احکام ومسائل 16-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Saturday, July 27, 2019

احکام ومسائل 16-2019


احکام ومسائل

جناب مولانا الشیخ حافظ ابومحمد عبدالستار الحمادd
خط وکتابت:  مرکز الدراسات الاسلامیہ ۔ سلطان کالونی‘ میاں چنوں‘ خانیوال‘ پاکستان  ای میل:  markaz.dirasat@gmail.com

جائز وصیت کے اصول
O ایک عورت لا ولد فوت ہوئی ہے‘ اس کے خاوند نے اسے طلاق دے دی تھی‘ وہ اپنے بھائی کے پاس رہتی تھی‘ اس نے اپنی بھتیجی کے نام اپنی ۶ کنال زرعی زمین کی وصیت کر دی جبکہ اس کا بھائی بھی موجود ہے‘ اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟!
P دین اسلام میں وصیت کا ضابطہ موجود ہے‘ ایک مسلمان اس امر کا پابند ہے کہ وہ اپنے مال میں اس ضابطے کے مطابق وصیت کر سکتا ہے‘ ضابطہ کی تفصیل حسب ذیل ہے:
\          ادائیگی قرض کے بعد تہائی مال یا اس سے کم کی وصیت ہو۔
\          ان ورثاء کے حق میں وصیت نہ ہو جو ترکہ میں حصہ لینے والے ہیں۔
\          کسی حرام یا ناجائز کام کی وصیت نہ ہو۔ مثلاً گرجا گھر یا مندر تعمیر کرنا۔
اگر مذکورہ ضابطہ کے مطابق وصیت نہیں ہے تو اسے درست کرنا ضروری ہے جیسا کہ قرآن میں ہے: ’’اگر کسی کو وصیت کرنے والے کی طرف کسی وارث کی طرفداری یا حق تلفی کااندیشہ ہو تو اور وہ (وصیت کو بدل کر) وارثوں میں صلح کرا دے تو اس پر کچھ گناہ نہیں۔‘‘ (البقرہ: ۱۸۲)
صورت مسئولہ میں خدمت گذار بھتیجی کے لیے تمام مال کی وصیت کی گئی ہے لہٰذا اس کی اصلاح ضروری ہے۔ جیسا کہ رسول اللہe کے عہدمبارک میں ایک آدمی نے اپنی کل جائیداد چھ غلاموں کو آزاد کرنے کی وصیت کر دی تھی تو رسول اللہe نے اس کی اصلاح بایں طور فرمائی تھی کہ چھ کی ایک تہائی دو غلام بذریعہ قرعہ اندازی آزاد کر دیئے اور باقی چار غلام ورثاء کے حوالہ کر دیئے۔ (مسلم‘ الایمان: ۱۶۶۰)
مذکورہ صورت میں مرنے والی عورت کی کل جائیداد ۶ کنال ہے جو اس نے خدمت گذاری کے صلہ میں اپنی بھتیجی کے نام کر دی جو ناجائز ہے۔ اس وصیت میں تہائی یعنی دو کنال کی حد تک وصیت کو جائز قرار دیا جائے گا اور باقی چار کنال اس کے بھائی کو دے دی جائے‘ واضح رہے کہ ہم لوگ اس سلسلہ میں بہت ہی غیر محتاط واقع ہوتے ہیں۔ اپنے مال میں اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق تصرف کیا جائے‘ قرآنی ضابطہ سے تجاوز کر کے مالی تصرف ہماری آخرت کی تباہی کا باعث ہو سکتا ہے۔ واللہ اعلم!
نصف اللیل کا وقت
O ہمارے ہاں مشہور ہے کہ نماز عشاء آدھی رات تک پڑھی جا سکتی ہے اور آدھی رات بارہ بجے تک ہوتی ہے۔ اس کی کیا حیثیت ہے؟ کیا نماز عشاء کا وقت فجر سے پہلے تک نہیں؟ کتاب وسنت کی روشنی میں اس کی وضاحت کر دیں۔
P امام بخاریa نے نماز عشاء کے آخری وقت کے متعلق اپنی صحیح میں ایک عنوان بایں الفاظ قائم کیا ہے: ’’عشاء کا وقت نصف رات تک ہے۔‘‘ (بخاری‘ المواقیت: باب نمبر ۲۵)
پھر اس کے تحت جو احادیث پیش کی ہیں‘ ان میں اگرچہ نصف رات تک تاخیر کی صراحت نہیں تا ہم دیگر احادیث کی طرف اشارہ کیا ہے‘ جن میں کم از کم ایک تہائی رات اور زیادہ سے زیادہ نصف رات تک تاخیر کی صراحت ہے۔ چنانچہ سیدنا بریدہ t سے مروی ہے کہ رسول اللہe نے تہائی رات گذر جانے کے بعد نماز عشاء پڑھی۔(مسلم‘ المساجد: ۱۳۹۱)
نیز سیدنا عبداللہ بن عمرw سے روایت ہے کہ رسول اللہe نے فرمایا: ’’عشاء کا وقت نصف شب تک رہتا ہے۔‘‘ (مسلم‘ المساجد: ۱۳۸۸)
طلوع فجر تک جواز کے لیے کوئی صحیح اور صریح حدیث مروی نہیں‘ بہرحال نصف رات کے بعد عشاء قضاء ہو جائے گی۔ امام بخاریa کا یہی موقف معلوم ہوتا ہے۔ آدھی رات سے مراد غروب آفتاب سے طلوع فجر (انتہاء سحر) کا درمیانی وقت ہے‘ ایک مثال کے ذریعے اس کی وضاحت کی جاتی ہے تا کہ کوئی ابہام نہ رہے۔
اگر کسی جگہ غروب آفتاب چھ بج کر تیس منٹ پر ہوتا ہے اور طلوع فجر چار بج کر بیس منٹ پر ہو تو کل دورانیہ نو گھنٹے پچاس منٹ ہوتا ہے۔ یہ دورانیہ پوری اسلامی رات کا ہے۔ اس کا نصف چار گھنٹے پچپن منٹ بنتا ہے‘ اسے غروب آفتاب کے وقت جمع کریں تو گیارہ بج کر پچیس منٹ ہوتے ہیں۔ یہ آدھی رات کا وقت ہے۔ اس کے بعد نمازعشاء کا وقت ادا ختم ہو جائے گا۔ ہمارے ہاں جو مشہور ہے کہ آدھی رات کا وقت بارہ بجے ہے یہ کوئی کلیہ قاعدہ نہیں۔ بہرحال ایک مسلمان اس امر کا پابند ہے کہ وہ بروقت نماز ادا کرے‘ بلاوجہ تاخیر سے پڑھنا ایک مسلمان کے شایان شان نہیں۔ واللہ اعلم!
آیت کنز سے کیا مرادہے؟!
O آیت کنز کونسی ہے؟ نیز اس کا کیا مفہوم ہے؟ کیا سیدنا ابوذرt صحابہ کرام سے الگ اس آیت کا کوئی مفہوم بیان کرتے تھے؟ میرے ایک دوست نے اس آیت سے اشتراکیت کو کشید کیا ہے۔
P قرآن کریم کی درج ذیل آیت کو آیت کنز کہا جاتا ہے: ’’جو لوگ سونے اور چاندی کو جمع کرتے ہیں اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے‘ انہیں دردناک عذاب کی خبر دے دیں۔‘‘ (التوبہ: ۳۴)
سیدنا ابوذر غفاریt اپنے زہد وتقویٰ کی وجہ سے دنیا کے مال ومتاع کے متعلق بہت شدید موقف رکھتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ضروریات سے زیادہ سرمایہ رکھناشرعا درست نہیں۔ بلکہ یہ وہ کنز ہے جس کے متعلق قرآن کریم میں سخت وعید آئی ہے‘ پھر وہ درج بالا آیت پڑھا کرتے تھے‘ لیکن دیگر صحابہ کرام نے ان کے موقف سے اتفاق نہیں کیا اور نہ ہی ان کے اس موقف کے متعلق ان سے کوئی تعرض کیا‘ ان کی بزرگ شخصیت کے پیش نظر لوگ خواہ مخواہ ان کے پاس جمع ہو جاتے‘ اہل کوفہ نے آپ کو اشتعال دلانے کی بہت کوشش کی لیکن ناکام رہے‘ سیدنا عبداللہ بن عمرw سے ایک اعرابی نے اس آیت کریمہ کے متعلق سوال کیا تو آپt نے فرمایا: ’’جس نے مال جمع کیا اور اس کی زکوٰۃ ادا نہ کی اس کے لیے ہلاکت ہے اور یہ آیت مذکورہ زکوٰۃ کے احکام نازل ہونے سے پہلے کی تھی جب زکوٰۃ کا حکم نازل ہوا تو اللہ تعالیٰ نے اسے اموال کی پاکیزگی کا ذریعہ بنا دیا۔‘‘ (بخاری‘ الزکوٰۃ: ۱۴۰۴)
حافظ ابن حجرa لکھتے ہیں کہ جس مال میں زکوٰۃ واجب نہیں وہ قابل معافی ہے‘ اسے کنز کے طور پر رکھا جا سکتا ہے اور جس مال میں زکوٰۃ ادا کر دی جائے وہ قابل معافی ہے کیونکہ اس کا حق ادا کر دیا گیا ہے‘ اسے بھی کنز نہیں کہا جائے گا جس پر قرآن کریم میں وعید آئی ہے۔ (فتح الباری: ج۳‘ ص ۳۴۴)
اس آیت کریمہ سے اشتراکیت کشید کرنا بہت دور کی کوڑی لانا ہے‘ صحابہ کرام کی وضاحت کے پیش نظر اس آیت کریمہ سے نظریہ اشتراکیت ثابت نہیں ہوتا۔ واللہ اعلم!
مشرکین کے نا بالغ بچوں کا انجام
O اہل شرک اور بت پرست لوگوں کی نابالغ اولاد کے متعلق اہل حدیث حضرات کا کیا موقف ہے؟ کیا وہ اپنے والدین کے ساتھ جہنم میں جائیں گے یا انہیں غیر مکلف ہونے کی وجہ سے جنت میں بھیجا جائے گا۔
P ہمارے فہم کے مطابق ایسے حساس مسائل کا دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں‘ ان کے متعلق گہرائی میں جانا کئی ایک فتنوں کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے۔ بہرحال مشرکین کے متعلق علمائے امت میں اختلاف ہے جس کی تفصیل درج ذیل ہے:
\          ان کے متعلق توقف کیا جائے‘ جو اللہ کی مشیت میں ہو گا وہ ہو کر رہے گا۔
\          وہ اپنے والدین کے تابع ہوں گے یعنی انہیں جہنم رسید ہونا ہے۔
\          انہیں برزخ میں رکھا جائے گا یعنی نہ جنت میں اور نہ جہنم میں۔
\          وہ اہل جنت کے خدام ہوں گے۔ ان کا کام خدمت گذاری ہو گا۔
\          ان کا امتحان لینے کے بعد جنت یا جہنم میں بھیجا جائے گا۔
\          وہ معصوم اور غیر مکلف ہونے کی وجہ سے جنت میں جائیں گے۔
امام احمد اور اکثر اہل علم کا یہی موقف ہے کہ جب یہ بچے شرعا غیر مکلف ہیں تو ان کا معاملہ اللہ کے حوالے کیا جائے گا کیونکہ وہ خوب جانتا ہے کہ وہ جنت کے لائق ہیں یا وہ دوزخ میں جانے کے قابل ہیں۔ اگر اس کے علم میں ہے کہ وہ بڑے ہو کر اچھے کام کرنے والے تھے تو جنت میں جائیں گے بصورت دیگر جہنم کا ایندھن بنیں گے۔ رسول اللہe سے بھی مشرکین کی اولاد کے متعلق پوچھا گیا تو آپe نے جواب دیا: ’’جب اللہ تعالیٰ نے انہیں تخلیق کیا تھا تو وہ خوب جانتا تھا کہ وہ کیسے عمل کریں گے۔‘‘  (بخاری‘ الجنائز: ۱۳۸۳)
ممکن ہے کہ میزان حشر میں دیوانے اور مجنون لوگوں کی طرح بچوں کا امتحان لیا جائے‘ جس پر ان بچوں کی نجات وہلاکت کا دار ومدار ہو۔ ہمارے رجحان کے مطابق ان کا فیصلہ اللہ تعالیٰ کی صوابدید کے مطابق ہو گا جیسا کہ مذکورہ حدیث سے معلوم ہوتا ہے۔ واللہ اعلم!


No comments:

Post a Comment