اخبار الجماعت 14-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Sunday, July 14, 2019

اخبار الجماعت 14-2019


اخبار الجماعہ

ملک میں لا دین قوتوں کا علامہ شہید کی طرح ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔
شہداء اہل حدیث سیمینار سے قائدین کا عزم
ہماری زندگیاں دین اوروطن عزیز کی سلامتی کے لیے وقف ہیں ،پاکستان کولادین ریاست نہیںبننے دیں گے۔نبی رحمتe کی شان میں گستاخیاںناقابل برداشت ہیں،ریاست قانون ناموس رسالت پرعملد آمدیقینی بنائے۔ علامہ احسان الٰہی ظہیر شہیدa اسلام کے سپاہی اورعقیدہ ختم نبوت کے محافظ تھے۔ ملک میں لادین قوتوں کا علامہ شہید کی طرح ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔ قرآن وسنت کی بالادستی کیلئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ان خیالات کا اظہار مرکزی جمعیت اہل حدیث لاہور کے زیر اہتمام مرکزراوی روڈ میں علامہ احسان الٰہی ظہیر شہیدa ودیگر اکابرین کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے منعقدہ شہدائے اہل حدیث سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے علامہ ساجد میر، لیاقت بلوچ ،حافظ عبدالکریم ،ابتسام الٰہی ظہیر، علامہ شفیق خاں پسروری ،مولانا امجد خاں، ڈاکٹر ریاض الرحمن یزدانی،معتصم الٰہی ظہیر، حافظ بابرفاروق رحیمی ودیگر مقررین نے کیا ۔انہیں حق گوئی کی پاداش میں شہید کیا گیا ۔ہم ان کے مشن کو اآگے بڑھائیں گے اور ملک میں کتاب وسنت کا پرچم بلند کریں گے ۔ مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے سربراہ علامہ ساجد میرنے علامہ احسان الٰہی ظہیر شہیدa کی قربانیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ انہوں نے احمد بن حنبلؒ اور ابن تیمیہؒ کی طرح وقت کے حاکموں کے سامنے کلمہ حق کی سنت کو زندہ کیے رکھا۔انہوں نے سعادت کی زندگی اور شہادت کی موت پائی۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کے دورِ انحطاط میں ہمیشہ ایسی بلند کردار شخصیات پیدا ہوتی رہی ہیں، جنہوں نے امت کو پستی سے نکال کر بلندی کی طرف گامزن کیا۔ علامہ شہید کا شمار بھی ایسی ہی نابغہ روزگار ہستیوں میں ہوتا ہے ۔مرکزی ناظم اعلی ڈاکٹر حافظ عبدالکریمd نے کہا کہ وطن عزیز کو امن و خوشحالی کی حامل اسلامی ریاست بنانے کے لیے دینی جماعتیں ایک ہیں۔ دینی راہنما ئوں اور کارکنوں نے ملکی سلامتی اور اس کے دفاع کے لیے سب سے زیادہ جانوں کی قربانی دی۔ علماء انبیاء کے دین کے حقیقی وارث ہیں۔ہم اسلام اور وطن کے دفاع کے لیے ہرقسم کی قربانی دیں گے ۔مدارس دینیہ رشد وہدایت کے سرچشمہ، علم وحکمت کے مراکزاوراسلامی اقدار کے حقیقی محافظ ہیں۔علامہ احسان الٰہی ظہیر کو حق گوئی کی پاداش میں شہید کیا گیا ۔وہ اسلام اور ختم نبوت کے عظیم سپاہی تھے ۔ ہم ان کا مشن جاری رکھیں گے ۔جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے کہا کہ علماء پاکستان کو لادین ریاست ہرگز نہیں بننے دیں گے ۔ روس جب افغانستان میں داخل ہوا تو لبرل اور سیکولر قوتوں نے روس کے ٹینکوں کو خوش آمدید کیا لیکن افغانستان کی قوتوں نے ان کا راستہ روکا اور اس کو شکست دی بعدمیں سب کہنے لگے کہ امریکا نے روس کو شکست دی۔حقیقت میں روس کو شکست دینی قوتوں نے دی ہے۔ نیوزی لینڈ میں مسلمانوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جا ئیں گی۔دینی قوتیں علامہ شہید کے مشن کی وارث ہیں ۔علامہ شہید کے فرزند حافظ ابتسام الٰہی ظہیر نے کہا کہ یہ اہل حدیث کا ہی طرہ امتیاز ہے کہ ہمارے اسلاف نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے پھانسی کے پھندوں کو چوم کر اور عبور دریائے شور وکالا پانی کی سزائیں بھگت کر قیام پاکستان کی راہ ہموار کی۔ اس کا سنگ بنیاد سید احمد شہیدa اور شاہ اسماعیل شہیدa اور ان کے دیگر جانباز ساتھیوں نے بالا کوٹ میں کیا۔ میرے بابا نے بھی اسی مشن پر چل کرشہادت کا جام چوما اور اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا ہے، لیکن افسوس ۷۰ برس گزر جانے کے بعد بھی اس ملک کے اندر اسلام کا نفاذ نہ ہوسکا۔ ہمیں بدقسمتی سے کوئی بھی ایسا حکمران نصیب نہ ہوا جو اس ملک پاکستان کے اندر اسلام کا نفاذ کرسکتا۔ علامہ شہید کی ساری زندگی پاکستان میں کتاب وسنت کی بالادستی کے لیے گزری ہمارا عزم ہے کہ ہم بھی قرآن وسنت کی بالادستی کے لیے اپنا تن من دھن قربان کردیں گے ۔جمعیت علمائے اسلام کے سیکرٹری اطلاعات مولانا امجد خاں نے اپنے خطاب میں کہا کہ علامہ شہید ملک میں دینی قوتوں کی ایک توانا اآواز تھے۔ ان کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں لادین قوتوں کا علامہ شہید کی طرح ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔ علامہ صاحب نے جمعیت اہل حدیث کے پلیٹ فارم سے ملک کی سیاست اور جمہوریت کی بحالی میں بھرپور کردار ادا کیا۔ مرکزی جمعیت اہل حدیث کے تن مردہ کو زندہ کرنے میں دن رات ایک کیا۔امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث لاہور ڈاکٹر ریاض الرحمن یزدانیd نے کہا کہ شہدائے اہل حدیث کی دعوت کا مرکزی نکتہ ملت اسلامیہ کا اتحاد تھا۔ ہم اپنے باہمی نفاق اور بے اتحادی وبے اعتمادی کو ختم کرکے ہی اپنے مذہب اور ملک وقوم کی صحیح خدمت کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان مرنے کا عزم کرلیں تو رب کعبہ کی قسم! ساری کائنات ان کو ختم نہیں کرسکتی۔ سیمینار سے مولانا حنیف ربانی، مولانا یوسف پسروری، حافظ یونس اآزاد، ڈاکٹر عبدالغفور راشد، مولانا نعیم بٹ، ویگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔
وطن سے محبت اور وفاداری اُجاگر کرنے کی اشد ضرورت ہے (جامعہ سلفیہ فیصل آباد)
جامعہ سلفیہ فیصل آباد میں 23 مارچ یوم پاکستان پر وفاع وطن سیمینار منعقد ہوا جس کی صدارت مولانا محمدیونس صاحب نے کی۔ جبکہ مہمان خصوصی پروفیسر ڈاکٹر عبدالقادر گوندل، پروفیسر ظفر اللہ خان چیئرمین سنابل ایجوکشن فاؤنڈیشن تھے۔ کلیدی خطاب ناظم اعلی وفاق المدارس السلفیہ چوہدری محمد یاسین ظفر نے کیا۔ تلاوت قرآن حکیم سے سیمینار کا آغاز ہوا۔ چوہدری یاسین ظفر نے دفاع وطن اور ہماری ذمہ داری پر تفصیلی خطاب کیا اور فرمایا کہ پاکستان کے لیے مسلمانان پرصغیر نے بہت بڑی قربانی دی۔ لاکھوں نفوس قدسیہ نے جان کا نذرانہ پیش کیا‘ تب جا کر یہ آزادی  نصیب ہوئی۔ پاکستان میں پیدا ہو کر جوان ہونے والی نسلوں کو آزادی کی قدر ومنزلت نہیں۔ اس کو اجاگر کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ خاص کر وطن کی محبت اور اس کے ساتھ وفاداری بے حد ضروری ہے۔ پاکستان ہے تو ہماری آزادی قائم ہے اور ہم آزاد فضاؤں میں کاروبار زندگی چلا  سکتے ہیں۔ پاکستان میں موجود اہل فکر ودانش کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ نوجوانوں میں وطن کی محبت پیدا کریں اور انہیں نظریہ پاکستان سے آگاہ کریں۔ پاکستان سے وفاداری شرط اول ہے۔ ہمارا دشمن مختلف محاذوں پر یلغار کر رہا ہے۔ ہماری ثقافت پر یلغار کر رہا ہے۔ لہذا اس کا دفاع کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ تما م محاذوں پر دشمن کو شکست دینا ہمارا حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا وجود برصغیر کے مسلمانوں کے لیے بڑی نعمت ہے۔ آج بھارت میں مسلمان نہ صرف غیر محفوظ ہیں بلکہ ان کا قتل عام کیا جا رہا ہے لیکن ذرائع ابلاغ خاموش ہیں۔ اس کے بعد پروفیسر نجیب اللہ طارق نے تاریخی پش منظر بیان کیا اور بتایا کہ کانگرنس نے بھارت میں ایسے اقدامات اٹھائے اور مسلمانوں کے خلاف معاندانہ رویہ اختیار کیا۔ جس کی بدولت پاکستان کے قیام کی تحریک زور پکڑ گئی۔ اس کے بغیر مسلمانوں نے لیگ کی قیادت میں پاکستان حاصل کرلیا۔ لیکن بدقسمتی سے ہم اس کے بنیادی مقاصد حاصل نہ کر سکے۔ آج ضرورت  اس امر کی ہے کہ ہم نوجوانوں میں وطن کی محبت اور وفاداری پیدا کریں۔ اس کے بعد پروفیسر ڈاکٹر عبدالقادر گوندل نے اپنے خطاب میں حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ پاکستان میں کوئی تحریک چلتی ہے یا کوئی تنظیم کام کرتی ہے‘ چند سال بعد وہ بدنام ہو کر منظر سے غائب ہو جاتی ہے یااس پر پابندی لگ جاتی ہے۔ پھر پتہ چلتا ہے کہ یہ تو کسی ایجنسی کی آلہ کار تھی۔ انہوں نے طلبہ سے درخواست کی کہ وہ ایسی بدنام زمانہ اور ابن الوقت مفاد پرست تنظیموں سے بچ کر رہیں۔ یہ اسلام کا نام لیکر نوجوانوں کو گمراہ کرتی اور انہیں استعمال کرکے بے یارومدگار چھوڑ دیتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ سلفیہ کا کمال ہے ۔ جب سے یہ ادارہ وجود میں آیا ہے نہایت اعتماد سے دین کی سربلندی کے لیے کام کر رہا ہے۔ اس کا منہج بہت شاندار اور کتاب وسنت پر مبنی ہے۔ انتہا پسندی اور شدت پسندی کے خلاف طلبہ کی ذہن سازی کرتا ہے۔ فرقہ واریت سے بالاتر ہو کر لوگوں کو اتحاد واتفاق کی دعوت دیتا ہے۔ لہذا ہم سب کو چاہیے کہ جامعہ سلفیہ کے ساتھ کھڑے ہوجائیں اور ہر ممکن تعاون کریں۔ آخر میں پروفیسر حافظ ظفر اللہ خاں صاحب نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے علم اور علماء کی بڑی فضیلت بیان کی ہے۔ صاحب علم کی پہچان یہ ہے کہ جب کوئی جاہل اس سے الجھتا ہے تو یہ کنارہ کش ہوجاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں علم کی وجہ سے تکبر نہیں کرنا چاہیے بلکہ عاجزی انکساری کے ساتھ اس پر عمل کرنا چاہیے۔ آپ نے صحابہ کی مثالیں دیں اور کہا کہ آپ اپنے خطبوں میں لطیفے نہ سنائیں بلکہ نہایت سنجدہ گفتگو کیا کریں۔ آپ اللہ تعالیٰ کو راضی کریں پھر دیکھیں کیسے اس کا رزق آپ کے پیچھے آئے گا۔ حسن نیت کے ساتھ پڑھیں اور لوگوں کی اصلاح کا ارادہ کریں۔ خود بہترین نمونہ اور آئیڈیل بنیں اس سے خاموش تبلیغ ہو گی۔ آخر میں شیخ الحدیث مولانا محمدیونس نے شکریہ ادا کیا اور دعائے خیر فرمائی۔
مرکزی جمعیت اہل حدیث لاہور سٹی اور ضلع لاہور کے الگ الگ نظم
امیر محترم سینیٹر پروفیسر ساجد میر حفظہ اللہ نے لاہور میں جماعتی کاز کی بہتری اور نظم کو مزید فعال بنانے کے لیے اسے دو حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ اس سلسلہ میں لاہور ضلع اور لاہور سٹی کا الگ الگ نظم قائم کیا گیا ہے اور درج ذیل نامزدگیاں عمل میں آئی ہیں:
نظم لاہور سٹی: ... ٭ امیر: علامہ ریاض الرحمن یزدانی حفظہ اللہ ٭ ناظم: صاحبزادہ حافظ بابر فاروق رحیمی ٭ ناظم مالیات: جناب شوکت ضیاء چوہدری … سٹی لاہور نظم کا دائرہ کار درج ذیل پانچ ٹاؤنز پر مشتمل ہو گا: (۱) راوی ٹاؤن (۲) گنج بخش ٹاؤن (۳) علامہ اقبال ٹاؤن (۴) نشتر ٹاؤن (۵) سمن آباد ٹاؤن
نظم ضلع لاہور: ... ٭ امیر: مولانا مشتاق احمد فاروقی ٭ ناظم: پروفیسر ڈاکٹر محمد ابراہیم سلفی ٭ ناظم مالیات: حافظ امان اللہ مدنی … اس نظم میں درج ذیل ٹاؤنز شامل ہیں: (۱) واہگہ ٹاؤن (۲) شالا مار ٹاؤن (۳) گلبرگ ٹاؤن (۴) کینٹ ٹاؤن (۵) عزیز بھٹی ٹاؤن اور ضلع کی حدود میں تمام علاقے۔
امیر محترم کی قیادت پر بھر پور اعتماد کا اظہار
مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے قائدین کی رابطہ ذمہ داران مہم کے سلسلہ میں مرکزی جمعیت اہل حدیث پنجاب کے زیر اہتمام فیصل آباد ڈویژن کے اضلاع اور فیصل آباد شہر کے امراء ، ناظمین ، اراکین کابینہ، تحصیل جات کے امراء و ناظمین ، اراکین کابینہ اور ذیلی تنظیمات کے ذمہ داران کا مشترکہ تنظیمی  اجلاس آج یہاں فیصل آڈیٹوریم جامعہ سلفیہ فیصل آباد میں بعد نماز عصر امیر پنجاب پروفیسر حافظ عبدالستار حامد کی صدارت میں منعقد ہوا ۔اجلاس میں قائد ملت سلفیہ پروفیسر سینیٹر ساجد میر حفظہ اللہ، مولانا علی محمد ابوتراب سلفی سینیئر نائب امیر، پروفیسر ڈاکٹر عبدالغفور راشد ناظم ذیلی تنظیمات، پروفیسر چوھدری محمد یاسین ظفر ناظم اعلی وفاق المدارس السلفیہ پاکستان نے خصوصی شرکت فرمائی۔ اجلاس مولانا عبدالرشید حجازی ناظم اعلیٰ پنجاب کی زیر نظامت‘ مولانا قاری بشیر احمد عزیزی امیر تحصیل تاندلیانوالہ کی تلاوت کلام پاک سے شروع ہوا۔ فیصل آباد شہر کے امیر مولانا عبدالرحمن آزاد، ناظم مولانا محمد اکبر جاوید، جھنگ کے امیر مولانا حافظ نعیم الحق، ٹوبہ ٹیک سنگھ کے امیر مفتی محمد اسلم، ناظم مولانا حافظ محمد عالمگیر ، ضلع فیصل آباد کے ناظم ڈاکٹر طارق عباس چوہدری (پنجاب کے ناظم مولانا عبدالرشید حجازی امیر ضلع فیصل آباد بھی ہیں)، مولانا قاری محمد حنیف بھٹی، پروفیسر ڈاکٹر سعید احمد چنیوٹی، پروفیسر عتیق الرحمن عزیز، مولانا قاری بشیر احمد عزیزی اجلاس کی صف اول میں موجود تھے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) پنجاب کے میڈیا کوآرڈینیٹرحافظ محمد شفیق کاش اور مسلم لیگ یوتھ ونگ پنجاب کے سیکرٹری جنرل چوھدری کاشف نواز رندھاوا (سابق امیر فیصل آباد شہر)بھی اس اجلاس میں تشریف لائے۔ فیصل آباد ڈویژن کے اس تنظیمی اجلاس میں فیصل آباد ضلع ، تحصیل فیصل آباد، تحصیل سمندری ، تحصیل جڑانوالہ، تحصیل تاندلیانوالہ، تحصیل چک جھمرہ ، فیصل آباد شہر ،  فیصل آباد شہر کے ٹاون حلقہ جات‘ حلقہ احسان ، حلقہ مولانا رفیق ، حلقہ مولانا صدیق ، حلقہ ابن القیم ، حلقہ قدوسی ، ضلع جھنگ ، تحصیل شورکوٹ ، تحصیل جھنگ ، ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ،  تحصیل گوجرہ ، تحصیل کمالیہ، کی تنظیمات  اور مختلف ذیلی تنظیمات کے ذمہ داران اور اراکین کابینہ نے شرکت کی۔ اجلاس میں شریک تمام ذمہ داران کے نام یہاں طوالت کے پیش نظر نہیں لکھے۔ اجلاس میں اضلاع اور تحصیلوں کے ذمہ داران نے اپنی مختصر  رپورٹس پیش کیں ۔ قائدین نے ان رپورٹس پر اپنے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے جملہ رپورٹس کو 10 اپریل 2019 تک مکمل صورت میں مرکزی دفتر میں ارسال کرنے کی ہدایت کی۔ اجلاس سے قائد ملت سلفیہ پروفیسر سینیٹر ساجد میر اور مولانا علی محمد ابوتراب سلفی نے بھی خطاب کیا۔  امیر محترم سینیٹر پروفیسر ساجد میر نے اپنے خطاب میں دعوت و تبلیغ کو اپنی جماعت کی اصل اساس قرار دیتے ہوئے دعوت و تبلیغ کے نظام کو مؤثر اور باوقار بنانے کی ضرورت پر زور دیا ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے سیاسی میدان میں شرکت بھی دعوت و تبلیغ کی اہمیت و معاونت کے پیش نظر کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری سیاست کا محور حصول اقتدار یا مفادات کا حصول نہیں ہے۔ ہماری سیاست بھی اعلائے کلمۃ اللہ اور نظام مصطفی کے نفاذ کے لئے ہے۔ دفاع پاکستان کے لئے بحیثیت جماعت ہم سب اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ ہیں۔ اور اس ضمن میں ہر قسم کی قربانی کے لئے تیار ہیں۔ انہوں نے اجلاس کی طرف سے قیادت پر  بھرپور اعتماد کے اظہار کو جماعت کی قوت قرار دیتے ہوئے امید ظاھر کی کہ مرکزیہ کے ہر سطح پر ذمہ داران اپنے نظم کی ہدایات پر عمل پیرا رھیں گے۔ پروفیسر سینیٹر ساجد میر نے موجودہ حکومت کے اپوزیشن سے سلوک کو انتقامی سیاست قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کیا۔ اور مطالبہ کیا کہ اپوزیشن قائدین کو انتقام کا نشانہ بنانے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے ۔  پنجاب کے ناظم شعبہ تعلقات عامہ اور اس تنظیمی اجلاس کے لئے کوآرڈینیٹر علامہ عبدالصمد معاذ نے اجلاس کو کامیاب بنانے میں پروفیسر چوہدری محمد یاسین ظفر ناظم اعلی وفاق المدارس السلفیہ پاکستان وپرنسپل جامعہ سلفیہ فیصل آباد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جامعہ سلفیہ آئندہ بھی ہماری یونہی سرپرستی کرے گا۔ امیر پنجاب پروفیسر حافظ عبدالستار حامد اور مولانا عبدالرشید حجازی ناظم اعلی پنجاب نے اپنے پیغام میں فیصل آباد ڈویژن کے اس تنظیمی اجلاس کے باوقار ، منظم اور کامیاب انعقاد پر اجلاس کے کو آرڈینیٹر علامہ عبدالصمد معاذ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے امید ظاہر کی‘ دیگر اضلاع میں بھی اسی نظم و ضبط کو مثال بنایا جائیگا۔ ناظم اعلی پنجاب مولانا عبدالرشید حجازی نے  سوشل میڈیا پہ اجلاس کی تشہیر، رجسٹریشن کاؤنٹر اور حسب مراتب نشستوں کی ترتیب کو بالخصوص سراھا۔ نماز مغرب کی اذان سے اجلاس اختتام پذیر ہوا اور نماز مغرب کے بعد شرکاء اجلاس کی خدمت میں جامعہ سلفیہ فیصل آباد کی طرف سے ضیافت پیش کی گئی۔ اس سلسلہ میں حافظ محمد جہانگیر،  مولانا محمد ارشد قصوری،  مولانا حبیب الرحمن،  حافظ امان اللہ افضل اور دیگران کا تعاون ناقابل فراموش ہے۔
ضلع چکوال کی مساجد اہل حدیث کے ذمہ داران کا اجلاس
ضلع کی تمام مساجد کے ذمہ داران‘ ائمہ اور خطباء کرام کا اجلاس 17 مارچ دن 10 بجے جامع مسجد ومدرسہ سید الشہداء حمزہؓ اہل حدیث شہر تلہ گنگ میں منعقد ہوا۔ مولانا عبدالرزاق عفیف سرپرست ضلع نے تمام احباب کو خوش آمدید کہا اور ہر مسجد کے ذمہ دار کو کتاب ریاض الصالحین ہدیۃ پیش کی اور تلقین فرمائی کہ اپنی اپنی مساجد میں اس کتاب کے درس کا اہتمام کیا جائے۔ تمام حاضرین نے وعدہ کیا کہ ہم ضرور اہتمام کریں گے۔ کیونکہ یہ کتاب تقلیدی دروس کا توڑ ہو گا۔ قرآن وحدیث کی دعوت کی زندگی کا پہلا مشن ہونا چاہیے اور دوسری چیز دعوت میں نکھار کے لیے عملی میدان میں اپنے آپ کو زیادہ ترجیح کی تلقین کی۔ تقویٰ دل کی پاکیزگی اور دعوت میں مضبوطی عملی زندگی سے ہی ہو گی۔ مولانا نے علامہ الشیخ عبدالعزیز بن بازؒ، مولانا ابراہیم میر سیالکوٹی‘ مولانا حافظ محمد محدث گوندلوی کے کام اور ان کی عملی زندگی کے حوالے سے حاضرین کونصائح کیں۔ بعد میں امیر ضلع مولانا سجاد الرحمن ابراہیم نے اجلاس کے مدعا اور مولانا عبدالرزاق عفیف کی خدمات کو سراہا اور معزز مہمانوں کا شکریہ ادا کیا کہ فرمایا اس قسم کی کاوش دیگر اضلاع میں بھی ہونا چاہیے تا کہ مسلک کی دعوت کو تقویت ملے۔ آخر میں اہل حدیث یوتھ فورس تحصیل تلہ گنگ کے صدر ڈاکٹر محمد عزیر سلفی اور ان کے رفقاء نے مہمانوں کی ضیافت کی۔ نماز ظہر کے بعد دعائے خیر پر اجلاس برخواست ہوا۔
38ویں سالانہ اہل حدیث کانفرنس چک پوریاں نوشہرہ ورکاں
مورخہ 22 فروری 2019ء بروز جمعۃ المبارک جامعہ محمدیہ اہل حدیث (چک پوریاں) تحصیل نوشہرہ ورکاں گوجرانوالہ میں ۳۸ویں سالانہ اہل حدیث کانفرنس کا انعقاد ہوا۔ مولانا عبدالوہاب صدیقی نے نعت پڑھی‘ مولانا محمد عالم بٹ‘ مولانا قاری ناصر بٹ‘ مولانا عبدالستار کے بعد شیر اہل حدیث مولانا محمد نعیم بٹ‘ مولانا عبدالغنی محمدی اور امیر ضلع گوجرانوالہ قاری محمد حنیف ربانی اور مولانا حافظ محمد یوسف پسروری نے خطابات فرمائے اور دعائے خیر پر کانفرنس اختتام پذیر ہوئی۔
سالانہ شانِ مصطفیٰﷺ کانفرنس
مرکزی جمعیت اہل حدیث تحصیل کوٹ رادھا کشن کے زیر اہتمام سالانہ شان مصطفیﷺ کانفرنس زیر امارت میاں محمد یوسف ربانی امیر تحصیل مورخہ 4 اپریل بروز جمعرات بعد نماز عشاء مرکزی جامع مسجد محمدی اہل حدیث گندھیاں روڈ کوٹ رادھا کشن میں منعقد ہو گی جس میں مولانا عبدالمنان راسخ‘ قاری خالد مجاہد‘ مولانا فداء الرحمن طیب‘ علامہ حافظ ابتسام الٰہی ظہیر‘ ڈاکٹر عبدالغفور راشد خطابات فرمائیں گے اور مولانا عبدالرشید حجازی ناظم اعلیٰ پنجاب خصوصی شرکت فرمائیں گے۔
سیرت النبیﷺ کانفرنس ساہیوال وجہانیاں خانیوال
مرکزی جمعیت واہلحدیث یوتھ فورس ضلع ساہیوال کے زیر اہتمام جامع مسجد الھدیٰ اہل حدیث چک نمبر108/12-Lاصطبل والا چیچہ وطنی ضلع ساہیوال میں ساتویں سالانہ عظیم الشان سیر ت النبی ﷺ کانفرنس مورخہ 17مارچ بروز ہفتہ بعد نماز عشاء منعقد ہوئی۔ مولانا ملاز م حسین کھرل ، مولانا صبغۃ اللہ احسن اور مولانا سیف اللہ خالد چترور گڑھی نے خطابا ت فرمائے۔ کانفرنس میں ضلعی ناظم قاری اظہار احمد بلوچ ، ضلعی ناظم مالیات قاری امجدفاروق عدیل اور ضلعی صدر قاری محمدحسن سلفی کے علاوہ علاقہ بھر کے علماء کرام نے خصوصی طور پر شرکت کی‘ عوام الناس کیلئے کھانے کا وسیع انتظام کیا گیا تھا‘ کانفرنس ہر لحاظ سے کامیاب رہی ۔
گذشتہ دنوں مرکزی جمعیت واہل حدیث یوتھ فورس چک نمبر 136/10-R جہانیاں ضلع خانیوال کے زیر اہتمام ضلعی امیر قاری سیف اللہ عابد کی زیر صدارت مسجد اہل حدیث چوک کلاں میں سیرۃ النبیﷺ کانفرنس منعقد ہوئی جس میں مولانا فداء الرحمنن طیب‘ مولانا محمد اسماعیل عتیق‘ اور مولانا محمد یوسف پسروری صاحب کے خطابات ہوئے۔ دور دراز سے احباب قافلوں کی شکل میں تشریف لائے۔ احباب کے لیے ضیافت کا اہتمام کیا گیا تھا۔


No comments:

Post a Comment