علامہ احسان الٰہی ۔ اک عہد ساز شخصیت 14-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Sunday, July 14, 2019

علامہ احسان الٰہی ۔ اک عہد ساز شخصیت 14-2019


عہد ساز شخصیت ... علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید

تحریر: جناب مولانا عبدالغفار ریحان
مورخہ ۳۰ مارچ ۱۹۸۷ء بروز سوموار بعد نماز فجر قائد ملت، بطل حریت، ترجمان مسلک اہل حدیث، خطیب عالم اسلام ،بین الاقوامی شہرت یافتہ اسلامی مفکر ، عظیم محب وطن، دنیا ئے سیاست پر گہری نظر رکھنے والے، حق پر ڈٹ جانے والے، جرات و بے خوفی کا استعارہ، اسلام کا نڈر اور بے باک سپاہی حضرت علامہ احسان الٰہی ظہیر ریاض (سعودی عرب) کے ملٹری ہسپتال میں ساری قوم کو سوگوار کر گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!
ابھی پتوں پہ بھی ہیں جلے تنکوں کی تحریریں
یہ وہ تاریخ ہے بجلی گری تھی جب گلستان پر
آسمان رشد و ہدایت ،فکر و نظر ، علم و بصیرت، امامت و خطابت اور قیادت و سیاست کا وہ روشن آفتاب تھا جو سر زمین سیالکوٹ سے طلوع ہو کر نصف النہار کے وقت مدینۃ الرسول میں غروب ہو گیا۔
پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا
جہاں آپ کے علم و فضل ،حق گوئی و بیباکی اور سیاست و خطابت کی دنیا معترف ہے وہاں آپکی مسلکی غیرت و حمیت ،مسلک اہل حدیث کی ترجمانی اور مسلک اہل حدیث کی ترویج واشاعت کا کوئی اہل حدیث انکار نہیں کر سکتا بلکہ آپ کی زندگی میں جو اہل حدیث آپ سے اختلاف رائے رکھتے تھے آپ کی شہادت کے بعد حیران کن طور پر وہ بھی مسلک اہل حدیث کی نشاۃ ثانیہ کیلئے آپکی خدمات کے معترف ہیں کہ آپ نے اہل حدیث کو قوت گویائی اور جرأت اظہار کا سلفیہ سکھایا۔ اہل حدیث بر ملا سر اٹھاکر اپنے مسلک کا اظہار کر سکتا ہے بلکہ وہ لوگ بھی جنہوں نے علامہ شہید کی زندگی کو نہیں پایا اور جو آپ کی شہادت کے بعد پیدا ہوئے انکی زبانوں پر بھی فخر و انبساط سے علامہ شہید کا تذکرہ ہوتا ہے۔
حضرت علامہ شہیدa سے میرا بھی قریبی تعلق رہا۔ آخری با رجب آپ مکہ مکرمہ تشریف لائے تو مجھے زیادہ آپ کی خدمت کا شرف حاصل رہا ۔ ائمہ حرم سے ملاقات ہو یا رابطہ عالم اسلامی کے ذمہ داروں سے مجھے ساتھ لے جاتے ۔ہم نے معہد رابطہ میں آپ کا خطاب بھی کروایا تھا۔
اسی سفرمیںعمرہ کے اختتام پر جب حجامت کیلئے حجام کی دکان پر گئے تو اس نے گانا لگا دیا‘ علامہ صاحب نے منع کیا تو وہ باز نہ آیا پھر علامہ صاحب نے دوبارہ سخت غصے میں ڈانٹ کر گانا بند کروایا تھا۔ طلبہ ومشائخ علامہ صاحب سے بہت محبت کرتے تھے۔ ایک مجلس میں احباب کہنے لگے کہ آپ داڑھی کے بارے میں ہم سے وعدہ کریں چناچہ آپ نے وعدہ کیا کہ آئندہ سفر میں آپ دیکھیں گے یہ کمی نہیں ہو گی ۔مگر اللہ تعالیٰ کو کچھ اور ہی منظور تھا اور آپ حاد ثہ فاجعہ کا شکار ہو گئے ۔
۳۰ سال قبل ہمارے شہر ظفروال میں کوئی اہل حدیث مسجد نہ تھی۔ اہل حدیث تو تھے مگر چند افراد وہ بھی مسجد بنانے کی استطاعت سے تہی دامن ۔ ہمارے قریب ایک گا ئوں مرجال سارے کا سارا اہل حدیث ہے۔ اکتوبر ۱۹۸۶ء میں علامہ صاحب اس کانفرنس میں شرکت کیلئے تشریف لائے ۔جب ظفروال سے گزرنے لگے تو علامہ صاحب نے ساتھیوں سے کہا کہ نماز کا وقت ہے ظفروال میں نماز پڑھتے ہیں۔ تو ساتھیوں نے بتایا کہ ظفروال میں تو کوئی اہل حدیث مسجد ہی نہیں۔ علامہ صاحب نے مرجال کی کانفرنس میں اپنی تقریر کے دوران فرمایا کہ مرجال والو! تم اتنی سالانہ کانفرنس کرواتے ہو‘ تمہارے قریب ظفروال اتنا بڑا شہر ہے وہاں کوئی اہل حدیث مسجد نہیں ۔ میں آئندہ برس آئوں تو ظفروال میں مسجد بنی ہونی چاہیے اور میری طرف سے 10,000/- روپے ظفروال میں اہل حدیث مسجد کیلئے لیجیے۔ مگر آئندہ برس آنے سے پہلے حضرت علامہ شہید ہو گئے۔ پھر میں نے سعودی عرب میں اپنی تعلیم مکمل کر نے کے بعد واپس آکر دعوت کا کام شروع کیا تو حضرت علامہ کے والد گرامی حاجی ظہور الٰہی صاحبa ہماری حوصلہ افزائی اور لوگوں کو مسجد کی ترغیب دلانے کیلئے کئی با ر ظفروال تشریف لائے۔حاجی صاحب مرحوم بھی میرے ساتھ بہت محبت کرتے تھے۔ بالآخر اللہ تعالیٰ کی تو فیق اور فضل سے ہم مسجد کا آغاز کرنے میں کا میاب ہوئے تو حضرت علامہ شہید کے اعلان کردہ 10,000/-روپے میں اور امیر محترم سینیٹر پروفیسر ساجد میرd کے سیکر ٹری خاص افتخار احمد چٹھہ مرحوم لاہور سے علامہ صاحب کی اہلیہ مرحومہ سے لے کر آئے تھے۔ رحمہم اللہ تعالیٰ جمیعا رحمۃ واسعۃ۔
اس طرح ظفروال میں ہمارے دعوتی کام کی بنیاد میں حضرت علامہ شہید کا مرکزی حصہ ہے۔ الحمد للہ! آج ظفروال میں اہل حدیث کی نو مساجد کے علاوہ اڑھائی ایکڑ میں طلبہ کیلئے اور دو کنال میں طالبات کے لیے جامعہ حرمین کے نام سے شاندار اداراہ کام کر رہا ہے۔ جو یقینا حضرت علامہ شہید اور علامہ خاندان کے لئے بھی صدقہ جاریہ ہے۔
چنانچہ حضرت علامہ کا جسد خاکی الریاض سے مدینہ منورہ منتقل کیا گیا۔ مسجد نبوی شریف میں آپ کی نماز جنازہ ادا کی گئی۔ بعد ازاں بقیع الغرقد قبرستان میں امام مالک a کے پہلو میں آپ کی تدفین عمل میں آئی۔
اللہم اغفر لہ وارحمہ وعافہ واعف عنہ!
کلیوں کو میں سینے کا لہو دے کے چلا ہوں
صدیوں مجھے گلشن کی فضا یاد کرے گی



No comments:

Post a Comment