اداریہ 13-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Sunday, July 14, 2019

اداریہ 13-2019


سانحۂ نیوزی لینڈ‘ بدترین دہشت گردی!

نیوزی لینڈ ایک پر امن ملک سمجھا جاتا ہے لیکن دہشت گرد وہاں بھی پہنچ گئے۔ ۱۵ مارچ کو کرائسٹ چرچ شہر کی دو مساجد میں دہشت گردی کا گھناؤنا واقعہ رونما ہوا۔ تارکین وطن مسلمان جمعہ کی نماز کے لیے جمع ہو رہے تھے کہ ایک آسٹریلوی عیسائی دہشت گرد نے عبادت میں مصروف نہتے مسلمانوں پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی جس کے نتیجے میں مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے پچاس سے زائد مسلمان شہید اور درجنوں زخمی ہو گئے۔ جن میں بچے‘ بوڑھے‘ عورتیں اور جوان شامل ہیں۔ اس بدترین واقعہ کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ اس سانحہ پر کم وبیش دنیا بھر میں گہرے رنج والم کا اظہار کیا گیا۔ نیوزی لینڈ کی خاتون وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن نے بطور ہمدردی خود زخمیوں کی عیادت کی اور دہشت گردی کی شدید مذمت کے ساتھ مطلوبہ دہشت گرد کو سخت سزا دینے کے عزم کا اظہار کیا۔
دیکھا جائے تو ۹/۱۱ کا ڈرامہ اسی بنیاد پر رچایا گیا تھا کہ مسلمانوں کو مجرم بنا کر ان کی زندگیوں سے کھیلا جا سکے اور ایسا ہی کیا گیا۔ چند امریکی اور مغربی حکمران جن میں درندوں کی سی صفات تھیں‘ جنہوں نے یہ خونی کھیل شروع کیا ان میں مرکزی کردار امریکی حکمرانوں کا تھا۔ جبکہ باقی مغربی حکمران ان کے بلاوجہ اتحادی بن گئے اور پوری دنیا کے عوام کے ذہن خراب کیے۔ ان درندوں نے دنیا کو جس اسلام فوبیا میں مبتلا کرنے کی سازش کی تھی اب وہی سازش اسلام فوبیا سے دہشت گردی فوبیا میں بدل چکی ہے۔
دہشت گردی ریاست کی سرپرستی میں ہویا انفرادی‘ دہشت گردی ہے۔ ۹/۱۱ کی آڑ میں امریکہ بہادر اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ متعدد مسلمان ممالک پر چڑھ دوڑا۔ افغانستان کا تورا بورا بنا دیا۔ عراق کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ پر امن لیبیا کو دہشت وخون میں نہلا دیا۔ شام کو کھنڈرات میں بدل دیا۔ ادھر اسرائیل نے فلسطینیوں پر عرصۂ حیات تنگ کر رکھا ہے۔ غزہ کے مکین دنیا کی سب سے بڑی جیل میں قید کسی مسیحا کے منتظر ہیں۔ برما میں قتل وغارت گری کا جو کھیل کھیلا جا رہا ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ کشمیری جس کسمپرسی میں زندگی گزار رہے ہیں وہ سب پر عیاں ہے۔ اس کے علاوہ کرہ ارض پر لا تعداد مقامات ایسے ہیں جہاں مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی جاتی ہے اور انہیں امتیازی سلوک کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ یہ سب کسی نہ کسی ریاست کی چھتری تلے ہو رہا ہے۔ ان کے نزدیک یہ دہشت گردی نہیں اور نہ ہی دہشت گردی کی تعریف میں آتا ہے۔
البتہ انفرادی طور پر اپنے دفاع کے لیے کوئی مسلمان ہتھیار اٹھا لے‘ یا ان کا ورغلایا ہوا نام نہاد مسلمان کوئی کارروائی کر دے تو اسے مسلمانوں کے سر تھوپ دیا جاتا ہے۔ اس کی آڑ میں اسلام کو خوب بدنام کیا جاتا ہے۔ عالمی میڈیا فوراً حرکت میں آجاتا ہے۔ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف زہر اگلا جاتا ہے۔ نفرت اور شرانگیزی پھیلائی جاتی ہے۔ یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ آج دنیا کا امن متزلزل اور غارت ہو چکا ہے۔ یورپ‘ امریکہ‘ آسٹریلیا اور دیگر ممالک میں مسلمان خود کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں۔ ان کی عبادت گاہوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جس کی تازہ ترین کڑی سانحہ نیوزی ہے۔
سانحہ نیوزی لینڈ پر پوری دنیا میں فضا سوگوار ہے۔ سفاک ذہنیت کے لوگ ہر جگہ موجود ہوتے ہیں جن کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں۔ وہ اس سانحہ میں مسلمانوں کو بے دردی سے شہید کیے جانے پر خوشیاں منا رہے ہیں‘ ان میں مغرب کے علاوہ زیادہ تر بھارتی شدت پسند ہندو ہیں جو اسے پلوامہ واقعہ کا بدلہ قرار دے رہے ہیں۔ اس طرح کی سوچ یقینا گھٹیا لوگوں کی ہی ہو سکتی ہے۔ تا ہم اس سانحہ کی عالمی سطح پر مذمت کی گئی۔ مسلمانوں کے ساتھ دیگر قومیتوں نے دل وجان سے اظہار یکجہتی کیا۔ مسلم کمیونٹی پر اس حملے کو عالمی برادری نے انسانیت پر حملہ قرار دیا۔ سنگدل سے سنگدل انسان بھی اس اندوہناک واقعہ پر روپڑا۔
شہید اور زخمی ہونے والے مختلف ممالک کے یہ لوگ نیوزی لینڈ کی ترقی وخوشحالی کے لیے اپنا کردار ادا کر رہے تھے۔ ان میں کوئی ڈاکٹر‘ کوئی انجینئر‘ کوئی ٹیچر‘ کوئی سائنس دان‘ کوئی چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ اور کوئی طالب علم تھا۔ یہ اپنے ممالک کے علاوہ نیوزی لینڈ کا بھی سرمایہ تھے۔ اس ضمن میں ۲۲ مارچ کو او آئی سی کا اجلاس طلب کیا جانا ایک مناسب اقدام ہے۔ اس میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے عالمی برادری سے مل کر اتحاد واتفاق کا لائحہ عمل ترتیب دینا چاہیے۔ البتہ اقوام متحدہ کا کردار اس سانحہ پر نہایت قابل مذمت ہے جو اب تک خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ اگر کسی جاہل‘ کم علم مسلمان سے رد عمل میں کوئی غلطی سرزد ہو جائے تو عالمی میڈیا آسمان سر پر اٹھا لیتا ہے‘ اقوام متحدہ کا فورا مذمتی بیان آ جاتا ہے۔ چونکہ اس واقعہ میں عیسائی دہشت گرد ملوث تھا اس لیے چپ سادھ لی گئی۔ اب اسے ذہنی مریض قرار دے کر یا معمولی سزا کے بعد چھڑوا لیا جائے گا۔
آخر میں ہم یہ کہنا ضروری سمجھتے ہیں کہ دنیا کو اگر تباہی وبربادی سے بچانا چاہتے ہیں تو عوام میں فکری تبدیلی کی کوشش کریں‘ منفی سوچ ختم کریں۔ یہ باور کرائیں کہ دہشت گردی ایک گھناؤنا جرم ہے اور دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ اسلام تو خیر ہے ہی دین امن وسلامتی‘ اس کا واضح ثبوت اس کی سنہری تعلیمات ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے کہ ’’جس نے کسی انسان کو بلاوجہ قتل کیا اس نے پوری انسانیت کو قتل کیا اور جس نے کسی ایک شخص کی جان بچائی اس نے سارے انسانوں کی جان بچائی۔‘‘



No comments:

Post a Comment