درس قرآن وحدیث 13-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Sunday, July 14, 2019

درس قرآن وحدیث 13-2019


درسِ قرآن
اخلاقی گراوٹ اور لا علاج امراض
ارشادِ باری ہے:
﴿وَ مَنْ يُّرِدْ فِيْهِ بِاِلْحَادٍۭ بِظُلْمٍ نُّذِقْهُ مِنْ عَذَابٍ اَلِيْمٍؒ۰۰۲۵﴾
’’اور جو بھی ظلم کے ساتھ وہاں الحاد کا ارادہ کرے تو ہم اسے درد ناک عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔‘‘
قرآن کریم  معاشرہ کی اصلاح چاہتا ہے اور پھر اسی اصلاح سے خیرخواہی اور ترقی کی مدارج طے ہوں گی ۔ اصلاح اور تبدیلی کی ابتداء ہمیں اپنے آپ سےکرنا ہو گی، حکومتی  اور مقتدر طبقات و شخصیات کو ہی مورد الزام ٹھہراتے رہنا اور اپنے اعمال  واطوار سے چشم پوشی کسی بھی لحاظ سے مناسب نہیں ، بلکہ ہمیں دیکھنا ہے کہ ہمارے اندر ایسی کون سی غیر شرعی اور غیر اخلاقی عادات ہیں جنہیں بدلنا اور ان کی اصلاح کرنا ضروری ہے۔  اپنے لیے نفع کی تلاش میں لوگوں کے لیے تکلیف کا سامان کرنا اور معاشرہ کے اندر ہیجان پیدا کرنا ایک مسلمان تاجر کے شایان شان نہیں ۔ اشیاء ضروریہ کو بوقت ضرورت ذخیرہ کر لینا اور اس کے ذریعہ سے عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنا اور ذخیرہ اندوزی کے ذریعے زیادہ نفع کے حصول کی کوشش  شریعت کی نظر میں انتہائی ناپسندیدہ فعل ہے۔ مذکورہ آیت کی تفسیر میں بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ اس سے ذخیرہ اندوزی کی مذمت مراد ہے۔ امام قرطبی کہتے ہیں کہ کھانے پینے کی اشیاء کی ذخیرہ اندوزی ایک لحاظ سے الحاد ہی ہے۔
یاد رکھئیے! جو شخص مخلوق خدا کو خاص طور پر مسلمانوں کو تکلیف وکرب میں مبتلا  کرتا ہے  تواس کے نتیجہ میں  اللہ تعالی اسے جسمانی اور مالی بلاؤں  اور آفات میں مبتلا کر دیتے ہیں ۔ نبی کریم e کا ارشاد گرامی ہے : جو شخص کھانے پینے کی چیزوں میں ذخیرہ اندوزی کرکے مسلمانوں پر مہنگائی کرتا ہے تو اﷲتعالیٰ اسے کوڑھ کے مرض میں مبتلاء کر دیتے ہیں ۔ جبکہ دوسری حدیث میں سیدنا امامہt سے روایت ہے کہ جناب نبی کریم e نے فرمایا:’’جو شخص چالیس دن تک غلہ مہنگائی کی نیت سے ذخیرہ کرے پھر غلطی کا احساس ہونے پر وہ تمام غلہ صدقہ کر دے پھر بھی اس کی غلطی کا کفارہ ادا نہیں ہوتا۔‘‘اسی طرح ایک اور روایت میں آپ نے فرمایا: جس شخص نے مسلمانوں کے خلاف غذائی اجناس کا ذخیرہ کیا اللہ تعالیٰ اس پر ،غربت افلاس اور جذام کی بیماری مسلط کردینگے
ہمیں دیکھنا ہے کہ ان  نئی نئی بیماریوں اور لا علاج امراض کی وجوہات کہیں ہماری اپنی ہی اخلاقی اور معاشی گراوٹ تو نہیں ؟ کہیں ہم ایسے امور میں مبتلا تو نہیں جن کی وجہ سے ہمارے گھروں میں ا یسی بیماریوں نے جنم لے لیا ہے جو لا علاج ہیں۔ ہم اپنے اردگر د نظر دوڑائیں تو ریڑھی بان سے لے کر بڑے بڑے آڑھتیوں تک تمام ہی افراد اپنی حیثیت کے مطابق ذخیرہ اندوزی کی لعنت میں گرفتار ہیں، ہر کسی کی یہی خواہش ہے کہ زیادہ سے زیادہ نفع حاصل کیا جائے، چاہے اس کے بدلے لوگ اذیت اور کرب میں مبتلا ہو جائیں ۔ ایسی صورت میں حضوراکرم e کے ارشاد کے مطابق ہمارے گھروں میں بیماریاں ہی جنم لیں گی۔


درسِ حدیث
فضیلتِ شعبان
فرمان نبویﷺ ہے:
[عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: "كَانَﷺ يَصُومُ شَعْبَانَ كُلَّهُ، كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ إِلَّا قَلِيلًا".] (متفق عليه)
سیدہ عائشہr سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ ’’نبی کریمe کبھی پورا شعبان روزے رکھ کر گذارتے اور کبھی شعبان کے چند دنوں کے سوا پورا شعبان روزے رکھا کرتے تھے۔‘‘
شعبان کا مہینہ بڑا بابرکت مہینہ ہے۔ اس ماہ میں لوگوں کے اعمال اللہ کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں۔ اسی بنا پر آپe تقریباً پورا شعبان روزے رکھتے رہتے۔ اس خیال سے کہ جب میرے اعمال اللہ کے سامنے پیش ہوں تو میں روزے کی حالت میں ہوں۔ آپe خود تو شعبان کے مہینے میں کثرت سے نفلی روزے رکھتے تھے مگر امت کو تعلیم فرمائی کہ نصف شعبان تک نفلی روزے رکھ لیا کرو بعد میں نہ رکھو۔ اس کا سبب بھی بیان فرما دیا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ نفلی روزے رکھ کر کمزور ہو جاؤ اور رمضان کے فرض روزے نہ رکھ سکو۔ خاص طور پر آپe نے استقبال رمضان کے روزے رکھنے سے منع فرمایا ہے مگر ہماری قوم اس حکم کی مخالفت کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔ اکثر لوگ جو بڑے دیندار بھی ہیں استقبال رمضان کے روزے رکھتے ہیں۔ شعبان کی پندرھویں رات کو لوگوں نے شب براءت کا نام دیا ہے جبکہ حدیث کی کسی کتاب میں یہ نام پایا نہیں جاتا۔ شب براءت فارسی ترکیب ہے جس کا معنی ہے آزادی۔ یعنی بری ہونے کی رات۔ ایسا کوئی مفہوم قرآن وسنت سے ثابت نہیں البتہ لیلۃ القدر کا ذکر موجود ہے‘ یہ رات تمام راتوں سے افضل ہے۔
شب براءت اسلامی تہوار نہیں‘ صرف اتنی بات بعض روایات سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ شعبان کی نصف رات یعنی پندرھویں رات کو اہل زمین پر خصوصی توجہ کرتا ہے‘ اہل ایمان کو بخش دیتا ہے۔ کافروں کو توبہ کرنے کی مہلت دیتا ہے۔ شرک وکینہ اور بغض رکھنے والے کو معاف نہیں کرتا۔ شب براءت کو منانے میں جو کام ہمارے معاشرے میں کیے جاتے ہیں ان کا احادیث سے کوئی تعلق نہیں۔ مثلاً چراغاں کرنا‘ آتش بازی‘ حلوہ پوری کا اہتمام‘ نئے کپڑے پہننا‘ گھروں کی صفائی کرنا‘ مردوں کی روحوں کا گھروں کو آنا‘ شب بیداری کرنا‘ یہ سب کام شب براءت سے تعلق نہیں رکھتے۔ رات کی عبادت اور دن کے روزے والی روایت بھی ضعیف ہے اور نہ ہی کوئی خاص دعا حدیث سے ثابت ہے۔ صحابہ کرام] ہم سے زیادہ نیک اعمال کی طرف راغب تھے‘ اگر کوئی عمل ایسا ہوتا جس سے صحابہ کرام] کو کوئی فائدہ ہونے کی توقع ہوتی تو وہ ضرور کرتے مگر اس رات انہوں نے کوئی ایسا کام نہیں کیا جو ہماری قوم کر رہی ہے‘ یہ تمام رسومات ہیں ان سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔


No comments:

Post a Comment