مولانا عبدالرشید اصغر 14-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Sunday, July 14, 2019

مولانا عبدالرشید اصغر 14-2019


حضرت مولانا عبدالرشید اصغر (اللہ والے) رحمہ اللہ

تحریر: جناب قاری لیاقت علی باجوہ
یارب وہ ہستیاں کس دیس میں بستی ہیں
اب جن کے دیکھنے کو آنکھیں ترستی ہیں
آتی رہیں گی یاد ہمیشہ وہ صحبتیں
ڈھونڈا کریں گے ہم انہیں فصل بہار میں!
اس امر میں کسی کو نہ اختلاف ہے نہ انکاراور نہ ہی کبھی اس کے بارے میں دو آرا ہوئی ہیں کہ جو بھی دار الفناء میں آتا ہے اس نے بالآخر ایک روز دار البقاء کی طرف کوچ کرنا ہے۔
 ولادت:
مولانا عبدالرشید اصغر ۱۹۴۲ء کوبھارت کے ضلع فیروزپور کے ایک گاؤں کڑے میں پیدا ہوئے۔ بعد ازاں ۱۹۴۷ء میں تقسیم ملک کے وقت ہجرت کر کے پاکستان آئے اور ضلع قصور کے علاقے ڈھولن ہٹھارمیں آباد ہو گئے۔
آپ کو شروع سے ہی قلم کتاب سے لگاؤ تھا‘ ابتدائی دینی تعلیم مسجد اورگھر سے حاصل کی۔سکول سے لیکر کالج تک بزم ادب کے صدر رہے۔ مولاناعبدالرشید اصغرa کو بچپن سے ہی تقریر کرنے کا شوق تھا‘ یہی وجہ ہے کہ بچپن میں تقریری مقابلہ جات میں کئی اسناد وسرٹیفکیٹ حاصل کیے تھے۔
مولانا موصوف کو اللہ تعالیٰ نے ۱۹۷۶ء میں حج بیت اللہ کی سعادت بخشی‘ اس کے بعد کئی دفعہ عمرہ کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔
مولانا حاجی عبد الرشید اصغرa کو حج اور عمرہ کے مواقع پر مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں کئی دفعہ خطاب کرنے کا موقع ملتا رہا۔ آپ نے ترجمہ، تفسیر اور حدیث بڑے بڑے نامور علماء کرام سے پڑھی۔ مدارس سے کالجز تک آپ نے دوران تعلیم اپنی ذہانت اور قابلیت کا خوب اظہار کیا۔یہی وجہ تھی کہ آپ کے اساتذہ آپ کو کلاس کا مانیٹرمقرر کرتے تھے۔ آپ زمانہ طالب علمی کے دوران تقریری مقابلوں میں بھرپور حصہ لیتے تھے۔متعدد مقابلوں میں آپ نے انعامات حاصل کیے۔
تعلیم سے فراغت کے بعد اشاعت دین کے لیے دعوتی و تبلیغی سرگرمیوں کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنالیا۔ تیس سال تک ڈسٹرکٹ جیل قصور میں خطابت کی ذمہ داریاں انجام دیں۔ بعدازاں کھڈیاں خاص ضلع قصور میں ایک مسجد ریاض الجنہ تعمیر کی۔ جس کا سنگ بنیاد ولی کامل حضرت مولانا حافظ محمد یحییٰ عزیز میرمحمدیa نے رکھا۔ روپڑی، غزنوی اور لکھوی خاندان سے آپ کا دیرینہ تعلق تھا۔ ان کا علاقہ حضرت مولانا معین الدین لکھویa کا انتخابی حلقہ ہے۔ اپنی زندگی میں مولانا لکھوی آپ کو خاصی اہمیت دیتے تھے اور کئی مرتبہ آپ کے گھر تشریف لائے۔
۲۹ سال تک آپ نے گورنمنٹ سروس کی‘ اس کے بعد آپ طب یونانی کے طالب علم بنے‘ ریٹائرمنٹ کے بعد آپ کھڈیاں خاص میں آباد ہو گئے۔
آپ بیک وقت عالم، خطیب اور حکیم تھے۔ آپ کا دواخانہ کھڈیاں خاص میں تھا۔ جو عام لوگوں کے لیے ڈیرہ کی حیثیت رکھتا تھا۔ جہاں لوگ اپنے جسمانی علاج کے علاوہ اور تھانے کچہری کے مسائل کے حل کے لیے آپ سے رجوع کرتے۔ سرکاری افسران آپ کا بے حد احترام کرتے تھے۔ دینی، سیاسی اور معاشرتی حلقوں میں آپ کا ایک مقام تھا۔ لوگ آپ کی بات اور فیصلوں کااحترام کرتے تھے۔ بے شمار لڑائی جھگڑوں حتی کے قتل کے واقعات میں آپ نے فریقین میں صلح کرائی۔جماعتی احباب کے لاتعداد کام آپ کی ذاتی کوششوں سے حل ہوئے۔
آپ قومی امن کمیٹی ضلع قصور کے چیئرمین اور ممبر بھی رہے۔ جماعتی اعتبار سے مرکزی جمعیت اہل حدیث سے آپ کی وابستگی رہی۔ مختلف ادوار میں مقامی جماعت کے سرپرست، امیر اور ناظم رہے۔ آپ کی صلاحیتوں اور تجربے کی بنیاد پر جماعت کی ضلعی امارت آپ کے سپرد کردی گئی۔ ۲۰۰۹ء میں آپ کو قومی امن کمیٹی کا چیئرمین بنایا گیا۔ بعد میں امن کمیٹی کے زندگی کے آخری ایام تک ممبر رہے۔
بہترین شاعر:
مولانا عبد الرشید اصغرa ایک بہترین شاعر بھی تھے۔ جماعتی جلسوں میں آپ شرکت کرتے جہاں لوگ آپ کی آواز اور کلام کو سراہتے۔
نبی کریمe کی شانِ اقدس میں کئی اشعار لکھے‘ توحید کو سمجھانے کے لئے ایک مرغی کا قصہ شعروں میں لکھا جس کا نام ’’بے غیرت ککڑی‘‘ رکھا۔ اکثر جلسوں میں اپنی یہ نظم بھی پڑھتے
واہ میرے مولا واہ میرے اللہ
سارے جہانوں نوں پالیں پیا کلا
دروس کا سلسلہ:
مولانا عبدالرشید اصغرa کو بچپن سے ہی درس وتدریس کا شوق تھا۔ یہی وجہ ہے کہ سکول کے زمانے میں بھی آپ جب استاد کے عہدے پر فائز تھے بزم ادب کے انچارج تھے۔ اسی طرح سکاوٹنگ‘ ڈیکوریشن‘ کبڈی‘ فٹبال‘ والی وال کے انچارج آپ ہوتے تھے۔ سکول میں امامت کے فرائض بھی انجام دیتے تھے۔ علاقے کے سیاسی‘ سماجی اور اعلیٰ افسران سے تعلق رہا۔ آپ کھڈیاں خاص کی ہر مسجد میں باری باری صبح کا درس دیتے تھے۔ اسی طرح آپ نے مسجد ریاض الجنہ بنوائی یقینا یہ مسجد آپ کے لیے صدقہ جاریہ ہے۔
آخری وقت:
آپ تقریباً پندرہ دن تک علیل رہے۔ آپ کو علاج کے لیے جناح ہسپتال میں داخل کرایا گیا مگر چند دن بیمار رہ کر علم ودانش کا بادشاہ ۷ جنوری ۲۰۱۹ء کواپنے خالق حقیقی سے جا ملا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!
ان کی نماز جنازہ ۸ جنوری بروز منگل ان کے گاؤں ڈھولن ہٹھارمیں پروفیسر ڈاکٹر حماد لکھوی نے پڑھائی۔ جنازہ میں علماء طلبہ احباب جماعت سمیت سینکڑوں سیاسی سماجی کاروباری لوگوں نے شرکت فرمائی بعد ازاں انہیں مقامی قبرستان میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کی حسنات کو قبول فرماتے ہوئے ان کی خطاؤں سے درگزر فرمائے اور انہیں اپنے جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے آمین!


No comments:

Post a Comment