احکام ومسائل 14-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Sunday, July 14, 2019

احکام ومسائل 14-2019


احکام ومسائل

جناب مولانا الشیخ حافظ ابومحمد عبدالستار الحمادd
خط وکتابت:  مرکز الدراسات الاسلامیہ ۔ سلطان کالونی‘ میاں چنوں‘ خانیوال‘ پاکستان  ای میل:  markaz.dirasat@gmail.com

خلع کے بعد نکاح
O میری شادی کو دس سال ہو چکے ہیں‘ میرے میاں حسن معاشرت کا مظاہرہ نہیں کرتے۔ میں نے تنگ آکر عدالتی خلع لے لیا۔ میرا ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہے‘ اولاد کی خاطر میں رجوع کرنا چاہتی ہوں‘ شریعت میں اس کی کیا صورت ہو سکتی ہے؟!
P اگر عورت اپنے شوہر سے تنگ ہو اور وہ طلاق دے کر اسے فارغ بھی نہ کرتا ہو تو عورت کو شریعت نے یہ حق دیا ہے کہ وہ مہر میں وصول کی ہوئی رقم اپنے شوہر کو واپس دے کر اس سے علیحدگی اختیار کر لے۔ اسے شرعی اصطلاح میں خلع کہا جاتا ہے۔ اس کی مشروعیت کتاب وسنت سے ثابت ہے‘ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اگر میاں بیوی دونوں کو اندیشہ ہو کہ وہ اللہ کی حدود قائم نہیں رکھ سکیں گے تو ان پر (خلع میں) کوئی گناہ نہیں۔‘‘ (البقرہ: ۲۲۹)
لیکن اس خلع کی معقول وجہ ہونا چاہیے‘ بلاوجہ عورت کا اپنے خاوند سے طلاق کا مطالبہ کرنا حرام ہے۔ چنانچہ رسول اللہe کا ارشاد گرامی ہے: ’’جو عورت کسی معقول وجہ کے بغیر اپنے خاوند سے طلاق کا مطالبہ کرتی ہے تو اس پر جنت کی خوشبو بھی حرام ہے۔‘‘ (ابوداؤد‘ الطلاق: ۲۲۲۶)
خلع کو دو طرح سے عمل میں لایا جا سکتا ہے:
\          خلع پر میاں بیوی دونوں راضی ہوں اور گھر میں ہی معاملہ طے کر کے ایک دوسرے سے الگ ہو جائیں‘ وہ عدالتی چکر میں نہ پڑیں۔ امام بخاریa نے اس سلسلہ میں سیدنا عمرt کا ایک قول پیش کیا ہے کہ خلع جائز ہے۔ اس میں حاکم وقت کے فیصلے کی ضرورت نہیں۔ (بخاری‘ الطلاق‘ قبل حدیث: ۵۲۸۳) … لیکن اس خلع کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہو گی‘ آئندہ مشکلات کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔
\          اگر ان کا آپس میں اتفاق نہ ہو سکے تو حاکم وقت‘ حالات کا جائزہ لے کر ان دونوں کے درمیان علیحدگی کرانے کا مجاز ہے۔ رسول اللہe نے سیدنا ثابت بن قیس t کی بیوی کا خلع کرایا تھا‘جیسا کہ روایات میں ہے۔ (بخاری‘ الطلاق: ۵۲۷۳) … ان دونوں صورتوں میں حق مہر کی واپسی ضروری ہے۔
خاوند کو چاہیے کہ وہ عورت کی مجبوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حق مہر سے زیادہ کا مطالبہ نہ کرے۔ جیسا کہ رسول اللہe نے سیدنا ثابت بن قیس t سے فرمایا تھا: ’’وہ اس سے اپنا باغ وصول کر لے اور زیادہ نہ لے۔‘‘ (ابن ماجہ‘ الطلاق: ۲۰۵۶)
لیکن بیوی اپنی مرضی سے جان چھڑانے کے لیے حق مہر سے کچھ زیادہ دینا چاہے تو جائز ہے کیونکہ شریعت میں اس کی ممانعت موجود نہیں۔
چونکہ خلع کے ذریعے نکاح فسخ ہوتا ہے‘ اس لیے اس کی عدت ایک حیض ہے۔ جیسا کہ رسول اللہe نے خلع لینے والی عورت کی عدت ایک حیض مقرر فرمائی تھی۔ (ابوداؤد‘ الطلاق: ۲۲۲۹)
عدت گذارنے کے بعد عورت عقد ثانی کرنے کی مجاز ہے‘ خاوند کو دوران عدت رجوع کی اجازت نہیں۔ کیونکہ اگر اسے رجوع کی اجازت دی جائے تو عورت کو اپنا مال خرچ کرنے کا کیا فائدہ ہے۔ بہرحال عورت کے بعد آگے نکاح کر سکتی ہے‘ اگر خلع کی وجوہات ختم ہو جائیں اور بیوی اپنے پہلے شوہر سے نکاح کرنا چاہے تو شرعی طور پر اس میں کوئی قباحت نہیں۔ اس سلسلہ میں سیدنا عبداللہ بن عباسw کا فتویٰ بھی موجود ہے۔ (بیہقی: ج۷‘ ص ۳۱۶)
صورت مسئولہ میں عورت اگر اپنے بچوں کی خاطر پہلے خاوند سے نکاح کرنا چاہتی ہے تو اسے اجازت ہے لیکن ضروری ہے کہ خلع کی وجوہات دوبارہ پیدا نہ ہوں تا کہ دوبارہ جگ ہنسائی نہ ہو۔ واللہ اعلم!
گمشدہ خاوند کی بیوی
O ہم نے اپنی لڑکی کا نکاح اس کے ماموں زاد سے کیا‘ دو سال وہ اکٹھے رہے‘ پھر اس کا خاوند بیرون ملک چلا گیا‘ ہمارا اس سے کوئی رابطہ نہیں اور نہ ہی اس نے اپنے متعلق کوئی اطلاع دی ہے۔ عرصہ تین سال سے ہم انتظار کر رہے ہیں۔ شرعی طور پر ہمارے لیے کیا حکم ہے؟!
P جس عورت کا شوہر لا پتہ ہو جائے اسے مفقود الخبر کہا جاتا ہے۔ اس کی بیوی کے متعلق کیا حکم ہے؟ آیا وہ نکاح کر سکتی ہے یا اس کے حق میں بیٹھی رہے اور نکاح نہ کرے؟ اس کے متعلق علمائے امت میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ امام ابوحنیفہa اور امام شافعیa کا موقف ہے کہ مفقود الخبر کی بیوی اس وقت تک نکاح نہیں کر سکتی جب تک گم ہو جانے والے شوہر کی موت کا علم نہ ہو جائے۔ کتب فقہ میں اس کی تعبیر مختلف الفاظ سے کی گئی ہے جس کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ مفقود کے ہم عمر لوگ جب تک زندہ ہیں اس وقت تک دوسرے مرد سے اس کا نکاح درست نہیں۔ مسلک احناف میں یہ روایت بھی ہے کہ ہم عمر لوگوں کی موت کے لیے کوئی مدت مقرر نہیں بلکہ اس کا تعین حاکم وقت کی صوابدید پر ہے‘ جبکہ بعض حضرات نے طبعی عمر کا لحاظ کرتے ہوئے مدت انتظار کے وقت کا تعین کیا ہے‘ اس کے متعلق مختلف اقوال ہیں۔ کچھ حضرات نے نوے سال اور بعض نے پچھتر اور ستر سال کہا ہے۔ لیکن امام مالکa نے مفقود کی عدت چار سال بتائی ہے۔ ان کے اختیار کردہ موقف کی بنیاد سیدنا عمرt کا فیصلہ ہے۔ انہوں نے فرمایا تھا کہ جس عورت کا خاوند گم ہو جائے اور اس کا علم نہ ہو وہ کیا کرے؟ تو وہ عورت چار سال تک انتظار کرے پھر چار ماہ دس دن عدت وفات گذار کر چاہے تو دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہے۔ (موطا امام مالک‘ الطلاق: ۱۲۴۲)
ہمارے رجحان کے مطابق امام مالکa کا موقف صحیح ہے کیونکہ اسے سیدنا عمرt کے ایک فیصلے کی تائید حاصل ہے۔ معاشرتی حالات بھی اس کا تقاضا کرتے ہیں تا ہم مدت انتظار کا تعین حالات وظروف کے تحت کیا جا سکتا ہے۔ دور حاضر میں اطلاعات کے ذرائع اس قدر وسیع‘ زیادہ اور تیز ترین ہیں جن کا تصور بھی زمانہ قدیم میں محال تھا۔ آج ہم کسی شخص کے گم ہونے کی اطلاع ریڈیو‘ ٹی وی کے ذریعہ ایک دن میں ملک کے کونے کونے تک پہنچا سکتے ہیں بلکہ انٹرنیٹ کے ذریعے چند منٹوں میں اس کی تصویر بھی دنیا کے چپے چپے پر پہنچائی جا سکتی ہے۔ اس بناء پر اس مدت کو مزید کم کیا جا سکتا ہے۔ امام بخاریa نے اس سلسلہ میں ایک عنوان بایں الفاظ قائم کیا ہے: ’’جو شخص گم ہو جائے تو اس کی بیوی اور مال کے متعلق کیا حکم ہے؟‘‘ (بخاری‘ الطلاق‘باب نمبر ۲۲)
اس عنوان اور پیش کردہ آثار سے معلوم ہوتا ہے کہ آپa کا رجحان ایک سال مدت انتظار کی طرف ہے۔ چنانچہ وہ اس عنوان کے تحت حدیث لقطہ لائے ہیں کہ کسی کا گرا پڑا سامان ملے تو اس کا سال بھر اعلان کیا جائے۔ سیدنا عبداللہ بن مسعودt کا عمل پیش کرنے سے بھی یہی مقصود ہے۔ کیونکہ نکاح کوئی کچا دھاگہ نہیںجسے آسانی سے توڑ دیا جائے اور یہ ایک حق ہے جو مرد کے لیے لازم ہو چکا ہے۔ اس عقدہ نکاح کو کھولنے کا مجاز عورت کا شوہر ہے لیکن تکلیف اور پریشانی کے خاتمہ کے لیے عدالت‘ شوہر کے قائمقام ہو کر نکاح فسخ کر سکتی ہے جیسا کہ خلع وغیرہ میں ہوتا ہے۔ اس لیے گم شدہ خاوند سے خلاصی کا یہ طریقہ اختیار کیا جائے کہ گم شدہ خاوند کی بیوی عدالت کی طرف رجوع کرے۔ رجوع سے پہلے جتنی مدت گذر چکی ہو گی‘ اس کا کوئی اعتبار نہیں کیا جائے گا۔ ہمارے ہاں بعض عورتیں مدت دراز سے انتظار کرنے کے بعد عدالت کے نوٹس میںلائے بغیر یا اس کا فیصلہ حاصل کرنے سے پہلے آگے نکاح کر لیتی ہیں۔ ان کا یہ اقدام انتہائی محل نظر ہے۔ چنانچہ امام مالک a سے پوچھا گیا: ’’اگر کوئی عورت عدالت کے نوٹس میں لائے بغیر اپنے گم ہو جانے والے شوہر کا چار سال تک انتظار کرے تو کیا اس مدت کا اعتبار کیا جائے گا؟ تو امام مالکa نے جواب دیا کہ اگر وہ اس طرح بیس سال بھی گذار دے تو بھی اس کا کوئی اعتبار نہیں۔‘‘ (المدونۃ الکبریٰ: ج۲‘ ص ۹۳)
لہٰذا مدت انتظار کی ابتداء اس وقت سے کی جائے گی جس وقت حاکم وقت خود بھی تفتیش کر کے گم ہونے والے کے بارے مایوس ہو جائے‘ عدالت میں پہنچے اور اس کی تفتیش سے پہلے خواہ کتنی مدت گذر چکی ہو‘ اس کا اعتبار نہ ہو گا۔ اس بناء پر ضروری ہے کہ جس عورت کا خاوند لا پتہ ہو جائے وہ فورا عدالت کی طرف رجوع کرے‘ پھر اگر عدالت بعد از ثبوت اس نتیجے پر پہنچے کہ واقعی شوہر کی کوئی اطلاع اور خبر نہیں بلکہ وہ گم ہو گیا ہے تو اسے چاہیے کہ وہ عورت کو مزید ایک سال تک انتظار کرنے کا حکم دے۔ اگر شوہر اس مدت میں نہ آئے تو عدالت ایک سال کی مدت کے اختتام پر نکاح فسخ کر دے گی۔ پھر عورت اپنے شوہر کو مردہ تصور کر کے عدت وفات یعنی چار ماہ دس دن گذارنے کے بعد نکاح ثانی کرنے کی مجاز ہو گی۔ اس سلسلہ میں امام بخاریa نے امام زہریa کے ایک فتویٰ کا ذکر کیا ہے‘ انہوں نے قیدی کے متعلق فرمایا: ’’اگر اس کے رہنے کی جگہ معلوم ہو تو اس کی بیوی نکاح نہیں کر سکتی اور نہ ہی اس کا مال تقسیم کیا جائے گا۔ پھر جب اس کے متعلق خبر ملنا بند ہو جائے تو اس کا حکم بھی مفقود الخبر جیسا ہے۔‘‘
اس سے پہلے امام بخاریa نے امام سعید بن مسیبa کے قول کا حوالہ دیا ہے کہ ’’جب کوئی شخص جنگ کی صف میں عین لڑائی کے موقع پر گم ہو جائے تو اس کی بیوی سال بھر انتظار کرے۔‘‘…… صورت مسئولہ میں بھی عورت کو عدالت کی طرف رجوع کرنا ہو گا۔ واللہ اعلم!


No comments:

Post a Comment