خطبہ حرم 15-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Sunday, July 14, 2019

خطبہ حرم 15-2019


نوجوانوں میں اَخلاقی وفکری بُحران

امام الحرم المکی فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبدالرحمٰن السدیسd
حمد و ثناء کے بعد!
اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو! فرصت کو غنیمت جانو۔ مہلت ختم ہونے سے پہلے اپنے اوقات کو نیکیوں سے بھر لو۔
’’پس اے لوگو جو عقل رکھتے ہو! اللہ کی نافرمانی سے بچتے رہو، امید ہے کہ تمہیں فلاح نصیب ہوگی۔‘‘ (المائدہ: ۱۰۰)
جو پرہیزگاری اختیار کرتا ہے، اسے آسانیاں ڈھانپ لیتی ہیں۔ اس کے معاملات آسان ہو جاتے ہیں اور اسے کسی مشکل کا ڈر نہیں رہتا۔ تو اے پرہیز گارو! کامیابی سے خوش ہو جاؤ، آپ کی زندگی ہی قابل رشک زندگی ہے۔
اے مؤمنو! جو تہذیبوں، قوموں اور معاشروں کی تاریخ میں نظر دوڑاتا ہے، فکری رہنماؤں، علمی شخصیات اور قابل قدر علم برداروں کے حال پر غور کرتا ہے، اسے کسی تنگی یا مشقت کے بغیر ہی ایک عظیم اور حیرت انگیز حقیقت معلوم ہو جاتی ہے۔ وہ یہ کہ ہر کامیابی کے پیچھے امانت دار، چنیدہ اور منور گروہ کار فرما ہوتا ہے۔ یہ گروہ نوجوانوں کا گروہ ہے۔ ہر کامیابی میں جوان ہی بنیادی رکن ہیں، نوجوان ہی نہایت قیمتی اور گراں قدر خزانہ ہیں۔ یہی خوشبو دار پھول ہیں۔ یہی طاقتور بازو ہیں۔ یہی چڑھتی امیدیں اور چمکتی پیشانیاں ہیں۔
دلیر، پر امید اور توانا جوانوں کو سلام پیش کیجیے! جنہوں نے اپنی کوششوں سے تاریخ کو مزین کر دیا۔ یہی مستقبل کے معمار اور اس کی ٹیم ہیں۔ یہی بہترین زندگی بنانے والے ہیں۔
اے اسلامی بھائیو! اسلام نے نوجوانوں کو بڑی اہمیت اور پوری توجہ دی ہے۔ پیدائش سے بھی پہلے ان کی نگہبانی کا آغاز کیا۔ دلہا اور دلہن، دونوں کو مناسب شریک حیات منتخب کرنے کا حکم دیا۔ دوران حمل ان کی نگہبانی کی۔ پھر وہ اسلامی نگہبانی میں ہی دودھ پیتا بچہ بنے، لڑکپن کی عمر کو پہنچے، سمجھ دار بچے بنے، پھر نوجوانی کی عمر میں پہنچے۔
رسول اللہ e نے بتایا ہے کہ روز قیامت عرش الٰہی کے واحد سائے سے فائدہ حاصل کرنے والے خوش قسمت لوگوں میں وہ نوجوان بھی ہوں گے جو اللہ کی فرمان برداری میں پلے ہوں گے۔ (بخاری ومسلم)
اسی طرح آپe نے فرمایا: اے نوجوانو! تم میں سے جو شادی کے اخراجات اٹھانے کے قابل ہو، وہ شادی کر لے، اس طرح نظر نیچی رکھنے میں بھی مدد ملے گی اور شرم گاہ کی حفاظت بھی آسان ہو جائے گی۔ (بخاری ومسلم)
اسلام کی نگہبانی کا نتیجہ ہے کہ ہمیں اخلاق کی بلندیوں کو چھوتے، شاندار رویوں اور خصلتوں کے مالک نواجوانوں کی روشن مثالیں نظر آتی ہیں۔ یہاں تک کہ ان کے شاندار اخلاق، ان کی منفرد کامیابیوں اور سربلندی والے کاموں کو دیکھ کر لوگ گروہ در گروہ دین میں داخل ہو جاتے تھے۔
میں نوجوانوں کو تعظیمی سلام پیش کرتا ہوں۔ یہی ہمارا بیش قیمت سرمایہ ہیں۔ یہی ہمارے فخر کا راز ہیں۔ نبی e کے صحابہ بھی تو بلند سوچ رکھنے والے نوجوان ہی تھے۔
میدان بدر میں جب سیدنا علیt نے مسلمانوں کا علم اٹھایا تھا، تو اس وقت وہ کتنی عمر کے تھے؟
اسامہt نے جب لشکر کی قیادت کی تھی، اس وقت وہ کتنی عمر کے تھے؟ جب رسول اللہ e فوت ہوئے تو حبر الامہ سیدنا ابن مسعودt کتنی عمر کے تھے؟ وحی لکھنے والے سیدنا زید بن ثابتt کتنی عمر کے تھے؟ اسلام کے سفیر سیدنا مصعب بن عمیرt کتنی عمر کے تھے؟ الحسن اور الحسین تو جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں۔ سیدنا معاذt کو جب رسول اللہ e نے اہل یمن کا قاضی اور مفتی بنا کر بھیجا، تو وہ کتنی عمر کے تھے؟ عمر بن عبد العزیزa کو جب خلافت کا تاج پہنایا گیا، تب وہ کتنی عمر کے تھے؟
امام شافعیa نے جب موطأ امام مالک کو زبانی یاد کر لیا تھا اور فتویٰ کی کرسی پر بیٹھ گئے تھے، تب وہ کتنی عمر کے تھے؟
سب کے سب جوانی کی عمر میں تھے۔ ان کے علاوہ بھی ہزاروں بلکہ کروڑوں نوجوان ہیں۔
اسلام نے میری قوم کو خوب بنایا ہے۔ نوجوان، مخلص، آزاد، امانت دار۔ اسلام ہی نے تیز زبان والوں کے مقابلے میں مضبوط ایمان والوں اور اہل علم کو آگے کرنا سکھایا ہے۔
اے امت اسلام! نوجوانی کا مرحلہ عقیدے کو راسخ کرنے کا مرحلہ ہوتا ہے۔ اسی میں انسان کی سوچ تشکیل پاتی ہے۔ وہ درست راستے پر چل پڑتا ہے۔ اسی میں انسان اپنے نفس، اپنی ذات، اپنے اہداف اور مقاصد کو تشکیل دیتا ہے۔ لہٰذا یہ بات انہائی اہم ہے، بلکہ یہ امت کی اہم ترین ذمہ داری ہے کہ وہ جوانوں کی صلاحتیں نیکی اور کامیابی کے راستوں میں لگائے۔ انہیں ہلاکت خیز کاموں اور فساد سے دور رکھے۔ یہ کام تب ہی ہو سکتا ہے جب چند چیزوں کا خاص خیال رکھا جائے گا۔ جن میں اہم ترین یہ ہے کہ انہیں شرعی علوم کے قلعے میں محفوظ کیا جائے۔ دین کا علم سیکھ کر ہی گناہوں سے بچا جا سکتا ہے، دین کے احکام کی پامالی اور ظلم وزیادتی سے حفاظت ہو سکتی ہے۔ دینی علوم کی بدولت ہی انسان دنیا وآخرت کی کامرانی حاصل کر سکتا ہے۔ جب اسلامی شریعت، انسان کی رہنما اور قائد بن جاتی ہے، تو انسان جوانی کے جذبات کی قید سے بے لگام جوش وجذبہ سے آزاد ہو جاتا ہے۔ وہ ہدایت کی راہ پر چل پڑتا ہے۔ ثقہ علماء ، اکابرین، علم غفیر اور طویل تجربوں کے مالک اہل علم کی رہنمائی کے مطابق چلتا ہے۔ ان ہی کے علم، نصیحت اور حکم سے ہدایت کی راہ اپنا لیتا ہے اور ان ہی کے مشوروں پر عمل کرتا ہے۔ جب نوجوان یہ کام کرتے ہیں تو وہ امت اور دین کے لیے زیادہ مفید ثابت ہوتے ہیں۔ پیغام حق سے نوجوانوں کو دور کرنے کے لیے منصوبہ بندی کرنے والوں کے خلاف یہی نوجوان ثابت قدمی دکھاتے ہیں۔ فرمانِ الٰہی ہے:
’’حالانکہ اگر یہ اُسے رسول اور اپنی جماعت کے ذمہ دار اصحاب تک پہنچائیں تو وہ ایسے لوگوں کے علم میں آ جائے جو اِن کے درمیان اس بات کی صلاحیت رکھتے ہیں کہ اس سے صحیح نتیجہ اخذ کرسکیں۔‘‘ (النساء: ۸۳)
خیال رہے کہ نوجوانوں کی حوصلہ افزائی ضروری ہے تاکہ وہ اپنے ملک کی تعمیر کریں۔ ان کے بارے میں اچھا گمان رکھنا چاہیے۔ انہیں با اثر بنانا چاہیے۔ انہیں بتانا چاہیے کہ حب الوطنی بس ایک جذبہ یا جوش مارتے جذبات ہی نہیں، بلکہ یہ اس سے بڑھ کر احساس ذمہ داری بھی ہے، واجبات کی ادائیگی بھی ہے۔ حقیقی شہریت یہ ہے کہ تمام ہم وطنوں کے ساتھ ان کی زندگی اور موت میں، ہر طرح کے چیلنجز کے مقابلے میں، ان کمائیوں اور کامیابیوں میں، ان کے حقوق اور واجبات میں برابر کے شریک بنا جائے۔ اس عظیم ملک میں ہماری مثال ایک جسم کی سی ہے۔ وطن کی تعمیر اور زمین کو آباد کرنے کا ہی تقاضا ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے:
’’وہی ہے جس نے تم کو زمین سے پیدا کیا ہے اور یہاں تم کو بسایا ہے۔‘‘ (ہود: ۶۱)
چنانچہ منصوبہ بندی ضروری ہے، اسٹراٹیجک پلاننگ کی بڑی اہمیت ہے، تہذیبی سرمایہ کاری انتہائی اہم ہے اور ٹیکنیکل اداروں کی موجودگی بھی وطن کی تعمیر وترقی میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ مثبت سوچ، ہمہ وقت توانائی، مفید چیزوں میں شرکت اور پیداوار بڑھانے پر مناسب توجہ بھی انتہائی اہم چیزیں ہیں۔
ملک کی تعمیر وترقی کا زیادہ بوجھ اور زمین کو آباد کرنے کی ذمہ داری کا بیشتر حصہ نوجوانوں کے کندھوں پر ہی ہے، کیونکہ وہی با اثر طاقت کے مالک ہیں، سوچنے والی عقلیں رکھتے ہیں اور محنت کرنے والے ہاتھوں سے کام لیتے ہیں۔
اے مؤمنو! وہ چیز جو اسلامی معاشرے کو غیر مسلم معاشرے سے ممتاز کرتی ہے، وہ یہی ہے کہ مسلمان معاشرے کے لوگ ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر ایک دوسرے کو حق کی اور اس استقامت کی نصیحت کرتے رہتے ہیں۔ نیکی اور بھلائی میں ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔ فرمان نبوی ہے:
’’تم سب ذمہ دار ہو اور ہر ایک کو اس کی ذمہ داری کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ (بخاری ومسلم)
ہماری پُر نور شریعت میں تنہائی اور اکیلے پن کی کوئی حیثیت نہیں۔ تجرد اور خلوت انتہائی نا پسندیدہ ہے، یہ تو روشن خیالی اور تجدید کو جانتی ہے، بدلتے حالات اور نئی ایجادات کے مطابق ترقی اور رواداری کو عام کرتی ہے، تاہم دینی اصولوں اور متفق علیہ احکام، واضح ارشادات اور اٹل قاعدوں پر سمجھوتے سے روکتی ہے۔
اے نوجوانو! ذمہ داری اٹھانے کے قابل بن جاؤ۔ اصلاح کا آغاز اپنے نفس سے کرو، اپنے جسم کے اعضاء کو دیکھو، اپنے جسم کو توجہ دو، اپنی روح کو پاکیزہ کرو، اپنی عقل کو درست کرو، اپنے علم، عمل، عبادت اور معاملات کو ٹھیک کرو۔ اے نوجوانو! آپ کے کندھوں پر بہت سی ذمہ داریاں ہیں۔ دین کی، ملک کی، معاشرے کی اور امت کی۔ ان سب کی ادائیگی کے لیے قول وعمل میں اخلاص کو اپنا تاج بنائیے۔ اسی طرح نوجوانوں کو اپنے جسم اور شکل وصورت پر بھی خاص توجہ دینی چاہیے، اپنے دل، نفس، روح اور فکر کی سلامتی کو بھی ملحوظ رکھنا چاہیے۔ خواہشات کا دروازہ نہیں کھولنا چاہیے۔ شہبات کے گرد نہیں گھومنا چاہیے۔ فتنوں اور نافرمانیوں کے قریب نہیں پھٹکنا چاہیے۔ جاہل کو تعلیم دینی چاہیے، گمراہ کو راہ دکھانی چاہیے اور لوگوں کو بھلائی اور ہدایت کی طرف بلانا چاہیے۔ یاد رہے کہ دین کی سربلندی میں اور نبی کی شریعت کے پھیلنے میں اللہ کے فضل کے بعد نیک نوجوانوں کا ہاتھ ہی رہا ہے۔ یہی نقیب اور حواری ہیں۔ یہی انصار اور مہاجر ہیں۔ یہی با عمل عالم ہیں۔ یہی مصلح اساتذہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اصحاب کہف کے متعلق فرمایا:
’’وہ چند نوجوان تھے جو اپنے رب پر ایمان لے آئے تھے اور ہم نے ان کو ہدایت میں ترقی بخشی تھی۔‘‘ (الکہف: ۱۳)
اے امت کے نوجوانو! اخلاص کے ساتھ دین کے لیے کام کرنے والا وہی ہو سکتا ہے جو اپنے دین پر فخر کرتا ہو۔ اس کی طرف نسبت کو اپنا اعزاز سمجھتا ہو۔ یہ وہ بات ہے جسے نوجوانوں کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے۔ انہیں چاہیے کہ وہ دین اسلام کی طرف نسبت کو اور اس کے لیے کام کرنے کو اپنا فخر اور اعزاز سمجھیں۔ اسی سے انہیں ہمت اور توانائی بھی ملے گی۔ مسلمان نوجوان کو اپنی باتوں میں، لباس میں اور اپنی شکل وصورت میں اندھی تقلید سے بچنا چاہیے۔ بلکہ اس حوالے سے اسے نبیوں کی ہدایات پر عمل کرنا چاہیے اور نیک لوگوں کی راہ پر چلنا چاہیے۔ فرمانِ الٰہی ہے:
’’در حقیقت تم لوگوں کے لیے اللہ کے رسولe میں ایک بہترین نمونہ تھا۔‘‘ (الاحزاب: ۲۱)
ہمارا دینی، اخلاقی اور وطنی فریضہ ہر ایک پر اور بالخصوص نوجوانوں پر ضروری ٹھہراتا ہے کہ وہ اپنا واجب ادا کرنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوں، تاکہ ہم سب مل کر فسادیوں اور مذموم مقاصد والوں کا راستہ روک سکیں، جو دین اور وطن کی حرمتیں پامال کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ سب مل کر مذموم مقاصد والی افواہوں، جھوٹی خبروں، مشکوک آوازوں، گمراہ فرقوں، راہ راست سے ہٹی ہوئی جماعتوں اور دین سے نکلی ہوئی تنظیموں کا مقابلہ کریں، جو بد نظمی پیدا کرنے، شور وغل مچانے، پریشانیاں اور فتنے برپا کرنے کی بھر پور کوشش کرتی رہتی ہیں۔ تاکہ ہم سب امن وسلامتی سے لطف اندوز ہوں، دینی بھائی چارے کی حفاظت کریں اور قومی وحدت کو بچائے رکھیں۔
تہہ دل سے نکلنے والی پکار ہے! ان لوگوں کے نام، جو جوان لڑکوں اور لڑکیوں کے ذمہ دار ہیں۔ چاہے وہ والدین ہوں، اساتذہ ہوں، تربیت دینے والے ہوں، قلم کار ہوں یا میڈیا کے لوگ ہوں، ہم ان سب سے کہتے ہیں کہ نوجوان نسل کی ذمہ داری آپ کے سر پر ہے، اس لیے تم اللہ سے ڈرو! ان کے دلوں کو قرآن وسنت کے پیغام سے اور سلف صالحین کے منہج سے سیراب کرو۔ انہیں بدعتوں اور شرکیات سے دور رکھو۔ ایجاد کردہ عبادتوں اور دین کی خلاف ورزی سے بچو۔ ڈر پھیلانے والے، دھمکانے والے اور شدت پسندی پر اکسانے والے، عنصریت پسند، فرقہ واریت بھڑکانے والے اور امتیازی سلوک کو ہوا دینے والے طرز گفتگو سے اجتناب کرو۔ انہیں انتہا پسندی اور دہشتگردی سے بچائے رکھو۔ دہشتگردی کا نہ کوئی دین ہوتا اور نہ کوئی ملک۔ نوجوانوں کی تربیت وسطیت اور اعتدال پر کیجیے۔ رواداری اور نرمی پر کیجیے۔ حکمت اور توازن پر کیجیے، جس میں نہ مبالغہ ہو اور کوتاہی۔ انہیں اغیار کے افکار سے بچاؤ۔ کمزور منہج سے بچاؤ۔ قابلیت بڑھانے والی اور امیدیں پوری کرنے والی ہر چیز میں ان کی حوصلہ افزائی کیجیے۔ انہیں دین کی خدمت اور ملک کی فلاح وبہود کے لیے کوشش کے مواقع دو۔ انہیں ان لوگوں سے خبردار کیجیے جو سوشل میڈیا کے مختلف صفحوں کے ذریعے انہیں نشانہ بنائے بیٹھے ہیں۔ جو قابل قدر اور قابل تقلید شخصیات پر کیچڑ اچھالتے نہیں تھکتے۔ ثقہ لوگوں پر بھروسہ ختم کرنے کی کوشش میں رہتے ہیں۔
بلند ہمت لوگوں کو یہ بھی جان لینا چاہیے کہ اس معاشرے میں کچھ ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو خود بھی نکمے ہیں اور جو دوسروں کی حوصلہ شکنی بھی کرتے ہیں۔ جو مایوس اور بے امید ہیں۔ جو ترقی، تجدید اور ایجاد کے دشمن ہیں۔ جو ہر پیش قدمی کو تباہ کر دیتے ہیں اور ہر بااعتماد، کامیاب اور باہمت شخص کا راستہ روک دیتے ہیں۔ نوجوانوں کو سکھائیے کہ وہ اِدھر اُدھر کے راستوں پر دھیان نہ دیں۔ اپنی ہمت بلند کر لیں، تاکہ چوٹی تک پہنچ سکیں۔ اللہ پر بھروسہ رکھیں اور اسی پر اعتماد کریں۔ اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا:
’’بھلائیوں کی طرف سبقت کرو‘ جہاں بھی تم ہو گے، اللہ تمہیں پا لے گا‘ اُس کی قدرت سے کوئی چیز باہر نہیں۔‘‘ (البقرہ: ۱۴۸)
              دوسرا خطبہ               
حمد وصلوٰۃ کے بعد:
اللہ کے بندو! اللہ سے یوں ڈرو جیسے اس سے ڈرنے کا حق ہے۔ یہی ہمیشہ باقی رہنے والا سرمایہ ہے اور اس سے بڑھ کر کوئی سعادت نہیں۔
’’زاد راہ ساتھ لے جاؤ، اور سب سے بہتر زاد راہ پرہیزگاری ہے۔‘‘ (البقرہ: ۱۹۷)
مسلمان جماعت سے جڑے رہو کیونکہ اللہ کا ہاتھ جماعت کے ساتھ ہے اور جو جماعت کو چھوڑ کر الگ ہو جاتا ہے، وہ جہنم کی کھائیوں میں گر جاتا ہے۔
اے مؤمنو! نوجوانوں کی شان، ان کی ذمہ داریوں، انہیں با اثر کرنے اور ان کی حوصلہ افزائی کے بارے میں گفتگو کی جائے تو یہ بات بھی نظر انداز نہیں کرنی چاہیے کہ یہاں مرد اور خواتین برابر ہیں۔ اہل اسلام کی نوجوان لڑکیوں کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے دین پر قائم رہیں۔ دین کے طے شدہ اصولوں اور دینی اقدار پر ثابت قدم رہیں۔ انہیں چاہیے کہ وہ دین، وطن اور معاشرے کے لیے کیے جانے والے تمام کاموں اور کاوشوں کو دینی شناخت پر اور اس شناخت کو مضبوط تر کرنے والی اقدار پر فخر کا تاج پہنائیں۔ یہ سارے کام شرعی اصولوں کے مطابق اور ادب کے دائرے میں رہتے ہوئے کریں۔
یاد رہے کہ نوجوانوں کی غلطیوں اور کوتاہیوں کو سارے معاشرے کی غلطی نہیں سمجھنا چاہیے۔ ان کی وجہ سے نوجوانوں پر سے اعتماد نہیں اٹھنا چاہیے اور مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ بلکہ یہاں بڑی خوشی اور مسرت کے ساتھ ہمیں یہ بات ضرور یاد رکھنی چاہیے کہ الحمد للہ! نوجوانوں کی زیادہ تعداد راست باز، دین الٰہی کے عظیم اصولوں پر قائم اور وسطیت واعتدال کی راہ پر چلنے والی ہے۔ یہی نوجوان قابل فخر ہیں، جن کا دفاع کرنا ضروری ہے، ان پر ہمیں ناز ہونا چاہیے اور ان سے فائدہ حاصل کرنا چاہیے۔ اس لیے ہمیں ہمیشہ ان کے بارے میں اچھا گمان رکھنا چاہیے۔ ان کی مدد کرنی چاہیے، ان کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے اور انہیں با اثر بنانا چاہیے۔
اے ہمارے نوجوانو! ہم آپ کے ذریعے اپنا مستقبل سنورتا دیکھ رہے ہیں۔ آپ کے ہاتھوں اپنی امیدیں پوری ہوتا دیکھ رہے ہیں اور یہ کام ایسے انداز میں ہوتا دیکھ رہے ہیں کہ دینی اصولوں کی خلاف ورزی بھی نہ ہو اور جدید تقاضے بھی پورے ہو جائیں۔ یہ کام اس ملک کے باہمت نوجوان سرانجام دے کر ملک اور قوم کی خدمت کریں۔
یاد رکھو کہ جوانی کبھی لوٹ کر نہیں آتی۔ تو بڑھاپے سے پہلے جوانی کو غنیمت جانو۔ روز قیامت کوئی شخص قدم بھی اس وقت تک آگے نہیں بڑھا سکے گا جب تک اس سے پوچھ نہ لیا جائے کہ اس نے اپنی جوانی کس چیز میں لگائی۔
اللہ سے دعا ہے کہ وہ مسلمان جوانوں کی اصلاح فرمائے۔ انہیں بھلائی اور نیکی کی توفیق عطا فرمائے۔ انہیں کامیاب اور کامران فرمائے۔ انہیں اپنے گھر والوں اور خاندانوں کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنائے۔ اپنے معاشروں اور ملکوں کے لیے خوشی کا سبب بنائے۔ انہیں اعتدال کے راستے پر لگائے۔ یقینا! وہی سب سے بڑا اور سب سے بلند ہے۔
اے اللہ! ہمیں ہمارے ملکون میں امن نصیب فرما! ہمارے اماموں اور حکمرانوں کی حفاظت فرما! حق کے ساتھ ہمارے حکمران اور امام خادم حرمین کی تائید فرما۔ اے اللہ! اسے ان کاموں کی توفیق عطا فرما جن سے تو خوش اور راضی ہوتا ہے۔ اسے نیکی اور پرہیزگاری کی طرف لیجا۔ اسے، اس کے ولی عہد کو اور اس کے مدد گاروں کو ان کاموں کی توفیق عطا فرما جن میں اسلام کی عزت، مسلمانوں کی فلاح وبہبود اور ملک اور قوم کی بہتری ہو۔


No comments:

Post a Comment