فتنہ دجال اور اس کی تباہ کاریاں 16-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Saturday, July 27, 2019

فتنہ دجال اور اس کی تباہ کاریاں 16-2019


فتنۂ دجال اور اس کی تباہ کاریاں

تحریر: جناب مولانا مختار احمد محمدی
دجال کا خروج قیامت کی بڑی نشانیوں میں سے ایک ہے‘ سیدنا حذیفہ بن اسیدt فرماتے ہیں کہ ہم آپس میں محو گفتگو تھے کہ آپe اچانک آپہنچے۔ آپe نے سوال کیا: ’’تم لوگ کس کے بارے میںبات چیت کر رہے ہو؟‘‘ لوگوں نے کہا: قیامت کے بارے میں گفتگو چل رہی ہے۔ آپe نے فرمایا: ’’قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک اس سے پہلے دس نشانیاں نہ دیکھ لو۔‘‘ پس آپe نے 1دھواں 2 دجال 3 چوپایہ 4 سورج کا مغرب سے طلوع ہونا 5 سیدنا عیسیٰ بن مریمi کا نزول 6 یاجوج ماجوج اور تین خسوفات 7ایک مشرق میں 8 دوسرا مغرب اور 9تیسرا جزیرۃ العرب میں‘ اور سب سے آخری نشانی بتائی کہ 0 یمن سے ایک آگ نکلے گی جو لوگوں کو محشر کی طرف دوڑاتے ہوئے لے جائے گی۔ (مسلم: ۲۹۰۱)
ان کی ترتیب میں ان بڑی نشانیوں کے بارے میں یہ واضح رہے کہ کوئی نص صریح موجود نہیں۔ علماء کرام نے اپنی فقہ وبصیرت سے ترتیب دینے کی کوشش کی ہے۔
 دجال کا خروج:
قیامت کی بڑی نشانی ہے۔ سیدنا حذیفہ بن اسیدt کی سابق حدیث میں اس کی دلیل گزر چکی ہے۔ سیدنا ابوہریرہt سے روایت ہے کہ نبی کریمe کا ارشاد ہے: ’’تین نشانیاں جب ظاہر ہو جائیں گی تو جو پہلے ایمان نہیں لایا تھا یا حالت ایمان میں کوئی نیک کام نہیں کیا اس کا ایمان لانا فائدہ نہیں دے گا۔ سورج کا مغرب سے طلوع ہونا‘ دجال کا نکلنا اور چوپایہ کا نکلنا۔‘‘ (مسلم: ۱۵۸)
 دجال کون ہے؟!
انسانوں ہی میں ایک آدمی ہو گا جس کا خروج آزمائش کے لیے ہو گا۔ اس کا فتنہ سب سے بڑا اور خطرناک فتنہ ہو گا۔ اسے اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے بہت ساری قدرت وقوت عطا کر دے گا جسے دیکھ کر لوگ حیران وششدر رہ جائیں گے اور پھر اس پر ایمان لے آئیں گے۔ اس کے فتنہ وآزمائش کی سنگینی اور تباہ کاری کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ہر نبی نے اپنی امت کو اس سے باخبر اور آگاہ کیا اور بچنے کی تلقین کی ہے۔ نبی کریمe کا ارشاد ہے:
’’کوئی نبی ایسا نہیں آیا جس نے اپنی امت کو کانے اور جھوٹے دجال سے نہ ڈرایا ہو‘ آگاہ رہو دجال کانا ہو گا‘ جبکہ تمہارا رب کانا نہیں۔ دجال کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہو گا۔‘‘ (بخاری: ۷۱۳۱)
 کیا ابن صیاد دجال تھا؟!
اس مسئلہ میں اگرچہ علماء کے یہاں اختلاف پایا جاتا ہے لیکن صحیح اور قرین قیاس قول یہ ہے کہ ابن صیاد وہ دجال نہیں جو قیامت کی بڑی نشانیوں میں سے ایک ہے۔ جو مہدی کے زمانے میں آئے گا اور جسے سیدنا عیسیٰu قتل کریں گے۔ البتہ ابن صیاد ایک مکار فریبی کاہن اور دجال وکذاب تھا‘ کیونکہ جو علامات حدیثوں میں دجال کے بارے میں آئی ہیں وہ نشانیاں ابن صیاد میں نہیں پائی جاتی تھیں۔ جیسے کہ دجال مکہ اور مدینہ میں داخل نہیں ہو پائے گا۔ ابن صیاد تو مدینہ ہی کا رہنے والا تھا۔ وہ مکہ میں داخل ہوا‘ دجال کی کوئی اولاد نہیں ہو گی جبکہ ابن صیاد صاحب اولاد تھا‘ دجال مہدی کے زمانے میں آئے گا جبکہ ابھی مہدی کا ظہور ہی نہیں ہوا۔ دجال کو سیدنا عیسیٰ بن مریمi قتل کریں گے جبکہ ابن صیاد کی طبعی موت واقع ہوئی تھی۔ یہی نہیں اس کے بارے میں یہ بھی روایت ہے کہ اس نے آخر میں توبہ کر لی تھی اور باقاعدہ اس کی صلوٰۃ جنازہ ادا کی گئی۔ جبکہ ایک روایت یہ بھی ہے کہ وہ حرہ کے دن غائب ہو گیا تھا پھر بعد میں کسی کو نہیں ملا وغیرہ وغیرہ۔ ان حقائق سے معلوم ہوتا ہے کہ ابن صیاد دجال نہیں تھا۔
خود ابن صیاد کو اس بات کا بڑی شدت سے احساس تھا کہ لوگ اسے دجال سمجھ کرا س کے ساتھ برا سلوک کرتے ہیں‘ سیدنا ابو سعید خدریt فرماتے ہیں:
میں ابن صیاد کے ساتھ مکہ کے لیے روانہ ہوا‘ اس نے مجھ سے کہا: لوگ مجھے دجال سمجھتے ہیں جس کی وجہ سے میں نے لوگوں سے بڑی تکلیفیں اٹھائی ہیں۔ کیا آپ نے نبی کریمe سے نہیں سنا کہ دجال کی کوئی اولاد نہیں ہو گی۔ سیدنا ابوسعید خدریt کہتے ہیں کہ میں نے کہا ہاں سنا ہے‘ اس نے کہا: میری اولاد ہے۔ اور کیا تم نے نبی کریمe سے یہ نہیں سنا کہ دجال نہ مدینہ میں داخل ہو سکے گا نہ مکہ میں؟ میں نے کہا: ہاں میں نے سنا ہے۔ اس نے کہا: میں تو مدینہ میں پیدا ہوا ہوں‘ وہیں رہتا ہوں اور اب مکہ جا رہا ہوں۔ پھر اس نے آخر میں یہ کہہ کر مجھے پھر شک وشبہ میں ڈال دیا کہ اللہ کی قسم! میں اس کی جائے ولادت اور وہ کہاں ہے جانتا ہوں اور اس کی ماں اور باپ کو بھی جانتا ہوں۔ سیدنا ابوسعیدخدریt فرماتے ہیں: اس نے یہ بات کہہ کر پھر اپنے متعلق شک وشبہ میں ڈال دیا۔ (مسلم: ۲۹۲۷)
شیخ الاسلام ابن تیمیہa فرماتے ہیں:
ابن صیاد کا معاملہ بعض صحابہ کرام کے لیے پیچیدہ ہو گیا‘ جس کی بناء پر اسی کو دجال سمجھ لیا‘ جبکہ نبی کریمe نے شروع میں اس کے بارے میں توقف اختیار کیا‘ پھر بعد میں آپe پر واضح ہو گیا کہ وہ دجال نہیں بلکہ وہ کاہنوں میں سے ہے۔ اسی لیے آپe نے اس کا امتحان لیا۔ (الفرقان بین اولیاء الرحمن)
دجال کو مسیح بھی کہا جاتا ہے‘ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ بائیں آنکھ کا کانا ہو گا‘ مسیح کہنے کی ایک دوسری وجہ یہ ہے کہ مکہ ومدینہ چھوڑ کر دنیا کے ہر شہر کی سیر کرے گا۔ جبکہ دجال کہنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ بہت زیادہ جھوٹا فریبی اور مکار ہو گا‘ حق کو چھپانے والا اور باطل کا مدد گار ہو گا۔
 دجال کا دعویٰ:
اس کا دعویٰ ہو گا کہ وہ رب ہے‘ لوگوں کو اپنے اوپر ایمان لانے کی دعوت دے گا‘ اپنے دعویٰ کے ثبوت میں لوگوں کو مارے گا‘ زندہ کرے گا‘ اس کے حکم سے آسمان سے بارش ہو گی اور زمین خوب پودے اور سبزی اگائے گی۔
 دجال کی علامات:
1 وہ نوجوان ہو گا 2 داہنی آنکھ کا کانا ہو گا جو نہ زیادہ ابھری ہوئی اور نہ زیادہ دھنسی ہو گی۔ 3 بائیں آنکھ کی ابرو کے پاس گوشت کا معمولی ٹکڑا ہو گا 4 چہرے کا رنگ سرخ ہو گا۔ 5 قد پست ہو گا۔ 6 ٹانگ ٹیڑھی اور پھیلی ہوئی 7 بال گھونگھریالے ہوں گے۔ 8 پیشانی کشادہ ہو گی۔ 9 گردن چوڑی ہو گی۔ 0 اس کی پیشانی پر ک ف ر یا کافر لکھا ہو گاجسے ہر مومن چاہے پڑھا لکھا ہو یا جاہل پڑھ لے گا۔ ! اس کی کوئی اولاد نہیں ہو گی۔
سیدنا عبداللہ بن عمرw سے روایت ہے کہ نبی کریمe نے فرمایا:
’’میں نے خواب میں دیکھا کہ میں بیت اللہ کا طواف کر رہا ہوں‘ اچانک ایک گندمی رنگ کا سیدھے بالوں والا آدمی دیکھا‘ اس کے بالوں سے پانی ٹپک رہا تھا‘ جیسے ابھی اسی وقت غسل کیا ہو‘ میں نے پوچھا یہ کون ہیں؟ فرمایا عیسیٰ بن مریمi ہیں۔ پھر میں نے دوسری طرف ایک سرخ رنگ کا موٹا آدمی دیکھا‘ جس کے بال گھونگھریالے تھے‘ داہنی آنکھ کانی تھی جس طرح پچکا ہوا انگور ہوتا ہے‘ میں نے پوچھا یہ کون ہے؟ فرمایا یہ دجال ہے۔‘‘ (بخاری: ۳۴۴۱ ومسلم: ۱۶۹)
سیدنا عبادہ بن الصامتt سے روایت ہے کہ نبی کریمe نے فرمایا:
’’میں نے تم لوگوں سے دجال کے بارے میں بیان کیا ہے اور مجھے ڈر ہے کہ تم اسے سمجھ نہ سکو‘ وہ پستہ قد‘ چوڑی ٹانگوں والا‘ گھونگھریالے بال والا‘ کانا‘ آنکھ نہ دھنسی ہو گی نہ اُبھری ہو گی‘ پھر بھی اگر شبہ ہو جائے تو یاد رکھو تمہارا رب کانا نہیں۔‘‘ (ابوداؤد: ۴۳۲۰‘ مسندا حمد: ۵/۲۳۴‘ دیکھیں ہدایۃ الرواۃ: ۵۴۱۵)
 دجال کا سب سے بڑا فتنہ:
دجال کا فتنہ کائنات کا سب سے بڑا فتنہ ہو گا‘ نبی کریمe کا ارشاد ہے:
’’آدمu کی تخلیق سے لے کر قیامت تک دجال سے بُری کوئی مخلوق نہیں۔ دوسری روایت میں ہے کہ دجال سے بڑا کوئی معاملہ (فتنہ) نہیں۔‘‘ (مسلم: ۲۹۴۶)
سیدنا عبداللہ بن عمرw سے روایت ہے کہ نبی کریمe لوگوں میں کھڑے ہوئے‘ اللہ کی کما حقہ خوب تعریف کی‘ پھر آپe نے دجال کا ذکر کیا‘ آپe نے فرمایا:
’’میں تم لوگوں کو اس سے ڈراتا ہوں اور کوئی نبی ایسا نہیں جس نے اپنی امت کو دجال سے نہ ڈرایا ہو‘ ہاں میں ضرور تمہیں ایسی نشانی بتاؤں گا کہ وہ نشانی کسی نبی نے اپنی امت کو نہیں بتائی‘ وہ یہ ہے کہ دجال کانا ہو گا اور اللہ کانا نہیں۔‘‘ (بخاری: ۷۱۲۷‘ مسلم: ۹۲۳۰)
سیدنا نواس بن سمعانt فرماتے ہیں کہ نبی کریمe نے دجال کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا:
’’اگر وہ میری موجودگی میں نکل آیا تو میں تم سب لوگوں کی طرف سے کافی ہوں گا اور اگر وہ میرے بعد نکلا تو ہر آدمی اپنا ذمہ دار ہے اور میرے بعد اللہ ہر مسلمان کا نگہبان ہے۔‘‘ (مسلم: ۲۹۳۷)
اس کا فتنہ اس قدر ہو گا کہ مکہ اور مدینہ کے علاوہ دنیا کا کوئی شہر اس کے فتنے سے محفوظ نہیں رہے گا۔ نکلتے ہی زمین کا چکر لگانا شروع کر دے گا۔
صحیح مسلم (۲۹۴۳) میں سیدنا انس بن مالکt سے روایت ہے‘ نبی کریمe کا ارشاد ہے:
’’کوئی ایسا شہر نہیں جہاں دجال داخل نہ ہو گا‘ سوائے مکہ اور مدینہ کے‘ ان دونوں کے راستے پر فرشتے صف بہ صف کھڑے ہوں گے اور ان کی حفاظت کرنے والے ہوں گے۔ دجال مدینہ کی سنگلاخ زمین تک پہنچے گا تو تین بار زلزلہ آئے گا اور مدینہ کے تمام کافر ومنافق دجال کے پاس چلے جائیں گے۔‘‘
 کیا دجال موجود ہے؟!
صحیح حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کسی جزیرے میں زنجیروں سے جکڑا ہوا ہے‘ اپنے وقت پر وہاں سے نکلے گا۔ سیدہ فاطمہ بنت قیسr فرماتی ہیں‘ ایک رات نبی کریمe صلوٰۃ عشاء کے لیے دیر سے تشریف لائے اور فرمایا:
’’مجھے تمیم داری کی باتوں نے روک لیا تھا‘ انہوں نے ایک شخص کے متعلق مجھ کو بتایا جو کسی سمندر کے جزیرے پر موجود ہے‘ انہوں نے کہا وہاں انہیں ایک عورت ملی جو اپنے بالوں کو کھینچ رہی تھی‘ پوچھنے پر اس نے بتایا میں جساسہ ہوں۔ تم اس محل کی طرف جاؤ‘ وہ کہتے ہیں میں وہاں گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک آدمی زنجیروں میں قید ہے اور اپنے بالوں کو کھینچ رہا ہے اور زمین وآسمان کے درمیان اچھل رہا ہے۔ میں نے پوچھا تو کون ہے؟ اس نے کہا میں دجال ہوں‘ اس نے مجھ سے پوچھا کیا امیوں کے نبی ظاہر ہو گئے ہیں؟ میں نے کہا ہاں۔ اس نے پوچھا لوگوں نے اس کی اطاعت کی یا نافرمانی کی ہے؟ اس نے کہا: نہیں اطاعت کی ہے۔ دجال نے کہا: اطاعت ہی ان کے لیے بہتر ہے۔ (سنن ابوداؤد: ۴۳۲‘ مسلم: ۲۹۴۳)
دجال کے نکلنے کا وقت:
جب مسلمان شہر قسطنطنیہ فتح کر لیں گے اور مال غنیمت لوٹنے میں مصروف ہوں گے اس وقت شیطان یہ آواز لگائے گا کہ دجال نکل چکا ہے‘ مسلمانوں کا لشکر سب کچھ چھوڑ کر دمشق کی طرف روانہ ہو جائے گا۔ جب بشکر وہاں پہنچے گا تو دجال نکل جائے گا البتہ شیطان کی پکار باطل ہو گی۔ یہ صحیح مسلم (۲۹۲۰) کی روایت ہے اور سنن ابوداؤد (۴۲۹۴) دیکھیں ہدایۃ الرواۃ (۵۳۵۰) میں سیدنا معاذ بن جبلt سے روایت ہے‘ نبی کریمe نے فرمایا:
’’بیت المقدس کی آبادی یثرب یعنی مدینہ کی بربادی کا پیش خیمہ ہے اور یثرب کی بربادی بڑی جنگ برپا ہونے کی پہچان ہے‘ بڑی جنگ قسطنطنیہ کی فتح کی نوید ہے اور قسطنطنیہ کی فتح دجال کے نکلنے کا وقت ہے۔‘‘
دجال کا خروج ایران کے شہر خراسان سے ہو گا‘ ابوبکرۃ سے روایت ہے کہ نبی کریمe کا ارشاد ہے:
’’دجال سرزمین مشرق کے اس شہر سے نکلے گا جسے خراسان کہا جاتا ہے‘ بہت ساری قومیں اس کے ساتھ ہوں گی‘ ان کے چہرے گول مٹول اور گوشت سے بھرے ہوئے ہوں گے۔‘‘ (ترمذی: ۲۲۳۷)
 دجال کے پیروکار:
اس کے ماننے والے زیادہ تر یہودی‘ غیر عرب‘ ترکی کافر ومنافق اور عام قسم کے لوگ‘ دیہاتی اور عورتیں ہوں گی‘ سیدنا انس بن مالکt سے روایت ہے کہ ایران کے شہر اصفہان کے ستر ہزار یہودی دجال کی پیروی کریں گے‘ وہ سیاہ چادریں اوڑھے ہوں گے۔ (مسلم: ۲۹۴۴)
کافر ومنافق بھی اس کی پیروی کریں گے: سیدنا انس بن مالکt سے روایت ہے‘ نبی کریمe کا ارشاد ہے:
’’کوئی ایسا شہر نہیں جہاں دجال داخل نہ ہو گا‘ سوائے مکہ اور مدینہ کے ان دونوں کے راستہ پر فرشتے صف بہ صف کھڑے ہوں گے اور ان کی حفاظت کرنے والے ہوں گے۔ دجال مدینہ کی سنگلاخ زمین تک پہنچے گا تو تین بار زلزلہ آئے گا اور مدینہ کے تمام کافر ومنافق دجال کے پاس جا کر پناہ لے لیں گے۔‘‘ (مسلم: ۲۹۴۳)
 دجال کے فتنے:
اس کے پاس جنت اور جہنم ہو گی‘ لیکن حقیقت میں اس کی جنت جہنم اور جہنم جنت ہو گی۔ سیدنا حذیفہ بن الیمانt نبی کریمe سے روایت کرتے ہیں کہ آپe نے دجال کے بارے میں فرمایا:
’’اس کے پاس جنت اور جہنم ہو گی‘ در حقیقت اس کی آگ جنت اور جنت جہنم ہو گی۔‘‘
دوسری روایت میں ہے کہ ’’اس کے پاس پانی اور آگ ہو گی۔ لہٰذا تم میں سے جو اسے پائے وہ اس میں داخل ہو جائے جسے لوگ آگ سمجھتے ہیں کیونکہ وہ آب شیریں ہے۔‘‘ (مسلم: ۲۹۳۴)
اس کے حکم سے آسمان سے موسلا دھار بارش ہو گی‘ زمین سے گھاس اور اناج وغیرہ اُگے گا‘ زمین اپنے خزانے اگل دے گی‘ جانور پہلے سے زیادہ دودھ دینا شروع کر دیں گے۔ سیدنا نواس بن سمعانtسے روایت ہے کہ نبی کریمe کا ارشاد ہے:
’’وہ ایک قوم کے پاس آئے گا‘ انہیں دعوت دے گا وہ ایمان لے آئیں گے‘ وہ آسمان کو حکم دے گا جس سے خوب بارش ہو گی اور زمین کو حکم دے گا جس سے خوب پودے اُگیں گے‘ شام کے وقت جانور واپس آئیں گے تو ان کے کوہان لمبے ہوں گے‘ تھن بھرے ہوں گے‘ کوکھ بھری ہو گی‘ پھر وہ دوسری قوم کے پاس جائے گا وہ انہیں دعوت دے گا لیکن وہ اس کا انکار کر دیں گے۔ چنانچہ وہ وہاں سے چلا جائے گا اور ان پر قحط سالی مسلط ہو جائے گی اور ان کے پاس ان کا مال ذرا بھی نہ بچے گا۔ وہ ویران جگہ گزرے گا وہ زمین کو حکم دے گا کہ وہ اپنے خزانے اُگل دے! تو زمین اپنے خزانے اس طرح اُگل دے گی جس طرح شہد کی مکھیاں اپنی رانیوں کے پاس جمع ہو جاتی ہیں۔‘‘ (مسلم: ۲۹۷۳)
وہ زمین کے اندر تیزی سے منتقل ہو گا اور جہاں جائے گا اپنے کفر وضلالت کی طرف لوگوں کو دعوت دے گا‘ سیدنا نواس بن سمعان فرماتے ہیں کہ ہم نے نبی کریمe سے دریافت کیا: زمین میں دجال کی تیز رفتاری کس قدر ہو گی؟ آپe نے فرمایا: ’’اس تیز بارش کی مانند جس کے پیچھے تیز ہوا ہو۔‘‘ (مسلم: ۲۹۳۷)
 دجال کی بے بسی:
اللہ کی طرف سے اتنے سارے اختیارات ملنے کے باوجود وہ انتہائی ضعیف وکمزور‘ بے بس وعاجز اور لا چار ہو گا‘ جس کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ وہ اپنی کانی آنکھ کو نہیں ٹھیک کر پائے گا‘ اس کی پیشانی پر جو کلمہ کفر لکھا ہو گا اس کو بھی مٹانے یا کھرچنے کی طاقت اس کے پاس نہیں ہو گی۔ پاؤں میں موجود خامیوں کو بھی دور کرنے کی طاقت اس کے پاس نہیں ہو گی‘ ہزار کوششوں کے بعد مکہ اور مدینہ میں داخل نہیں ہو سکے گا۔ اس کی کمزوری وبے بسی اس قدر ہو گی کہ وہ سیدنا عیسیٰu کو دیکھتے ہی نمک کی طرح پگھلنا شروع ہو جائے گا۔
اس کی بے بسی صحیح بخاری (۷۱۳۲) ومسلم (۲۹۳۷) کی اس طویل حدیث سے بھی ظاہر ہوتا ہے جس میں نبی کریمe نے یہ اطلاع دی ہے کہ
’’جب وہ مدینہ میں داخل ہونے کی کوشش کرے گا تو وہاں داخل نہیں ہو پائے گا۔ وہ مدینہ کے قریب کسی جگہ پر ہو گا کہ اس کے پاس ایک آدمی نکل کر جائے گا جو تمام لوگوں میں سب سے بہتر ہو گا یا بہترین لوگوں میں سے ہو گا۔ وہ دیکھتے ہی فورا گواہی دے گا کہ تو ہی دجال ہے‘ جس کے بارے میں نبی کریمe نے ہمیں بتایا ہے‘ دجال کہے گا اگر میں اسے قتل کر کے پھر دوبارہ زندہ کر دوں تو کیا تم شک کرو گے؟ لوگ کہیں گے نہیں۔ تب دجال اسے قتل کر کے دوبارہ زندہ کر دے گا تو وہ (مومن) کہے گا اب مجھے پہلے سے زیادہ یقین ہو گیا کہ تو ہی دجال ہے‘ اب دجال اس کو دوبارہ قتل کرنا چاہے گا لیکن اس پر قابو نہیں پا سکے گا۔‘‘
ان ساری باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ دجال کے پاس خود کوئی طاقت نہیں ہو گی اس کی ساری طاقتیں اللہ کی دی ہوئی ہوں گی اور وہ مومن بندوں کی آزمائش کے لیے ہوں گی‘ اس کی انہیں ساری خامیوں‘ کمزوریوں اور عیوب ونقائص کو دیکھ کر مومن بندوں کو یقین ہو جائے گا کہ یہ کذاب ودجال ہے‘ اتنے سارے عیوب والا رب کیسے ہو سکتا ہے؟ رب تو ہر نقص سے پاک ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس سے محفوظ رکھے۔ آمین!
 فتنہ دجال کی مدت:
ہمارے موجودہ شب وروز کے مطابق اس کی مدت ایک سال دوماہ دو ہفتہ ہو گی۔ نبی کریمe سے اس کے دنیا میں رہنے کی مدت کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپe نے فرمایا:
’’چالیس دن‘ پہلا دن ایک سال کے برابر‘ دوسرا ایک ماہ کے برابر اور تیسرا روز ایک ہفتہ کے برابر ہو گا‘ اس کے بعد باقی ایام یعنی ۳۷ روز تمہارے شب وروز کے برابر ہوں گے۔‘‘ لوگوں نے کہا: پہلا جو ایک سال کے برابر ہو گا کیا پانچ وقت کی نمازیں کافی ہوں گی؟ آپe نے فرمایا: ’’اپنے روز وشب کا اندازہ کر کے صلوٰۃ پڑھنا۔‘‘ (مسلم: ۹۲۳۷)
 فتنہ دجال سے حفاظت:
1          دجال کے فتنہ سے اللہ کی پناہ طلب کرنا بالخصوص نمازوں میں‘ سیدہ عائشہr فرماتی ہیں کہ اللہ کے رسولe نماز میں دعا کیا کرتے تھے کہ اللہ! میں عذاب قبر اور مسیح دجال کے فتنہ سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔‘‘ (بخاری: ۱۳۷۷‘ مسلم: ۵۸۸)
2          سورۂ کہف کی چند آیات کا حفظ کرنا۔ سیدنا ابوالدرداءt سے مروی ہے کہ اللہ کے رسولe نے فرمایا: ’’جس نے سورۂ کہف کی شروع کی دس آیتیں یاد کر لیں وہ دجال کے فتنہ سے محفوظ رہے گا۔‘‘ (مسلم‘ کتاب صلوٰۃ المسافرین‘ باب فضل سورۃ الکہف۔ ابوداؤد: ۴۳۲۳۔ دیکھیں الصحیحۃ: ۵۸۲)
3          اس سے دور رہنا اس کے پاس نہ جانا: عمران بن حصینt سے روایت ہے کہ نبی کریمe نے فرمایا: ’’جو دجال کے بارے میں سنے اسے چاہیے کہ اس سے دور رہے‘ اللہ کی قسم! آدمی اس کے پاس آئے گا اور اسے یقین ہو گا کہ وہ پکا مومن ہے لیکن دجال اس کے دل میں شبہات ڈال دے گا جس سے وہ اس کی اتباع کر لے گا۔‘‘ (ابوداؤد: ۴۳۱۹‘ دیکھیں ہدایۃ الرواۃ: ۵۴۱۸)
4          مکہ یا مدینہ میں جا کر پناہ لے لینا کیونکہ ان دونوں شہروں میں دجال داخل نہیں ہو گا۔ (دلیل گذر چکی ہے۔)
5          اس کے شر اور فتنہ سے بچنے کے لیے اس کی علامات اور اس کے فتنوں کا علم ہونا اور اس کی معرفت وبصیرت حاصل کرنا۔
 دجال کی ہلاکت:
سیدنا ابوہریرہt سے روایت ہے کہ نبی کریمe کا ارشاد ہے:
’’دجال مشرق (خراسان) سے آئے گا‘ اس کا ارادہ مدینہ جانے کا ہو گا‘ وہ اُحد پہاڑ کے پیچھے جب پہنچے گا تو فرشتے اس کا رخ شام کی طرف پھیر دیں گے اور وہ وہیں ہلاک ہو جائے گا۔‘‘ (مسلم)
اس کی ہلاکت سیدنا عیسیٰu کے ہاتھوں ہو گی‘ جب اس کا فتنہ بہت بڑھ جائے گا اس وقت سیدنا عیسیٰu دمشق میں نازل ہوں گے‘ دجال شام کی طرف جا رہا ہو گا‘ سیدنا عیسیٰu اسے باب لد پر آپکڑ لیں گے۔ دجال انہیں دیکھتے ہی نمک کی طرح پگھلنے لگے گا۔ سیدنا عیسیٰu اپنے نیزے سے وار کر کے اسے موت کے گھاٹ اتار دیں گے۔
سیدنا ابوہریرہt سے روایت ہے کہ نبی کریمe کا ارشاد ہے:
’’سیدنا عیسیٰu نازل ہوں گے اور مسلمانوں کو نماز پڑھائیں گے۔ جب اللہ کا دشمن دجال انہیں دیکھے گا تو جس طرح پانی میں نمک پگھلتا ہے ویسے ہی پگھلنا شروع ہو جائے گا۔ اگر سیدنا عیسیٰu اسے چھوڑ دیتے تب بھی گھل کر مر جاتا‘ لیکن اللہ تعالیٰ اسے سیدنا عیسیٰu کے ہاتھوں قتل کرائے گا۔ سیدنا عیسیٰu اپنے نیزے پر دجال کا لگا ہوا خون لوگوں کو دکھائیں گے۔ (مسلم … دیکھیں: اشراط الساعۃ لیوسف الوابل: ۳۳۳-۳۳۵)
اس کی موت سے اس کے متبعین شکست کھا جائیں گے۔ مومنوں کی جماعت ان کا قتل عام کرنے لگے گی یہاں تک کہ درخت اور پتھر تک مسلمانوں کو یہودیوں کے قتل کی دعوت دیں گے‘ وہ کہیں گے کہ اے مسلم! اے اللہ کے بندے! میرے پیچھے ایک یہودی ہے اسے قتل کر دو البتہ غرقد کا درخت انہیں پناہ دے گا کیونکہ وہ یہودیوں کا درخت ہے۔ (مسلم: ۲۹۲۲)
اس طرح دجال کے فتنہ سے لوگوں کو نجات مل جائے گی‘ اس کے قتل سے عیسائیت اور یہودیت کا مکمل خاتمہ ہو جائے گا‘ ساری دنیا میں صرف اسلام اور مسلمان باقی رہ جائیں گے‘ امن وسلامتی اور اخوت ومودت کا دور دورہ ہو گا‘ اس کے قتل سے جہاد ختم ہو جائے گا‘ عمران بن حصینt سے روایت ہے کہ نبی کریمe کا ارشاد ہے: میری امت میں سے ایک جماعت حق کی خاطر جہاد کرتی رہے گی اور ان کے مخالفین پر انہیں غلبہ بھی حاصل رہے گا‘ حتی کہ میری امت کا آخری شخص مسیح دجال کے خلاف جہاد کرے گا۔ (ابوداؤد: ۲۴۸۴)


No comments:

Post a Comment