معلم انسانیت اور حکمت تدریس 14-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Sunday, July 14, 2019

معلم انسانیت اور حکمت تدریس 14-2019


معلم انسانیّت اور حکمت تدریس

تحریر: جناب ڈاکٹر خالد محمود مدنی
مُعلِّمی کا پیشہ انتہا ئی مُقدّس و متبرک ہے۔ یہ تمام انبیاء کی میراث ہے۔ افضیلت و برتری کے تمام معیار علم کے گرد گھومتے ہیں چونکہ یہ انسان کی بنیادی ضرورت ہے۔ حصول علم کے بغیر دین و دنیا کی کی معرفت و آگہی ممکن نہیں۔ وُہ لوگ خوش نصیب ہیں جو اس کو پھیلا نے اور حصول علم کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔وہ دنیا کے قابلِ رشک اور اعلیٰ ترین لوگ ہیں جن کے حصولِ رزق کے ذرائع اللہ تبارک و تعالیٰ نے مُعلِّمی سے وابستہ کر دیئے ہیں۔ خُداوندِ علیم و خبیرنے تعمیرِ انسا نیت کے لیے عظیم ترین ہستیوں انبیائے کرام کو اس منصب ِجلیلہ پہ فائز فرمایا۔ربِّ ذوالجلال نے سلسلہِ آدمیت و انبیاء کی پہلی کڑی جنابِ آدمu کو تخلیق فرما یا ، انہیں سا بقہ مخلوق (فرشتوں اور جنوں) پہ فضیلت کا ارادہ کیا تو کچھ نئی چیزیں تخلیق فرما ئیں اور خود سیدنا آدمu کے مُعلِّم ِاوّل بن کر اُن کو اِن چیزوں کے نام سکھا دیئے۔ پھر فرشتوں پہ آدمؑ کی فضیلت ثابت کرنے کی غرض سے تخلیق شُدہ چیزوں کو فرشتوں کے سامنے پیش کیااور اُن سے نام پوچھے ،تو فرشتے لا جواب ہو گئے ۔ ارشاد خداوندی ہے:
{وَعَلَّمَ آدَمَ الاَسْمَآئَ کُلَّہَا ثُمَّ عَرَضَہُمْ عَلَی الْمَلاَپکَۃِ فَقَالَ اَنبِؤنِیْ بِاَسْمَآئِ ہٰـؤُلَآئِ اِنْ کُنتُمْ صَادِقِیْنَ قَالُواْ سُبْحٰنَکَ لاَ عِلْمَ لَنَا اِلاَّ مَا عَلَّمْتَنَآ اِنَّکَ اَنتَ الْعَلِیْمُ الْحَکِیْمُ} (البقرۃ: ۳۱-۳۲)
’’اور اللہ نے آدمؑ کو ساری چیزوں کے نام سکھائے، پھر انہیں فرشتوں کے سا منے پیش کیا اور فرمایا: ــاگر تمہارا خیال صحیح ہے (کہ کسی خلیفہ کے تقرر سے نظام بگڑ جا ئے گا)تو ذرا اِن چیزوں کے نام بتاؤ۔انہوں نے عرض کیا،نقص سے پاک تو آپ ہی کی ذات ہے،ہم تو بس اتنا ہی علم رکھتے ہیں، جتنا آپ نے ہم کو دیا ہے۔ حقیقت میں سب کچھ جا ننے والا اور سمجھنے والا آپ کے سوا کو ئی نہیں۔‘‘
اب ربُّ العالمین نے سیدنا آدمu کو فرشتوں کا مُعلِّم بنا تے ہوئے فرمایا کہ آدم! تُم اِن فرشتوں کو اِن چیزوں کے نام بتاؤ۔جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
{قَالَ یٰآدَمُ اَنبِئْہُم بِاَسْمَآپہِمْ فَلَمَّآ اَنبَاَہُمْ بِاَسْمَآپہِمْ قَالَ اَلَمْ اَقُل لَّکُمْ اِنِّیٓ اَعْلَمُ غَیْْبَ السَّمٰوَاتِ وَالاَرْضِ وَاَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَمَا کُنتُمْ تَکْتُمُونَ} (البقرۃ: ۳۳)
’’پھر اللہ نے آدمu سے کہا: تم اِنہیں اِن چیزوں کے نام بتاؤ۔ جب اس نے ان کو اُن سب کے نام بتا دیے،تو اللہ نے فرمایا: میں نے تم سے کہا نہیں تھا کہ میں آسمانوں اور زمین کی وہ ساری حقیقتیں جانتا ہوں جو تم سے مخفی ہیں،جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو،وہ بھی مجھے معلوم ہے اور جو کچھ تم چھپاتے ہو اسے بھی میں جانتاہوں۔‘‘
جب آدمؑ ان چیزوں کے نام بتا چکے تو اِس مُعلِّم ملائکہ کو مسجودِ ملائکہ بنا دیا،فرشتوں کو حُکم دیا کہ اپنے مُعلِّم (اُستاد) کو سجدہ کرو۔گویا مُعلِّم وہ ہستی ہے جو روزِ اوّل سے مسجودِ ملائکہ بھی ہے۔اللہ ربُّ العزت نے تاریخ کے مختلف ادوار میں انسانیت کی فوزو فلاح ،راہنما ئی و بھلائی اورصراطِ مستقیم پر گامزن کر نے کی غرض سے پے درپے مُعلِّمینِ انسا نیت مبعُوث فرما ئے جن کی آخری کڑی نبی آخرالزمآں جنابِ محمد رسول اللہe ہیں۔
اللہ رب العا لمین نے آپe کو تعلیم و تعلم کے کامل اسلُوب، طریقوں اور تدریسی حکمتوں سے بہرہ ور فرمایا۔ آپe نے تئیس سال کے قلیل عر صہ میں انسانیت کو نیکی و راستی کی مکمل تعلیم سے منوّر فرمایا۔ انسان کے کردار کو جِلا بخشی اور اس کے فہم و فکر کی سطح کو عظیم رفعتوں سے ہمکنار کیا۔عرب و عجم میں برپا ہو نے والا علمی و فکری انقلاب آپ کے طرزِ اسلوب،حکمتِ تدریس اور بصیرتِ کا ملہ کا نتیجہ تھا۔آپ کے علمی فیض سے پوری دنیا ظلمت کدہ سے بُقعہِ نو ر بن گئی،ظلمت و جہالت کی تاریکیاں چھَٹ گئیں۔بلا شبہ آپ انسا نیت کے مُعلِّم اعظم ہیں اور اُمّتِ مسلمہ کا جو فرد بھی اس پیشہِ تعلیم و تدریس سے وابستہ ہے وہ انبیاء کی میراثِ عظیم(علم) کا وارث ہے۔
تعلیم و تدریس کا عمل معاشرے کی ترقی و تنزلی میں بنیادی کردار کا حامل ہے۔ اس معاشرتی عمل سے انسان کی ذہنی و تخلیقی صلا حیتوں کو جِلا ملتی ہے۔تہذیبی و ثقافتی اور تمدنی و اخلا قی تبدیلی اس عمل کی مر ہونِ منت ہے۔سیاسی و عدالتی اور معاشی و سما جی نظام کا استحکام بھی نظامِ تعلیم وتدریس کے گرد ہی گھومتا ہے۔گویا اس کُرہِ ارض پہ انسان کا عروج و زوال اس عمل سے وابستہ ہے۔عصرِ حاضر میں پوری دنیا ایک عالمگیر برادری (گلوبل ولیج)بن چُکی ہے۔ اقوامِ عالم میں نظریات و فکر اور تہذیب و تمدن کا تصادم اور ٹکراؤ پوری قوت کے ساتھ جاری و ساری ہے۔دنیا کے ہر خطے کی قوم اپنے تہذیب و تمدن کی فتح و کا مرانی کے جھنڈے گاڑنے کے چکر میں ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے۔اسی تہذیبی تصادم کے ماحول اور فضا میں اپنے بنیادی نظریات کے تحفظ سے سے غافل یا کمزور قومیں انتہا ئی خطرے سے دوچار ہیں۔ صرف اسی قوم کو بقاء ہے جس کے نظریات و فکر اور تہذیب و تمدن کی بنیادیں ٹھوس اور خالصتاً الہامی و آفاقی ہوں۔وہ اللہ کے فضل سے پُورے کرہِ ارض پہ صرف مسلم اُمّہ ہی ہے۔اب ضرورت اس امر کی ہے کہ عصرِ حاضر کے مسلمان مُعلِّمین، مُعلِّم انسانیتe کی حکمتِ تدریس کو اپناتے ہوئے نسلِ نو کی تعمیر اور تعلیم وتربیت کریں اور پیغمبرآخر الزمآں کے اصولِ حکمت سے اُمتِ مسلمہ کی تہذیب وثقافت کی آبیا ری کریں۔
تعلیم و تدریس کا عمل کسی بے حس و بے جان اور جامد و میکانکی عمل کا نام نہیں بلکہ اس میں استاد کو مرکزی مقام حاصل ہے۔ مُعلِّم اسلا می طرزِ تعلیم میں ایک مقدس روحا نی باپ کی مانند ہے جو علمی وتہذیبی وجود کو نئی زندگی بخشتا ہے۔ جب مُعلِّم انسانیتe کو نبوت اور تربیتِ انسا نیت کی ذمہ داری عنایت فرمائی گئی تو قرآن مجید کو محض کتا بی شکل میں بطور نصابِ انسا نیت کے عطا نہیں فرما دیا بلکہ خود اس پر عمل کی ذمہ داری بھی آپe پہ ڈالی گئی۔ آپe کو اس نصاب کا عملی پیکر قرار دیتے ہوئے لوگوں سے فرمایا کہ
{لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُولِ اللَّہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ} (الاحزاب: ۲۱)
’’یقینا تمہارے لیے رسول اللہ (کی زندگی) میں عمدہ نمو نہ (موجود) ہے۔‘‘
کسی نے جب امی عائشہ صدیقہr سے آپe کے اخلا ق کے بارے میں سوال کیا تو آپr نے انتہا ئی مختصر مگر جا مع جواب ارشاد فرما کر مُعلِّم انسا نیت کی شخصیت کا پورا نقشہ کھینچ دیا۔ فرمایا:
[کَانَ خُلُقُہ ُ القُرآن۔]
’’آپ کا اخلاق تو عین قرآن تھا۔‘‘
نبی کریمe محض قرآنِ کریم کی وحی کو لوگوں تک پہنچا ہی نہیں رہے تھے بلکہ خود تعلیماتِ قرآنی کا عملی نمونہ  بھی تھے۔ کسی بھی مُعلِّم کا بنیادی نکتہ حکمت و دانائی ہے جو اُس کی تدریس کو انتہا ئی مؤ ثر و منفرد بنا دیتا ہے۔میں نے مُعلِّم انسانیتe کی مُعلِّما نہ زندگی کے مختلف پہلووں کو قرآن و سنت اور سیرت النبیe کی روشنی میں پیش کرنے کی کو شش کی ہے تا کہ عصرِ حا ضر کے مُعلِّمین اِن کو مینارہِ نور بنا کے اُمّتِ مُسلمہ کے نونہالوں کی تعمیر،سیرتِ نبویe کی روشنی میں کر سکیں۔


No comments:

Post a Comment