الشیخ مولانا فضل الرحمن ہزاروی 13-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Sunday, July 14, 2019

الشیخ مولانا فضل الرحمن ہزاروی 13-2019


شیخ الحدیث مولانا فضل الرحمن ہزاروی

تحریر: جناب مولانا مظہر سلفی
جو بھی متنفس شے پیدا کی گئی ہے اس کیلئے موت یقینی ہے۔ اس میں خاص وعام اور بدو پارسا حتی کہ انبیا ء و رسل تک جمیع طبقات شامل ہیں‘ کسی کو بھی استثناء حاصل نہیں۔ اس دارالفنا کی ہر چیز ہالک ہے‘ بڑے بڑے آئے اپنے فن کے جواہر دکھلا کے چلتے بنے۔ اب ان کی باتیں و یادیں ہی باقی ہیں‘ جس نے یہاں جو کردار انجام دیا اسے اسی سے یاد کیا گیا ۔ کوئی برائی کی مثال بنا تو کوئی رشد و ہدایت کی تمثیل۔ پھر کوئی نفرت کا نشانہ بنا تو کوئی محبت کا استعارہ ۔ عالی بختوں والے ہیں وہ کہ جنہیں صراط مستقیم کا داعی بنا کر وراثت انبیاء عطاء کی گئی۔ ان خوش بختوں کی ایک طویل فہرست ہے۔ اسعد الرجال کی فہرست کا ایک نام شیخ الحدیث مولانا فضل الرحمٰن ہزاروی مرحوم و مغفور بھی ہے۔ ہزارہ ڈویژن کے اس استاذ الحدیث کو اہل علم کاایک جہاں جانتا ہے۔ آئندہ سطور میں اس گل نادر کی حیات درخشاں کے تابناک گوشوں کا اجمالی خاکہ پیش کیا جاتا ہے۔
ابتدائی حالات:
مولانا موصوف نے ۱۹۴۴ء کو کریم داد کے ہاں آنکھ کھولی۔ ہری پور کے معروف گاؤں کہکہ میں فروکش تھے۔ مذہبی رجحان بالکل نہ تھا۔ سکھوں کا دور تھا۔ توحید و سنت کا نام تک نہ تھا ۔ کہکہ اور اس کے مضافات جہالت تلے ڈوبے تھے۔  کریم داد پشت در پشت گلا بانی سے منسلک تھے۔ بچے چشم شعور کھولتے ہی اپنے والد کے ساتھ کام کاج میں مگن ہو جاتے۔ زوجہِ کریم داد کوئی اللہ والی خاتون تھیں۔ اپنی دانست وسمجھ کے مطابق ہر وقت ذکر و اذکار میں مصروف رہتیں۔ اللہ تعالیٰ سے عالم بیٹے کی دعائیں مانگتیں جسے اللہ نے شرف قبولیت بخشا۔ کریم داد کے تین بیٹے تھے۔ ہمارے ممدوح شیخ فضل الرحمن صاحب تیسرے نمبر پر سب سے چھوٹے تھے۔
تحصیل علم اور تعلیمی پس منظر:
کہکہ گاؤں کے قریب موضع سکند ر پور ڈھیری میں دعوت اہل حدیث پہنچ چکی تھی۔ کریم داد کا کسی طریقے گاؤں کے عالم دین مولانا محمد ادریسؒ سے تعلق پیدا ہوا۔ مولانا کے ہاں مجاہدین کا آنا جانا لگا رہتا تھا۔ ایک دینی وجہادی ماحول تھا۔ یہاں سے کریم داد کا ذہن تبدیل ہوا۔ مذہب کی طرف رجحان بڑھا۔ آپ کے دل میں اپنے کسی بیٹے کو عالم دین بنانے کی خواہش پیدا ہوئی۔والدہ پہلے ہی محو دعا تھیں اور اب والد بھی کوشاں ہو گئے۔
ارد گرد دور تک کوئی دینی درسگاہ نہ تھی۔ البتہ سکندر پور میں حنفی مکتب فکر کے مولوی خلیل الرحمن کے ہاں باقاعدہ طلبہ پڑھا کرتے تھے۔ آپ کو بنیادی طور پر ادھر داخل کروایا گیا۔ یہاں آپ نے پنج گنج اور گلستان وغیرہ کے علاوہ قرآن کی بنیادی تعلیم حاصل کی، مگر اللہ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ ہر روز پڑھنے کے بعد گھر آجاتے اور بکریاں چرایا کرتے۔ ان دنوں کہکہ کی مسجد میں اہل حدیث کے مایہ ناز عالم دین حضرت مولانا فیروز دین جھنگڑویؒ تبلیغ کی غرض سے آئے تھے۔ انہوں نے کریم داد سے کہا کہ میری مانیں تو اسے راولپنڈی بھیج دیں۔ کریم داد مان گئے۔ مولانا فیروز دین جھنگڑوی ؒنے اپنے عظیم دوست حضرت مولانا محمد عبداللہ جھنگڑوی ؒکے نام رقعہ لکھ کر ان کو تھما دیا۔ کریم داد اپنے بیٹے کو لے کر جامعہ تدریس القرآن و الحدیث راولپنڈی پہنچ گئے۔
یہاں آپ نے ایک ماہ کے اند ر پہلی کلاس کی ساری کتب پڑھ لیں۔ بنیادی تدریس کی ذمہ داری حضرت مولانا محمد عبداللہ ؒکی تھی۔ دو تین دن پڑھنے کے بعد شیخ اسماعیل ذبیح نے مولانا عبد اللہ سے پوچھا کہ بچہ کیسا جارہا ہے؟ مولانا عبداللہ نے کہا: کہ ما شاء اللہ بہت ذہین وفطین ہے۔ وہاں آپ نے چار پانچ سال پڑھا‘ ۱۹۵۴ء تا ۱۹۵۸ء یا ۱۹۵۹ء تک ۔ آخری کلاس پڑھنے کے لئے دار القرآن والحدیث جناح کالونی فیصل آباد کا رخ کیا۔
جامعہ تدریس القرآن سے عملی زندگی کا آغاز:
فیصل آباد سے سند فراغت لے کر سیدھے گھر آگئے اور کھیتی باڑی میں مصروف ہو گئے۔ جب شیخ اسماعیل ذبیح کو اس کی خبر ہوئی تو انہوں نے بذریعہ خط رابطہ کیا اور جلد ملاقات کا کہا۔ استاد مکرم کا خط موصول ہوتے ہی ان کے پاس مدرسے میں آگئے۔ ملاقات کے دوران شیخ اسماعیل ذبیح ان سے گویا ہوئے: مدرسے کی روٹیاں ہل چلانے کیلئے کھائی تھیں یا دین کا کام کرنے کیلئے؟ اس مدرسے میں بیٹھ کے پڑھاؤ۔ اپنے استاد کے حکم پر وہیں بیٹھ گئے اور پڑھانا شروع کردیا ۔ اس کے ساتھ ساتھ جامع مسجد محمدی میں خطابت کے فرائض بھی انجام دیتے رہے۔ ۱۹۶۷ء تک تدریس و خطابت ساتھ ساتھ چلتی رہی۔ ۱۹۷۶ء میں خطابت چھوڑدی اور صرف تدریس تک محدود ہو گئے۔ اس دوران من میں کراچی جانے کا شوق پیدا ہوگیا۔ پہلے مسجد سے چھٹی لی اور اب تدریس سے بھی فرار چاہتے تھے، مگر شیخ اسماعیل ذبیح راضی نہ تھے۔ لیکن ایک دن آپ نے جواب دے دیا کہ آپ اپنا بندو بست کر لیں۔ مسجد میں آپ کی جگہ پر جھنگ سے مولانا عبد الرحمن جھنگوی صاحب آگئے۔ چنانچہ مولانا جھنگوی کی ہدایت پر آپ سیالکوٹ تشریف لے آئے۔ یہاں آ پ نے چند ہی دنوں کے اند ر لوگوں کے دلوں میں گھر کر لیا۔ عشاء کے بعد مشکاۃ المصابیح اور بعد الفجر درس قرآن کا اہتمام کیا۔ سیالکوٹ میں آپ احمد پورہ، بازار کھٹیکاں، محلہ کھڈی ، ماڈل ٹاؤن اور پورن نگر وغیرہ میں خدمات انجام دیتے رہے۔ مستقل خطابت و دروس کے علاوہ دور دراز محلات و قصبات میں بھی تقاریر و خطاب کیلئے جاتے۔ مزے کی بات یہ کہ تمام اسفار سائیکل پر طے کرتے ۔ پختہ کار مدرس تھے ، جہاں جاتے مسند علم سجا لیتے۔ آپ کا اصل کام تدریسی میدان تھا ۔کوئی لچھے دار عوامی واعظ نہ تھے۔ عام اسلوب میں سادہ سی بات کرتے، مگر سامعین کے دل میں اتر جاتی ۔ اللہ نے زبان و لہجے میں اتنی تاثیر رکھی تھی کہ ایک بار سنی ہوئی روایت و حدیث بھی نئی محسوس ہوتی۔ بڑا عمدہ اور مضبوط استدلال ہوتا، بے تکلفی سے محو کلام ہوتے ۔ سننے والے تھکتے ، اکتاتے اور نہ ہی تنگی محسوس کرتے۔ آپ کے گردتجار کے حلقے ہوتے مگر کبھی دنیوی طمع و لالچ نہ رکھی۔ بے پروا وبے لوث تھے۔ اس خود داری اور بے نیازی نے آپ کو سیالکوٹیوں کے دلوں کا راجہ بنا دیا۔خلوص کی بنیاد پر خدمت دین میں لگے رہے۔ اللہ نے آپ کو لوگوں کے دل و نگاہ میں بلند کر دیا۔ سیالکوٹ میں مجموعی طور پر آپ نے چالیس برس کام کیا ، مگر تادم حیات محبتوں اور ولولوں میں کوئی کمی واقع نہ ہوئی، ہری پور آنے کے بعد بھی رمضان کا مہینہ سیالکوٹ میں گزارتے تھے۔
ہری پور میں ایک عظیم درسگاہ کا قیام اور دیگر دعوتی کام:
کہکہ گاؤں میں دعوت و تبلیغ کا آغاز تو دوران طالب علمی ہی ہو چکا تھا۔ راولپنڈی سے گھر گئے تو مسجد میں رفع الیدین سے مسنون نماز پڑھی ، کھڑاک سے اونچی آمین کہی ، جس سے مسجد میں ایک ہنگامہ کھڑا ہو گیا ۔ آپ کے والد اور دیگر عزیز و اقارب بھی پریشان ہو گئے کہ ہم نے بچے کو کن لوگوں کے پاس چھوڑ دیا۔ کیونکہ یہاں کے لوگ مولوی غلام اللہ خان دیوبندی مماتی گروپ کو وہابی سمجھتے تھے۔ ان کیلئے اہلحدیث نام بالکل اجنبی تھا۔ آپ ان کو مناظرے کا چیلنج کر دیتے مگر یہ لوگ گالیوں کے ما سوا کسی علم و ہنر سے آشنا نہ تھے۔ آخر لوگوں نے آپ کو الگ مسجد بنانے کا مشورہ دیا۔ مسجد کی بنیادوں تک تو ساتھ تھے مگر جیسے ہی انہیں مسجد کی تعمیر سچ نظر آئی تو مخالف ہو گئے، بیگانے تو رہے ایک طرف ، سگے بھائی کدال لے کر مارنے پر اتر آئے۔ آپ پر کسی کا برا رویہ اثر انداز نہ ہو سکا۔ حکمت و بصیرت کے ساتھ سلسلہ دعوت جاری رکھا۔ دعوت و تبلیغ کے ساتھ آپ نے سماجی اور فلاحی کاموں پر بھی توجہ دی ۔ لوگوں کے ساتھ گھریلو معاملات میں مدد کرتے۔ گاؤں میں کئی ایک فلاحی کام کیے۔ کتاب و سنت کی طرف لوگوں کا رجحان بڑھا۔ گاؤں سے باہر دور تلک اثر پہنچا۔ چار نئی مساجد تعمیر کی گئیں اور پانچویں کی کوشش جاری ہے۔ آپ کی ساری کی ساری زندگی ہی خدمت ہے۔ مگر پسماندہ ترین علاقے میں ایک عظیم دانشگاہ جامعہ تقویۃ الاسلام السلفیہ کا قیام سب سے بڑا کارنامہ ہے۔
۱۹۹۸ء تک ہزارہ ڈویژن کا یہ عظیم و اولین مدرسہ تکمیل تک پہنچ گیا اور ۱۹۹۹ء میں باقاعدہ کلاسز کا آغاز بھی ہو گیا۔ جی ۔ٹی روڈ ہری پور کے ارد گرد، سیالکوٹ اور پنڈی کے کسی علاقے میں بھی یہ کام ممکن تھا، مگر آپ نے اپنے گاؤں کی دینی ضرورت کے پیش نظر ادھر کا انتخاب کیا ۔ آپ کے اس چمن حدیث سے تشنگان علوم وفنون کی ایک تعداد کے دامن سیر ہوئے۔ آپ کے تلامذہ کی ایک کثیر تعداد ہے، ۱۹۹۹ء سے تا دم واپسیں آپ یہاں صحیح البخاری کا درس دیتے رہے۔
اساتذہ گرامی:
مولانا محمد خلیل الرحمن‘ مولانا محمد عبداللہ جھنگڑویؒ‘ مولانا شیخ الحدیث اسماعیل ذبیحؒ ‘ مولانا محمد عبداللہ مظفر گڑھی‘ مولانا ولی اللہ‘ مولانا عبدا لغفار حسنؒ‘ پروفیسر غلام احمد حریری‘ مولانا معاذ الرحمن دیوبندی‘ شیخ الحدیث عبد اللہ یوسف ویرووالویؒ‘ شیخ الحدیث حضرت محی الدین لکھویؒ۔ مولانا خلیل الرحمن سے سکندر پور میں ابتدا کی ۔ مولانا عبداللہ جھنگڑوی سے قرآن کا ترجمہ اور پہلی کلاس کی بنیادی تمام کتب ،مولانا ولی اللہ سے فقہ حنفی کی کتب پڑھیں۔
ہم سبق علماء کرام:
مولانا عبدالسلام ہزاروی آپ کے ہم سبق ہونے کے ساتھ بے تکلف دوست بھی تھے۔ مولانا یوسف حسین خانپوری بن مولانا سعید اللہ خانپوری ، مولانا سعید اللہ صاحب خانپور کے ایک منجھے ہوئے عالم دین تھے۔ ان کے فرزند یوسف حسین کافی دن صاحب فراش رہنے کے بعد چند ماہ قبل چل بسے۔ فیصل آباد میں حضرت مولانا یوسف انور صاحب اور مولانا عبدا لرؤف صاحب ؒ برادر صغیر ادیب اہل حدیث ہزارہ مولانا حکیم محمد اسحاق جھنگڑوی تھے۔
تلامذہ:
بزرگ عالم دین مولانا عبداللہ صاحب قاضیاں والے۔ مولانا حبیب الرحمن صاحب ۔ مولانا عطاء الرحمن  صاحب۔ مولانا عتیق الرحمن۔ مولانا شفیق الرحمن ۔ مولانا سجاد الرحمن ۔ مولانا داؤد مدنی مرحوم (سابق مدرس جامعہ سلفیہ فیصل آباد) مولانا شفاقت۔ مولانا عمران عباسی، مولانا ندیم عباسی۔ مولانا عبدالقدیر صاحب۔ مولانا ظہور صاحب۔ مولانا نزاکت صاحب ۔ مولانا ذیشان صاحب  حویلیاں۔ مولانا زبیر صاحب وغیرہ کو راقم جانتا ہے۔
وفات:
آپ کے واقفان حال میں کوئی ایسا نہیں کہ جو آپ کے تقوی و پرہیز گاری کی گواہی نہ دے۔ آپ شب بیدار تھے ، ایام شباب سے بستر مرگ تک تہجد نہ چھوٹی۔ بلکہ آخری دنوں میں آپ کی عبادات میں پہلے سے اضافہ محسوس کیا گیا۔ نفلی روزوں کا پہلے بھی اہتمام کرتے مگر قبل از وفات کے دنوں میں لگاتار روزے رکھے۔ بلڈ پریشر کے مسئلے کی وجہ سے اہل خانہ کے روکنے کے باوجود روزے سے رہے اور جواب دیتے کہ اس سے میرا بلڈ پریشر ٹھیک رہتا ہے۔ آخر اسی حال میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملے ۔ رات کو تہجد کیلئے اٹھے، پہلو میں کچھ درد سا محسوس کیا مگر یہ درد وفات تھا۔ آخر صبح کی اذان کے وقت روح پرواز کر گئی۔ جمعرات کے روز شام چار بجے نامی گرامی علماء ، طلبہ اور دیگر جماعتی و غیر جماعتی احباب کے جم غفیر نے نماز جنازہ کے بعد آبائی گاؤں کہکہ میں آپ کو سپرد خاک کیا ۔ سوگواران میں آپ کے چار پسران: مولانا عطاء الرحمن ہزاروی، مولانا شیخ حبیب الرحمن علوی، مولانا عتیق الرحمن اور نعیم الرحمن۔ یہ سوگ و غم صرف آپ کے اہل خانہ کا نہیں بلکہ ہر اہلحدیث اور پوری جماعت کا ہے ۔ آپ کی وفات سے ہر دل مغموم تھا۔ ہر نظر اداس تھی اور ہر چہرہ افسردہ تھا۔ آہوں و سسکیوں بھرا یہ جنازہ واضح کر رہا تھا کہ اللہ والے یوں رخصت ہوتے ہیں۔


No comments:

Post a Comment