اک نیک سیرت خاتون کا ذکر خیر 11-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Sunday, July 14, 2019

اک نیک سیرت خاتون کا ذکر خیر 11-2019


اِک نیک سیرت خاتون کا ذکر خیر

تحریر: جناب مولانا عنایت اللہ امین
اللہ تعالیٰ نے بھی الگ طور پر نیک خواتین کے عملی کردار کا پارہ نمبر ۲۲ سورہ احزاب کی آیت نمبر ۳۵ میں تذکرہ کیا ہے۔ نیک خاتون سے میری مراد استادِ محترم شیخ الحدیث مولانا محمد یوسفa کی اہلیہ محترمہ ہیں جو جنوری ۲۰۱۹ء میں اللہ کو پیاری ہو گئیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!
مرحومہ واقعتا ایک صالحہ‘ صابرہ‘ خاشعہ‘ قانعہ‘ متصدقہ‘ دور اندیش‘ پرہیزگاری میں اپنی مثال آپ [خیرکم من تعلم القرآن وعلمہ] کی مصداق‘ برادری ہو یا گھر‘ اسی طرح مدرسے کا معاملہ ہوتا تو یقینا مرحومہ مولانا صاحب اور ان کے فرمانبردار بیٹوں کے لیے عسر ویسر میں دست وبازو بن جاتی تھیں۔ جن کا تذکرہ خیر ان کے داماد شیخ الحدیث حافظ عبدالستار حمادd نے نہایت محبت بھرے انداز سے ہفت روزہ اہل حدیث شمارہ نمبر ۵/ ۲۰۱۹ء اور تنظیم اہل حدیث شمارہ نمبر ۲۲/۲۰۱۹ء میں کیا ہے۔ جماعت کے نامور شاعر قاری تاج دین شاکر نے اپنی ایک نظم میں مرحومہ کی زندگی کا ایک دل آویز نقشہ پیش کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ مرحومہ سے تذکرہ نویسوں کی عقیدت کے مطابق ہی سلوک فرمائے۔
حضرت حافظ حماد صاحب نے صرف سفر آخرت کا تذکرہ کیا ہے۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ اس تذکرہ میں مرحومہ کی سابقہ زندگی کا ذکر خیر بھی ہو جاتا کیونکہ مولانا محمد یوسف مرحوم اور ان کی اہلیہ مرحومہ کے متعلق جو معلومات حافظ صاحب اور ان کے بیٹے رکھتے ہیں وہ کوئی دوسرا نہیں جانتا۔ تا ہم راقم کا اس گھرانہ سے ایک روحانی رشتہ ہے‘ اس روحانی تعلق کی بنیاد پر اپنی معلومات قارئین کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں تا کہ حق ادائیگی کے ساتھ ساتھ مرحومین کے عقائد ونظریات اور اپنے روحانی فرزندوں سے حسن سلوک کا عملی نمونہ پیش کیا جا سکے۔
یقینا اس گھر کے ہمارے خاندان پر خصوصاً ہمارے گھر پر بہت احسانات ہیں۔ چنانچہ {ہَلْ جَزَآئُ الْاِحْسٰنِ اِلاَّ الْاِحْسٰنُ} کے تحت چند پہلوؤں کا تذکرہ پیش خدمت ہے۔
راقم الحروف نے دار الحدیث راجووال میں ۱۹۷۷ء میں داخلہ لیا۔ ۱۹۸۲ء تک عرصہ چھ سال مولانا مرحوم سے خوب استفادہ کیا۔ اس دوران میں مولانا مرحوم کی راقم سے شفقت ومحبت نرالی تھی۔ تعلیم کے ساتھ دیگر امور مدرسہ اور گھریلو خدمت‘ مہمان نوازی‘ اذان وغیرہ حتی کہ اس دور میں مولانا صاحب گھر میں دودھ دہی کے لیے کوئی نہ کوئی جانور ضرور رکھتے تھے‘ اس کی دیکھ بھال بھی راقم کے ذمہ تھی۔ یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل خاص تھا۔ راقم نے بھی خدمت گذاری میں حتی الوسع پورا اترنے کی بھر پور کوشش کی۔
اپنی خوشی سے جب رخصت کر دیتے تب گھر جاتا تھا۔ کبھی ہمارے علاقہ یا گاؤں میں تشریف لاتے تو ہمیں میزبانی کا شرف حاصل ہوتا۔ ہمارے اہل خانہ اسے اپنے لیے سعادت سمجھتے۔ ایک دفعہ راقم تعلیم سے اُکتا کر بغیر بتائے گھر آگیا‘ (اللہ تعالیٰ والد محترم کو جزائے خیر دے) ان کو پتہ چلا تو کہنے لگے‘ تجھے ضرور پڑھانا ہے اور یہاں راجووال ہی میں پڑھنا ہے۔
دوسرے دن ہی مجھے لے کر واپس مدرسہ میں چھوڑنے گئے۔ مولانا یوسف صاحب سے ملے۔ والد صاحب کہنے لگے: حضرت جی! اس نے یہاں ہی پڑھنا ہے اور اسے کوئی دم وغیرہ کریں تا کہ یہ دل لگا کر پڑھے۔ مولانا صاحب نے میری پیشانی کا بوسہ لیا اور کچھ پڑھ کر پھونکا۔ الحمد للہ! پھر فراغت تک پڑھائی سے میرا دل نہیں اکتایا۔ مولانا صاحب نے ایک سال قربانی کے لیے گائے کا بچھڑا خریدا جس کی دیکھ بھال میرے ذمے تھی۔ وہ دانہ دنکا اور ٹکڑے وغیرہ کھا کر خوب موٹا تازہ تھا۔ حتی کہ وہ مارنے لگا جیسے جانوروں کی عادت ہوتی ہے‘ میں نے کسی زمیندار سے مشورہ کر کے اسے نتھ ڈال دی تا کہ وہ خراب نہ کرے۔ ایک دفعہ میں اسے باندھنے گیا تو وہ بپھر گیا اور اس نے مجھے ٹکر ماری اور میں سامنے گر گیا۔ اہل خانہ خوف زدہ ہو کر گھر کے اندر چھپ گئے۔ اتفاقا اس کی نتھ میرے ہاتھ لگ گئی جو ابھی تازہ تھی۔ بڑی مشکل سے اٹھ کر اسے باندھا۔ میرا پورا جسم درد سے نڈھال تھا۔ مہمان خانہ میں چارپائی پر لیٹ گیا۔ (اللہ تعالیٰ اماں جی کے درجات بلند فرمائے) وہ گھر سے دودھ اور گھی گرم کر کے لائیں اور مجھے پلایا۔ الحمد للہ! جلد طبیعت بحال ہو گئی۔
فراغت کے بعد مجھے ۱۹۸۷ء میں دار الحدیث اوکاڑہ میں تدریس کا موقع مل گیا۔ دو سال وہاں پڑھایا جب بوجوہ وہاں سے چھوڑا تو بہت ناراض ہوئے۔ کہنے لگے: آپ نے اچھا نہیں کیا۔ ۱۹۸۹ء میں میں نے ایک گاؤں میں مسجد کی ذمہ داری سنبھالی اور ساتھ جامعہ ضیاء الاسلام گہلن ہٹھاڑ میں پڑھانا شروع کیا تو بہت خوش ہوئے۔ چار سال بعد جب وہاں سے چھوڑا تو خود جا کر گاؤں کی جماعت سے رابطہ کیا کہ اسے میرے پاس مدرسہ میں پڑھانے کی اجازت دیں تا کہ اس کا علم ضائع نہ ہو۔ بہرحال بات دور نکل گئی اور آمدم برسر مطلب‘ نیک خاتون کا تذکرہ آگے چلاتے ہیں۔ مولانا صاحب ۱۹۴۴ء میں مروجہ تعلیم سے فارغ ہوئے۔ تقسیم ملک کے وقت ان کی عمر اٹھائیس برس تھی اور یہ ان کی بھر پور جوانی کا زمانہ تھا۔ وہ اپنے گاؤں چک سومیاں اعوان سے چلے اور پاکستان کی حدود میں داخل ہوئے تو سب سے پہلے موضع آہل نزد منڈی عثمان والا میں سکونت اختیار کی۔ یہاں تقریبا چار سال اقامت گزیں رہے‘ وہاں بچوں کی تعلیم وتعلم کا سلسلہ شروع کیا۔
اسی دوران ہی مولانا صاحب کی اپنی سگی خالہ کے گھر شادی ہو گئی۔ نکاح خواں جماعت کے مشہور بزرگ مولانا حافظ عبدالرحمن شاہ پٹوی تھے اور حق مہر سورۂ نور کا ترجمہ پڑھانا مقرر ہوا جس سے صحابہ کرام کے دور کی یاد تازہ ہو گئی۔ ایک سال ۱۹۴۷ء میں چونیاں شہر شیخانوالی مسجد میں گذارا وہاں سے آپ راجووال منتقل ہو گئے۔
۱۹۴۹ء میں راجووال میں موجودہ ادارہ کی بنیاد رکھی‘ مولانا صاحب اور ان کی اہلیہ کو اللہ تعالیٰ نے جو عقیدہ توحید میں استقامت عطا کر رکھی تھی وہ بھی ایک مثال ہے۔ دونوں میاں بیوی تعویذات کے قائل نہ تھے جبکہ بہت سے علماء کرام طبی ویونانی علاج کے ساتھ علاج بالتعویذ کو جائز قرار دیتے ہیں اور بلا امتیاز مرد وزن تعویذ دینے والوں کے پیچھے مارے مارے پھرتے ہیں۔ مذہبی گھرانوں کی تعلیم یافتہ عورتیں خاص طور پر مردوں کو تعویذ نویسوں کی خدمت میں جانے پر مجبور کرتی ہیں۔
1         ایک دفعہ مولانا صاحب کی ایک بیٹی کسی بیماری میں مبتلا ہو گئی۔ مسلسل دس سال بیمار رہی۔ اس کا بہت علاج کروایا گیا مگر افاقہ نہ ہوا۔ آخر مقررہ وقت پر انتقال کر گئی۔ اس دوران مخلص احباب نے نیا خون لگوانے اور تعویذ استعمال کرنے کا مشورہ دیا۔ مگر مولانا صاحب نے انکار کر دیا کہ جو کچھ ہو گا وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہو گا۔ اسی پر میرا توکل ہے۔ وہی بیمار کرنے والا ہے اور وہی شفاء دینے والا ہے‘ تعویذ اور کسی کے خون سے زندگی موت کا کوئی تعلق نہیں۔
2         اسی طرح ایک دفعہ ان کا بڑا بیٹا عبداللہ سلیمa بچپن میں بیمار ہو گیا۔ جوں جوں علاج کروایا مرض بڑھتا گیا۔ پتوکی میں مولانا صاحب کے ایک مخلص دوست عالم دین وطبیب حافظ بشیر احمد صاحب تھے۔ مولانا صاحب نے عبداللہ سلیمa کو اپنی اہلیہ محترمہ کے ساتھ دوا لینے کے لیے پتوکی بھیجا۔ حکیم صاحب نے بچے کو دیکھا‘ مرض کے مطابق دوا دی اور ساتھ تعویذ بھی دیئے کہ یہ بچے کو پلا دیں اور یہ گلے میں اور بازو پر باندھ دینا۔ نیک بخت ماں نے دوا تو رکھ لی لیکن تعویذ لینے سے انکار کر دیا۔ کچھ عرصہ بعد حکیم صاحب کی ملاقات مولانا صاحب سے ہوئی‘ انہوں نے اس کا ذکر کیا۔ کہنے لگے کہ اکثر عورتیں دوا کی بجائے تعویذ پر یقین رکھتی ہیں لیکن آپ کی بیوی کا عقیدہ بڑا مضبوط ہے۔ دوا تو رکھ لی مگر تعویذ لینے سے انکار کر دیا۔ مولانا صاحب کہنے لگے: ہم ان چیزوں کے قائل نہیں۔
خیر عبداللہ سلیمa کو حکیم صاحب کی دوا سے شفا نہ ہوئی‘ طبیعت زیادہ خراب ہو گئی تو توکل علی اللہ باپ نے بیٹے کو اٹھایا اور مسجد کے محراب میں بٹھا دیا۔ خود وہاں بارگاہِ الٰہی میں بچے کی صحت کے لیے گڑ گڑا کر دعا مانگنا شروع کر دی۔ دعا مانگتے مانگتے اللہ کے حضور سجدہ ریز ہو گئے۔ ادھر گھر میں والدہ مرحومہ نے بھی اللہ کے حضور عاجزی سے دعا کی۔ جیسا کہ حدیث نبویe میں ہے کہ اولاد کے حق میں والدین کی دعا اللہ تعالیٰ ضرور قبول کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے دونوں عاجز بندوں کی دعا کو شرف قبولیت بخشا اور بچے کو صحت عطا فرمائی۔ یہی عبداللہ سلیم بڑے ہو کر ۱۹۹۳ء میں عالم جوانی میں سفر آخرت اختیار کر گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!
مرحومہ صوم وصلوٰۃ کے ساتھ پردے کی پابند تھیں۔ خواتین کو تعلیم اور عقائد کی درستگی‘ مہمان نوازی اور طلبہ کی خدمت یہ ساری زندگی ان کا مشن تھا۔ اللہ تعالیٰ مرحومہ سے پڑھنے والی تمام خواتین کو ان کے لیے صدقہ جاریہ بنائے۔ اور تمام مرحومین کی حسنات قبول فرمائے اور سیئات سے در گزر فرما کر جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے۔ آمین!


No comments:

Post a Comment

View My Stats