مرد وعورت کے طریقہ نماز میں فرق 15-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Sunday, July 14, 2019

مرد وعورت کے طریقہ نماز میں فرق 15-2019


مرد وعورت کے طریقۂ نماز میں فرق

تحریر: جناب مولانا غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری
مرد اور عورت کے طریقہ نماز میں کوئی فرق نہیں۔ فرق کے قائلین کے دلائل کا علمی و تحقیقی جائز پیش خدمت ہے۔
دلیل نمبر: ۱
نبی کریمe نے سیدنا وائل بن حجرt سے فرمایا:
[إِذَا صَلَّیْتَ فَاجْعَلْ یَدَیْکَ حِذَاءَ اُذُنَیْکَ، وَالْمَرْاَۃُ تَجْعَلُ یَدَیْہَا حِذَائَ ثَدْیَیْہَا۔] (المعجم الکبیر للطَّبرانی: ۲۰/۲۲)
’’نماز پڑھیں تو اپنے ہاتھ کانوں کے برابر کریں اور عورت اپنے ہاتھ سینے کے برابر کرے گی۔‘‘
تبصرہ: اس کی سند سخت ’’ضعیف‘‘ ہے، کیوں کہ
1         اس کی راویہ ام یحییٰ ’’مجہولہ‘‘ ہے۔ حافظ ہیثمیa لکھتے ہیں: [لم اعرفہا] ’’میں اسے پہچان نہیں پایا۔‘‘ (مجمع الزوائد: ۲/۱۰۳)
                ابن ترکمانی حنفیa لکھتے ہیں:
[اَمُّ یَحْیٰ لَمْ اَعْرِفْ حَالَھَا وَلاَ اسْمَھَا۔]
’’میں ام یحییٰ کے حالات جان نہیں پایا، نہ مجھے اس کا نام معلوم ہوا ہے۔‘‘ (الجوہر النقی فی الرد علی البیہقی: ۲/۳۰)
2         اس کی راویہ میمونہ بنت عبدالجبار کے حالات زندگی نہیں مل سکے۔
جس روایت کے دو راویوں کی توثیق ثابت نہ ہو، اُسے بہ طور حجت پیش کرنا اہل حق کا وطیرہ نہیں ہو سکتا۔
دلیل نمبر: ۲
ابن جریجa بیان کرتے ہیں:
[قُلْتُ لِعَطَائٍ: تُشِیرُ الْمَرْاَۃُ بِیَدَیْہَا بِالتَّکْبِیرِ کَالرَّجُلِ؟ قَالَ: لَا تَرْفَعْ بِذٰلِکَ یَدَیْہَا کَالرَّجُلِ، وَاَشَارَ فَخَفَضَ یَدَیْہِ جِدًّا، وَجَمَعَہُمَا إِلَیْہِ جِدًّا، وَقَالَ: إِنَّ لِلْمَرْاَۃِ ہَیْئَۃً لَّیْسَتْ لِلرَّجُلِ، وَإِنْ تَرَکَتْ ذٰلِکَ، فَلَا حَرَجَ۔]
’’میں نے عطاء بن ابی رباحa سے پوچھا: کیا عورت تکبیر (تحریمہ)میں مرد کی طرح ہی رفع الیدین کرے گی؟ فرمایا: وہ اپنے ہاتھوں کو مرد کی طرح نہیں اُٹھائے گی، پھر انہوں نے اشارہ کیا اور اپنے ہاتھوں کو بہت زیادہ جھکایا اور آپس میں بہت زیادہ جوڑ کر فرمایا: عورت کے لیے ایسی کیفیت ہے، جو مردوں کے لیے نہیں۔ اگر عورت اس کیفیت کو چھوڑ دے، تو کوئی حرج نہیں۔‘‘ (مصنف ابن أبی شیبۃ: ۱؍۲۳۹، وسندہ صحیح)
تبصرہ: یہ قرآن و حدیث نہیں، بل کہ امام عطاء بن ابی رباحa کا اجتہاد ہے، وہ بتا رہے ہیں کہ عورت کے ہاتھ اٹھانے کی ہیئت یہ ہے، اگر وہ ہیئت ترک بھی کر دے تو کوئی حرج نہیں، اس بنیاد پر شور مچانا کہ مرد و عورت کے طریقہ نماز میں فرق ہے، غیر مناسب ہے۔ جو لوگ امام عطاء بن ابی رباحa کے اس اجتہاد کو لے کر حق پرست بننے کی کوشش کرتے ہیں، وہ ان کے کئی اجتہادات جو قرآن و سنت کے مطابق ہیں، محض مذہبی تعصب کی بنیاد پر قبول کرنے کے لیے بالکل تیار نہیں، ویسے بھی تقلیدِ شخصی کے وجوب کے قائلین کو ان کے اقوال پیش کرنا زیبا نہیں، ان کو چاہیے کہ اپنے امام سے باسند صحیح مرد و عورت کے طریقۂ نماز میں فرق ثابت کریں ورنہ مانیں کہ شارح بخاری حافظ ابن حجرa فرماتے ہیں:
[لَمْ یَرِدْ مَا یَدُلُّ عَلَی التَّفْرِقَۃِ فِی الرَّفْعِ بَیْنَ الرَّجُلِ وَالْمَرْاَۃِ۔]
’’ایسی کوئی روایت نہیں، جو مرد اور عورت کے رفع الیدین میں فرق پر دلالت کرے۔‘‘ (فتح الباری شرح صحیح البخاری: ۲؍۲۲۲)
دلیل نمبر: ۳
عبد ربہ بن سلیمان شامیa کہتے ہیں:
[رَاَیْتُ اُمَّ الدَّرْدَائِ تَرْفَعُ یَدَیْہَا فِی الصَّلَاۃِ حَذْوَ مَنْکِبَیْہَا حِینَ تَفْتَتِحُ الصَّلَاۃَ، وَحِینَ تَرْکَعُ وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہ، رَفَعَتْ یَدَیْہَا، وَقَالَتْ: رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ۔]
’’میں نے ام الدرداءA کو دیکھا کہ وہ نماز کے شروع میں کندھوں کے برابر رفع الیدین کرتیں، اسی طرح جب رکوع کرتیں اور جب سمع اللہ لمن حمدہ کہتیں تو رفع الیدین کرتیں اور ربنا ولک الحمد، کہتیں۔‘‘ (جزء رفع الیدین للبخاری: ۲۵، وسندہ، حسنٌ)
تبصرہ: الحمد للہ! ہم اہل حدیث کے مرد و عورتیں صحابی رسول سیدنا ابو الدرداءt کی زوجہ محترمہ ام الدرداءA تابعیہ کی پڑھی ہوئی نماز کے مطابق نماز پڑھتے ہیں، بعض لوگ ان کے کندھے کے برابر ہاتھ اُٹھانا تو لے لیتے ہیں، لیکن رکوع اور رکوع کے بعد رفع الیدین والا عمل نہیں اپناتے، کیوں؟ جبکہ تابعیہ تو نبی کریمe کی سکھائی ہوئی نماز کی طرح نماز پڑھتی تھیں، مرد اور عورت کا نماز میں ہاتھ اٹھانے کے حوالے سے کسی صحیح حدیث میں فرق ثابت نہیں، مدعی پر دلیل لازم ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ مرد بھی حدیث کی پیروی میں کندھوں کے برابر ہاتھ اٹھا سکتے ہیں، بعض لوگ خواہ مخواہ بغیر دلیل کے فرق ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔
دلیل نمبر: ۴
امام عطاء بن ابی رباحa کہتے ہیں:
[تَجْمَعُ الْمَرْاَۃُ یَدَیْہَا فِی قِیَامِہَا مَا اسْتَطَاعَتْ۔]
’’عورت قیام میں جتنا ہو سکے، اپنے ہاتھوں کو جوڑ کر رکھے۔‘‘ (مصنف عبد الرزاق: ۲؍۱۳۷)
تبصرہ: اس قول کی سند ’’ضعیف‘‘ ہے، اس میں امام عبدالرزاق بن ہمام ’’مدلس‘‘ ہیں،جو کہ لفظ ’’عن‘‘ سے روایت کر رہے ہیں اور سماع کی تصریح ثابت نہیں، لہٰذا سند ’’ضعیف‘‘ ہے۔
دلیل نمبر: ۵
امام عطاء بن ابی رباحa کہتے ہیں:
[تَجْتَمِعُ الْمَرْاَۃُ إِذَا رَکَعَتْ تَرْفَعُ یَدَیْہَا إِلٰی بَطْنِہَا، وَتَجْتَمِعُ مَا اسْتَطَاعَتْ، فَإِذَا سَجَدَتْ فَلْتَضُمَّ یَدَیْہَا إِلَیْہَا، وَتَضُمَّ بَطْنَہَا وَصَدْرَہَا إِلٰی فَخِذَیْہَا، وَتَجْتَمِعُ مَا اسْتَطَاعَتْ۔]
’’عورت جب رکوع کرے تو اکٹھی ہوجائے۔ اپنے ہاتھوں کو اپنے پیٹ کی طرف بلند کرلے اور جتنا ہو سکے، اکٹھی ہو جائے۔ جب وہ سجدہ کرے تو اپنے ہاتھوں کو اپنی طرف ملائے اور اپنے پیٹ اور سینے کو اپنی رانوں سے ملائے اور جتنا ہو سکے، اکٹھی ہو جائے۔‘‘ (مصنف عبد الرزاق: ۲؍۱۳۷،ح: ۵۰۶۹)
تبصرہ: سند ’’ضعیف‘‘ ہے۔ اس میں وہی علت امام عبدالرزاق کی تدلیس موجود ہے۔ ان کے مدلس ہونے پر دلیل (الضعفاء الکبیر للعقیلی: ۳؍۱۱۰۔۱۱۱، وسندہ صحیح) دیکھیں: (الکفایۃ للخطیب، ص ۳۵۷) میں ان کا تدلیس سے بری ہونے والا واقعہ ’’ضعیف‘‘ ہے، کیونکہ
1         بعض اصحابنا نا معلوم ہیں۔
2         احمد بن محمد بن عمران راوی کے متعلق حافظ خطیب بغدادیa فرماتے ہیں:
[وَکَانَ یُضَعَّفُ فِی رِوَایَتِہٖ، وَیُطْعَنُ عَلَیْہِ فِی مَذْہَبِہٖ، سَاَلْتُ الأَزْہَرِیَّ، عَنِ ابْنِ الْجُنْدِیِّ، فَقَالَ: لَیْسَ بِشَیْئٍ۔]
’’وہ اپنی روایت میں ضعیف قرار دیا جاتا تھا، اس کے مذہب میں طعن کی جاتی تھی، مجھے ازہری نے فرمایا تھا کہ وہ کچھ بھی نہیں۔‘‘ (تاریخ بغداد: ۵؍۷۸)
دوسری بات یہ ہے کہ اس روایت میں امام عطاء بن ابی رباحa عورت کے رکوع کے وقت رفع الیدین کرنے کا طریقہ بتا رہے ہیں، جس سے بعض لوگوں کو انتہائی چڑ ہے۔
دلیل نمبر: ۶
سیدنا عبداللہ بن عمرw سے پوچھا گیا کہ نبی کریمe کے عہد مبارک میں عورتیں نماز کیسے پڑھتی تھیں:
[کُنَّ یَتَرَبَّعْنَ ثُمَّ اُمِرْنَ اَنْ یَّحْتَفِزْنَ۔]
’’وہ چار زانوں ہو کر بیٹھتیں، بعد میں ان کو حکم دیا گیا کہ وہ خوب سمٹ کر بیٹھا کریں۔‘‘ (جامع المسانید للخَوَارزمی: ۱؍۴۰۰)
تبصرہ: یہ جھوٹ کا پلندہ ہے، کیونکہ
1          زر بن نجیح بصری کے حالات زندگی نہیں ملے۔
2          احمد بن محمد بن خالد کے حالات اور توثیق درکار ہے۔
3          علی بن محمد بزار کے حالات بھی نہیں مل سکے۔
4          ابراہیم بن مہدی راوی کا تعین مطلوب ہے۔
5          صاحب کتاب ابوالمؤید محمد بن محمود خوارزمی کی بھی توثیق مطلوب ہے۔
اس سند میں اور بھی علتیں ہیں۔
دوسری سند میں ابو محمد عبداللہ بن محمد بن یعقوب بخاری راوی کذاب ہے۔ (کتاب القراء ت للبیہقی ص ۱۵۴، الکشف الحَثیث ص ۲۴۸، لسان المیزان: ۳؍۳۴۸۔۳۴۹)
دوسرے راوی عبداللہ بن احمد بن خالد رازی،زکریا بن یحییٰ اور قبیصہ طبری کے حالات زندگی اور توثیق ثابت نہیں ہو سکی۔
نبی کریمe کی نماز کے خلاف ایسی جھوٹی کتابوں کی جھوٹی روایات پیش کرنا دینِ اسلام کی کوئی خدمت نہیں ،خوب یاد رہے۔
تنبیہ نمبر: ۱
1         نافعa بیان کرتے ہیں:
[کُنَّ نِسَاء ُ ابْنِ عُمَرَ یَتَرَبَّعْنَ فِی الصَّلَاۃِ۔]
’’سیدنا عبداللہ بن عمرr کی ازواج نماز میں چار زانوں ہو کر بیٹھتی تھیں۔‘‘ (مصنف ابن أبی شیبۃ: ۱؍۲۷۰، وسندہ، صحیحٌ)
2         نیز نافعa خود کہتے ہیں:
’’تَرَبَّع‘ عورت چار زانوں ہو کر بیٹھے۔‘‘ (مصنف ابن أبی شیبۃ: ۱؍۲۷۰، وسندہ، صحیحٌ)
اگر اُمتیوں سے نماز کا طریقہ لینا ہے تو پھر بعض الناس کی عورتیں چا زانوں ہو کر کیوں نہیں بیٹھتیں؟ اگر وہ کہیں کہ یہ عذر پر محمول ہے تو پھر عورت کے لیے بیٹھنے کی خاص حالت با سند صحیح بیان کریں، ورنہ مانیں کہ مرد و عورت کا نمازمیں بیٹھنے کا طریقہ ایک جیسا ہے۔
تنبیہ نمبر: ۲
1         مکحول شامیa بیان کرتے ہیں:
[إِنَّ اُمَّ الدرداء، کَانَتْ تَجْلِسُ فِی الصَّلَاۃِ کَجِلْسَۃِ الرَّجُلِ۔]
’’ام الدرداءr نماز میں مردوں کی طرح بیٹھتی تھیں۔‘‘ (مصنف ابن أبی شیبۃ: ۱؍۲۷۰،التاریخ الصغیر للبخاری: ۱؍۱۹۳، وسندہ، صحیحٌ)
2         امام ابراہیم نخعیa بیان کرتے ہیں:
[تَقْعُدُ الْمَرْاَۃُ فِی الصَّلَاۃِ کَمَا یَقْعُدُ الرَّجُلُ۔]
’’عورت نماز میں مرد کی طرح بیٹھے گی۔‘‘ (مصنف ابن أبی شیبۃ: ۱؍۲۷۰، وسندہ، صحیحٌ)
یہی حدیث کے موافق عمل ہے، لہٰذا عورت کا نماز میں بیٹھنا مرد کی طرح ہونا چاہیے۔
دلیل نمبر: ۷
سیدنا ابو سعید خدریt بیان کرتے ہیں:
[وَیَاْمُرُ النِّسَائَ یَنْخَفِضْنَ فِی سُجُودِہِنَّ، وَکَانَ یَاْمُرُ الرِّجَالَ اَنْ یَّفْرِشُوا الْیُسْرٰی وَیَنْصِبُوا الْیُمْنٰی فِی التَّشَہُّدِ، وَیَاْمُرُ النِّسَائَ اَنْ یَتَرَبَّعْنَ۔]
’’رسول اللہe عورتوں کو حکم دیتے کہ وہ اپنے سجدے میں جھک جائیں اور مردوں کو حکم فرماتے کہ تشہد میں اپنا بایاں پاؤں بچھائیں اور دایاں کھڑا کریں اور عورتوں کو حکم کرتے کہ وہ چار زانو ہو کر بیٹھیں۔‘‘ (السنن الکبریٰ للبیہقی: ۲؍۲۲۲۔۲۲۳)
تبصرہ: یہ جھوٹی روایت ہے۔ اس کی سند میں عطاء بن عجلان راوی باتفاق محدثین ’’متروک‘‘ اور ’’کذاب‘‘ ہے۔ حافظ ابن حجرa کہتے ہیں:
[مَتْرُوْکٌ بَلْ اَطْلَقَ عَلَیْہِ ابْنُ مَعِیْنٍ وَالْفَلاَّسُ وَغَیْرُہُمَا الْکَذِبَ۔]
’’یہ متروک راوی ہے، بلکہ امام ابن معین اور فلاسH وغیرہما نے اس پر ’’کذاب‘‘ کا لفظ بھی استعمال کیا ہے۔‘‘ (تقریب التہذیب: ۴۵۹۴)
امام بیہقیa اس روایت کو ذکر کرنے کے بعد خود فرماتے ہیں کہ اس جیسی ’’ضعیف‘‘ روایت سے حجت نہیں پکڑی جا سکتی۔ (السنن الکبریٰ: ۲؍۲۲۲)
دلیل نمبر : ۸
سیدنا عبداللہ بن عمرw بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہe نے فرمایا:
[إِذَا جَلَسَتِ الْمَرْاَۃُ فِی الصَّلَاۃِ وَضَعَتْ فَخِذَہَا عَلٰی فَخِذِہَا الأُخْرٰی، وَإِذَا سَجَدَتْ اَلْصَقَتْ بَطْنَہَا فِی فَخِذَیْہَا کَاَسْتَرِ مَا یَکُونُ لَہَا، وَإِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی یَنْظُرُ إِلَیْہَا وَیَقُولُ: یَا مَلَائِکَتِی اُشْہِدُکُمْ اَنِّی قَدْ غَفَرْتُ لَہَا۔]
’’جب عورت نماز میں بیٹھے تو اپنی ران کو دوسری ران کے اوپر رکھے اور جب سجدہ کرے تو اپنے پیٹ کو اپنی ران کے ساتھ چمٹا لے، جتنا ہو سکے ستر کرے۔ اللہ تعالیٰ اس کی طرف دیکھتا ہے اور فرماتا ہے کہ اے میرے فرشتو! میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اسے معاف فرما دیا ہے۔‘‘ (الکامل فی ضعفاء الرجال لابن عدی: ۲؍۲۱۴، السنن الکبریٰ للبیہقی: ۲؍۲۲۳، تاریخ أصبھان: ۲؍۳۳۶، کنز العُمَّال للھندی: ۷؍۵۴۹)
تبصرہ: موضوع (من گھڑت) روایت ہے۔
Ý          ابو محمد عبیداللہ بن محمد بن موسیٰ سرخسی کے حالات نامعلوم ہیں۔
Þ          راوی محمد بن القاسم بلخی کے بارے میں امام ابن حبانa لکھتے ہیں:
[رَوٰی عَنْہُ اَہْلُ خُرَاسَانَ اَشْیَاء َ لَا یَحِلُّ ذِکْرُہَا فِی الْکُتُبِ فَکَیْفَ الإِشْتِغَالُ بِرِوَایَتِہَا وَیَاْتِی مِنَ الأَخْبَارِ مَا تَشْہَدُ الْاُمَّۃُ عَلٰی بُطْلَانِہَا وَعَدْمِ الصِّحَّۃِ فِی ثُبُوْتِہَا لَیْسَ یَعْرِفُہ، اَصْحَابُنَا وَإِنَّمَا کَتَبَ عَنْہُ اَصْحَابُ الرَّاْیِ لٰکِنِّی ذَکَرْتُہ، لِئَلَّا یَغْتَرَّ بِہٖ عَوَامُ اَصْحَابِنَا بِمَا یَرْوِیْہٖ۔]
’’اس سے خراسان والوں نے ایسی روایات بیان کی ہیں، جن کا کتابوں میں ذکر کیا جانا جائز نہیں۔ پھر اس کی روایت کے ساتھ مشغول ہونا کیسے درست ہو گا؟ یہ ایسی روایات بیان کرتا ہے، جن کے باطل ہونے اور غیر ثابت ہونے پر اُمت گواہی دیتی ہے، محدثین اسے پہچانتے ہی نہیں۔ اس سے تو اصحاب الرائے نے روایات لکھی ہیں، لیکن میں نے اسے اس لیے ذکر کر دیا ہے تاکہ ہمارے عام دوست اس کی روایات سے دھوکہ نہ کھا جائیں۔‘‘ (المجروحین: ۲؍۳۱۱)
ß          ابو مطیع حکم بن عبداللہ بلخی راوی سخت ترین مجروح وضعیف ہے۔
1         امام بخاریa فرماتے ہیں:
[صَاحِبُ رَاْیٍ ضَعِیْفٌ۔]
’’عقل پرست اور ضعیف راوی ہے۔‘‘ (الکامل فی ضعفاء الرجال لابن عدی: ۲؍۲۱۴)
2         امام نسائیa اسے ’’ضعیف‘‘ قرار دیتے ہیں۔ (الکامل فی ضعفاء الرجال لابن عدی: ۲؍۲۱۴)
3         امام احمد بن حنبلa فرماتے ہیں:
[لاَیَنْبَغِی اَنْ یُّرْوٰی عَنْہ۔]
’’اس سے روایات لینا جائز نہیں۔‘‘ (کتاب العِلَل ومعرفۃ الرجال: ۵۳۳۱)
4         امام یحییٰ بن معینa فرماتے ہیں:
[لَیْسَ بِشَیْئٍ۔]
’’یہ فن حدیث میں کچھ بھی نہیں۔‘‘ (تاریخ یحییٰ بن معین بروایۃ الدوری: ۴۷۶۰)
5         حافظ ابن سعدa فرماتے ہیں:
[وَکَانَ مُرْجِئًا وَھُوَ ضَعِیْفٌ عِنْدَھُمْ فِی الْحَدِیْثِ۔]
’’وہ مرجی تھا اور محدثین کے ہاں حدیث میں ضعیف تھا۔‘‘ (الطبقات الکبریٰ: ۶؍۱۹۸)
6         امام دارقطنیa نے اسے ’’الضعفاء والمتروکین‘‘ میں ذکر کیا ہے۔ (کتاب الضعفاء والمتروکین: ۱۶۲)
7         امام ابن عدیa فرماتے ہیں:
[وَاَبُوْ مُطِیْعٍ بَیِّنُ الضُّعْفِ فِی اَحَادِیْثِہٖ وَعَامَّۃُ مَا یَرْوِیْہِ لاَ یُتَابَعُ عَلَیْہٖ۔] (الکامل فی ضعفاء الرجال: ۲؍۲۱۴)
’’ابو مطیع کی احادیث میں واضح ضعف ہے۔ اس کی اکثر روایات کی متابعت نہیں کی گئی۔‘‘
8         امام ابن حبانa فرماتے ہیں:
[کَانَ مِنْ رُؤَسَائِ الْمُرْجِئَۃَ مِمَّنْ یُّبْغِضُ السُّنَنَ وَمُنْتَحِلِیْہَا۔] (المجروحین: ۱؍۲۵۰)
’’یہ مرجیہ کے ان سرداروں میں تھا جو احادیث اور اہل حدیث سے بغض رکھتے تھے۔‘‘
9         امام عبد الرحمان بن ابی حاتم رازیa فرماتے ہیں:
[سَاَلْتُ اَبِی عَنْ اَبِی مُطِیْعِ الْبَلْخِیِّ فَقَالَ: کَانَ قَاضِیُّ بَلْخٍ وَکَانَ مُرْجِئًا ضِعِیْفُ الْحَدِیْثِ۔ وَانْتَہٰی فِی کِتَابِ الزَّکَاۃِ إِلٰی حَدِیْثٍ لَّہ، فَامْتَنَعَ مِنْ قِرَاء َ تِہٖ۔]
’’میں نے اپنے والد محترم (امام ابو حاتم رازیa) سے ابو مطیع بلخی کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: یہ بلخ کا قاضی تھا، مرجی تھا، حدیث میں ضعیف تھا۔ وہ (امام ابوحاتم رحمہ اللہ ) کتاب الزکاۃ میں اس کی حدیث پر پہنچے تو پڑھنے سے رُک گئے اور فرمایا: میں اس سے حدیث بیان نہیں کروں گا۔‘‘ (الجرح والتعدیل: ۳؍۱۲۲)
0         امام عمرو بن علی الفلاسa فرماتے ہیں:
[اَبُوْ مُطِیْعِ الْحَکَمُ بْنُ عَبْدِاللّٰہِ ضَعِیْفُ الْحَدِیْثِ۔]
’’ابو مطیع حکم بن عبداللہ حدیث میں ضعیف ہے۔‘‘ (تاریخ بغداد للخطیب: ۸؍۲۲۵، وسندہ، صحیحٌ)
!          حافظ خلیلیa کہتے ہیں:
[وَکَانَ مُرْجِئِیًّا، وَہُوَ صَالِحٌ فِی الْحَدِیثِ، إِلَّا اَنَّ اَہْلَ السُّنَّۃِ اَمْسَکُوا عَنْ رِوَایَۃِ حَدِیثِہٖ۔]
’’یہ مرجی تھا اور صالح الحدیث تھا، لیکن اہل سنت اس کی حدیث کو روایت کرنے سے رُک گئے ہیں۔‘‘ (الإرشاد فی معرفۃ علماء الحدیث: ۱؍۲۷۶)
@          حافظ سیوطیa امام حاکمa سے ایک روایت کے بارے میں نقل کرتے ہیں،
[إِسْنَادُہ، فِیہٖ مظْلِمَاتٌ وَالْحَدِیْثُ بَاطِلٌ وَالَّذِی تَوَلّٰی کِبْرَہ،، اَبُو مُطِیعٍ۔]
’’اس کی سند اندھیروں والی ہے۔ یہ حدیث باطل ہے اور یہ ابو مطیع کی گھڑنت ہے۔‘‘ (اللآلی المصنوعۃ: ۱؍۳۸)
#          حافظ ابن الجوزیa ابو مطیع وغیرہ کی ایک سند کے بارے میں کہتے ہیں :
[ھٰذَا الْإِسْنَادُ لاَ یُسَاوِی شَیْئًا۔]
’’یہ سند کسی کام کی نہیں۔‘‘ (نصب الرایۃ للزیلعی: ۲؍۳۸۵)
$          حافظ ہیثمیa کہتے ہیں: [وَھُوَ مَتْرُوْکٌ] ’’یہ متروک راوی ہے۔‘‘ (مَجمع الزوائد: ۸؍۲۷۵)
%          حافظ ذہبیa لکھتے ہیں: [تَرَکُوْہ] ’’محدثین نے اسے چھوڑ دیا تھا۔‘‘ (المغنی فی الضعفاء: ۱؍۲۸۰)
نیز فرماتے ہیں: [وَاہٍ فِی ضَبْطِ الأَثَرِ۔] ’’حدیث کے ضبط میں نہایت کمزور تھا۔‘‘ (میزان الاعتدال: ۱؍۵۷۴)
حافظ ذہبیa ابو مطیع کو یوں ’’وضاع‘‘ (حدیثیں گھڑنے والا)قرار دیتے ہیں:
[فَھٰذَا وَضَعَہ، اَبُوْ مُطِیعٍ عَلٰی حَمَّادٍ۔]
’’اس حدیث کو ابو مطیع نے حماد سے منسوب کر کے گھڑا ہے۔‘‘ (میزان الاعتدال: ۱؍۵۷۴)
تنبیہ بلیغ:
حافظ ذہبیa لکھتے ہیں:
[وَکَانَ ابْنُ الْمُبَارَکَ یُعَظِّمُہ، وَ یُجِلُّہ، لِدِیْنِہٖ وَ عِلْمِہٖ۔]
’’ابن مبارکa اس کی تعظیم کرتے تھے اور اس کے دین اور علم کی وجہ سے اس کی توقیر کرتے تھے۔‘‘ (میزان الاعتدال: ۱؍۵۷۴)
یہ حافظ ذہبیa کا سہو ہے، حوالہ بے ثبوت و بے سند ہونے کی وجہ سے مردود ہے۔
قارئین کرام! ابو مطیع بلخی امام ابو حنیفہa کی طرف منسوب تصنیف ’’الفقہ الاکبر‘‘ کا راوی ہے، جس کا حال آپ نے اچھی طرح معلوم کر لیا ہے۔ ائمہ محدثین نے کس طرح اس کی خبر لی ہے، ثابت ہوا کہ امام ابو حنیفہa کی طرف منسوب روایات و تصانیف کا کوئی اعتبار نہیں۔ والحمد للہ علی ذلک!
لہٰذا یہ روایت جھوٹی ہے، خود امام بیہقی رحمہ اللہ  فرماتے ہیں کہ اس جیسی روایت سے حجت نہیں پکڑی جا سکتی۔  (السنن الکبریٰ: ۲؍۲۲۲) ……… (جاری)


No comments:

Post a Comment