درس قرآن وحدیث 16-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Saturday, July 27, 2019

درس قرآن وحدیث 16-2019


درسِ قرآن
اعمال کیسے دکھائے جائیں گے؟!
ارشادِ باری ہے:
﴿يَوْمَىِٕذٍ يَّصْدُرُ النَّاسُ اَشْتَاتًا١ۙ۬ لِّيُرَوْا اَعْمَالَهُمْؕ۰۰۶﴾
’’اس روز لوگ مختلف جماعتوں میں بٹ کر واپس لوٹیں گے،  تاکہ انہیں ان کے اعمال دکھا دئیے جائیں۔‘‘
اللہ تعالی نے مختلف اسالیب میں قیامت کا منظرنامہ پیش کیا ہے تاکہ لوگ ان احوال کو ذہن نشین رکھتے ہوئے برائی سے باز رہیں ۔ انہی میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اللہ تعالی قیامت کے دن انسانوں کے اعمال کی ریکارڈنگ پیش فرمادیں گے ، چھوٹے سے چھوٹا عمل جو تنہائی میں لوگوں سے چھپ کر رات کے اندھیرے میں کیا ہوگا وہ بھی تمام کائنات کے سامنے پیش کر دیا جائے گا، اسی لیے حضرت لقمان علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ:
﴿يٰبُنَيَّ اِنَّهَاۤ اِنْ تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَكُنْ فِيْ صَخْرَةٍ اَوْ فِي السَّمٰوٰتِ اَوْ فِي الْاَرْضِ يَاْتِ بِهَا اللّٰهُ﴾
’’پیارے بیٹے! اگر کوئی چیز رائی کے دانے کے برابر ہو ، پھر وہ چٹان پر ہو یا  آسمان و زمین میں ہو تو اللہ تعالی اسے ضرور لائے گا۔‘‘
اعمال کا دکھایا جانا پانچ طرح سے ہوگا:
1          انسان کے اپنے ہی اعضاء انسان کے اعمال کی گواہی دیں گے، چنانچہ فرمایا:
﴿شَهِدَ عَلَيْهِمْ سَمْعُهُمْ وَ اَبْصَارُهُمْ وَ جُلُوْدُهُمْ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ۰۰۲۰﴾
’’گناہ گاروں پر ان کے کان، ان کی آنکھیں اور ان کی چمڑیاں ان کے  اعمال کی گواہی دیں گی۔‘‘
2          زمین کے جس حصہ پر بیٹھ کر نیکی یا گناہ کو سرانجام دیاہوگا وہ ٹکڑا گواہی دے گا، کیونکہ اللہ نے اس کی طرف یوں اشارہ فرمایا ہے :
﴿يَوْمَىِٕذٍ تُحَدِّثُ اَخْبَارَهَاۙ۰۰۴﴾
’’اس دن زمین اپنی ساری خبریں بیان کردے گی۔‘‘
3          اعمال کا دفترپیش کردیا جائے گا جس میں ہر چھوٹے بڑے ، اچھے برے عمل کو سال، مہینہ ، تاریخ، دن وقت اور لمحے کٍے حساب سے ترتیب کے ساتھ لکھا گیا ہوگا
﴿وَ وُضِعَ الْكِتٰبُ فَتَرَى الْمُجْرِمِيْنَ مُشْفِقِيْنَ مِمَّا فِيْهِ وَ يَقُوْلُوْنَ يٰوَيْلَتَنَا مَالِ هٰذَا الْكِتٰبِ لَا يُغَادِرُ صَغِيْرَةً وَّ لَا كَبِيْرَةً اِلَّاۤ اَحْصٰىهَا﴾
’’اور نامہ اعمال سامنے رکھ دئیےٍ جائیں گے ، اور آپ دیکھیں گے کہ گناہ گار اس دفتر سے خوف زدہ ہو رہے ہوں گے، اور واویلا کررہے ہوں گے کہ یہ کیسی کتاب ہے کہ جس نے کوئی بھی چھوٹا یا بڑا (عمل) لکھے بغیر نہیں چھوڑا۔‘‘
اس سے قبل کہ انسان کے اپنے ہی اعضاء اس کے خلاف گواہی دینے لگیں یا گھر ، دفتر، دکان اور ملازمت کی جگہیں جہاں بیٹھ کر انسان دوسروں کے حقوق کی پامالی کرتاہے وہ چیخ چیخ کر انسان کی بد اعمالیوں کا اعلان کرنے لگے یا وہ کتاب اوراعمال نامہ کھل جائے جسے پڑھ کر اللہ کے حضور ، فرشتوںاورتمام کائنات کے  سامنے شرمندگی اور ندامت کا سامنا کرنا پڑے، انسان کو برے اعمال و کردار سے باز آ جانا چاہیے۔

درسِ حدیث
استقبالِ رمضان
فرمان نبویﷺ ہے:
[عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "إِذَا دَخَلَ شَهْرُ رَمَضَانَ فُتِّحَتْ أَبْوَابُ السَّمَآءِ، -وَفِيْ رِوَايَةٍ: فُتِحَتْ أَبْوَابُ الجَنَّةِ- وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ جَهَنَّمَ، وَسُلْسِلَتِ الشَّيَاطِينُ -وَفِيْ رِوَايَةٍ: فُتِّحَتْ أَبْوَابُ الرَّحْمَةِ- .] (متفق عليه)
سیدنا ابوہریرہt سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہe نے ارشاد فرمایا: ’’جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں۔‘‘ ایک روایت میں ہے کہ ’’جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں اور شیطان جکڑ دئیے جاتے ہیں۔‘‘ ایک روایت میں ہے کہ ’’رحمت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں۔‘‘
آنے والے مہمان کا استقبال کرنا بڑی قدیم روایت ہے، اس سے مہمان کی بھی عزت افزائی ہوتی ہے اور میزبان بھی خوش ہوتا ہے۔ ایسے ہی اللہ کا یہ مہمان رمضان کا مہینہ جب شروع ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کا استقبال کرتے ہیں اور استقبال بھی اتنا عظیم کہ رمضان کی آمد کے ساتھ ہی آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں۔ یوں سمجھئے کہ جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں یعنی جو لوگ اس مہینے میں اللہ کی عبادت کرتے ہیں ان کی عبادت قبول ہوتی ہے اور ان کے لئے جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں۔ چونکہ نیک اعمال آسمانوں کی طرف اٹھائے جاتے ہیں ان کے لئے اللہ آسمانوں کے دروازے کھول دیتا ہے اور جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں۔ یہ ترغیب ہے بندوں کے لئے کہ اب نیک اعمال کر لو، جنت کے تمام دروازے کھلے ہیں اور جہنم کے بند ہو چکے ہیں۔ نبی کریمe نے یہ بھی فرمایا کہ شیطانوں کو زنجیروں میں جکڑ دیا جاتا ہے یعنی وہ اپنا کام نہیں کر سکتے اور قید ہونے کی بنا پر بندوں کو گمراہ نہیں کر سکتے۔ شیطان انسانوں کو گمراہ کرنے کے درپے ہے۔ رمضان کی آمد کی بنا پر اسے زنجیروں میں قید کر دیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رمضان کے دنوں میں عبادت گزاروں کی تعداد بڑھ جاتی ہے اس لئے کہ ان کو گناہ کی دعوت دینے والے شیطان قید ہیں اور ان ایام میں اللہ کی رحمت کے دروازے بھی کھل جاتے ہیں، اللہ کی رحمت عام ہوجاتی ہے۔ اللہ اپنے بندوں کو آوازیں دیتا ہے کہ آ کر میری رحمت کو سمیٹ لو، اس کے باوجود جو لوگ اللہ کی رحمت اور اس کی بخشش سے محروم رہتے ہیں وہ بڑے ہی بدنصیب ہیں۔


No comments:

Post a Comment