درس قرآن وحدیث 14-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Sunday, July 14, 2019

درس قرآن وحدیث 14-2019


درسِ قرآن
استماع
ارشادِ باری ہے:
﴿وَ اِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ وَ اَنْصِتُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ۰۰۲۰۴﴾
’’اور جب قرآن پڑھا جا ئے تو اس کی طرف کان لگایا کرو  اور خاموش رہا کرو ، امید ہے کہ (اس کی بدولت )تم پر رحمت کی جائے۔‘‘
اس دنیا میں ہر کوئی اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرتا اور اس کے حصول کے لیے تگ و دو کرتاہے۔ اللہ تعالیٰ نے انبیاءo کے ذریعہ اور واسطہ سے ایک دوسرے کے حقوق متعین کرکے انسانیت کو آگاہ بھی کردیا ہے ۔جہاں جہاں انسان ان حقوق و فرائض کی پاسداری کرے گا، وہاں وہاں  معاشرہ ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے وقار اور کامیابی سے اپنی منزل کی طرف گامزن رہے گا۔لیکن اگر انسان اپنے حقوق کے لیے کوشش کرتا رہے اور دوسروں کے حقوق سے کنارہ کشی برتے تو  ایسے شخص کو جس طرح ہمارا معاشرہ اچھا نہیں سمجھتا بعینہ اسی طرح شریعت  کی نظر میں بھی وہ پسندیدہ انسان نہیں ۔
اللہ کی کتاب اور اس مالک الملک کے کلام قرآن مجید کے حقوق سے اگر انسان غافل ہو جائے تو اس سےبڑھ کر اور کیا بے ادبی ہو سکتی ہے!آج جس ادب اور جس حق قرآن سے ہمارا معاشرہ غافل نظر آتاہے اس میں قرآن کی تلاوت کے وقت گفتگو اور گپ شپ میں مگن رہنا اور خاموشی اختیار نہ کرناہے۔ جبکہ درج بالا آیت میں اللہ تعالی نے واضح طور پر حکم فرمایا ہے کہ ’’اور جب قرآن پڑھا جائے تو اس کی طرف کان لگایا کرو  اور خاموش رہا کرو ، امید ہے کہ (اس کی بدولت )تم پر رحمت کی جائے۔‘‘
صحابہ کرام] تلاوت قرآن سنتے اور کرتے وقت انتہائی با ادب رہا کرتے اور ترہیب والی آیات سن کر کانپتے اور اللہ کا خوف ان کے دلوں میں بسیرا کر جاتا۔ اسی طرح خوف اور ڈر کی وجہ سے ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جایا کرتے تھے ۔ یہ تبھی ممکن ہے جب انسان خاموشی  اورپوری توجہ کے ساتھ اللہ کا کلام سنے اور اس میں غورو  فکر کرے۔ یہی خصوصیت قرآن میں ایک اوراندازسے یوں بیان ہوئی ہے:
﴿اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِيْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَ جِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ اِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ اٰيٰتُهٗ زَادَتْهُمْ اِيْمَانًا وَّ عَلٰى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُوْنَۚۖ۰۰۲﴾
’’ایمان والے تو ایسےہوتے ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جاتاہے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور جب اللہ کی آیات پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو ان کا ایمان مزید بڑھ جاتا ہے۔‘‘
 دوسرے مقام پر فرمایا:
’’(اللہ کی آیات کی تلاوت اور استماع  سے)لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں جو اللہ کا خوف رکھتے ہیں ، اور آخر کار ان کے جسم اور دل اللہ کے ذکرکی طرف نرم ہو جاتے ہیں۔‘‘
کیا تلاوت قرآن کرتے اور سنتے وقت ہمارے اوپر ایسی حالت طاری ہوتی ہے؟ اگر نہیں تو ہمیں صبح صبح  گاڑی میں یا دکان پر تلاوت لگا کر  باادب ہو کر اسے سنتے ہوئے اس میں غور وفکر کی کوشش بھی کرنی چاہیے تاکہ برکت کے ساتھ ساتھ مزید فوائد کا حصول ممکن ہو۔

درسِ حدیث
زندگی بھر کے روزے
فرمان نبویﷺ ہے:
[عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِﷺ: "مَنْ صَامَ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ اَيَّامٍ فَذٰلِكَ صِيَامُ الدَّهْرِ"، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ تَصْدِيقَ ذٰلِكَ فِي كِتَابِهِ: ﴿مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ عَشْرُ اَمْثَالِهَا﴾ اليَوْمُ بِعَشْرَةِ اَيَّامٍ." قال أبوعيسى: هٰذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صحیح ] (ترمذی)
سیدنا ابوذرt سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہe نے فرمایا: ’’جس شخص نے ہر ماہ تین دن کے روزے رکھے پس اس نے ساری زندگی روزے رکھے۔‘‘ اللہ عز وجل نے اپنی کتاب میں اس کی یوں تصدیق نازل فرمائی ’’جو کوئی ایک نیکی لے کر آیا اسے دس گنا ثواب ملے گا۔ یعنی ایک دن‘ دس دن کے برابر ہو گا۔‘‘ ابوعیسیٰ (امام ترمذی) نے فرمایا: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو بخشنے اور بلند درجات تک پہنچانے کے مواقع فراہم کرتا ہے‘ تلاوت کردہ حدیث میں رسول اللہe نے فرمایا کہ ’’روزےرکھو اور اللہ کا قرب حاصل کرو‘ اس مقصد کے لیے آپe نے تعلیم دی کہ جس شخص نے ایک ماہ میں تین مخصوص ایام کے روزے رکھے وہ یوں ہے جیسے کہ وہ تمام زندگی روزے رکھتا رہا ہے۔ وہ مخصوص ایام ہر اسلامی مہینے کی 13، 14 اور 15 تاریخ ہیں۔ انہیں ایام بیض بھی کہتے ہیں۔ یعنی ان تین دنوں کی راتیں پورا چاند چمکنے کی وجہ سے روشن ہوتی ہیں۔ زندگی بھر روزے رکھنے کا ثواب اس انداز میں کہ اللہ نے قرآن پاک میں اعلان فرمایا کہ جس شخص نے ایک نیکی کی اسے اس نیکی کا دس گنا ثواب ملے گا۔ یعنی ایک روزے کا ثواب دس دنوں کے روزے کے برابر ہو گا۔ اس طرح تین روزے تیس دن یعنی ایک مہینے کے برابر ہو گئے اور ہر مہینے تین روزےرکھنے والا پورے مہینے کا ثواب پا لیتا ہے اور ہر اسلامی مہینے میں تین روزے رکھنے والا زندگی بھر کے روزوں کا ثواب پائے گا۔ اللہ تعالیٰ ایسے ہی اپنے بندوں کو معافی اور بلندئ درجات کے مواقع فراہم کرتا ہے جیسے کہ شوال کے چھ نفلی رکھنے والا رمضان کے پورے روزے رکھنے پر پورے سال کے روزوں کا ثواب پا لیتا ہے۔نفلی عبادات انسان کے درجے بلند کرنے کا سبب بنتی ہیں لہٰذا فرائض کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ نفلی عبادات کی طرف بھی توجہ دینی چاہیے۔


No comments:

Post a Comment