احباب جماعت کی خدمت میں 15-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Sunday, July 14, 2019

احباب جماعت کی خدمت میں 15-2019


احباب جماعت کی خدمت میں!

تحریر: جناب پروفیسر عتیق اللہ عمر
تبلیغ دین دنیا کے بہترین کاموں میں سے ایک ہے۔ یہ انبیاء کرامo کا شیوہ اور اب امت محمدیہ کا فرض ہے۔ ملت اسلامیہ کے ہر فرد کو کسی نہ کسی طرح اس فریضہ سے عہدہ برآ ہونا ہے۔ وطن عزیز پاکستان میں الحمد للہ ہر مسلک اور جماعت کا وسیع تبلیغی نیٹ ورک موجود ہے۔  بلا خوف وتردید یہ بات بھی کہی جا سکتی ہے کہ مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان اس ضمن میں صف اول میںشامل ہے۔ ملک کے طول وعرض میں متعدد تبلیغی پروگرامز‘ دروس قرآن وحدیث‘ اصلاحی بیانات اور محافل ومجالس کا سلسلہ ہمہ وقت جاری وساری رہتا ہے۔ بلاشبہ اس میں ہمارے مبلغین کا بہت بڑا کردار ہے جو حوصلہ افزائی اور خراج تحسین کے مستحق ہیں۔ ہاں ان کی رہنمائی اور تربیت کی ضرورت اپنی جگہ موجود ہے۔ گذشتہ دنوں اس ضمن میں ’’وارثانِ منبر ومحراب کے نام‘‘ کے عنوان سے چند ایک گذارشات حوالۂ قرطاس کر چکا ہوں اب کی بار میری گذارشات کے مخاطب کانفرنسز اور جلسہ ہائے عام کی وہ انتظامیہ کے لوگ ہیں جو اس تبلیغی سلسلہ کا جزو لا ینفک ہیں۔ امید واثق ہے کہ احباب جماعت توجہ اور پھر اس پر عمل کی کوشش بھی کریں گے۔
1    پروگرام کا مقصد صرف اللہ کی رضا کو بنائیں تا کہ اس میں اللہ کی نصرت اور مدد شامل حال ہو جائے۔
2    پروگرام کی کامیابی کے لیے محنت کے ساتھ ساتھ کثرت سے اذکار اور ممکن ہو تونوافل اور بالخصوص پروگرام کے دن نماز تہجد کا اہتمام کر کے اللہ تعالیٰ سے کامیابی اور بہترین اثرات کی دعا کریں۔
3    خطیب کا انتخاب کرتے وقت محض آواز‘ شہرت اور ذاتی دوستیوں سے باہر نکل کر تبلیغ دین کے تقاضوں‘ قرآن وحدیث کی تعلیم وحکمت اور سب سے بڑھ کر شرعی پابندیوں کو مد نظر رکھیں۔ یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ عوام الناس کا مزاج آپ نے طے کرنا ہوتا ہے اور آپ اپنے اس عمل پر روز قیامت اللہ کے حضور بھی جواب دہ ہوں گے۔
4    پروگرام کی کامیابی کے لیے ہر قدیم وجدید ذریعہ اپنائیں۔ بھر پور محنت کریں۔ انفرادی دعوت بھی دیں۔ سوشل میڈیا کا بھر پور استعمال کریں۔ بڑے پروگرامز کی کامیابی کے لیے علاقائی مساجد میں مختلف دروس قرآن وحدیث میں اعلانات کے ذریعے دعوت ضرور دیں۔
5    پروگرام کو چلانے کے لیے بہترین اور ماہر اسٹیج سیکرٹری کا انتخاب کریں جو پروگرام میں جان بھی بھرے اور وقت کا زیادہ استعمال بھی نہ کرے۔ یاد رکھیں یہ صاحب اچھے بھلے پروگرام کو تباہ یا پھر عام سے پروگرام کو انتہائی کامیاب بھی بنا سکتے ہیں۔
6    اشتہار کی ترتیب میں حفظ مراتب کا خصوصی خیال رکھیں۔ ہمارے اس عمل کا علماء کرام کی عوامی عزت وتکریم سے گہرا تعلق ہے۔ القابات سے نوازتے وقت حقائق بھی مد نظر رکھیں۔ کہیں آپ کی بیان کردہ چیزیں خوشامد یا پھر کسی کو خوش کرنے والے جھوٹ کے ضمن میں نہ آجائیں جس کا ٹھکانہ جہنم ہے۔
7    وعدہ لیے بغیر کسی عالم دین کا نام اشتہار میں لکھنا علماء اور عوام الناس دونوں سے دھوکہ ہے۔ آپ کا یہ عمل ایک طرف عوام میں علماء کے خلاف نفرت پیدا کرتا ہے تو دوسری طرف آپ کے آئندہ پروگرامز کے لیے خرابی کا باعث بنتا ہے۔
8    علماء کی بھر مار کر کے پروگرام کو تباہ کرنے سے بچیں۔ محدود علماء اور مخصوص دورانیے کے پروگرامز زیادہ پر تاثیر ہوتے ہیں۔
9    پروگرامز کے لیے ماہر قراء کرام اور نعت خواں حضرات کا انتخاب کر کے عوام الناس میں قراء ت ونعت کا ذوق بڑھایا جا سکتا ہے۔
0    علماء کرام کے کھانے کا انتظام اگر کوئی عالم دین ہی کریں تو نہایت مناسب ہو گا۔ احباب کی محبت اپنی جگہ لیکن علماء کرام‘ علماء کے مہمان ہی بنیں تو میرے خیال میں عزت افزائی زیادہ ہے۔
!    علماء کرام کی خدمت بھر پور انداز میں کریں۔ اس سے دین کا کام کرنے والوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور دین کا کام جاری رکھنے کا حوصلہ ملتا ہے۔اس ضمن میں ضروری درخواست یہ ہے کہ خدمت کا انداز انتہائی مناسب اختیار کیا جائے۔ کسی کتاب میں رکھ کر یا پھر کم از کم اچھے لفافے میں پیک کر کے پیش کرنا چاہیے۔ مٹھی میں بند کر کے رشوت کے انداز میں چھپا کر دینا شاید زیادہ مناسب نہیں۔
@    علماء کرام کے کسی وجہ سے نہ پہنچنے‘ یا تقریر اچھی نہ ہونے وغیرہ کی غیبت عوام الناس کے درمیان ہرگز نہ کریں۔ متعلقہ شخص سے شکوہ ہی اخلاقی اور دینی اعتبار سے بہتر ہے۔
#    علماء کرام کی آمد ورفت کے موقع پر انتہائی معزز انداز میں استقبال اور رخصت کریں۔ یاد رہے کہ علماء کرام کی قدر افزائی دین سے محبت کی علامت اور عوام الناس کو دین کی طرف مائل کرنے کا بہترین انداز ہے۔
$    پروگرام کے بعد بھی نوافل پڑھ کر اللہ رب العزت کے شکریہ سے پروگرام کی قبولیت اور پر تاثیر ہونے کی دعا ضرور فرمائیں‘ سنت نبوی یہی ہے۔
نوٹ: مندرجہ بالا گذارشات ۲۲ سالہ تبلیغی سفر اور ہزاروں کانفرنسز‘ جلسہ ہائے عام‘ جماعتی وتنظیمی میٹنگز میں شرکت کا نچوڑ ہے۔ ہر شخص کا ہر بات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ البتہ تمام گذارشات خلوص نیت سے پیش کی گئی ہیں۔


No comments:

Post a Comment