امام بخاری کی فقاھت 15-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Sunday, July 14, 2019

امام بخاری کی فقاھت 15-2019


امام بخاری رحمہ اللہ کی فقاہت

(دوسری وآخری قسط) تحریر: جناب مولانا محمد طیب محمدی
امام بخاری رحمہ اللہ کے اجتہادی مسائل
امام بخاریa کے اجتہادی مسائل کے چند نمونے بھی ملاحظہ فرمائیں‘ انہوں نے بڑے بڑے مسائل کا حل احادیث سے نکالا اورمجتہد وہی ہوتا ہے جو اپنی طرف سے بات کرنے کی بجائے احادیث ہی سے پیش آمدہ مسائل کا حل نکالے ۔ امام بخاریa کی یہی بہت بڑی خوبی تھی، امام بخاریa کے اجہتاد کے چند نمونے آپ کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں :
۱۔نکاح سے پہلے طلاق
ایک گروہ کا نظریہ ہے کہ نکاح سے پہلے طلاق ہوجاتی ہے، مثلا کوئی آدمی کسی بھی عورت کے متعلق کہتا ہے کہ میں فلاں عورت کو طلاق دیتا ہوں ، یا یہ کہتا ہے کہ میں نے اگر فلاں عورت سے نکاح کیا تو اسے طلاق ، یا بعض لوگ نام لے کر کہا کرتے تھے فلاں قبیلے کی عورتوں کو طلاق دیتا ہوں ، اس سے اس نے نکاح نہ کیا ہوتا ویسے ہی طلاق دے دیتا ،لوگ نامزد کرکے طلاق دیا کرتے تھے۔
امام بخاریa نے ایسے لوگوں کا رد کیا ہے، امام بخاریa کہتے ہیں کہ نکاح سے پہلے طلاق نہیں ہوتی۔ طلاق کہتے ہیں منکوحہ عورت کو الگ کرنا‘ جب ایک عورت منکوحہ ہے ہی نہیں تو اس کو طلاق کیسے ؟ امام بخاریa نے رد کیا اور یہ باب منعقد کیا :بَابُ لاَ طَلاَقَ قَبْلَ النِّکَاحِ
باب : نکاح سے پہلے طلاق نہیں ہوتی
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس بات کو ثابت کرنے کے لیے قرآن مجید کی اس آیت سے استدلال کیا ہے اور ترجمۃالباب میں اس آیت کوبیان کیا :
﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوْهُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْهُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَيْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّوْنَهَا۠١ۚ فَمَتِّعُوْهُنَّ۠ وَ سَرِّحُوْهُنَّ سَرَاحًا جَمِيْلًا۰۰۴۹﴾ (الاحزاب)
’’اے ایمان والو ! جب تم مومن عورتوں سے نکاح کرو پھر تم انہیں طلاق دے دو ۔ قبل اس کے کہ تم نے انہیں ہاتھ لگایا ہو تو اب ان پر کوئی عدت ضروری نہیں ہے جسے تم شمار کرنے لگو تو ان کے ساتھ اچھا سلوک کر کے اچھی طرح رخصت کر دو۔‘‘
امام بخاریa نے الفاظ کی ترتیب سے یہ مسئلہ نکالا ہے لفظ ثم اس پر دلالت کرتا ہے ، امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے کتنے آرام سے یہ مسئلہ حل کر دیا کہ طلاق نکاح کے بعد ہوتی ہے پہلے نہیں ہوتی اگر پہلے ہوتی تو قرآن کے یہ الفاظ ایسے نہ ہوتے بلکہ ایسے ہوتے:
وَ اِنْ طَلَّقْتُمُ الْمُؤْمِنٰتِ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْهُنَّ
لیکن قرآن کے الفاظ ایسے نہیں بلکہ یہ ہیں:
﴿اِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوْهُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْهُنَّ﴾
پھر اس کے بعد ابن عباسw کا قول پیش کیا ہے:
[وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:جَعَلَ اللَّهُ الطَّلاَقَ بَعْدَ النِّكَاحِ وَيُرْوَى فِي ذَلِكَ عَنْ عَلِيٍّ، وَسَعِيدِ بْنِ المُسَيِّبِ، وَعُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَأَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، وَأَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ، وَعَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، وَشُرَيْحٍ، وَسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، وَالقَاسِمِ، وَسَالِمٍ، وَطَاوُسٍ، وَالحَسَنِ، وَعِكْرِمَةَ، وَعَطَاءٍ، وَعَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، وَجَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، وَنَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، وَمُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، وَمُجَاهِدٍ، وَالقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَعَمْرِو بْنِ هَرِمٍ، وَالشَّعْبِيِّ: أَنَّهَا لاَ تَطْلُقُ.]
’’ابن عباس t نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے طلاق کو نکاح کے بعد رکھا ہے۔ (اس کو امام احمد اور بیہقی اور ابن خزیمہ نے نکالا) اور اس سلسلے میں علی رضی اللہ عنہ، سعید بن مسیب، عروہ بن زبیر، ابوبکر بن عبدالرحمٰن، عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ، ابان بن عثمان، علی بن حسین، شریح، سعید بن جبیر، قاسم، سالم، طاؤس، حسن، عکرمہ، عطاء، عامر بن سعد، جابر بن زید، نافع بن جبیر، محمد بن کعب، سلیمان بن کعب، سلیمان بن یسار، مجاہد، قاسم بن عبدالرحمٰن، عمرو بن حزم اور شعبی رحمۃ اللہ علیہم ان سب بزرگوں سے ایسی ہی روایتیں آئی ہیں۔ سب نے یہی کہا ہے کہ طلاق نہیں پڑے گی۔ ‘‘
۲۔ نکاح میں کفو سے مراد کیا ہے
ایک مسئلہ ہے کہ نکاح میں مرد اور عورت ،لڑکااورلڑکی میں برابری ہونی چاہیے تب ان کا نکاح ہوگا ورنہ نکاح نہیں ہوگا ،تو کئی لوگوں نے برابری کا مطلب یہ سمجھ لیا ہے کہ مال میں برابری ہونی چاہیے ، لڑکا اگر کروڑوں کا مالک ہے اور لڑکی ہزاروں کی مالک ہے تو ان کا نکاح نہیں ہوگا کیونکہ ان میں برابری نہیں، ایک گروہ نے یہ سمجھ لیا ہے۔ اسی طرح اگر عورت اچھے خاندان کی ہے‘ اعلیٰ خاندان کی ہے اور مرد ادنیٰ خاندان کا ہے‘ خاندان اس کا اتنا اعلیٰ نہیں تو ایک گروہ نے یہ سمجھ لیا ہے کہ ان کا نکاح نہیں ہو سکتا کیونکہ ان میں برابری نہیں ۔
امام بخاریa فرماتے ہیں: یہ غلط بات ہے کہ کفو یعنی برابری صرف دین کے حوالے سے ہوگی۔ امام بخاریa نے ایسے لوگوں کا رد کیا اور یہ باب منعقد کیا ہے:
[بَابُ الأَكْفَاءِ فِي الدِّينِ وَقَوْلُهُ: ﴿وَ هُوَ الَّذِيْ خَلَقَ مِنَ الْمَآءِ بَشَرًا فَجَعَلَهٗ نَسَبًا وَّ صِهْرًا١ؕ وَ كَانَ رَبُّكَ قَدِيْرًا۰۰۵۴﴾] [الفرقان]
کفو دین کے حوالے سے ہوتی ہے مال اور حسب کے حوالے سے نہیں ہوتی۔
امام بخاریa اس باب کے تحت یہ احادیث لے کر آئے ہیں:
[عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنَّ أَبَا حُذَيْفَةَ بْنَ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ عَبْدِ شَمْسٍ، وَكَانَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ النَّبِيِّ ﷺ، تَبَنَّى سَالِمًا، وَأَنْكَحَهُ بِنْتَ أَخِيهِ هِنْدَ بِنْتَ الوَلِيدِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ وَهُوَ مَوْلًى لِامْرَأَةٍ مِنَ الأَنْصَارِ، كَمَا تَبَنَّى النَّبِيُّ ﷺ زَيْدًا، وَكَانَ مَنْ تَبَنَّى رَجُلًا فِي الجَاهِلِيَّةِ دَعَاهُ النَّاسُ إِلَيْهِ وَوَرِثَ مِنْ مِيرَاثِهِ، حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ ﴿اُدْعُوْهُمْ لِاٰبَآىِٕهِمْ﴾ إِلَى قَوْلِهِ ﴿وَ مَوَالِيْكُمْ﴾ [الأحزاب] فَرُدُّوا إِلَى آبَائِهِمْ، فَمَنْ لَمْ يُعْلَمْ لَهُ أَبٌ، كَانَ مَوْلًى وَأَخًا فِي الدِّينِ فَجَاءَتْ سَهْلَةُ بِنْتُ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو القُرَشِيِّ ثُمَّ العَامِرِيِّ - وَهِيَ امْرَأَةُ أَبِي حُذَيْفَةَ بْنِ عُتْبَةَ - النَّبِيَّﷺ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا كُنَّا نَرَى سَالِمًا وَلَدًا، وَقَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ فِيهِ مَا قَدْ عَلِمْتَ فَذَكَرَ الحَدِيثَ.]
عائشہr فرماتی ہیں : ابوحذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ بن عبدشمس جو ان صحابہ میں سے تھے جنہوں نے نبی کریمe کے ساتھ غزوہ بدر میں شرکت کی تھی سالم بن معقل t کو لے پالک بیٹا بنایا، اور پھر ان کا نکاح اپنے بھائی کی لڑکی ہندہ بنت الولید بن عتبہ بن ربیعہ سے کردیا۔ پہلے سالم t ایک انصاری خاتون (شبیعہ بنت یعار) کے آزاد کردہ غلام تھے لیکن حذیفہ نے ان کو اپنا منہ بولا بیٹا بنایا تھا جیسا کہ نبی کریمe نے زید کو (جو آپ ہی کے آزاد کردہ غلام تھے) اپنا لے پالک بیٹا بنایا تھا۔ جاہلیت کے زمانے میں یہ دستور تھا کہ اگر کوئی شخص کسی کو لے پالک بیٹا بنا لیتا تو لوگ اسے اسی کی طرف نسبت کر کے پکارا کرتے تھے اور لے پالک بیٹا اس کی میراث میں سے بھی حصہ پاتا۔ آخر جب سورۃ الحجرات میں یہ آیت اتری ﴿اُدْعُوْهُمْ لِاٰبَآىِٕهِمْ﴾ بلکہ انہیں ان کے حقیقی باپوں کی طرف منسوب کر کے پکارو ،اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿وَ مَوَالِيْكُمْ﴾ تک تو لوگ انہیں ان کے باپوں کی طرف منسوب کر کے پکارنے لگے جس کے باپ کا علم نہ ہوتا تو اسے مولیٰ اور دینی بھائی کہا جاتا۔ پھر سہلہ بنت سہیل بن عمرو القرشی ثم العامدیr جو ابوحذیفہ t کی بیوی ہیں نبی کریمe کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! ہم تو سالم کو اپنا حقیقی جیسا بیٹا سمجھتے تھے اب اللہ نے جو حکم اتارا وہ آپ کو معلوم ہے پھر آخر تک حدیث بیان کی۔
[عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِﷺ عَلَى ضُبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْرِ، فَقَالَ لَهَا: لَعَلَّكِ أَرَدْتِ الحَجَّ؟ قَالَتْ: وَاللَّهِ لاَ أَجِدُنِي إِلَّا وَجِعَةً، فَقَالَ لَهَا: حُجِّي وَاشْتَرِطِي، وَقُولِي: اللَّهُمَّ مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي وَكَانَتْ تَحْتَ المِقْدَادِ بْنِ الأَسْوَدِ.] (بخاری)
عائشہr نے بیان کیا کہ رسول اللہe ضباعہ بنت زبیر w کے پاس گئے (یہ زبیر عبدالمطلب کے بیٹے اور نبی کریمe کے چچا تھے) اور ان سے فرمایا کہ شاید تمہارا ارادہ حج کا ہے ؟ انہوں نے عرض کیا : اللہ کی قسم ! میں تو اپنے آپ کو بیمار پاتی ہوں‘ نبی کریمe نے ان سے فرمایا کہ پھر بھی حج کا احرام باندھ لے۔ البتہ شرط لگا لینا اور یہ کہہ لینا کہ اے اللہ ! میں اس وقت حلال ہوجاؤں گی جب تو مجھے (مرض کی وجہ سے) روک لے گا۔ (ضباعہ بنت زبیر قریشی r) مقداد بن اسود t کے نکاح میں تھیں۔
امام بخاریa نے ان احادیث سے یہ ثابت کیا ہے کہ کفاۃ دین میں ہوتی ہے، مذکورہ واقعات میں جن لوگوں کا ذکر ہوا ہے ان کے پاس مال نہیں تھا ، یہ غلام تھے اور ان کی شادی جن عورتوں سے ہوئی وہ قریشی تھیں ۔
سالم بن معقل t  جو غلام تھے ان کا نکاح ہندہ بنت الولید بن عتبہ بن ربیعہ سے ہوا۔ مقداد بن اسود t کا نکاح ضباعہ بنت زبیر قریشی رضی اللہ عنہا سے ہوا ۔ اس کے بعد مزید احادیث سے اس بات کو ثابت کیا ہے:
[عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: تُنْكَحُ المَرْأَةُ لِأَرْبَعٍ: لِمَالِهَا وَلِحَسَبِهَا وَجَمَالِهَا وَلِدِينِهَا، فَاظْفَرْ بِذَاتِ الدِّينِ، تَرِبَتْ يَدَاكَ.] (بخاری)
ابوہریرہ t فرماتے ہیں نبی کریمe نے فرمایا کہ ’’عورت سے نکاح چار چیزوں کی بنیاد پر کیا جاتا ہے: اس کے مال کی وجہ سے اور اس کے خاندانی شرف کی وجہ سے اور اس کی خوبصورتی کی وجہ سے اور اس کے دین کی وجہ سے اور تو دیندار عورت سے نکاح کر کے کامیابی حاصل کر، تیرے ہاتھوں کو مٹی لگے ۔‘‘
[عَنْ سَهْلٍ، قَالَ: مَرَّ رَجُلٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، فَقَالَ: مَا تَقُولُونَ فِي هَذَا؟قَالُوا: حَرِيٌّ إِنْ خَطَبَ أَنْ يُنْكَحَ، وَإِنْ شَفَعَ أَنْ يُشَفَّعَ، وَإِنْ قَالَ أَنْ يُسْتَمَعَ، قَالَ: ثُمَّ سَكَتَ، فَمَرَّ رَجُلٌ مِنْ فُقَرَاءِ المُسْلِمِينَ، فَقَالَ:مَا تَقُولُونَ فِي هَذَا؟قَالُوا: حَرِيٌّ إِنْ خَطَبَ أَنْ لاَ يُنْكَحَ، وَإِنْ شَفَعَ أَنْ لاَ يُشَفَّعَ، وَإِنْ قَالَ أَنْ لاَ يُسْتَمَعَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: هَذَا خَيْرٌ مِنْ مِلْءِ الأَرْضِ مِثْلَ هَذَا.]
 سہل بن سعد ساعدی tنے بیان کیا کہ ایک صاحب (جو مالدار تھے) رسول اللہe کے سامنے سے گزرے۔ نبی کریمe نے اپنے پاس موجود صحابہ سے پوچھا کہ یہ کیسا شخص ہے ؟ صحابہ نے عرض کیا کہ یہ اس لائق ہے کہ اگر یہ نکاح کا پیغام بھیجے تو اس سے نکاح کیا جائے، اگر کسی کی سفارش کرے تو اس کی سفارش قبول کی جائے، اگر کوئی بات کہے تو غور سے سنی جائے۔ سہل نے بیان کیا کہ نبی کریمe اس پر چپ ہو رہے۔ پھر ایک دوسرے صاحب گزرے، جو مسلمانوں کے غریب اور محتاج لوگوں میں شمار کئے جاتے تھے۔ نبی کریمe نے دریافت فرمایا کہ اس کے متعلق تمہارا کیا خیال ہے ؟ صحابہ نے عرض کیا کہ یہ اس قابل ہے کہ اگر کسی کے یہاں نکاح کا پیغام بھیجے تو اس سے نکاح نہ کیا جائے‘ اگر کسی کی سفارش کرے تو اس کی سفارش قبول نہ کی جائے، اگر کوئی بات کہے تو اس کی بات نہ سنی جائے۔ آپe نے اس پر فرمایا کہ یہ شخص اکیلا پہلے شخص کی طرح دنیا بھر سے بہتر ہے۔ ‘‘ (بخاری)
۳۔ کستوری کے پاک ہونے اور اس کی تجارت:
كِتَابُ الذَّبَائِحِ وَالصَّيْدِ میں ایک باب منعقد کیا ہے: بَابُ المِسْكِ
بظاہر بَابُ المِسْكِ کا كِتَابُ الذَّبَائِحِ وَالصَّيْدِ کے ساتھ کوئی تعلق نظر نہیں آتا لیکن امام بخاری رحمہ اللہ نے جو باب منعقد کیا ہے اس میں ایک بہت بڑے مسئلہ کو انہوں نے حل کر دیا ہے۔
دراصل بات یہ ہے کہ کستوری ہرن کے ناف سے نکلتی ہےاور ہرن شکار ہے تو جب کوئی آدمی ہرن کا شکار کرتا ہے تو اس میں سے اس کو کستوری ملتی ہے تو کیا یہ کستوری پاک ہوگی کہ نہیں ؟ تو امام بخاریa فرماتے ہیں کہ وہ پاک ہے اس کے لئے جائز ہے کیونکہ حدیث میں شہید کے خون کو کستوری کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے‘ شہید کا خون بھی پاک ہے لہٰذا کستوری بھی پاک ہے ، دیکھو امام بخاریa کا اجتہاد کتنا دقیق اجتہاد ہے اور کہاں سے یہ مسئلہ کشید کیا ہے اور کس طرح ایک مسئلہ بیان کیا ہے ۔
[عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: مَا مِنْ مَكْلُومٍ يُكْلَمُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلَّا جَاءَ يَوْمَ القِيَامَةِ وَكَلْمُهُ يَدْمَى، اللَّوْنُ لَوْنُ دَمٍ، وَالرِّيحُ رِيحُ مِسْكٍ.]
ابوہریرہ t کہتے ہیں کہ رسول اللہe نے فرمایا کہ ’’اللہ کی راہ میں جو شخص زخمی کیا جاتا ہے وہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے پاس اس حال میں آئے گا کہ اس کے زخم سے خون ٹپکتا ہوگا، اس کا رنگ تو خون جیسا ہوگا اور اس کی بو مشک جیسی۔‘‘ (صحیح بخاری)
۴۔ رضاعت کا اثبات کیسے ہوگا
امام بخاریa نے یہ باب منعقد کیا ہے:
[بَابُ مَنْ قَالَ: لاَ رَضَاعَ بَعْدَ حَوْلَيْنِ لِقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ اَرَادَ اَنْ يُّتِمَّ الرَّضَاعَةَ﴾ [البقرة] وَمَا يُحَرِّمُ مِنْ قَلِيلِ الرَّضَاعِ وَكَثِيرِهِ.]
جو شخص یہ کہے کہ دو سال کی عمر کے بعد رضاعت کی حرمت ثابت نہیں کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا جو کوئی رضاعت پوری کرنا چاہے تو اس کی مدت دو سال ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ عورت کا دودھ پینے سے رضاعت ثابت ہوجاتی ہے، خواہ تھوڑا ہو یا زیادہ۔
اس باب سے امام بخاریa نے یہ مسئلہ بتایا ہے کہ قلیل اور کثیر کا کوئی مسئلہ نہیں‘ اصل مسئلہ رضاعت کی مدت کا ہے اور وہ ہے دو سال ، یعنی دو سال کے اندر اندر اگر کوئی بچہ کسی عورت کا دودھ پیئے گا تو وہ اس کا رضاعی بچہ شمار ہوگا اور اگر وہ دو سال کے بعد پیتا ہے تو پھر اس کا رضاعی بچہ شمار نہیں ہوگا۔اس باب کے تحت امام بخاریa یہ حدیث لے کر آئے ہیں :
[عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا رَجُلٌ، فَكَأَنَّهُ تَغَيَّرَ وَجْهُهُ، كَأَنَّهُ كَرِهَ ذَلِكَ، فَقَالَتْ: إِنَّهُ أَخِي، فَقَالَ: انْظُرْنَ مَنْ إِخْوَانُكُنَّ، فَإِنَّمَا الرَّضَاعَةُ مِنَ المَجَاعَةِ.] (بخاری)
سیدہ عائشہr نے کہا کہ نبی کریمe ان کے پاس تشریف لائے تو دیکھا کہ ان کے یہاں ایک مرد بیٹھا ہوا ہے۔ آپe کے چہرے کا رنگ بدل گیا گویا کہ آپe نے اس کو پسند نہیں فرمایا۔ سیدہ عائشہr نے عرض کیا اللہ کے رسول ! یہ میرے دودھ والے بھائی ہیں۔ آپe نے فرمایا: ’’دیکھو، سوچ سمجھ کر کہو کون تمہارا بھائی ہے کیونکہ رضاعت وہی معتبر ہے جو بھوک کے وقت ہو یعنی مدت رضاعت کے اندر ہو ۔‘‘
امام بخاریa نے ان الفاظ سے یہ مسئلہ اخذ کیا ہے عورت کے دودھ سے مجاعۃ بھوک دوسال کی عمر سے پہلے ختم ہو سکتی ہے بعد میں نہیں۔ امام بخاریa پانچ رضاعت کو مرجوح قرار دیتے ہیں۔
ایک استدلال اور اجتہاد
امام بخاریa کے مذکورہ استدلال اور استنباط سے ہمارے لیے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ہم بھی ہمیشہ رسول اللہe کے فرامین کو ہر مسئلے میں مد نظر رکھیں ہر مسئلے کا حل رسول اللہe کی احادیث میں موجود ہے صرف تدبر اور تفقہ کی ضرورت ہے مثلا ایک مسئلہ ہے کہ تصویر دیکھنا حرام ہے یا حلال، اس مسئلہ میں کوئی واضح نص نہیں لیکن اگر امام بخاریa کے اسلوب کو اختیار کریں گے تو اس مسئلہ کا حل آسانی سے ہوجائے گا۔ نبیe کا فرمان ہے :
[لاَ تُبَاشِرُ المَرْأَةُ المَرْأَةَ، فَتَنْعَتَهَا لِزَوْجِهَا كَأَنَّهُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا.] (بخاری)
’’کوئی عورت کسی عورت سے ملنے کے بعد اپنے شوہر سے اس کا حلیہ نہ بیان کرے، گویا کہ وہ اسے دیکھ رہا ہے۔‘‘
عورت کو ایسے بیان کرنا کہ سننے والا ایسا محسوس کرے کہ وہ اس عورت کو دیکھ رہا ہے تو یہ ناجائز اور حرام ہے‘ جب سننا ناجائز اور حرام ہے تو پھر اس کی تصویر کو دیکھنا بالاولیٰ حرام ہے۔


No comments:

Post a Comment