احکام ومسائل 11-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Sunday, July 14, 2019

احکام ومسائل 11-2019


احکام ومسائل

جناب مولانا الشیخ حافظ ابومحمد عبدالستار الحمادd
خط وکتابت:  مرکز الدراسات الاسلامیہ ۔ سلطان کالونی‘ میاں چنوں‘ خانیوال‘ پاکستان  ای میل:  markaz.dirasat@gmail.com

کھانے کے وقت جوتے اتارنا
O ہمارے گھر کچھ مہمان آئے اور انہوں نے ایک مسئلہ بیان کیا کہ کھانا کھاتے وقت جوتوں کو اتار دینا چاہیے۔ ایک حدیث کا بھی حوالہ دیا‘ ہمارے ہاں تو تقریبات میں اس قسم کا اہتمام نہیں کیا جاتا‘ کیا شرعی اعتبار سے کھانا کھاتے وقت جوتے اتارنے چاہئیں۔
P ہمارے ہاں کھانا تناول کرنے کے لیے دو قسم کے انداز اختیار کیے جاتے ہیں جن کی تفصیل حسب ذیل ہے:
\          شادی اور دیگر تقریبات نیز ہوٹلوں میں کھانے کے لیے میز کرسی کا اہتمام ہوتا ہے‘ یہ جائز ہے اگرچہ مسنون نہیں۔ امام بخاریa نے اس کا جواز پیش کیا ہے اور ایک عنوان بایں الفاظ قائم کیا ہے: ’’باریک چپاتی استعمال کرنا اور میز یا دسترخوان پر کھانا تناول کرنا۔‘‘ (بخاری‘ الاطعمہ‘ باب نمبر ۸)
                اس کے جواز کے لیے آپ نے لفظ ’’مائدہ‘‘ سے استنباط کیا ہے جو ایک حدیث میں استعمال ہوا ہے جو رسول اللہe کے کی مجلس میں استعمال ہوا تھا۔ (بخاری‘ الاطعمہ: ۵۳۸۹) … یہ مائدہ ہر قسم کے دستر خوان پر بولا جاتا ہے خواہ میز وغیرہ ہو یا فرشی۔
\          سادہ مزاج اور دینی گھرانوں میں نیز کچھ مدارس کھانے کے لیے فرشی دستر خوان استعمال کرتے ہیں۔ رسول اللہe کے اکثر دستر خوان فرشی ہوا کرتے تھے جیسا کہ حدیث میں ہے۔ رسول اللہe نے کبھی میز پر کھانا نہیں کھایا۔
راوی حدیث سیدنا قتادہt سے کسی نے سوال کیا کہ صحابہ کرام کس پر کھانا کھاتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا کہ نیچے بچھے ہوئے فرشی دسترخوان پر کھانا کھاتے تھے۔ (بخاری‘ الاطعمہ: ۵۳۸۶)
ہمارے رجحان کے مطابق میز پر کھانا رکھ کر کھانا‘ تناول کرنا جائز ہے تا ہم سنت طریقہ یہ ہے کہ دستر خوان نیچے بچھا کر کھانا کھایا جائے‘ جہاں تک صورت مسئولہ کا تعلق ہے کہ کھانا کھاتے وقت جوتا اتار دیا جائے‘ یہ کوئی سنت نہیں۔ جب کھانے کے لیے میز کرسی استعمال کی جائے تو ایسا کرنا انتہائی مشکل ہے۔ اس سلسلہ میں جس حدیث کا حوالہ دیا گیا ہے‘ اس کا ترجمہ حسب ذیل ہے: ’’جب تم کھانا کھانے لگو تو اپنے جوتے اتار دو‘ کیونکہ یہ تمہارے قدموں کے لیے زیادہ آرام دہ ہے۔‘‘ (مستدرک حاکم: ج۴‘ ص ۱۲۹)
امام حاکمa نے اسے بیان کرنے کے بعد اس پر صحیح الاسناد کا حکم لگایا ہے لیکن امام ذہبی نے تردید کرتے ہوئے لکھا ہے کہ میرے خیال کے مطابق یہ موضوع حدیث ہے کیونکہ اس کی سند میں کئی ایک اندھیرے ہیں۔ اس کی سند میں موسیٰ بن محمد راوی متروک ہے۔ جسے امام دار قطنی نے متروک قرار دیا ہے۔ (مستدرک الحاکم حوالہ مذکور)
علامہ البانیa نے اس حدیث پر سیر حاصل بحث کی ہے۔ (الاحادیث الضعیفہ: ج۲‘ ص ۴۱۱)
کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ میز کرسی پر جوتا پہن کر کھانا تناول کرنا نصاریٰ کی وضع اور مغربی تہذیب ہے لہٰذا اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔ ہمارے نزدیک یہ نا روا تشدد ہے کیونکہ یہ نصاریٰ کا مذہبی شعار نہیں۔ احادیث میںاس مشابہت کی ممانعت ہے جو کفار ومشرکین کے دینی شعائر میںسے ہو اور ان کی کسی بدعقیدگی پر مبنی ہو جیسے زنار پہننا اور صلیب لٹکانا وغیرہ‘ اس سے مطلق مشابہت مراد نہیں۔ کرسی میز کو کھانے کے لیے بطور دسترخوان استعمال کرنا ہمارے رائج ہے۔ اسے نصاریٰ سے مشابہت قرار دے کر ممنوع کہنا‘ دینی یُسر کے منافی ہے۔ واللہ اعلم!
ٹیک لگا کر کھانا تناول کرنا
O مذہبی حضرات ٹیک لگا کر کھانا کھانے سے روکتے ہیں اور بہت تشدد کرتے ہیں۔ اس کی شرعی حیثیت واضح کریں‘ کیا اس طرح کھانا شرعا ناجائز ہے؟ کتاب وسنت کی روشنی میں اس مسئلہ کی وضاحت کریں۔
P کھانے والے کے لیے مستحب یہ ہے کہ کھاتے وقت درج ذیل باتوں کا خیال رکھے:
\          اپنے گھٹنوں کے بل بیٹھے جیسا کہ تشہد میں بیٹھا جاتا ہے۔
\          دایاں گھٹنا کھڑا کر کے بایاں پاؤں زمین پر بچھا دے‘ اس طرح بیٹھنا بھی جائز ہے۔
\          ٹیک لگا کر کھانا تناول کرنا مکروہ ہے کیونکہ یہ رسول اللہe کی خدمت میں تھا‘ آپ نے وہاں پاس موجود ایک آدمی سے فرمایا: ’’میں ٹیک لگا کر نہیں کھاتا۔‘‘ (بخاری‘ الاطعمہ: ۵۳۹۹)
اس کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ اس سے پیٹ بڑھنے کا اندیشہ ہے جیسا کہ ابراہیم نخعیa نے اسلاف سے نقل کیا ہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ: ج۵‘ ص ۱۴۰)
کچھ اہل علم کا خیال ہے کہ ٹیک لگا کر نہ کھانا صرف رسول اللہe کا خاصہ تھا‘ امت کے لیے منع نہیں۔ لیکن امام بیہقیؒ نے اس کی تردید کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اس طرح کھانا امت کے دوسرے لوگوں کے لیے بھی مکروہ ہے کیونکہ یہ متکبرین کا فعل ہے‘ اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔ تا ہم کسی عذر کی بناء پر ٹیک لگا کر کھایا جا سکتا ہے۔ واضح رہے کہ سیدنا عبداللہ بن عباسw‘ سیدنا خالد بن ولیدt حضرت عبیدہ سلمانی‘ محمد بن سیرین‘ عطاء بن یسار اور امام زہریS مطلق طور پر ٹیک لگا کر کھانے کے قائل ہیں۔ (فتح الباری: ج۹‘ ص ۶۷۰)
ہمارے رجحان کے مطابق ٹیک لگا کر کھانا تناول کرنا کراہت کے ساتھ جائز ہے‘ جائز اس لیے کہ رسول اللہe نے اس سے منع نہیں فرمایا اور کراہت اس لیے کہ ایسا کرنا رسول اللہe کے طرز عمل کے خلاف ہے۔ آپe کا عمل ان الفاظ میں بیان ہوا ہے: ’’میں ٹیک لگا کر نہیں کھاتا۔‘‘ (بخاری‘ الاطعمہ: ۵۳۹۸)
رسول اللہe کے عمل کے مطابق زندگی گذارنا ہی خیر وبرکت کا باعث ہے۔ واللہ اعلم!
دوران عدت شرعی پابندیاں
O میرے خاوند گاڑی کے حادثہ میں فوت ہو چکے ہیں‘ ان کی زندگی میں میرے بھائی کی شادی طے ہو چکی تھی‘ بھائی ہمارے پڑوس میں رہتے ہیں۔ کیا میں اپنے بھائی کی شادی میں شرکت کر سکتی ہوں؟ نیز دوران عدت کیا پابندیاں ہوتی ہیں؟!
P دور جاہلیت میں جس عورت کا خاوند فوت ہو جاتا وہ ایک سال تک عدت گذارتی اور انتہائی بدترین طریقے میں زندگی کے یہ دن پورے کرتی‘ احادیث میں ہے: ’’جب کسی عورت کا خاوند فوت ہو جاتا تو وہ نہایت تنگ وتاریک کوٹھڑی میں داخل ہو جاتی‘ پھر بدترین کپڑے پہن لیتی اور خوشبو کا استعمال بھی ترک کر دیتی۔ حتی کہ اسی حالت میں ایک سال گذر جاتا۔ پھر کوئی جانور گدھا‘ بکری یا پرندہ لایا جاتا تو وہ اس پر ہاتھ پھیرتی۔ ایسا بہت کم ہوتا تھا کہ وہ کسی جانور پر ہاتھ پھیرے اور وہ مر نہ جائے۔ اس کے بعد وہ اس کُٹیا سے باہر نکلتی۔‘‘ (بخاری‘ الطلاق: ۵۳۳۷)
اس امر کا اشارہ قرآن کریم میں بھی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اور جو لوگ فوت ہو جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں‘ وہ اپنی عورتوں کے حق میں ایک سال تک خرچہ دینے کی وصیت کر جائیں۔ نیز انہیں اس مدت میں گھر سے نہ نکالا جائے۔‘‘ (البقرہ: ۲۴۰)
پھر اس کے بعد عورت کے متعلق ایک دوسرا حکم نازل ہوا کہ وہ چار ماہ دس دن تک عدت پوری کریں۔ ارشادباری تعالیٰ ہے: ’’اور تم میںسے جو لوگ فوت ہو جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں تو وہ عورتیں اپنے آپ کو چار ماہ دس دن تک عدت میں رکھیں۔‘‘ (البقرہ: ۲۳۴)
یہ اس صورت میں ہے جب بیوی حاملہ نہ ہو‘ حاملہ ہونے کی صورت میں اس کی عدت وضع حمل ہے۔ جیسا کہ سیدنا سبیعہ r کے متعلق حدیث میں ہے کہ اس کے خاوند کی وفات کے چند دن بعد اس نے حمل جنم دیا تو رسول اللہe سے آگے نکاح کرنے کی اجازت دے دی تھی۔ (بخاری‘ الطلاق: ۵۳۱۸)
چار ماہ دس دن عدت گذارنے میں حکمت یہ معلوم ہوتی ہے کہ عورت کے پیٹ میں بچے کی تخلیق اور اس میں روح پھونکنے کا معاملہ ایک سو بیس دن بعد ہوتا ہے جس کے چار ماہ بنتے ہیں۔ چونکہ چاند کی کمی بیشی سے فرق ہو سکتا ہے۔ اس نقصان کو پورا کرنے کے لیے مزید دس دن کا اضافہ کیا گیا ہے۔ عدت گذارنے والی عورت پر درج ذیل پابندیاں ہیں:
\          دوران عدت وہ زیب وزینت نہیں کرے گی جیسا کہ ایک حدیث میں ہے: ’’زمانہ عدت میں وہ رنگ دار لباس نہ پہنے‘ لیکن رنگے ہوئے سوت سے بنا ہوا کپڑا پہن سکتی ہے۔ وہ سرمہ نہ لگائے اور نہ خوشبو استعمال کرے۔‘‘ (بخاری‘ الطلاق: ۵۳۴۱)
                اسے مہندی لگانے کی بھی اجازت نہیں جیسا کہ حدیث میں ہے (ابوداؤد‘ الطلاق: ۲۳۰۲) ایک روایت میں ہے کہ وہ کنگھی نہ کرے۔ (نسائی‘ الطلاق: ۳۵۶۱)
\          چار ماہ دس دن تک اس نے اپنے گھر میں رہنا ہے‘ کسی خاص ضرورت کے علاوہ اسے اپنے گھر سے باہر جانے کی اجازت نہیں۔
صورت مسئولہ میں عدت گذارنے والی عورت کے بھائی کی شادی ہے جو اس کے پڑوس میں رہتا ہے‘ وہ سادگی کے ساتھ شادی میں شرکت کر سکتی ہے لیکن رات اس نے اپنے گھر میں گذارنا ہو گی‘ رات وہاں نہ رہے۔ واللہ اعلم!


No comments:

Post a Comment