مساجد ۔ اسلامی سوسائٹی کا مرکز 16-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Saturday, July 27, 2019

مساجد ۔ اسلامی سوسائٹی کا مرکز 16-2019


مساجد ... اسلامی سوسائٹی کا مرکزی مقام

تحریر: جناب حافظ عبدالرؤف جانباز
اسلامی سوسائٹی میں مسجد کے مرکزی مقام کا اس بات سے اچھی طرح سے انداز ہ لگایا جاسکتا ہے کہ جب رسول کریم e کو مسلم سوسائٹی قائم کرنے کا موقع ملا تو آپe نے سب سے پہلے مسجد کی بنیاد رکھی اور اپنے اس اقدام سے اس بات کی طرف اشارہ کر دیا کہ مسجد اسلامی معاشرے کے قیام کے سلسلے کی پہلی کڑی ہے اور اسی نظریے کے پیش نظر آپe نے مدینہ پہنچتے ہی بِلا کسی تاخیر کے سب سے پہلے جو کام کیا وہ مسجد کی بنیاد ڈالنے کا تھا۔ اسکے بعد اپنا گھر بنانے کی طرف توجہ کی ۔یہ مسجد مکمل ہونے کے بعداسلام کے پیغام کی جامعیت کا آئینہ دار بن گئی۔ کیونکہ اسلامی معاشرے کے متعلق تمام مسائل کی چھان بین اور انکا حل اسی مسجد سے تلاش کیا جاتا تھا۔اس طرح اسلامی سوسائٹی نے مسجد کے اندر جنم لیا۔ یہی نہیں بلکہ ہم کو یہ ہدایت ملتی ہے کہ انسانی تمدن اللہ تعالیٰ کے گھر سے ہی شروع ہوا ۔
{اِنَّ اَوَّلَ بَیْتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِیْ بِبَکَّۃَ مُبٰرَکًا وَّ ہُدًی لِّلْعٰلَمِیْنَ} (ال عمران: ۹۶)
’’یقینا پہلا گھر جو لوگوں کیلئے بنایا گیا وہ وہی ہے جو مکہ مکرمہ میں ہے بابرکت اور رہنما ساری دنیا والوں کے لیے۔‘‘
اس طرح انسانیت نے رُوئے زمین پر تہذیب و تمدن کا پہلا سبق مسجد ہی سے سیکھا تھا اس حقیقت کی روشنی میں ہم بِلا جھجک کہہ سکتے ہیں کہ مسجد صرف مسلم سوسائٹی ہی کا مرکز نہیں بلکہ پوری انسانیت کیلئے مشعل راہ ہے۔
پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفی  ؐ جنھیں اللہ تعالیٰ نے انسانیت کو (جو کہ اپنے اصلی راستے سے بھٹک گئی تھی) صحیح راستے پر لگانے کیلئے بھیجا تھا ،انہوں نے اس حقیقت کو عملی طور پر لوگوں کے سامنے رکھا اور (جیسا کہ ابھی اشارہ کیا گیا) سب سے پہلے اس مرکز کے قیام کی طرف توجہ دی۔ مسجد کی تعمیر اور اس سے تعلق کو قرآن کریم کے اندر ایمان باللہ والیوم آلاخر کی نشانی قرار دیا گیا ہے ۔
{اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰہِ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ اَقَامَ الصَّلٰوۃَ وَ اٰتَی الزَّکٰوۃَ وَ لَمْ یَخْشَ اِلَّا اللّٰہَ فَعَسٰٓی اُولٰٓیِکَ اَنْ یَّکُوْنُوْا مِنَ الْمُہْتَدِیْنَ} (التوبۃ: ۱۸)
’’اللہ کی مسجد یں وہی آباد کرتا ہے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، نماز قائم کرنا ،زکوٰۃ ادا کرنا ،اور اللہ کے سوا کسی سے ڈرتا نہ ہو ، تو ایسے لوگ قریب ہے کہ ہدایت یافتگان میں سے ہوں۔‘‘
اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں نبی کریم e نے فرمایا:
[إذا رأیتم الرجل یتعاہد المسجد فاشہدوا لہ بإیمان فإن اللہ عز وجل یقول إنما یعمر مساجد اللہ من آمن]
’’جب تم آدمی کو دیکھو کہ وہ مسجد میں آمد ورفت کی پابندی کرتا ہے تو اس کیلئے ایمان کی شہادت دو، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ انما یعمر مساجد اللہ۔‘‘
اسلامی سوسائٹی میں مسجد کی مرکزی حیثیت کو سمجھنے کیلئے ہمیں اسلامی تاریخ کی سب سے پہلی مسجد کی طرف لوٹنا ہو گا۔ اس مسجدکی مرکزی حیثیت اور اس کے امام کی جامع کمالات اور متصف بہم صفات حسنہ شخصیت کا جائزہ لینا ہو گا ،نیز مسجدکے اندر عمل میں لائے جانیوالے پروگراموں کا مطالعہ کرنا ہو گا ۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ مسجدکے مشن کو بروئے کار لانے اور اس کو صحیح معنوں میں عملی شکل دینے میں امام کا کردار کافی اہمیت رکھتا ہے ۔اسلامی تاریخ پر نظر رکھنے والا ہر ذی بصیرت شخص یہ بخوبی جانتا ہے کہ جب مسجد کا امام اپنے عقائد میں موحد‘ اعمال میں مخلص اور اللہ و رسول اور عامۃ المسلمین کا ناصح ہو تو مسجد اسلامی سوسائٹی میں روشنی کے مینار کا کام کرتی ہے۔ لیکن جب امام ہی صحیح راستے سے ہٹ گیا‘ اس کے عقیدے میں خرابی پیدا ہو گئی ،اعمال خالصۃً لوجہ اللہ نہ رہے اور دین کیلئے کام کرنے کا جذبہ دنیاوی ریا اور نمود اور مال و دولت حاصل کرنے کی خواہش میں تبدیل ہو گیا تو مسجد اپنا مقام کھو بیٹھی جب قائد ہی بھٹک گیا تو قافلہ کے منزل مقصود تک پہنچنے کی کیا امید کی جا سکتی ہے۔ اس اہم نکتہ کی روشی میں آپ مساجد کی تاریخ پر نظر ڈالیں ۔مسجد نبوی میں نبی کریم ؐ کی تربیت میں پلنے والا نوجوان اسلام کیلئے جان نثاری اور وفاداری کا نمونہ ہوتا تھا۔ اسی طرح خلفائے راشدین کی امارت میں بھی مسجد سے تربیت پاکر ایسے مخلص اور جاںباز سپاہی اور میدان علم و معرفت کے ایسے ایسے شہسوار نکلے کہ آج بھی دنیا ان کی نظیر پیدا کرنے سے قاصر ہے۔ مسجد کے یہ مصلّے اسلامی تعلیمات کا چلتا پھرتا نمونہ تھے ،انہیں دیکھ کر دوسری قومیں اسلا م کی تعلیمات کی جامعیت اور ان کی ہمہ گیر ی سے متاثر ہوتی تھیں۔ ان کے کردار سے متاثر ہو کر بہت سے لوگ مشرف بہ اسلام ہوئے ۔
اسی طرح اسلام کو صحیح طور پر سمجھنے والے آئمہ مجتہدین جوکہ اپنے اپنے وقت میں پورے عالم اسلام کیلئے مشعل ہدایت بنے رہے،اور بعد میں آنیوالوں کیلئے بھی ایک قابل تقلید نمونہ چھوڑ گئے جن کے افکار اور اقوال میں قرآن و حدیث کی تعلیمات کی صحیح جھلک نظر آتی ہے ان ہی مسجدوں سے فارغ ہوئے اور اپنی عمر کا بیشتر حصہ ان کے ستونوں سے ٹیک لگا کر درس دیتے ہوئے گزرا۔امام مالک ؒ مدینہ میں ،امام احمد بن حنبل ؒ بغدا د میں ،امام شافعی ؒ مصر میں، سفیان ثوریؒ کوفہ میں اور حسن بصریؒ بصرہ میں اپنے اپنے وقت میں مساجد اور یونیورسٹیوں کے مانے ہوئے پروفیسر تھے۔ مسجد کے باہر تعلیم حاصل کرنیوالا شخص اسلام کے بنیادی اصولوں کے ادراک میں ان اماموں کے درجہ کو کبھی نہیں پہنچ سکا۔
نبی کریم e کے زمانہ مبارک میں مسجد صرف ایک عبادت گاہ نہیں تھی بلکہ یہ ایک ایسا مضبوط قلعہ تھی جس کے برجوں سے رشد وہدایت کی شعاعیں پھوٹتی تھیں۔ عدل وانصا ف کی سکون بخش ہوائیں چلتی تھیں اور امن وسلامتی کا پیغام بلند ہوتا تھا۔ مسجد مسلمانوںکی دینی، اخلاقی، معاشرتی اور تعلیمی تربیت کا سنٹر تھی۔ مسجد نبوی وہ بے مثال درسگاہ تھی جس نے چوٹی کے علماء‘ پایہ کے فقہاء اور بے نظیر جنگی سپہ سالار پیدا کئے۔ مسجد نبوی وہ پارلیمنٹ تھی جہاں امت ِاسلامیہ کو پیش آنیوالے مسائل پر بحث و مباحثہ ہوتا تھا۔ یہ وہ سپریم کورٹ تھی جہاں اللہ کے رسول ؐ اللہ کی ہدایت کے مطابق اپنا فیصلہ صادر فرمایا کرتے تھے ۔یہ وہ ملٹری کونسل تھی جہاں جنگی پلان تشکیل پاتے تھے ۔اسلام میں عبادت کے لیے کسی خاص جگہ کی کوئی اہمیت نہیں ۔ نبی کریم e نے اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:
[جلعت لی الارض مسجد اوطہورا۔]
’’میرے لئے زمین کو مسجد اور پاکی کا ذریعہ بنادیا گیا ہے۔‘‘
اس طرح پوری رُوئے زمین مسلمانوں کی سجدہ گاہ ہے جس طرح انسانی زندگی کا ہر لمحہ اگر صحیح طور پر گزارا جائے تو وہ عبادت ہے۔ اسلام میں عبادت صرف فرائض ادا کرنے کا نام نہیں بلکہ ہر وہ کام جو اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ قوانین اور رسول کریم ؐ کے بنائے ہوئے اصولوں کے مطابق نیک مقصد سے کیا جائے وہ عبادت ہے ۔
قرآن مجید فرقان الحمید اعلان کرتا ہے کہ
{لَیْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْہَکُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ وَ لٰکِنَّ الْبِرَّ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ الْمَلٰٓیِکَۃِ وَ الْکِتٰبِ وَ النَّبِیّٖنَ۱ وَ اٰتَی الْمَالَ عَلٰی حُبِّہٖ ذَوِی الْقُرْبٰی وَ الْیَتٰمٰی وَ الْمَسٰکِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِ۱ وَ السَّآئِلِیْنَ وَ فِی الرِّقَابِ۱ وَ اَقَامَ الصَّلٰوۃَ وَ اٰتَی الزَّکٰوۃَ ۱ وَ الْمُوْفُوْنَ بِعَہْدِہِمْ اِذَا عٰہَدُوْا۱ وَ الصّٰبِرِیْنَ فِی الْبَاْسَآئِ وَ الضَّرَّآئِ وَ حِیْنَ الْبَاْسِ۱ اُولٰٓیِکَ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا۱ وَ اُولٰٓــئِِکَ ہُمُ الْمُتَّقُوْنَ} (البقرۃ: ۱۷۷)
’’نیکی یہ نہیں کہ اپنے چہرے مشرق و مغرب کی طرف پھیر لو بلکہ نیکی ان لوگوں کی ہے جو اللہ پر‘ آخرت کے دن پر‘ ملائکہ پر اور نبیوں پر ایمان لائیں اور مال محبوب ہونے کے باوجود قرابت داروں کو‘ یتیموں کو، مسکینوں کو‘ مسافروں کو اور مانگنے والوں کو عطاء کریں اور گردن (چھٹرانے) میںخرچ کریں، نماز قائم کریں، زکوٰۃ ادا کریں اور عہد پورا کریں۔ نقصان اور مشکل میں صبر کریں‘ ایسے ہی لوگ سچے ہیں اور ایسے ہی لوگ متقی ہیں۔‘‘
یہاں یہ بات غور کرنے کی ہے کہ قرآن نے ایمان کے بعد نماز اور روزے سے پہلے سوسائٹی کے حقوق پر زور دیا ہے۔ دوسری طرف قرآ ن مجید یہ بھی اعلان کرتا ہے کہ
{وَ اَنَّ الْمَسٰجِدَ لِلّٰہِ فَلَا تَدْعُوْا مَعَ اللّٰہِ اَحَدًا}
’’یعنی مساجد اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں‘ ان میں اللہ تعالیٰ کی مرضی کے مطابق اور اس کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے کام ہونا چاہئے۔‘‘ (الجن: ۱۸)
پھر یہ بھی واضح ہوجاتاہے کہ مسجد کو صرف نماز کیلئے مخصوص کرنا درست نہیں بلکہ مسجد اس لئے ہوتی ہے کہ وہ بندے اور رب کے درمیان رشتے کو مضبوط کرنے کے ساتھ مسلمانوں کے سماجی ،سیاسی، فوجی، اقتصادی ،تعلیمی اور دوسرے ہر طرح کے مسائل کو حل کرنے کیلئے پلیٹ فارم کاکام دے اور اس کے دروازے ہر مسلمان کیلئے کھلے رہیں ۔بدقسمتی سے آج ہماری مسجدیں مسلمانوں کیلئے نہیں بنتیں بلکہ مخصوص فرقوں کیلئے بنتی ہیں جن کی نسبت ایسے اشخاص کی طرف ہوتی ہے جن کا وجود عہد رسالت میں نہیں تھا۔ مسجدوں پر فرقے کانام لکھ کر اس بات کی طرف اشارہ کر دیا جاتا ہے کہ دوسرے لوگ اس میں داخل ہونے کی جرأت نہ کریں۔(یہاں اہلحدیث کے بارے میں یہ بتا دینا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ ،اہلحدیث کسی فرقے کا نام نہیں‘ یہ کسی امام کی طرف منسوب نہیں بلکہ یہ تو اماموں کے امام اور مسلمانوں کے ہادی اعظم محمد رسول اللہe کی سنت کو زندہ رکھنے کی کوشش کرنے والی ایک تحریک کا نام ہے اور اسکی مسجدیں سب کیلئے کھلی ہیں۔
بنی کریم e کے عہد مبارک میںاور آپؐ کے بعد خلفائے راشدین کے زمانے میں مسجد ،اسلامی سوسائٹی کی مختلف سرگرمیوں کا مرکز ہوا کرتی تھی ،آنیوالے وفود کا استقبال مسجد میں ہی ہوتا تھا ۔حملہ آور مخالف طاقتوں کامقابلہ کرنے کے سلسلے میں فوجی منصوبے یہیں تیا ر کئے جاتے تھے ۔معاشرے کے اقتصادی مسائل کو حل کرنے کے بارے میں عملی اقدام یہیں سے ہی اٹھایاجاتا تھا ۔
حضور اکرم e کے پاس کچھ بہت ہی غریب اور پریشان حال لوگ اس حالت میں حاضر ہوئے کہ ان کے بدن پر صحیح کپڑے نہیں تھے اور ان کی حالت زار انکی ناداری اور مفلسی کی ترجمان تھی ۔ آپؐ ان کی حالت دیکھ کر غمزدہ ہو گئے‘ چہرے مبارک پر کرب کے آثار نمایاں ہوئے پھر آپؐ نے لوگوں کو صدقہ خیرات کی ترغیب دلائی اور تھوڑی دیر میں غلے اور کپڑے کی وافر مقدار جمع ہو گئی‘ یہ دیکھ کر آپe بہت خوش ہوئے‘ آپe کا چہرہ کھل اٹھا اور آپe نے بھلائی کے کاموں کی طرف سبقت کرنیوالوں کا حوصلہ بڑھانے کے لیے یہ اعلان کیا کہ جو شخص بھی نیک کام کرتا ہے جس کے بعد لوگ اس کام کو کرنا شروع کردیتے ہیں اس کو اپنے کام کے ساتھ ساتھ اس کام کے کرنیوالے تمام دوسرے لوگوں کا ثواب بھی ملتا ہے۔ اس طرح کہ کسی کے ثواب میں ذرا بھی کمی واقع نہیں ہوتی‘ یہ سب کچھ مسجد میں ہوا تھا ۔
اسی طرح قرض کی ادائیگی کے سلسلے میں دو صحابیوں کے درمیان ہونے والی تکرار کا فیصلہ بھی آپؐ نے مسجد میں کیا تھا ۔ شادی بیاہ اور زوجین کے درمیان صلح و مصالحت کا کام بھی مسجد میںہوتا تھا ۔ مسجد قید خانہ کا کام بھی دیتی تھی۔ ثمامہ بن اثالt کومسجد کے ایک ستون کے ساتھ باندھ کر قید کیا گیا تھا ۔
مسجدعورتوں کو تعلیم دینے کا مرکز بھی تھی ۔اسلامی تاریخ کے اُس دور میں جس کو بہترین دور قرار دیا گیا ہے، عورتیں نماز میں پابندی کے ساتھ حاضر ہوتی تھیں ۔ان کے لیے مخصوص جگہ کا انتظام تھا۔ جمعہ اور عیدین میں ان کی حاضری پر کافی زور دیا جاتا تھا۔ اس طرح اسلامی سوسائٹی کا ہر فرد مسجد کے چشمہء ہدایت سے فیض یاب ہوتا تھا۔ ہماری مسجدوں میں جہاں بہت سی خرابیاں پیداہوئیں ان میں سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ ان میں خواتین کو تعلیم وتربیت اور انکو اللہ اور رسول ؐ کی باتوں سے آگاہ کرنے کااب کوئی انتظام نہیں رہا ۔اس طرح اسلامی سوسائٹی کا آدھا حصہ اور اہم ترین جزو اسلامی تعلیمات سے بے بہرہ رہ جاتا ہے اور طرح طرح کی جہالتوں اور خرافاتی بدعتوں میں مبتلا ہو کر معاشرے کو تباہی کی طرف دھکیل رہا ہے ۔کسی دانا نے خوب کہا ہے کہ ’’ماںکی تعلیم ایک پوری نسل کی تعلیم ہے۔‘‘ یہ بات اپنی جگہ بالکل صحیح ہے۔
آج ہماری مسجدیں اپنا امتیازی مقام کھو بیٹھی ہیں۔ اب وہ صرف نماز پڑھنے کیلئے ہیں یا پھر ان میں چلہ کشی کی جاتی ہے۔ اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ مسجدوں کوہر اس چیز سے پاک کیا جائے جومسلمانوں کی ذہنی غلامی اور فکری جمود کے دور کی پیداوار ہیں اور جن کا قرآن وسنت میں کوئی ثبوت نہیں ملتا۔
تمام علماء کرام اور آئمہ مساجد کو چاہئے کہ وہ مساجد کی اصلاح اور ان کوان کے صحیح مقام پر لانے کیلئے عملی جدوجہد کریں ،اور مساجد کو اس طرح کی دینی، اخلاقی، تعلیمی، سیاسی اور سماجی سرگرمیوںکا مرکز بنائیں جس طرح قرون اولیٰ میں ہوتا تھا۔


No comments:

Post a Comment