اداریہ 16-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Saturday, July 27, 2019

اداریہ 16-2019


ہمارا نصب العین!

باخبر لوگ جانتے ہیں کہ ذوالفقار علی بھٹو روٹی‘ کپڑا اور مکان کے دلفریب نعرے پر برسر اقتدار آئے تھے جو ابھی تک پورا نہیں ہوا۔ عمران خان نے اس میں تعلیم اور صحت کا اضافہ کر دیا ہے۔ دیکھیں اب اس پر کب عمل درآمد ہوتا ہے۔ ایک معروف کالم نگار عبدالقادر حسن نے لکھا ہے کہ ’’جب بھٹو صاحب نے روٹی‘ کپڑا اور مکان کا نعرہ لگایا تھا تو میں نے ایک شام کو لاہور کے فلیٹیز ہوٹل کے لان میں ان کے ساتھ ٹہلتے ہوئے یہ پوچھا کہ بھٹو صاحب! آپ نے بہت بڑا نعرہ دیا ہے‘ آپ اس پر عمل در آمد کیسے کریں گے؟ بھٹو صاحب میری طرف دیکھ کر مسکرائے اور کہا کہ مسلمان جنت کے خواب دیکھتے ہیں لیکن انہوں نے جنت دیکھی ہوئی نہیں ہے۔ یہ کہہ کر بھٹو صاحب آگے بڑھ گئے اور میں سوچتا رہ گیا کہ کتنا عقلمند اور ہوشیار لیڈر ہے کہ جس نے عوام کو ایک ایسا نعرہ دیا ہے جس کی تکمیل مشکل ہی نہیں ناممکن ہے‘ لیکن عوام نے بھٹو صاحب کے اس نعرے پر لبیک کہا اور ان کو حکمرانی کے تخت پر بٹھا دیا۔‘‘
حقیقی بات یہ ہے کہ صحتمند انقلاب اور تبدیلی نعروں سے نہیں‘ عمل سے آتی ہے۔ عمران خان نے بھی عوام سے بہت سے وعدے کیے ہیں جو پورے ہوتے ہوئے نظر نہیں آتے۔ عوام نے ان کے ساتھ جو امیدیں وابستہ کی تھیں وہ دم توڑ رہی ہیں۔ انہوں نے مختصر کابینہ بنانے اور کفایت شعاری کا بھی وعدہ کیا تھا‘ وفاقی کابینہ کی فوج ظفر موج اور حکومت پنجاب کا اپنے وزراء کے لیے ۷۷ نئی گاڑیاں خریدنا کیا یہ کفایت شعاری ہے؟ شاید حکمرانوں کے نزدیک وعدے کی کوئی اہمیت نہیں۔ جبکہ قرآن مجید میں ایفائے عہد کی تلقین فرمائی گئی ہے۔ ارشاد خداوندی ہے {وَاَوْفُوْا بِالْعَہْدِ اِنَّ الْعَہْدَ کَانَ مَسْئُوْلًا} (بنی اسرائیل: ۳۴) یعنی ’’جو تم وعدہ کرو اسے پورا کرو۔ وعدے کے بارے میں تم سے اللہ کی بارگاہ میں باز پرس ہو گی۔‘‘ رسول پاک e کی سیرت طیبہ میں ایفائے عہد کو اولین حیثیت حاصل رہی۔ ہم مسلمان اور پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کے دعویدار بھی۔ عمران خان نے یہ بھی کہا تھا کہ ہم IMF کے پاس نہیں جائیں گے۔ ہم نے کشکول توڑ دیا ہے۔ جبکہ آئی ایم ایف سے مذاکرات کے بعد بہت سی شرائط پر اس نے قرضہ دینے کا وعدہ کر لیا ہے۔ نیز حکومت سعودی عرب‘ قطر‘ ورلڈ بنک‘ چین‘ ملائشیا وغیرہ سے دس ارب ڈالرز وصول ہو چکے ہیں۔ سعودی عرب نے ادھار کھاتے میں پٹرول کی ترسیل شروع کر رکھی ہے مگر یہاں چھ روپے فی لیٹر قیمت بڑھا کر عوام کو بری طرح زیر بار کر کے بہت سے سنگین مسائل سے دو چار کر دیا ہے۔
آئے روز بجلی اور گیس کے نرخوں میں بھی اضافہ کیا جا رہا ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ نے کہا ہے کہ ہم نے آئی ایم ایف کی شرائط کو تسلیم کر لیا ہے۔ اب ان شرائط کے حوالے سے مہنگائی مزید بڑھے گی۔ شاید حکومت کو اس کا احساس نہ ہو مگر حکومت ہی مہنگائی کی ذمہ دار ہو گی۔ اسے ایسے اقدامات بروئے کار لانے چاہئیں جن سے عوام سکون کاسانس لے سکیں۔ اس مقام پر یہ بھی ضروری ہے کہ عمران خان گذشتہ آٹھ ماہ کی اپنی کارکردگی کا جائزہ لیں‘ اس لیے کہ معزز عدلیہ نے بھی یہ ریمارکس دیئے ہیں کہ ’’حکومت کہاں سو رہی ہے؟‘‘ آخر میں ہم یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتے کہ معاشی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ در آمدات کم اور برآمدات کو بڑھایا جائے۔ ڈالر کی قیمت میں استحکام پیدا کیا جائے۔ اب صورت حال یہ ہے کہ آئے روز ڈالر کی قیمت بڑھنے سے چھوٹی صنعتیں دم توڑ رہی ہیں۔ خام مال کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور مصنوعات منافع بخش نہیں ہیں۔ جب دہقان کو کھیت سے روزی میسر نہیں ہو گی تو اس پر محنت کس طرح کرے گا؟!


No comments:

Post a Comment

View My Stats