آہ .. شیخ محبوب الٰہی 16-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Saturday, July 27, 2019

آہ .. شیخ محبوب الٰہی 16-2019


آہ! ... شیخ محبوب الٰہی سیٹھی رحمہ اللہ

تحریر: جناب مولانا عبدالغفار ریحان
ہر ذی نفس کو موت سے ہمکنار ہونا ہے۔ اس مرحلے سے سب کو دوچار ہونا ہے ۔ موت سے کسی کو مفر نہیں۔
جانا تو ہر ایک نے ہے مگر کچھ جانے والے اپنے پیچھے گہرے نقوش چھوڑ جاتے ہیں۔انہی پاکباز ہستیوں میں سے شہید ملت حضرت علامہ احسان الٰہی ظہیرa کے برادر اصغر،  علامہ ابتسام الٰہی ظہیر کے چچا جان جناب شیخ محبوب الٰہیa ایک ہیں۔ جو ۳؍جنوری کو ہم سے جدا ہو کر اپنے رب کے حضور پیش ہو گئے۔دین پسندی، مسلکی حمیت ،خیر سے محبت اور شر سے نفرت جس طرح مرحوم حاجی ظہور الٰہی کے خاندان کا خاصہ ہے‘ شیخ محبوب الٰہی بھی اس سے متصف تھے۔
علماء وطلبہ سے محبت کرنے والے‘ مساجد ومدارس کی آبیاری کرنے والے ،سادہ زندگی بسر کرنے والے ،اللہ کے راستے میں خرچ کرنے والے، قرآن مجیدسے خاص شغف رکھنے والے اور صوم وصلاۃ کے پابند تھے۔ ماشااللہ آپ کے بیٹے سلمان اور ریحان حافظ قرآن جبکہ حافظ فرقان الٰہی سیٹھی جید عالم دین بھی ہیں جو کہ سیالکوٹ شہر ڈپٹی باغ میں ماضی قریب کے عظیم عالم باعمل اور مسلک اہل حدیث کے ناشرو ترجمان مولانا حکیم محمد صادق سیالکوٹی ؒکی مسند کے جا نشین ہیں۔ جو یقینا شیخ صاحب مرحوم کیلئے صدقہ جاریہ ہیں۔
میرا تعلق محبوب الٰہی مرحوم سے تب سے تھا جب وہ اپنے والد بزرگوار حاجی ظہور الٰہی مرحوم کے ساتھ علامہ شہید کی تدفین کے سلسلہ میں مدینہ منورہ گئے تھے۔ پھر مکہ مکرمہ میں قیام کے دوران امام حرم مکی شریف شیخ محمد بن عبداللہ السبیل مرحوم سمیت بہت سے احباب کے ہاں مدعو ہوتے تو مجھے بھی ان کی معیت میں شرف زیارت حاصل ہو جاتا ۔ ان کے ساتھ میرا نیاز مندی کاتعلق تا دم واپسیں رہا۔ بہت محبت کرتے تھے‘ ہمارے جامعہ حرمین ظفروال کے ساتھ بھرپور تعاون کرتے بلکہ دوست احباب کو بھی اصرار کے ساتھ تعاون کی ترغیب دیتے۔ پہلے ان کا انفرادی تعاون ہوتا تھا‘ ایک با ر کہنے لگے کہ آپ ہماری جامع مسجد سلفیہ پیپلز کالونی میں افطاری کریں‘ مغرب کی نماز پڑھیں امید ہے اللہ برکت دے گا ۔ چناچہ میں حسب وعدہ پہنچ گیا‘ نماز میں سلام کے بعد دیکھا تو شیخ صاحب نظر نہ آئے‘ پیچھے دیکھا تو کرسی پر نماز پڑھ رہے تھے ۔ انہوں نے سلام پھیرا تو میں ان کے پاس گیا‘ گلے ملے اور کہنے لگے کہ بیٹھیں میں سنتیں پڑھ لوں۔ مسجد میں مختلف مدارس ومساجد کے سفراء آئے ہوے تھے ۔ انہی میں سے ایک صاحب نے سلام کے بعد تعاون کی اپیل کی اور کہا کہ ہم چار آدمی مختلف علاقوں سے آئے ہیں آپ تعاون کریں ہم آپس میں تقسیم کر لیں گے ۔ نمازی حضرات سنتیں پڑھ کر مسجد سے نکل رہے تھے ۔ میں سوچ رہا تھا کہ لوگ تو سارے جا رہے ہیں اب پتہ نہیں کیا ہو گا؟ شیخ محبوب الٰہی صاحب سنتیں پڑھ کر میرے پاس ہی آ گئے۔ مسجد میں جو آٹھ دس لوگ تھے شیخ صاحب نے ان سب کو اپنے پاس بلایا اور کہنے لگے کہ یہ حافظ عبدالغفارریحان صاحب ظفروال سے تشریف لائے ہیں‘ ان کا وہاں بہت بڑا ادارہ ہے‘ علامہ شہید کے ساتھی ہیں‘ ڈاکٹر فضل الٰہی صاحب کے بہت چاہنے والے ہیں‘ لائو جو کچھ ہے جیبوں میں۔ اب کسی کی جیب سے 5,000/- نکل رہا ہے‘ کسی کی جیب سے 10,000/-،کوئی 2,000/- ایک صاحب کی جیب سے 20,000/- نکلے۔ کہنے لگے تم بیس ہی لائو۔ مجھے فرمانے لگے کہ آپ رسیدیں بناتے جائیں۔چناچہ وہاں بیٹھے بیٹھے 43,000/- روپے جمع ہو گئے۔ اگلے سال پھر میں نے رابطہ کیا تو فرمانے لگے آجاؤ‘ افطاری کے وقت میں حسب وعدہ پہنچ گیا۔سلام کے بعد دیکھا توشیخ صاحب نظر نہ آئے۔ نماز کے بعد ان کے بچوں سے پوچھا تو کہنے لگے کہ ابو تو کسی پروگرام میں گئے ہیں‘ وہ کہہ گئے تھے کہ آپکو گھر لے آئیں۔ شیخ صاحب کے گھر جا کر کھانا کھایا‘ عشاء سے پہلے شیخ صاحب بھی گھر پہنچ گئے۔ کہنے لگے کہ آج عشاء کے بعد تعاون کا پروگرام کریں گے۔ عشاء کی نماز پڑھی تو مجھے کہنے لگے کہ نمازیوں کو اپنے جامعہ کا تعارف کروائیں۔ میں نے مختصر بتایا اور تراویح کی نماز شروع ہو گئی‘ میں پریشان تھا کہ اب پتا نہیں کیا ہو گا ۔ شیخ صاحب میری پریشانی بھانپ گئے اور فرمانے لگے آپ تراویح پڑھیں‘ وتر کے بعد آج نمازیوں سے ملاقا ت کریں گے ۔ نمازتراویح کے دوران وقفے میں بھی شیخ صاحب لوگوں سے رابطہ کرتے رہے۔ وتر کے بعد شیخ صاحب نے نمازیوں کو بٹھا لیا۔ مجھے کہنے لگے گزشتہ سال والے احباب کی فہرست نکالیں اور رسیدیں بناتے جائیں۔ کچھ نئے احباب بھی اس دفعہ شامل تھے۔ چناچہ اس مرتبہ 63,000/- روپے جمع ہوئے ۔ اسی طرح ہر سال مزید احباب کو تعاون کیلئے قائل کرتے رہے اور ان کی محنت سے تعاون بڑھتا رہا ۔ چناچہ شیخ صاحب کی محبت سے گزشتہ سال 1,04,000تک تعاون پہنچ گیا۔
اسی طرح بہت سارے مدارس و مساجد اور اھل علم کے ساتھ محبت کا اظہار کرتے‘ یہی وجہ تھی کہ قلیل وقت کے باوجود ان کے جنازے میں اہل علم کی کثیر تعداد شریک ہوئی۔ظفروال سے جامعہ حرمین کے اساتذہ وطلبہ کا وفد ان کی نماز جنازہ میں شریک ہوا ۔
محترم المقام جناب ڈاکٹر فضل الٰہیd نے بڑی رقت کے ساتھ نماز جنازہ پڑھائی،شیخ محبوب الٰہی مرحوم محبوب عوام تو تھے‘ اللہ تعالیٰ ان کے نام کی طرح انہیں اپنا محبوب بنا کر جنت الفردوس میں جگہ نصیب فرمائے آمین۔ہم ظہور الٰہی خاندان کی بزرگ شخصیت ڈاکٹر فضل الٰہی صاحب حفظہ اللہ، محترم شیخ حافظ عابد الٰہی صاحب ،علامہ ابتسام الٰہی ظہیر صاحب ،علامہ ہشام الٰہی ظہیر صاحب،جناب معتصم الٰہی ظہیر صاحب،جناب حافظ فرقان الٰہی سیٹھی صاحب اور دیگر لواحقین کیلئے صبر و استقامت کیلئے دعا گو ہیں۔


No comments:

Post a Comment