قساوت قلبی اور اس کا علاج 14-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Sunday, July 14, 2019

قساوت قلبی اور اس کا علاج 14-2019


قساوتِ قلبی اور اس کا علاج

تحریر: جناب مولانا عبدالعظیم جواد
جسم کی طرح دل بھی بیمار ہو جاتے ہیں‘لوہے کی طرح زنگ آلود ہوتے ہیں اور بے رونقی اور بھوک محسوس کرتے ہیں۔ جبکہ ان کی شفا توبہ‘ ذکر‘ ان کی زینت تقویٰ اور ان کا کھانا پینا معرفت الٰہی‘ توکل اور انابت الی اللہ ہے۔
امراض قلب بہت زیادہ ہیں جو دل پر اثر انداز ہونے والے عوامل کے اختلاف کے ساتھ مختلف ہوتے رہتے ہیں۔ مؤثرات کی شدت سے اس کے امراض بھی شدت اختیار کر لیتے ہیں حتی کہ دل پر پردہ پڑ جاتا ہے اور وہ بے نور ومقفل ہو کر جادۂ حق اور راہ راست سے ہٹ جاتا ہے۔ یہ دل کی بدترین کیفیت ہوتی ہے کیونکہ اس کیفیت میں ایسے دل والا شخص حالت ایمان سے حالت کفر میں منتقل ہو کر جانوروں کا سا بن جاتا ہے۔ والعیاذ باللہ!
دل کو لاحق ہونے والی بیماریوں میں سخت ترین بیماری قساوتِ قلبی (سخت دلی) ہے جس سے مزید بیماریاں جنم لیتی ہیں۔ جن سے صرف وہ محفوظ ومامون رہ سکتا ہے جسے اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے اور وہ خود بھی بچاؤ کے اسباب اختیار کرے۔ قساوت قلبی کی سنگینی ذیل کی آیات سے ظاہر ہوتی ہے‘ فرمان باری تعالیٰ ہے:
{ثُمَّ قَسَتْ قُلُوْبُکُمْ مِّنْ بَعْدِ ذٰلِکَ فَہِیَ کَالْحِجَارَۃِ اَوْ اَشَدُّ قَسْوَۃً٭} (البقرہ: ۸۴)
’’پھر اس کے بعد تمہارے دل پتھر جیسے بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت ہو گئے۔‘‘
{وَ لٰکِنْ قَسَتْ قُلُوْبُہُمْ وَ زَیَّنَ لَہُمُ الشَّیْطٰنُ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ٭} (الانعام: ۴۳)
’’اور لیکن ان کے دل سخت ہو گئے اور شیطان نے ان کے اعمال کو ان کے خیال میں آراستہ کر دیا۔‘‘
{فَوَیْلٌ لِّلْقٰسِیَۃِ قُلُوْبُہُمْ مِّنْ ذِکْرِ اللّٰہِ٭}
’’پس ہلاکت ہے ان پر جن کے دل (یاد الٰہی سے اثر نہیں لیتے بلکہ) سخت ہو گئے ہیں۔‘‘ (الزمر: ۲۲)
{فَطَالَ عَلَیْہِمُ الْاَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوْبُہُمْ٭}
’’پھر جب ان پر ایک زمانہ دراز گزر گیا تو ان کے دل سخت ہو گئے۔‘‘ (الحدید: ۱۶)
سخت دل ہی اللہ کی رحمت سے سب سے زیادہ دور ہوتا ہے۔
قارئین کرام! آئیے‘ اس خطرناک مرض کے مظاہر‘ اسباب اور علاج کا طریقہ جاننے کی کوشش کریں۔
قساوت قلبی کے مظاہر:
قساوتِ قلبی کے بہت سے مظاہر وعلامات ہیں جن کی مدد سے دل کی سختی معلوم کی جا سکتی ہے جو اپنے خطرات‘ اثرات اور سنگینی کے لحاظ سے مختلف ہیں۔ چند ایک درج ذیل ہیں:
۱۔ اطاعت‘ اعمال خیر اور عبادات میں سستی وکاہلی کا مظاہرہ کرنا:
نیکی وبھلائی کے کاموں میں کوتاہی کرنا‘ قساوت قلبی کی علامت ہے۔ کبھی یہ تساہل تمام اعمال خیر میں ہوتا ہے جبکہ بعض اوقات چند جزوی اعمال میں۔ مثلاً نماز کو بغیر خشوع وخضوع کے اس طرح ادا کرنا گویا وہ قید خانے میں ہے اور جلد از جلد رہائی کا خواہش مند ہے۔ سنن ونوافل کی ادائیگی میںسستی کرنا اور فرائض کو بوجھ محسوس کرتے ہوئے تیزی سے ادا کرنا گویا زبان حال سے کہہ رہا ہے کہ کب وہ گھڑی آئے کہ اس مصیبت سے چھٹکارا پاؤں؟ انہی اوصاف کے حامل منافقین کی علامت اللہ تعالیٰ نے یوں بیان فرمائی ہے:
{وَ لَا یَاْتُوْنَ الصَّلٰوۃَ اِلَّا وَ ہُمْ کُسَالٰی وَ لَا یُنْفِقُوْنَ اِلَّا وَ ہُمْ کٰرِہُوْنَ٭} (التوبہ: ۶۴)
’’اور بڑی کاہلی سے نماز کو آتے ہیں اور برے دل سے ہی خرچ کرتے ہیں۔‘‘
{وَ اِذَا قَامُوْٓا اِلَی الصَّلٰوۃِ قَامُوْا کُسَالٰی٭} (النساء: ۱۴۲)
’’اور جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہیں تو بڑی کاہلی کی حالت میں کھڑے ہوتے ہیں۔‘‘
۲۔ قرآن کی آیات ومواعظ سے اثر قبول نہ کرنا:
قساوتِ قلبی کا دوسرا مظہر قرآن کریم کے وعدہ ووعیدکی آیات کو سن کر ان سے متاثر نہ ہونا ہے‘ یعنی نہ ان کو دل میں جگہ دینا اور نہ ہی عجز وانکساری کا مظاہرہ کرنا ہے۔ گویا دل قرآن کی قراء ت وسماعت سے غافل ہے اور وہ اس کو بوجھ محسوس کر رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
{فَذَکِّرْ بِالْقُرْاٰنِ مَنْ یَّخَافُ وَعِیْدِ٭}(ق: ۴۵)
’’تو آپe قرآن کے ذریعے انہیں سمجھاتے رہیں جو میرے ڈراوے کے وعدوں سے ڈرتے ہیں۔‘‘
{اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُکِرَ اللّٰہُ وَ جِلَتْ قُلُوْبُہُمْ وَ اِذَا تُلِیَتْ عَلَیْہِمْ اٰیٰتُہ زَادَتْہُمْ اِیْمَانًا وَّ عَلٰی رَبِّہِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ٭} (الانفال: ۲)
’’بلاشبہ ایمان والے تو ایسے ہوتے ہیں جب اللہ تعالیٰ کا ذکر ہوتا ہے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور جب اللہ کی آیات ان کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو وہ ان کے ایمان کو زیادہ کر دیتی ہیں اور وہ لوگ اپنے رب پر توکل کرتے ہیں۔‘‘
۳۔ حوادث زمانہ‘ قدرتی آفات اور اموات سے عدم تاثیر:
مراحل زندگی میں پیش آنے والے عجائبات وحوادث زمانہ اور اموات سے اثر نہ لینا بھی دل کی سختی کا مظہر ہے۔ ایسا شخص قبروں کی زیارت کے باوجود عبرت نہیں پکڑتا جبکہ موت سے بڑھ کر کوئی نصیحت آموز چیز نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
{اَوَ لَا یَرَوْنَ اَنَّہُمْ یُفْتَنُوْنَ فِیْ کُلِّ عَامٍ مَّرَّۃً اَوْ مَرَّتَیْنِ ثُمَّ لَا یَتُوْبُوْنَ وَ لَا ہُمْ یَذَّکَّرُوْنَ}
’’اور کیا ان کو دکھائی نہیں دیتا کہ یہ لوگ ہر سال ایک بار یا دو بار کسی نہ کسی آفت میں پھنسے رہتے ہیں‘ پھر بھی نہ توبہ کرتے ہیں اور نہ نصیحت قبول کرتے ہیں۔‘‘ (التوبہ: ۱۲۶)
۴۔ دنیاوی لذتوں پر فریفتگی اور دنیا کو آخرت پر ترجیح دینا:
دنیا کا حصول بھی ایسے شخص کا مطمع نظر اور اہم مشغلہ ہوتا ہے۔ اس کی محبت وعداوت کا معیار بھی دنیاوی مفاد ہی ہوتا ہے۔ نتیجتاً ایسا شخص حسد میں غرق‘ انانیت‘ خود پسندی‘ بخیلی اور کنجوسی کا شکار ہو کر رہ جاتا ہے۔
۵۔ اللہ عز وجل کی عظمت وجلالت کا مذکورہ شخص کے دل میں ماند پڑ جانا:
سخت دل والے انسان کی غیرت مر جاتی ہے اور ایمانی حرارت سرد پڑ جاتی ہے۔ حدود اللہ کی پامالی کو دیکھتے ہوئے بھی اس پر غم وغصے کے اثرات نہیں ہوتے۔ برائی کو دیکھنے اور سننے کے باوجود چپ سادھ لیتا ہے۔ نیکی کو نیکی اور برائی کو برائی نہیں جانتا اور نہ ہی گناہوں اور معاصی کو خاطر میں لاتا ہے۔
۶۔ دل میں ہمیشہ وحشت ونامانوسیت محسوس کرنا:
سخت دل والے انسان کا سینہ تنگ ہوتا رہتا ہے حتی کہ وہ لوگوں سے میل جول میں تنگی محسوس کرتا ہے‘ اطمینان وسکون اس کی زندگی سے مفقود ہو جاتا ہے اور اس کے قلق واضطراب اور بے چینی میں دن بہ دن اضافہ ہوتا رہتا ہے۔
۷۔ ایک گناہ کا دیگر گناہوں کا پیش خیمہ ہونا:
اس حالت میں ایک گناہ دوسرے گناہوں کا ذریعہ بن جاتا ہے اور ایسا شخص گناہوں میں گھرتا چلا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ ان سے دامن چھڑانا مشکل ہو جاتا ہے اور نافرمانی اس کی سرشت میں داخل ہو جاتی ہے۔
 قساوتِ قلبی (سنگ دلی) کے اسباب:
دل کی سختی کے متعدد اسباب ہیں جو سنگینی اور خطرناکی میں ایک دوسرے سے بڑھ کر ہیں۔ ان اسباب کے اضافے سے قساوت قلبی میں بھی اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ ان میں سے اہم اسباب درج ذیل ہیں:
۱۔ دنیا پر دل کا ریجھ جانا‘ اس کی طرف میلان اور آخرت کو فراموش کرنا:
قساوتِ قلبی کے بڑے اسبابب میں سے دنیا کی طرف غیر ضروری میلان اور رغبت بھی ہے۔ دنیا کی محبت جب کسی دل میں ڈیرے ڈال لیتی ہے تو اس کا ایمان بہ تدریج کمزور ہوتا چلا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ آدمی عبادت کو بارگراں محسوس کرتا ہے اور دنیا کو ہی کیف وسرور اور لذت خیال کرتے ہوئے آخرت کو طاق نسیاں کر دیتا ہے۔ موت کو بھول کر زندگی سے لمبی لمبی امیدیں باندھ لیتا ہے۔ یہ وہ تمام رذائل ہیں کہ جس شخص میں جمع ہو جائیں اس کو ہلاک کیے بغیر نہیں رہتے۔
دنیا کے کئی پہلو مذموم ہیں اگر ان میں سے کسی ایک کی طرف بھی میلان ہو گیا تو دوسرے پہلوؤں کی طرف خود بہ خود میلان ہوتا چلا جاتا ہے اور بندہ رحمت الٰہی سے دور ہوتا چلا جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ کو ایسے شخص کی کوئی پروا نہیں ہوتی کہ وہ دنیا کی وادیوں میں سے جس میں چاہے ہلاک ہو جائے۔ العیاذ باللہ!
ایسا شخص اپنے رب کو بھولتا چلا جاتا ہے اور دنیا کا بڑے تپاک اور جوش سے استقبال کرتا ہے اور ایک غیر مستحق تعظیم کو عظمت دیتا ہے اور مستحق تعظیم کی اہانت کرتا ہے جس کی وجہ سے اس کی عاقبت بدترین ہوتی چلی جاتی ہے۔ سلفؒ میں سے کسی نے کیا خوب کہا ہے:
’’ہر شخص کے چہرے پر دو آنکھیں ہوتی ہیں جن سے وہ امور دنیا کو دیکھتا ہے اور آنکھیں اس کے دل میں ہوتی ہیں جن سے وہ امور آخرت پر نظر رکھتا ہے اور اللہ جس بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے اس کے دل کی آنکھیں کھول دیتا ہے‘ جن سے وہ اللہ کے وعدہ غیب کو دیکھتا ہے۔ جو اس کے برعکس ارادہ رکھتا ہو اس کو اس کی حالت پر چھوڑ دیتا ہے۔ پھر انہوں نے اس بات پر اس آیت سے استشہاد کیا:
{اَمْ عَلٰی قُلُوْبٍ اَقْفَالُہَا٭} (محمد: ۲۴)
’’یا ان کے دلوں پر تالے لگ گئے ہیں؟‘‘
۲۔ غفلت:
یہ ایک مہلک بیماری ہے‘ جب یہ دل ودماغ پر قبضہ جماتے ہوئے روح وبدن کو زیر اثر کر لیتی ہے تو یہ ہدایت کے دروازے بند ہونے اور دل پر مہر ثبت ہونے کا ذریعہ بنتی ہے:
{اُولٰٓیِکَ الَّذِیْنَ طَبَعَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوْبِہِمْ وَ سَمْعِہِمْ وَ اَبْصَارِہِمْ۱ وَ اُولٰٓیِکَ ہُمُ الْغٰفِلُوْنَ٭}
’’یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں پر‘ جن کے کانوں پر اور جن کی آنکھوں پر اللہ نے مہر لگا دی ہے اور یہی لوگ غافل ہیں۔‘‘ (النحل: ۱۰۸)
علامہ ابن قیمa لوگوں کا حال بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’مخلوقات کے احوال پر غور وفکر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں سے اکثر اللہ کے ذکر سے غافل‘ خواہشات کے پجاری اور اپنے معاملات ومفادات میں کوتاہ واقع ہوئے ہیں۔ یعنی جو چیزیں ان کے لیے نفع بخش اور جو مفاد حقیقی مفاد تھا اس میں کوتاہی کا شکار ہوئے ہیں۔ وہ اپنے ان غیر مفید امور میںمشغولیت کی وجہ سے جلد یا بہ دیر نقصان اٹھانے والے ہوں گے۔‘‘
اہل غفلت ہی اکثر سخت دل والے ہوتے ہیں کہ ان پر کوئی نصیحت اثر نہیں کرتی۔ یہی لوگ سخت دل کے مالک ہوتے ہیں جو آنکھیں ہونے کے باوجوداشیاء کا سطحی مشاہدہ کرتے ہیں اور ان اشیاء کی حقیقت وگہرائی تک نہیں پہنچتے اور نہ ہی اپنے نفع ونقصان میں امتیاز کرتے ہیں۔یہ لوگ اپنے کانوں سے جھوٹ‘ باطل‘ گانے‘ غیبت‘ بے ہودہ گفتگو اور چغلی توسنتے ہیں مگر ان کانوں سے کتاب اللہ اور سنت رسول e کے حقائق سے بہرہ مند نہیں ہوتے۔ ایسے دگر گوں حالات میں ہدایت اور فوز وفلاح کیونکر انکا مقدر بن سکتی ہے؟ ایسے ہی لوگوں کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
{وَ لَقَدْ ذَرَاْنَا لِجَہَنَّمَ کَثِیْرًا مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ۱ لَہُمْ قُلُوْبٌ لَّا یَفْقَہُوْنَ بِہَا۱ وَ لَہُمْ اَعْیُنٌ لَّا یُبْصِرُوْنَ بِہَا۱ وَ لَہُمْ اٰذَانٌ لَّا یَسْمَعُوْنَ بِہَا۱ اُولٰٓپکَ کَالْاَنْعَامِ بَلْ ہُمْ اَضَلُّ۱ اُولٰٓپکَ ہُمُ الْغٰفِلُوْنَ٭} (الاعراف: ۱۸۹)
’’اور ہم نے ایسے بہت سے جن اور انسانوں کو جہنم کے لیے پیدا کیا ہے جن کے دل ایسے ہیں جن سے وہ سمجھتے نہیں اور جن کی آنکھیں ایسی ہیں جن سے وہ دیکھتے نہیں اور جن کے کان ایسے ہیں جن سے وہ سنتے نہیں‘ یہ لوگ چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ یہ ان سے بھی زیادہ گمراہ ہیں‘ یہی لوگ غافل ہیں۔‘‘
 ۳۔ بری صحبت:
برا ماحول اور برے دوستوں کی صحبت بہت زیادہ اثر انداز ہونے والا سبب ہے کیونکہ انسان اپنے ماحول سے بہت جلد اثر لیتا ہے اور جو شخص مخلوط مجالس کے رسیا‘ گانے سننے والوں‘ ڈرامے دیکھنے والوں‘ کثرت سے ہنسنے والوں‘ لطیفوں اور چٹکلوں کے دل دادہ لوگوں کی مجالس ومحافل میں شریک ہوتا ہے ان کا اثر لیتا ہے اور ان کی نقالی کرتا ہے۔ نتیجتاً ایسے شخص کا دل سخت ہو جاتا ہے اور ماحول سے متاثر ہو کر وہ بھی منکرات کے لیے کمر بستہ ہو جاتا ہے۔
۴۔ کثرت سے معاصی کا ارتکاب کرنا:
چھوٹے چھوٹے گناہ دیگر کبیرہ گناہوں کا راستہ ہموار کرتے ہیں۔ ایک گناہ دوسرے گناہ کا پیش خیمہ بنتا ہے حتی کہ آدمی گناہوں کی دلدل میں دھنستا چلا جاتا ہے جس سے نکلنا محال ہوتا ہے۔ ایسا شخص کبائر کا مرتکب ہوتے ہوئے بھی ان کی قباحتوں کو خاطر میں نہیں لاتا اور ان معاصی سے دامن چھڑانا اس کے بس میں نہیں رہتا بلکہ وہ ان سے بھی بڑے گناہوں کی تلاش میں سرگرداں رہتا ہے۔ عاصی کے دل سے حدود اللہ کی تعظیم مٹ جاتی ہے۔ اس سے ہدایت کے تمام راستے مسدودہو جاتے ہیں۔ ایسا شخص طلب معاصی میں اندھا ہو جاتا ہے۔ اسی وجہ سے نبی کریمe نے فرمایا ہے:
’’بندہ جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ لگا دیا جاتا ہے۔ جب وہ اس گناہ سے باز آجاتا ہے اور استغفار کرتا ہے تو اس کا دل صاف کر دیا جاتا ہے اور اگر وہ زیادہ گناہ کرے تو یہ سیاہی بھی زیادہ ہوتی رہتی ہے حتی کہ اس کے دل پر غلبہ پا لیتی ہے۔ یہی وہ زنگ ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ہرگزایسا نہیں! بلکہ ان کے دلوں پر ان کے اعمال کی وجہ سے زنگ چڑھ گیا ہے۔‘‘ (مسند احمد وترمذی)
۵۔ موت‘ سکرات الموت‘ قبر اور عذاب قبر کو فراموش کرنا:
کسی بھی آدمی کا موت‘ موت کی سختیوں‘ قبر اور اس کی ہول ناکیوں‘ عذاب قبر‘ انعام واکرام‘ حشر نشر‘ پل صراط‘ حساب وکتاب کے کھلنے اور آگ کو بھول جانا بھی دل میں سختی کا باعث بنتا ہے۔
۶۔ دل میں فساد اور بگاڑ پیدا کرنے والے معاملات میں مشغول ہونا:
امام ابن قیمa نے مفسدات قلب پانچ ذکر کیے ہیں:
\          (دنیا دار) لوگوں کے ساتھ کثرت سے میل جول رکھنا۔
\          آرزوؤں اور تمناؤں کے سمندر میں غوطہ زن ہونا۔
\          غیر اللہ سے وابستگی۔   
\          کثرت سے کھانا۔
\          کثرت سے سونا۔
 قساوتِ قلبی کا علاج:
رقت قلبی بڑی نعمتوں میںسے ایک نعمت ہے‘ جس کا دل بھی اللہ کے لیے نرم پڑ گیا وہ نیکی کے امور میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور حصول محبت الٰہی میں حریص ہوتا چلا جاتا ہے جس کے سبب معاصی کے قریب بھی نہیں پھٹکتا۔ مگر جو شخص بھی اس نعمت سے محروم کر دیا گیا وہ اللہ کے عذاب کا مستحق ٹھہرتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
{فَوَیْلٌ لِّلْقٰسِیَۃِ قُلُوْبُہُمْ مِّنْ ذِکْرِ اللّٰہِ٭} (الزمر)
’’پس ہلاکت ہے ان کے لیے جن کے دل یاد الٰہی سے (اثر نہیں لیتے بلکہ) سخت ہو گئے ہیں۔‘‘
چند امور جو دل کی سختی کو دور کر کے اسے اپنے خالق ومولا کے لیے منکسر وخاشع بنا دیتے ہیں‘ آپ کی خدمت میں پیش کیے جاتے ہیں:
۱۔ معرفت الٰہی:
جس شخص نے بھی اپنے رب کو اس طرح پہچان لیا جس طرح کہ پہچاننے کا حق ہے‘ اس کی عقل کو جلا ملتی ہے۔ جبکہ معرفت الٰہی سے نا بلند اور تہی دامن شخص کا دل سخت ہوتا چلا جاتا ہے۔ اللہ کی معرفت سے عاری لوگ ہی سخت دل کے حامل ہوتے ہیں۔ جو شخص جتنا اللہ تعالیٰ سے دور ہو گا وہ اتنا ہی حدود اللہ کو پامال کرنے کی جسارت کرے گا۔ جب کبھی آپ ایسے شخص کو دیکھیں جوہمیشہ اللہ کی مخلوقات میں غور وفکر کرتا رہتا ہے اور اپنے اوپر اللہ کی بے شمار نعمتوں کو یاد کرتا رہتا ہے تو آپ ایسے شخص کے دل کو نرم مزاج پائیں گے۔
۲۔ موت اور ما بعد الموت کو یاد کرنا:
قبر کے سوال وجواب‘ ظلمت ووحشت‘ اس کی تنگی‘ ہول ناکیوں‘ سکرات الموت‘ خدا کے رو بہرو پیشی کا تصور وغیرہ ایسے اسباب ہیں جو دل کو خواب غفلت سے بیدار کرتے اور متنبہ کرتے ہیں جس سے سنگ دل اور سخت دل اپنے رب کی طرف رجوع کرتے ہوئے منکسر المزاج بن جاتا ہے۔ اسی لیے نبی کریمe نے اپنے صحابہ کرام] کو موت یاد رکھنے کی وصیت فرمائی:
’’تم لذتوں کو مٹانے والی موت کو کثرت سے یاد کیا کرو‘ کیونکہ جو بندہ اس (موت) کو تنگی میں یاد کرتا ہے وہ کم پر بھی قناعت کرتا ہے اور جو شخص اس کو (موت کو) خوش حالی میں یاد کرتا ہے تو اس کی خوش حالی محدود ہو جاتی ہے۔‘‘ (رواہ البیہقی وحسنہ الالبانی)
۳۔ قبروں کی زیارت کرنا اور اہل قبور کے بارے غور وفکر کرنا:
بندہ جب غور وفکر کرتا ہے اور سوچتا ہے کہ اس کے وہ بھائی اور ساتھی جو کل تک اس کے ساتھ کھاتے پیتے‘ چلتے پھرتے اور اچھے اچھے‘ عمدہ لباس زیب تن کرتے تھے آج اپنا مال واولاد سب کچھ چھوڑ کر منوں مٹی تلے دبے ہوئے ہیں۔ بندہ جب کچھ دیر کے لیے خود کو ان کے درمیان تصور کرتے ہوئے ان کے ٹھکانے کو اپنا ٹھکانہ سمجھے گا تو یقینا زیارت قبور وعظ ونصیحت‘ عبرت اور غافلوں کے لیے تذکیر وتنبیہ کا سامان فراہم کرے گی۔ اسی لیے نبی کریمe نے فرمایا:
’’میں تمہیں پہلے زیارت قبور سے منع کرتا تھا‘ سو اب تم قبروں پر جایا کرو کیونکہ اس سے دل نرم اور آنکھ نم ہو جاتی اور آخرت یاد آتی ہے۔‘‘
۴۔ قرآن کی آیات پر غور وفکر کرنا:
جو شخص بھی قرآن کے وعدہ وعید اور اوامر ونواہی میں غور وفکر کرتے ہوئے حضور قلبی کے ساتھ اس کی آیات کی تلاوت کرتا ہے تو اللہ کے ڈر سے اس کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں‘ آنکھیں بہہ جاتی ہیں اور اس کی روح ایمانی لرز جاتی ہے۔ دل دھل جاتے ہیں اور وہ رجوع الی اللہ کا خواہش مند ہو جاتا ہے۔ ارشاد ربانی ہے:
{اَللّٰہُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِیْثِ کِتٰبًا مُّتَشَابِہًا مَّثَانِیَ۱ تَقْشَعِرُّ مِنْہُ جُلُوْدُ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّہُمْ۱ ثُمَّ تَلِیْنُ جُلُوْدُہُمْ وَ قُلُوْبُہُمْ اِلٰی ذِکْرِ اللّٰہِ۱ ذٰلِکَ ہُدَی اللّٰہِ یَہْدِیْ بِہٖ مَنْ یَّشَآئُ۱ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰہُ فَمَا لَــــہٗ مِنْ ہَادٍ٭} (الزمر: ۲۳)
’’اللہ تعالیٰ نے بہترین کلام نازل فرمایا ہے جو ایسی کتاب ہے کہ آپس میں ملتی جلتی اور بار بار دہرائی جانے والی آیات پر مشتمل ہے۔ جس سے ان لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں جو اپنے رب کا خوف رکھتے ہیں۔ آخر کار ان کے جسم اور دل اللہ کے ذکر کی طرف نرم ہو جاتے ہیں‘ یہ ہے اللہ کی طرف سے رہنمائی جس کے ذریعے جسے چاہے راہ راست پر لگا دیتا ہے اور جسے اللہ ہی راہ بھلا دے اس کا کوئی ہادی نہیں۔‘‘
۵۔ آخرت کی یاد‘ قیامت اور اس کی ہولناکیوں کی فکر کرنا:
جنت اور اس میں اطاعت گذار بندوں کے لیے اللہ کی طرف سے تیار شدہ نعمتوں اور جہنم اور اس میں گنہگاروں اور سیاہ کاروں کے لیے تیار ہمیشہ کا عذاب‘ یہ وہ تمام مناظر واحوال ہیں جو نیندیں اڑا دیتے ہیں اور نیک لوگوں کی دم توڑتی ہمتوں اور شکست خوردہ عزائم کو تحریک دیتے ہیں۔ ایسے دل حقیقتاً اللہ کی طرف سے رجوع کرتے ہیں جس سے وہ دل نرم پڑ جاتے ہیں۔
۶۔ کثرت سے ذکر واستغفار کرنا:
دل کی سختی کو اللہ کے ذکر کے علاوہ کوئی چیز نرم نہیں کر سکتی۔ بندہ مسلم کو چاہیے کہ وہ سختی دل کا علاج اللہ کے ذکر سے کرے۔ ایک دفعہ ایک شخص نے حسنa کے پاس آکر قساوت قلبی کی شکایت کی تو آپa نے فرمایا:
’’اس کو اللہ کے ذکر سے نرم کرو کیونکہ دل کی سختی غفلت کی وجہ سے ہوتی ہے۔ بندہ جس قدر اللہ تعالیٰ کی یاد سے غافل ہوتا ہے‘ دل بھی اسی قدر سخت ہوتا ہے‘ اللہ کی یاد سے دل ایسے نرم ہو جاتا ہے جیسے سیسہ آگ میں پگھل جاتا ہے۔‘‘
امام ابن قیمa فرماتے ہیں:
’’دل کی سختی دو وجہ سے ہے‘ غفلت اور گناہ۔ جبکہ اس کی جلا دو چیزوں میں ہے‘ استغفار اور ذکر۔‘‘
۷۔ نیک لوگوں سے میل جول اور تعلقات رکھنا:
نیک لوگوں کی صحبت اور ان سے میل جول رکھنا بھی اصلاح قلب کا ذریعہ ہے کیونکہ یہ لوگ کم ہمتوں کی ہمت بڑھاتے‘ بھولے ہوؤں کو یاد دہانی کرواتے ہیں اور جہلاء کی رہنمائی کرتے ہیں۔ غریب ونادار کی مدد کرتے اور خاص طور سے انہیں اپنی دعاؤں میں یاد رکھتے ہیں۔
صلحاء کی زیارت اللہ کی یاد دلاتی ہے اور اطاعت پر ابھارتی ہے۔ فرمان الٰہی ہے:
{وَ اصْبِرْ نَفْسَکَ مَعَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّہُمْ بِالْغَدٰوۃِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْہَــہٗ وَ لَا تَعْدُ عَیْنٰکَ عَنْہُمْ۱ تُرِیْدُ زِیْنَۃَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا۱ وَ لَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَــہٗ عَنْ ذِکْرِنَا وَ اتَّبَعَ ہَوٰٹہُ وَ کَانَ اَمْرُہٗ فُرُطًا٭} (الکہف: ۲۸)
’’اور اپنے آپ کو انہی کیساتھ روکے رکھو جو اپنے پروردگار کو صبح وشام پکارتے ہیں اور اس کے چہرے کا ارادہ رکھتے ہیں (یعنی اس کی رضا مندی چاہتے ہیں) خبردار! تیری نگاہیں ان سے تجاوز نہ کرنے پائیں کہ دنیوی زندگی کے ٹھاٹھ کے ارادے میں لگ جائیں۔ دیکھ‘ اس کا کہنا نہ ماننا جس کے دل کو ہم نے اپنے ذکر سے غافل کر دیا ہے اور جو اپنی خواہشات کے پیچھے پڑا ہوا ہے اور جس کا کام حد سے گذر چکا ہے۔‘‘
جعفر بن سلیمانa فرماتے ہیں:
’’میں جب اپنے دل میں سختی محسوس کرتا ہوں تو میں فوراً محمد بن واسعa کی زیارت کو چلا جاتا ہوں۔‘‘
۸۔ مجاہدہ ومحاسبہ کرنا:
انسان کا اپنے گناہوں پر نظر رکھتے ہوئے اپنے اعمال کا محاسبہ اور اپنے آپ کو سرزنش کرنا بھی اصلاح قلب کا اہم ذریعہ ہے۔ بندہ جب تک اپنے گناہوں کو معمولی خیال کرتے ہوئے توجہ نہ دے گا تو یقینا وہ اپنے مرض کی حقیقت کو بھی نہیں پا سکے گا اور جب تک مرض کی تشخیص ہی نہ ہو تو صحیح علاج کیونکر ہوسکتاہے؟ لہٰذا ان خیالات میں نفس کو اس کی کمزوری اور خالق کی محتاجی کا احساس دلانا‘ خواب غفلت سے بے دار کرنا‘ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں کی معرفت کروانا اور چھوٹے بڑے گناہوں پر محاسبے کا احساس دلانا ضروری ہے تا کہ ہدایت کے مسدود دروازے کھل سکیں اور حکم خداوندی بجا لانے میں آسانی ہو۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ڈرنے والا دل اور ذکر کرنے والی زبان عطا فرمائے۔ آمین!


No comments:

Post a Comment