اداریہ 15-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Sunday, July 14, 2019

اداریہ 15-2019


ہمارا نصب العین!

اس وقت وطن عزیز نظریاتی‘ سیاسی اور اقتصادی طور پر زندگی کے جس نازک موڑ پر کھڑا ہے وہ حالات ہر ذی شعور اور محب وطن شہری کے لیے باعث تشویش ہیں۔ ان سطور میں صرف نظریاتی مسائل کا تذکرہ مقصود ہے اور دیگر مسائل پر تبصرہ کسی دوسرے وقت پر اٹھا رکھتے ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ پاکستان ایک نظریاتی مملکت ہے جس کے قیام کا مقصد ہی اسلامی نظریۂ حیات کو عملی رنگ دینا تھا۔ اسلامیانِ برصغیر نے ایک اسلامی ریاست کے قیام کے لیے ہی بے مثال قربانیاں دی تھیں تا کہ وہ اسلامی معاشرہ قائم کر کے انفرادی اور اجتماعی اعتبار سے اپنی زندگیوں کو اسلام کے سانچے میں ڈھال سکیں۔ چشم عالم نے دیکھا کہ بے شمار خونچکاں داستانیں کس طرح پاکستان کی ابتدائی تاریخ کو رنگین کر گئیں۔
یہ حقیقت ہے کہ تحریک پاکستان کے دوران مسلمان لا الٰہ الا اللہ کے جذبہ سے کلّی طور پر سرشار تھے اور وہ سبز ہلالی پرچم کی نمائندہ ریاست مدینہ کو اس کی حقیقی روح کے ساتھ عملی طور پر دیکھنا چاہتے تھے۔ جب پاکستان نقشۂ عالم پر نمودار ہوا تو جلد بعد ہی شومئی قسمت سے اکابر جنگ اقتدار میں الجھ گئے۔ تاجر پرستار زر بن گئے۔ اہل کار لوگوں کا خون چوسنے لگے۔ عیاشی ولذت پرستی اور جلب زر عوام کا مقصد حیات بن کر رہ گیا اور اس وعدہ کو فراموش کر دیا جو تحریک پاکستان کا نصب العین تھا‘ یعنی پاکستان کا مطلب کیا … لا الٰہ الا اللہ!
ستم یہ بھی ہے کہ پاکستان میں ایک عرصہ سے قیام پاکستان کے محرکات اور مقاصد وتاریخ کومسخ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور دینی واخلاقی اور انسانی قدریں دم توڑتی نظر آ رہی ہیں۔ رشوت ستانی‘ اقربا پروری‘ اغوا‘ قتل اور جنسی جرائم عام ہوتے جا رہے ہیں۔ مغرب کی نقالی نے ہماری قومی وملی قدروں کو بے حد مجروح کیا ہے‘ لوگ مذہب سے دور اور اتحاد ویکجہتی کی دولت سے محروم ہو رہے ہیں۔ علامہ اقبالa تو کہا کرتے تھے   ؎
فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں
موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں
یہ بھی ایک مسلمہ امر ہے کہ پاکستان کا وجود کسی جغرافیائی یا انتظامی ضرورت کی پیداوار نہیں بلکہ خالصتاً ایک مستقل جداگانہ اور مکمل ضابطۂ حیات کے نظریے کا عطیہ ہے۔ اسی طرح یہ ملک ایک نظریاتی ملک ہے اور اس کی بقا اور استحکام کے لیے ضروری ہے کہ اس کے نظریہ کو قائم ودائم رکھا جائے اور اس کی اساس اور بنیاد کو مجروح نہ ہونے دیا جائے۔
آج ہمیں اس کے اعتراف میں ندامت تو ضرور ہو گی مگر یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہم نے ملک کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت اور اس کے محرکات کی اشاعت میں ایک ایسی مجرمانہ غفلت اور لاپرواہی برتی ہے جس کی پاداش میں مختلف اور متصادم نظریات ہمارے ذہنوں پر مسلط ہو گئے ہیں۔ اسی بنا پر ہماری نسل نو کا بیشتر حصہ پاکستان کی نظریاتی تاریخ سے بے خبر ہونے کی وجہ سے اغیار کے نظریات کا شکار ہو چکی ہے۔ جب غفلت ولا پرواہی سے ہم نے اپنے آپ اور نسل نو کو ملی افکار واحساسات سے دور اور اسے نصاب تعلیم کا حصہ نہ بنایا تو اس نے ہماری جغرافیائی سرحدوں میں شگاف ڈال دیئے۔
سقوطِ مشرقی پاکستان کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ ہم نے نظریہ پاکستان کو یکسر فراموش کر دیا۔ اب قوم ذہنی انتشار کے ساتھ ساتھ عملی ہم آہنگی سے بھی محروم ہو چکی ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم از سر نو اسی جذبہ وایثار کو کام میں لائیں جو تحریک پاکستان کے وقت ہمارا سامان جنوں تھا۔ اسی صورت میں ہم پھر اسی ایک راستہ‘ ایک مقصد اور ایک منزل کی طرف گامزن ہو سکتے ہیں۔ ستم کی بات یہ بھی ہے کہ آدھا ملک رہ جانے کے بعد یہاں کئی قومیتوں کے نعرے بلند ہو رہے ہیں‘ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم اپنے بنیادی نظریات سے دور جا چکے ہیں۔ اس میں میڈیا اور ٹی وی چینلز بھی ذمہ دار ہیں۔ ایسے حالات میں اسلامیان پاکستان پر فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ اپنے فکر وعمل میں صحتمندانہ انقلاب پیدا کریں اور اپنے قومی تشخص کو برقرار رکھتے ہوئے اپنے ملی مرکز سے گہری وابستگی پیدا کریں۔ ہم نے دوسرے ازموں کو آزما کر دیکھ لیا ہے سوائے ذلت ورسوائی کے کچھ حاصل نہیں ہوا۔ ہماری آخری امید اسلام ہے جس سے پوری انسانیت کی فلاح وبہبود وابستہ ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم اسلام کو اپنے فکر وعمل کا محور بنائیں۔ موجودہ حکومت جو تبدیلی کے نام پر برسر اقتدار آئی ہے آٹھ ماہ گزر جانے کے باوجود کوئی اچھی تبدیلی نظر نہیں آئی۔
ہم اپنی بات اپنے نصب العین کے حوالہ سے قائد اعظم کے فرمان پر ختم کرتے ہیں جس میں انہوں نے افسران مملکت سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہمارا نصب العین یہ تھا کہ ہم ایک ایسی مملکت کی تخلیق کریں جہاں ہم آزاد انسانوں کی طرح رہ سکیں جو ہماری تہذیب وتمدن کی روشنی میں پھلے پھولے اور جہاں معاشرتی انصاف کے اسلامی تصور کو پوری طرح پنپنے کا موقع ملے۔


No comments:

Post a Comment

View My Stats