودماغ میں موجزن ہیں۔ وہ ایک منجھے ہوئے مقرر اور سلجھے ہوئے عالم دین کے ساتھ ساتھ زہد وورع اور تقویٰ شعار انسان تھے۔ پیار ومحبت بھری ان کی مجلسی گفتگوئیں اور بعض اوقات الجہاؤ کی صورت میں معاملہ فہمی پر مبنی طرز تکلم مخاطب کو بہت متاثر کرتا۔ کڑوی کسیلی اور غصہ آلود بات چیت کبھی بھی میرے سننے میں نہیں آئی۔ جب بھی شہر آتے تو بچوں کے پاس دکان پر آکر میری خیر وعافیت پوچھتے‘ ملاقات کی کوشش میں رہتے۔ تنظیمی سے زیادہ تبلیغ دین کا جذبہ رکھتے تھے۔ اول روز سے مرکزی جمعیت اہل حدیث سے وابستہ رہے۔ علامہ احسان الٰہی ظہیرa‘ مولانا محمد اسحاق چیمہa اور گرامی منزلت مولانا ارشاد الحق اثریd‘ مولانا محمد یحییٰ مومن آبادیa ومولانا عبدالحی انصاریd سے خصوصی عقیدت ومحبت رکھتے تھے۔ سالہا سال کی علالت کے باعث اگرچہ وہ گوشہ نشین سے ہو گئے تھے تا ہم خطبہ جمعہ کا ناغہ کم ہی کرتے اور وفات سے گذشتہ خطبہ بھی انہوں نے ارشاد فرمایا۔
ابھی ہم مولانا محمد طیب معاذ‘ مولانا عبدالعلیم یزدانی‘ میاں محمود عباس‘ مولانا عبدالعزیز راشد رحمہم اللہ کی وفیات کے صدمہ سے جانبر نہ ہوئے تھے کہ یہ سانحہ بھی رونما ہو گیا۔
مرحوم کی نماز جنازہ جمعہ المبارک ہی کے روز بعد نماز عصر شیخ المکرم حافظ عبدالسلام بن محمد بھٹویd نے پڑھائی۔ شہر بھر سے اکابر وطلبہ کی بھاری تعداد تھی‘ قریبی اضلاع اور دیہات وقرب وجوار قصبات سے بڑی کثرت سے احباب نے شرکت کی۔ نماز جنازہ سے قبل قاری عبدالحفیظ‘ مولانا ارشاد الحق اثری‘ مولانا برق توحیدی‘ مولانا عبدالرشید حجازی‘ قاری محمد حنیف اور راقم الحروف نے مرحوم کی دینی وجماعتی خدمات کا تذکرہ کیا۔ مولانا مرحوم نے بیوہ‘ تین بیٹے اور تین بیٹیاں سوگوار چھوڑی ہیں۔ سبھی اہل وعیال خوشحال اور ان کا صدقہ جاریہ ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ خاندان کے تمام افراد اور احباب پسماندگان کو صبر وحوصلہ اور مرحوم کی خدمات رفیعہ کو قبول فرماتے ہوئے بشری لغزشوں سے در گذر کر کے جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین!
اللہم اغفر لہ وارحمہ وعافہ واعف عنہ
آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزۂ نو رستہ اس گھر کی نگہبانی کرے



No comments:

Post a Comment

View My Stats