اداریہ 12-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Sunday, July 14, 2019

اداریہ 12-2019


مقبوضہ کشمیر آزاد ہو کر رہے گا۔ ان شاء اللہ

پلوامہ واقعہ کی آڑ میں دنیا کی نام نہاد بڑی جمہوریت بھارت کے مقبوضہ کشمیر میں مظالم بڑھتے جا رہے ہیں جس پر ہر محب وطن شخص گہری تشویش سے دو چار ہے۔ در اصل نریندر مودی نے پاکستان اور مسلم دشمنی کی انتہا کر رکھی ہے تا کہ وہ بھارت میں ہونے والے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کر سکے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی چھ لاکھ ظالم فوج نے ظلم وبربریت کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ اس کے باوجود پاکستان کشمیر سمیت تمام تنازعات اور مسائل کے حل کے لیے مذاکرات کا خواہش مند ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے خیر سگالی کے جذبہ سے بھارت کے جنگی طیارے کے قیدی پائلٹ کو رہا کر دیا۔ جبکہ بھارت سے مسلمان قیدیوں کی لاشیں موصول ہوتی ہیں۔ جس سے واضح ہوتا ہے کہ بھارت ایک ہندو انتہا پسند جنونی ریاست میں تبدیل ہو چکا ہے۔ حقیقی بات یہ ہے کہ بھارت میں کسی بھی اقلیت کے لیے جان ومال کا تحفظ نہیں رہا۔ پاکستان کو تو بھارت نے ابتدا سے ہی دل سے تسلیم نہیں کیا۔ پاکستان کو دو لخت کرنے اور بنگلہ دیش بنانے میں‘ مودی مکتی باہنی کے منصوبے میں حصہ لے چکا ہے‘ اس کا اعتراف انہوں نے وہاں ایک تقریب میں کیا تھا۔ دنیا جانتی ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ امن کا پرچم تھامے رکھا اور جملہ معاملات کے تصفیہ کے لیے مذاکرات چاہتا ہے۔ لیکن بھارت نے مثبت جواب دینے کی بجائے پاکستان سے دشمنی کو ترک نہیں کیا۔ آئے روز بھارت اور مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کوشہید کیا جاتا اور ان کے مکانات مسمار کیے جاتے ہیں۔
اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ کشمیر کے حریت پسندوں کے ساتھ یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ انہیں استصواب رائے کا موقعہ دیا جائے گا کہ آیا وہ پاکستان یا بھارت کے ساتھ شامل ہونا چاہتے ہیں۔ ۲۱ اپریل ۱۹۴۸ء کو اقوام متحدہ کی منظور شدہ قرار دادوں پر سکیورٹی کونسل نے ان سے اتفاق کیا کہ آزادانہ طریقہ سے کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جائے گا۔
اس بات کی توثیق ۱۳ اگست ۱۹۴۸ء‘ ۵ جنوری ۱۹۴۹ء اور ۱۴ مارچ ۱۹۵۰ء کی قرار دادوں میں کی گئی۔ بھارت کے سابق وزیر اعظم آنجہانی جواہر لعل نہرو نے اقوام متحدہ کا دروازہ اس وقت کھٹکھٹایا جب تحریک آزادی بڑھ رہی تھی تاکہ حریت پسند اپنی بڑھتی ہوئی تحریک آزادی کو جاری نہ رکھ سکیں اور بھارت کو کشمیر سے بھاگنا نہ پڑے۔ اس طرح استصواب رائے کی قرار دادیں بھارت نے تسلیم کر لیں مگر ستم کی بات یہ ہے کہ بھارت نے اپنے وعدے سے منحرف ہو کر ’’کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ‘‘ کی رٹ لگا رکھی ہے۔ یہ بات سکیورٹی کونسل کی خلاف ورزی ہے۔ قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے بالکل درست کہا تھا کہ ’’کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے۔‘‘ یہ صرف اس لیے نہیں کہ ہمارے دریاؤں کے منابع کشمیر میں ہیں بلکہ یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ کشمیر کے ساتھ ہمارا تاریخی‘ مذہبی‘ جغرافیائی اور ثقافتی تعلق ہے۔ جس طرح ارضِ فلسطین میں اسرائیل کا وجود نامسعود امریکہ کا پیدا کردہ ہے اسی طرح برصغیر میں مسئلہ کشمیر برطانیہ اور بھارت کی ملی بھگت کا نتیجہ ہے۔ حالانکہ تقسیم ہند کے فارمولہ کے مطابق جہاں مسلمانوں کی اکثریت تھی وہ علاقے پاکستان میں شامل ہوئے تھے۔ کشمیر ۹۵ فیصد مسلمانوں کا مسکن ہے مگر بھارت نے کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کر رکھا ہے جبکہ کوئی غیرت مند شخص اپنی شہہ رگ پر دشمن کا ہاتھ برداشت نہیں کر سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ کشمیری مسلمان اپنی آزادی اور اسلامی تشخص کے لیے ایک لاکھ سے زائد جانیں نچھاور کر چکے ہیں۔ بھارت کے ظلم وستم کے باوجود مسلمان حریت پسند اپنی تحریک آزادی کو ماند نہیں پڑنے دیتے بلکہ قربانیوں کی داستان رقم کر رہے ہیں۔
یہ حقیقت ہے کہ مسئلہ کشمیر تقسیم ہند کے نامکمل ایجنڈے کا حصہ ہے۔ اول روز سے ہی پاکستان کی خارجہ اور داخلہ پالیسی کا اہم ستون رہا ہے۔ مگر آمر مشرف کے دور میں مختلف فارمولوں کے نام پر اسے پس پشت ڈال دیا گیا جبکہ ہماری افواج محب وطن‘ تقویٰ اور جہاد فی سبیل اللہ کے جذبہ سے سرشار ہیں اور اہل پاکستان کے دل کشمیری حریت پسندوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ اب ضرورت ہے کہ اس مسئلہ کو عالمی سطح پر اٹھایا جائے اور دنیا کو باور کرایا جائے کہ اس مسئلے کا حل اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر عمل کرنا ضروری ہے۔ یہ کتنے ستم کی بات ہے کہ عالمی طاقتیں خصوصاً امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کو جہاں اپنے مفادات وابستہ ہوں یا مسلم اور غیر مسلم کا مسئلہ در پیش ہو تو ان کی لونڈی اقوام متحدہ فورا حرکت میں آجاتی ہے اور استصواب رائے کے ذریعے مسلمان ملکوں کے ٹکڑے کر دیئے جاتے ہیں۔ لہٰذا مسلمان ممالک کو متحد ہو کر اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرنا چاہیے تا کہ ان کے مسائل حل ہو سکیں اور وہ باوقار قوموں کی طرح زندہ رہ سکیں۔ مقبوضہ کشمیر میں مسلمان حریت پسندوں کی تحریک آزادی سے واضح ہوتا ہے کہ اب بھارت کو مقبوضہ کشمیر سے نکلنا ہو گا اور مسلمان آزادی سے ہمکنار ہوں گے۔ ان شاء اللہ!


No comments:

Post a Comment