مولانا عبدالغفور ناظم آبادی 15-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Sunday, July 14, 2019

مولانا عبدالغفور ناظم آبادی 15-2019


خاموش ہو گیا اک چمن ... مولانا عبدالغفور ناظم آبادی

تحریر: جناب مولانا محمد خالد سیف
آہ! ۲۲ فروری ۲۰۱۹ء جمعۃالمبارک کے دن نماز فجر کے وقت حضرت مولانا عبدالغفور ناظم آبادی بھی ہمیں داغ مفارقت دے گئے۔ اس طرح درس وارشاد اور وعظ وخطابت کی وہ محفل سونی ہوگئی جو ریاض رسول کے بلبل ہزار داستان حضرت مولانا محمد صمصام، حضرت مولانا محمد صدیق فیصل آبادی اور حضرت مولانا محمد رفیق مدن پوریS جیسے دین کے بے لوث اور مخلص علماء و مبلغین کے دم قدم سے آباد وشاد تھی۔ یہ حضرات اس قدر خوش بیان ، قادر الکلام اور اپنے موضوع سے انصاف کرنے والے تھے کہ ان کی شرکت کسی بھی جلسے اور کانفرنس کی کامیابی کی ضمانت ہوتی تھی۔ درج ذیل سطور میں اس سلک مرواریدکے آخری گوہر آبدار حضرت مولانا عبدالغفور ناظم آبادیaکی شخصیت کی کچھ جھلکیاں پیش کرنا مقصود ہے۔
حضرت مولانا عبدالغفورa قیام پاکستان سے قبل ۱۹۳۸ء میں ضلع امرتسر کے ایک گاوں سلطان ونڈ میںبہت ہی عابد وزاہد اورعالم باعمل جناب عمر دین ولد محمد عیسیٰ کے گھر تولد ہوئے۔ سکول کی ابھی ۲ جماعتیں ہی پڑھی تھیں کہ پاکستان معرض وجود میں آگیا۔ مولانا عبدالغفور اور ان کا خاندان آگ اور خون کے دریا عبور کرکے کئی افراد کی شہادتوں کے بعد ایسے حالات میں پاکستان پہنچنے میں کامیاب ہوگیا، جن کے ذکر سے آج بھی جسم کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے اور آنکھیں اشکبار ہوجاتی ہیں۔ لاہور میں چند دن قیام کے بعد مولانا عبدالغفور صاحبa کے خاندان نے فیصل آباد (اس وقت لائل پور)کے محلہ مدن پورہ میں رہائش اختیار کرلی اور تب سے وفات تک اسی جگہ قیام رہا۔ فیصل آباد منتقل ہونے کے کچھ عرصہ بعد مولانا عبدالغفور صاحبa کے والد گرامی نے آپ کو دینی تعلیم کے حصول کے لیے دارالعلوم اوڈانوالہ میں داخل کرادیا۔ جسے عارف باللہ حضرت صوفی محمد عبداللہa نے قیام پاکستان سے بہت پہلے قائم فرمایا اور وہ پاک وہند کے دینی اداروں میں ایک اہم ادارہ شمار ہوتا تھا اور اب بھی ہے۔
مولانا عبدالغفورa نے ایک مرتبہ راقم الحروف کو یہ واقعہ خود سنایا تھا کہ دارالعلوم اوڈانوالہ میں ان کا پہلا سال تھا، نصاب میں صرف کی مشہور کتاب ابواب الصرف بھی شامل تھی، جس کے ابواب کو زبانی یاد کرنا ہوتا تھا مگر مجھے ابواب یاد نہیں ہوتے تھے۔ ایک دن میں دارالعلوم کی مسجد میں نماز عصر ومغرب کے مابین اکیلا بیٹھا ہواابواب یاد کر رہا تھا کہ اچانک حضرت صوفی صاحب مسجد میں تشریف لے آئے اور انہوں نے دیکھا کہ میں نے کتاب کھول کر اپنے آگے رکھی ہوئی ہے اور میں رورہا ہوں، پوچھا: عبدالغفور! کیا بات ہے؟ کیوں رو رہے ہو؟ میں نے عرض کیا: مجھے ابواب یاد نہیں ہوتے اور میرے استاد ابواب زبانی نہ سنا سکنے کی وجہ سے بہت ناراض ہوتے ہیں۔ میری یہ بات سن کر حضرت صوفیa میرے پاس بیٹھ گئے اور میرے سر پر دم کرنا شروع کردیا اور کافی دیر تک دم کرتے رہے اور پھر اس کے بعد ابواب یاد کرنے یا کسی بھی مشکل ترین کتاب کو سمجھنے میں بحمداللہ کوئی دشواری پیش نہیں آئی ۔ یہ حضرت صوفی صاحبa کے دم کا اثر یا یوں کہہ لیجئے کہ ان کی کرامت تھی کہ مولانا عبدالغفورa اوڈانوالہ میں طلب علم کی منزلیں طے کر رہے تھے ، جس کی وجہ سے کافی دنوں تک گھر نہ آسکتے۔ اس زمانے میں آمدورفت کی بھی زیادہ سہولتیں میسر نہ تھیں، اس لیے آپ نے وہاں دو سال تک ہی پڑھا تھا کہ آپ کے والد گرامی نے آپ کو فیصل آباد کے دینی ادارے دارالقرآن والحدیث (کلیۃ دارالقرآن والحدیث) میں داخل کرادیا۔ صحیح بخاری شریف حضرت مولانا محمد عبداللہ محدث ویرووالویa سے پڑھی اور ۱۹۶۱ء میں یہیں سے درس نظامی کی سند فراغت حاصل کی۔ یاد رہے دیگر رفقاء کے علاوہ ممتاز خطیب مولانا محمد یوسف انورd بھی آپ کے ہم درس تھے۔ بعدمیں مختلف اطباء سے طب کی بھی تعلیم حاصل کی تھی۔
دین کی تبلیغ اوراشاعت کا جذبہ اس قدر موجزن تھاکہ تعلیم کی تکمیل سے قبل ہی آپ نے وعظ وارشاد کاسلسلہ شروع فرما دیا تھا۔ اسلام نگر کی جامع مسجد مدنی میں آپ نے تین سال تک امامت وخطابت کے فرائض سرانجام دیئے،پھرمومن آباد کی مسجد الھدٰی کے منبرومحراب کی ۶ سال تک زینت بنے رہے اورپھر جامع مسجد توحید ناظم آباد میں خطابت کا آغاز فرمایااورتقریباً ۵۵ برس تک اس مسجد کے میناروں سے آپ کی آواز گونجتی رہی۔ اسی وجہ سے ناظم آبادی کی نسبت سے آپ نے شہرہ دوام حاصل کیا۔ اس مسجد میں آپ نے بڑی ہی مستقل مزاجی اوراستقامت کے ساتھ تبلیغ ودعوت دین کا کام کیاحتیٰ کہ ابتداء میں جمعۃ المبارک کے دن بھی نمازیوں کی تعداد ۸ اور ۹ویںوہ خود ہوتے۔ سامعین کی تعداد کی قلت سے آپ دل برداشتہ نہ ہوتے بلکہ آپ نے تبلیغ واشاعت دین کا کام جاری وساری رکھا۔ جمعۃ المبارک کے خطبہ کے ساتھ ساتھ نماز فجر کے بعد درس قرآن اورنماز عصر کے بعد صحیح البخاری کا درس بھی شروع فرمادیا،جذبہ صادق تھا اور زبان میں اللہ تعالیٰ نے تاثیر رکھی تھی جس کے نتیجے میں ہزاروں لوگوںنے توحید وسنت کی دعوت کوقبول کیا اورکئی خاندانوں کے عقائد واعمال کی اصلاح ہوگئی۔
مختلف مقامات سے آپ کو پیشکش ہوتی رہی کہ ناظم آباد کی جماعت آپ کے شایان شان حق خدمت اداکرنے سے قاصر ہے لہٰذا آپ ہمارے ہاں تشریف لے آئیں۔ بہت سی مراعات آپ کی خدمت میں پیش کی جائیں گی مگر آپ کی غیر ت اوراخلاص نے گوارا نہ کیا کہ محض دنیوی آسائشوں کی خاطر کسی دوسری جگہ چلے جائیں،گھر میں مطب کرکے یا چھوٹے بڑے کاروبار اختیار کرکے اپنی ضروریات کو پور اکرلیا مگر منڈی کا سامان بننا گوارا نہ کیا۔ ہمارے اسلاف اسی طرح بے لوث اور مخلص تھے۔ تبلیغ واشاعت دین کی خاطر بسااوقات انہیں مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑتا مگر اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر یہ سب کچھ خندہ پیشانی سے برداشت کرلیتے تھے۔
ایک دفعہ شورکوٹ ریلوے لائن پرواقع ایک اسٹیشن کے قریب ایک گائوں والوں نے تبلیغی جلسے کا اہتمام کیا جس میں انہوں نے تین بزرگ حضرت مولانامحی الدین لکھوی،حضرت مولانا محمد رفیق مدن پوری اورحضرت مولانا عبدالغفور ناظم آبادیS کو مدعو کیا ۔اہل صدق وصفا کا یہ قافلہ جب مغرب کے وقت منڈی روڈالہ روڈ پہنچا تو موسم خراب ہوگیا،آسمان پر کالی گھٹائیں چھا گئیں اورپھر موسلا دھاربارش شروع ہوگئی،منڈی سے گائوں کا فاصلہ چار پانچ میل تھا، اس زمانے میں گائوں تک جانے کے لیے سواری کا کوئی انتظام نہ تھا،ان اللہ والوںنے مشورہ کیا کہ اس صورت حال میں کیا کیا جائے؟ بالآخر سب نے باہمی اتفاق سے طے کیا کہ ہم اللہ کی رضا کی خاطر تبلیغ واشاعت دین کے لیے گھروں سے نکلے ہیں اورپھر ہم نے ان احباب جماعت سے جلسے میں شرکت کا وعدہ کیا ہے لہٰذا ایفاء عہد کا بھی تقاضا ہے کہ ہم موسم کی خرابی کی پروا نہ کریں۔ بہرحال اہل حق کا یہ قافلہ گھپ اندھیرے اوربرستی مہاوٹ میں سوئے منزل چل پڑا، رستے میں ایک بڑے نالے کو عبور کرتے ہوئے تینوں ہی اس میں گر پڑے،کپڑے بارش سے پہلے ہی بھیگے ہوئے تھے، رہی سہی کسر نالے کے پانی سے پوری ہوگئی،اس طرح ناگفتہ بہ حالت میں اہل اللہ کا یہ قافلہ گائوں کی مسجد میں پہنچا تو لوگ نماز عشاء ادا کرکے اپنے گھروں کو جاچکے تھے،مسجد میں صرف ایک آدمی تھاجس نے اعلان کرکے گائوں والوں کو علماء کرام کی تشریف آوری کی اطلاع دی، لوگ کشاں کشاں مسجد میں آگئے اوراس طرح یہ تبلیغی پروگرام پایہ تکمیل کو پہنچا۔
مولانا عبدالغفورa نہایت قادر الکلام خطیب تھے، آپ کا ہر بیان مربوط، مستحکم اور کتاب وسنت سے مدلل ہوتا۔ زبان میں تاثیر ایسی کہ سامعین پرایک سحر کی سی لہر چھا جاتی، جب ترنم سے آیات واحادیث اورموقع ومحل کی مناسبت سے پنجابی اشعار پڑھتے تو سامعین پر وجد کی کیفیت طاری ہوجاتی اورپھر اللہ تعالیٰ نے طبیعت میں عجیب دل آویزی پیدافرمائی تھی۔ حلیم الطبع اوراخلاص ومحبت کا پیکر کہ طویل وعریض فیملی میں کوئی بھی آپ سے ناراض نہیں تھا،کسی کو کوئی گلہ شکوہ نہ تھا۔
ان کے اخلاص ومحبت کا اندازہ اس سے لگائیں کہ راقم کی ان سے آخری ملاقات ۲۲ مارچ ۲۰۱۸ء کو مولانا ڈاکٹر سعید احمد چنیوٹی کے صاحبزادے حافظ عمر سعید کی شادی خانہ آبادی کی تقریب سعید میں ہوئی۔ انہوںنے نکاح پڑھایا،کھانے کے دوران انہوںنے محبت وشفقت سے اپنے دست مبارک سے میری پلیٹ میں کھانا ڈالنا شروع کر دیا۔ میںنے عرض کیا حضرت! آپ تو میرے بزرگ ہیں،یہ سعادت تو مجھے ملنی چاہیے ، وہ تبسم فرماتے رہے حتیٰ کہ انہوں نے سبقت حاصل کر لی طباعتی واشاعتی اداروں کے لیے طباعت واشاعت کتب سے زیادہ مشکل کتابوں کی نکاسی کا کام ہوتا ہے۔ بحمد اللہ! جب ہم نے طارق اکیڈمی کے زیر اہتمام طباعت کتب کے کام کا آغا ز کیا تو ہمیں نکاسی کے سلسلے میں حضرت مولانا عبدالغفورa کا حسن تعاون حاصل ہوا،ان کایہ تعاون بھرپور بھی تھا اور بے لوث بھی۔ اللہ تعالیٰ انہیں اس کا اجر عطا فرمائے۔آمین!
دین کے اس مرد مجاہد نے حیات طیبہ کی ۸۰ بہاروں میں سے قریباً ۶۴ سال اللہ تعالیٰ کے دین کی تبلیغ واشاعت میں بسر فرمائے۔ دین کی تبلیغ کا جذبہ ان کی رگ رگ میں سمایا ہوا تھا۔ یوٹیوب پر لاکھوں لوگوں نے یہ منظر دیکھا ہوگا کہ جب وہ شدید علالت کے باعث ہسپتال میں داخل اورموت وحیات کی کشمکش میں مبتلا ہوئے ،اس وقت بھی وہ خطبہ مسنونہ پڑھ رہے تھے۔ جسے وہ اپنے ہر خطبے اورہر بیان کے شروع میں پڑھا کرتے تھے، زندگی کے آخری لمحات میں مولاناکی اہلیہ محترمہ نے ان سے فرمائش کی کہ قرآن مجید کی کوئی آیت سنائیں تو انہوںنے اس آیت کریمہ کی تلاوت فرمائی:
{وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَ الرَّسُوْلَ فَاُولٰٓیِکَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَ الصِّدِّیْقِیْنَ وَ الشُّہَدَآئِ وَ الصّٰلِحِیْنَ۱ وَ حَسُنَ اُولٰٓیِکَ رَفِیْقًا٭}
’’اورجو لوگ اللہ اور اس کے رسولe کی اطاعت کرتے ہیں (وہ قیامت کے روز) ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ تعالیٰ نے بڑا انعام فرمایایعنی انبیاء اورصدیق اورشہداء اور نیک لوگوں اوران لوگوں کی رفاقت بہت ہی خوب ہے۔‘‘ (النساء: ۶۹)
آپ آیت کریمہ کا آخری جملہ بار بار دہراتے رہے حتیٰ کہ روح قفس عنصری سے پرواز کرگئی۔ ہمیں اللہ تعالیٰ کی رحمت سے امید واثق ہے کہ اس نے اپنے اس بندے کو یقینا اپنے ان پاکباز بندوں کی رفاقت عطا فرمائی ہوگی جن کا ذکر دم واپسیں ان کی زبان پر تھا۔ مولانا کے پسماندگان میں بیوہ، تین صاحبزادوں اور تین صاحبزادیوں اور بہت سے پوتے پوتیوں اور نواسے نواسیوں کے علاوہ ہزاروں احباب جماعت بھی ہیں۔ مقام مسرت ہے کہ مولانا کے ایک صاحبزادے جناب عبدالرحمن جوہر بھی عالم دین ہیں اور اب ان کی جگہ پر خطابت کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔
(اس مضمون کی معلومات کے لیے ہم مولانا کے صاحبزادے مولانا عبدالرحمن جوہر کے شکر گزار ہیں۔ راقم)


No comments:

Post a Comment