احکام ومسائل 12-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Sunday, July 14, 2019

احکام ومسائل 12-2019


احکام ومسائل

جناب مولانا الشیخ حافظ ابومحمد عبدالستار الحمادd
خط وکتابت:  مرکز الدراسات الاسلامیہ ۔ سلطان کالونی‘ میاں چنوں‘ خانیوال‘ پاکستان  ای میل:  markaz.dirasat@gmail.com

گروی شدہ زمین سے فائدہ اُٹھانا
O ہم نے اپنی ایک ضرورت کے پیش نظر اپنے چچا محترم سے دس لاکھ روپیہ قرض لیا اور ان کے پاس زرعی زمین گروی رکھ دی‘ چچا محترم کا تقاضا ہے کہ میں اسے کاشت کر کے اس کی پیداوار اپنے استعمال میں لانا چاہتا ہوں‘ کیا ایسا کرنا جائز ہے؟!
P قرض دینے کے بعد اس کی واپسی یقینی بنانے کے لیے مقروض کی کوئی چیز اپنے پاس رکھنا گروی کہلاتا ہے۔ گروی رکھنے والے کو راہن‘ جس کے پاس گروی رکھی جائے اسے مرتہن اور جو چیز گروی رکھی جائے اسے ’’شیء مرہون‘‘ کہا جاتا ہے۔ گروی شدہ چیز سے فائدہ اٹھانے کے متعلق علماء وحضرات کی مختلف آراء ہیں جن کی تفصیل حسب ذیل ہے:
\          مطلق طور پر گروی شدہ چیز سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ یہ جائز اور مباح ہے۔
\          گروی چیز کی بنیاد قرض ہے اور جس نفع کی بنیاد قرض پر ہو وہ سود ہوتا ہے لہٰذا فائدہ اٹھانا جائز نہیں۔
\          حقیقت کے اعتبار سے گروی شدہ چیز راھن یعنی اصل مالک کی ہے‘ لہٰذا اس کی حفاظت ونگہداشت بھی اس کی ذمہ داری ہے‘ اگر ایسا کرنا ممکن نہ ہو‘ یا وہ خود اس کی حفاظت سے دستبردار ہو جائے تو مرتہن یعنی جس کے پاس گروی رکھی ہے وہ بقدر حفاظت اس سے فائدہ اٹھانے کا مجاز ہے۔
ہمارے نزدیک یہ آخری موقف زیادہ قرین قیاس معلوم ہوتا ہے‘ البتہ اس میں کچھ تفصیل بایں طور ہے کہ اگر گروی شدہ چیز دودھ دینے والا یا سواری کے قابل کوئی جانور ہے تو اس کی حفاظت ونگہداشت پر اٹھنے والے اخراجات کے بقدر اس سے فائدہ بھی لیا جا سکتا ہے۔ اس صورت میں اصل مالک کے ذمے اس کی حفاظت کا بوجھ ڈالنا فریقین کے لیے باعث تکلیف ہے۔ اس سلسلہ میں رسول اللہe کا ارشاد گرامی ہے: ’’سواری کا جانور اگر گروی رکھا گیا ہے تو اس پر اُٹھنے والے اخراجات کی وجہ سے اس پر سواری کی جا سکتی ہے اور اگر دودھ دینے والا جانور ہے تو اخراجات کی وجہ سے اس کا دودھ پیا جا سکتا ہے۔ جو سواری کرتا ہے یا دودھ پیتا ہے اس کے ذمے اس جانور کی حفاظت ونگہداشت کے اخراجات ہیں۔‘‘ (بخاری‘ الرہن: ۲۵۱۲)
واضح رہے کہ یہ فائدہ بھی اپنے استعمال کی حد تک ہے‘ لہٰذا اس دودھ کو بیچنا یا سواری کے جانور کو آگے کرایہ پر دینا جائز نہیں۔ اگر گروی رکھی ہوئی ایسی چیز ہے جس کی حفاظت ونگہداشت پر کچھ بھی خرچ نہیں ہوتا۔ مثلاً زیورات اور قیمتی دستاویزات وغیرہ تو ایسی چیز سے فائدہ اٹھانا درست نہیں کیونکہ ایسا کرنا گویا اپنے قرض کے عوض فائدہ اٹھانا ہے جس میں واضح طور پر سود کا شائبہ ہے۔
صورت مسئولہ میں گروی شدہ چیز دو کنال زرعی زمین ہے جسے مرتہن کاشت کرنا چاہتا ہے اور اس کی پیداوار خود استعمال کرنا چاہتا ہے۔ گروی شدہ زمین سے فائدہ اٹھانے کے متعلق ہمارے برصغیر کے علماء میں اختلاف ہے۔ کچھ حضرات ایسی زمین سے فائدہ اٹھانے کو جائز کہتے ہیں جبکہ کچھ دوسرے اہل علم اس کے عدم جواز کے قائل ہیں۔ ہم نے اس کی تفصیل ’’ہدایۃ القاری شرح صحیح بخاری‘‘ میں لکھی ہے۔ وہاں اس کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔ (ہدایۃ القاری: ج۴‘ ص ۴۸)
ہمارے رجحان کے مطابق زمین کا اصل مالک‘ قرض لینے والا ہے۔ اس لیے اس کا حق ہے کہ وہ اسے خود کاشت کر کے اس سے نفع حاصل کرے۔ البتہ لیے ہوئے قرض کی واپسی کو یقینی بنانے کے لیے زمین سے متعلق کاغذات رجسٹری اور دیگر دستاویزی ثبوت قرض دینے والا اپنے پاس رکھے۔ اگر کسی وجہ سے ایسا ممکن نہ ہو تو جس کے پاس زمین گروی رکھی گئی ہے وہ خود اسے کاشت کرے اور اس پر اٹھنے والے اخراجات منہا کر کے نفع وغیرہ دو حصوں میں تقسیم کر لیا جائے۔ ایک حصہ اپنی محنت کے عوض خود رکھ لے اور دوسرا حصہ زمین کے اصل مالک کو دے دیا جائے۔ یا حصہ دینے کی بجائے اس کے قرض سے اتنی رقم منہا کر دی جائے۔ اس کی یہ صورت بھی ہو سکتی ہے کہ رائج الوقت اس زمین کا جتنا ٹھیکہ ہو‘ سالانہ شرح کے حساب سے اس کے قرض سے منہا کر دیا جائے۔ اس طرح قرض کی رقم جب پوری ہو جائے گی تو زمین اصل مالک کو واپس کر دی جائے۔ اس سلسلہ میں رائج الوقت مندرجہ ذیل دو صورتیں بالکل ناجائز اور حرام ہیں:
\          جس کے پاس زمین گروی رکھی جائے وہ خودہی اسے کاشت کرے اور اس کی پیداوار بھی خود استعمال کرتا رہے اور اصل مالک کو بالکل نظر انداز کر دے۔
\          اگر وقت مقررہ پر قرض وصول نہ ہو تو گروی شدہ زمین بحق قرض ضبط کر لی جائے۔
یہ دونوں صورتیں ظلم اور زیادتی پر مبنی ہیں لہٰذا ان سے اجتناب کرنا چاہیے۔ اس تفصیل کے پیش نظر سائل کے چچا کو یہ حق نہیں کہ وہ دو کنال زرعی زمین کو خود کاشت کرے اور اس کی پیداوار بھی خود استعمال کرتا رہے۔ بلکہ اسے تفصیل بالا کے مطابق معاملہ کرنا چاہیے۔ واللہ اعلم!
گری پڑی چیز اُٹھانا
O مجھے سکول سے گھر جاتے وقت راستے میں ایک پرس ملا ہے جس میں کچھ نقدی اور زیورات ہیں‘ اس کے متعلق شرعی ہدایات کیا ہیں؟ کیا انہیں استعمال کرنا جائز ہے یا اسے بطور امانت اپنے پاس رکھا جائے‘ اس کے متعلق شرعی تفصیل درکار ہے۔
P شرعی طور پر گری پڑی چیز اٹھانے کو ’’لقطہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ شرعی اصطلاح میں لقطہ سے مراد ایسی گم شدہ چیز ہے جو کہیں سے گری پڑی ملے یا اس کا مالک لا پتہ ہو۔ اس کی کئی ایک اقسام ہیں:
\          ایسی اشیاء جو گم ہو جائیں تو ان کا مالک آسانی سے مل سکتا ہے۔ مثلاً شناختی کارڈ یا پاسپورٹ وغیرہ یا چیک اور ڈرافٹ وغیرہ یا اس طرح کی دیگر اشیاء جن پر مالک کا نام اور ایڈریس درج ہوتا ہے۔
\          کچھ ایسی اشیاء بھی ہوتی ہیں کہ اس کے مالک کو آسانی سے تلاش کیا جا سکتا ہے۔ مثلاً موبائل وغیرہ ملے تو اس کی سم کے ذریعے اس کے مالک کا اتہ پتہ معلوم کیا جا سکتا ہے۔
\          بعض گم شدہ اشیاء ایسی ہوتی ہیں جن کے مالک کا کوئی پتہ نہیں ہوتا‘ احادیث میں اس طرح کی اشیاء کے متعلق رسول اللہe نے کچھ ہدایات دی ہیں‘ چونکہ ان قیمتی اشیاء کا کوئی نہ کوئی مالک ضرور ہوتا ہے اس لیے انہیں ضائع نہیں کرنا چاہیے بلکہ انہیں اٹھا کر پبلک مقامات پر ان کی تشہیر کی جائے۔
ایسی اشیاء کے بارے میں رسول اللہe کا ارشاد گرامی ہے: ’’جو شخص کوئی گم شدہ چیز پائے تو اس پر دو گواہ بنائے‘ پھر اس کے بیگ اور تسمے وغیرہ کی حفاظت کرے‘ اگر اس کا مالک آجائے تو اس سے کچھ نہ چھپائے کیوہنکہ وہی اس کا زیادہ حقدار ہے اور اگر وہ نہ آئے تو یہ اللہ کا مال ہے وہ جسے چاہتا ہے دیتا ہے۔‘‘ (مسند امام احمد: ج۴‘ ص ۲۶۶)
ایک دوسری حدیث میں اس کی مزید وضاحت ہے کہ روسل اللہe نے فرمایا: ’’اگر اس کا مالک نہ ملے تو اسے استعمال کر لو‘ لیکن یہ تمہارے پاس امانت ہو گی۔ اگر اس کا طلبگار عمر کے کسی حصے میں بھی آجائے تو وہ چیز اسے ادا کرنا ہو گی۔‘‘ (مسلم‘ اللقطہ: ۴۵۰۲)
گمشدہ چیز اٹھانے والے کو ایک سال تک اس کی تشہیر اور اعلان کرنا ہو گا جب کوئی اس کی علامات کے متعلق صحیح صحیح نشاندہی کر دے تو اسے وہ چیز ادا کر دینی چاہیے‘ اس سے مزید ثبوت طلب نہ کیا جائے۔
واضح رہے کہ کچھ گم شدہ اشیاء ایسی ہوتی ہیں کہ ان کے گم ہونے پر مالک کو کوئی پریشانی نہیں ہوتی یا گم شدہ چیز اس قدر معمولی ہوتی ہے کہ مالک کے ہاں اس کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔ مثلاً چھڑی‘ رسی اور پنسل غیرہ تو ایسی چیزوں کو اٹھا کر استعمال کرنے میں چنداں حرج نہیں۔ نیز ایسی اشیاء جو کھانے پینے کے قابل ہوں اور جلد خراب ہونے والی ہوں تو انہیں بھی اعلان کے بغیر کھایا پیا جا سکتا ہے۔
صورت مسئولہ میں ملنے والا پرس اور اس میں موجود اشیاء آپ کے پاس امانت ہیں۔ جہاں سے ملا ہے وہاں کے گرد وپیش میں رہنے والے لوگوں کو اس کا پتہ ہونا چاہیے۔ اگر کوئی پوچھے اور نشانی بتا دے تو اسے اللہ پر توکل کرتے ہوئے اس کے حوالے کر دیا جائے۔ واللہ اعلم!
مسئلہ وراثت
O ہم دو بھائی ہیں‘ ہماری والدہ‘ والد محترم کی زندگی میں فوت ہو گئیں تھیں تو انہوں نے دوسری شادی کر لی‘ ہماری دوسری امی سے بھی ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہے۔ والد گرامی فوت ہو گئے ہیں اور ان کی تمام جائیداد پر دوسری امی اور ان کی اولاد قابض ہے‘ کیا ہمارا حق نہیں بنتا؟!
P بشرط صحت سوال واضح ہو کہ آدمی جب فوت ہوتا ہے تو اس کا ترکہ شرعی ورثاء کو خود بخود منتقل ہو جاتا ہے‘ صورت مسئولہ میں اگر مرحوم کے ذمے کوئی قرض نہیں اور نہ ہی انہوں نے کوئی وصیت کی ہے تو اس کے شرعی وارث حسب ذیل ہیں: \ ان کی دوسری بیوی  \  دوسری بیوی سے پیدا ہونے والا بیٹا اور بیٹی \ پہلی بیوی کے بطن سے پیدا ہونے والے دو بیٹے‘ (پہلی بیوی جو مرحوم کی زندگی میں فوت ہو چکی تھیں انہیں ترکہ سے کچھ نہیں ملے گا۔کیونکہ زندگی میں فوت ہونے والا وارث خود بخود جائیداد سے محروم ہو جاتا ہے۔) مرحوم کے ترکہ کو حسب ذیل طریقہ سے تقسیم کر دیا جائے:
\          انکی دوسری بیوی کا آٹھواں حصہ ہے کیونکہ مرحوم کی اولاد موجود ہے۔ اولاد کی موجودگی میں بیوی کو آٹھواں حصہ ملتا ہے۔
\          بیوی کو آٹھواں حصہ دینے کے بعد باقی سات حصے اس طرح تقسیم کیے جائیں کہ مرحوم کے تمام لڑکوں کو دو‘ دو حصے اور لڑکی کو ایک حصہ دیا جائے۔ واللہ اعلم!


No comments:

Post a Comment