خطبہ حرم 16-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Saturday, July 27, 2019

خطبہ حرم 16-2019


چند نصیحتیں اور یاد دہانیاں

امام الحرم المکی فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر صالح حُمَیدd
حمد و ثناء کے بعد!
لوگو! میں خود کو اور آپ سب کو اللہ سے ڈرنے کی نصیحت کرتا ہوں۔ اللہ آپ کی نگہبانی فرمائے! اللہ سے ڈرو۔ ایسے شخص کی صحبت سے بچو جس پر بھروسہ کیا جائے تو دھوکہ دیتا ہے، اگر اسے کوئی راز معلوم ہو جائے تو اسے فاش کر دیتا ہے اور اگر بے نیاز ہو جائے تو تعلق توڑ دیتا ہے۔ لوگوں کی قدر وقیمت ان کے مال اور عہدوں کی وجہ سے نہیں ہوتی، بلکہ ان کی قیمت دل کی نیکی، اچھے بول، بھلے کاموں اور دوسروں کی کوتاہیوں سے صرف نظر کی وجہ سے ہوتی ہے۔ انسان کی فضیلت کی وجہ مال داری نہیں بلکہ سخاوت ہے۔ اے اہل اسلام! ایک دوسرے پر رحم کرو۔ اختلافات میں نہ پڑو۔ نرمی اختیار کرو اور خشکی نہ دکھاؤ۔ جسے اللہ فتنوں سے محفوظ کر لیتا ہے، وہ پاکیزہ ترین انسان بن جاتا ہے، اسے شرح صدر نصیب ہو جاتا ہے اور اس کا بوجھ کم ہو جاتا ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:
جو لوگ ہماری خاطر مجاہدہ کریں گے انہیں ہم اپنے راستے دکھائیں گے، اور یقینا اللہ نیکو کاروں ہی کے ساتھ ہے۔‘‘ (العنکبوت)
اے مسلمانو! اس زندگی میں مسلمان کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ عمل کرتا رہے اور محنت کرے۔ اسے جتنی بھی سختیاں نظر آئیں اور جتنے بھی مشکل حالات سے گزرنا پڑے، بھر حال اسے یاد رکھنا چاہیے کہ بالآخر حق نے غالب ہونا ہے اور اہل ایمان کو سربلندی نصیب ہونی ہے۔  ارشاد ربانی ہے:
’’دل شکستہ نہ ہو، غم نہ کرو، تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو۔‘‘ (آل عمران)
حادثات اور واقعات کو ضرورت سے زیادہ اہمیت نہیں دینی چاہیے۔ انہیں راستے کی رکاوٹ یا روک دینے والی چیز نہیں بنانا چاہیے۔ صاحب توفیق وہی ہے جو ہر مشکل میں پیش قدمی کا موقع تلاش کرتا ہے اور ہر رکاوٹ میں سنجیدگی اور تجدید کی راہ نکالتا ہے۔ اے مؤمن! جنت شکر سلیمانی اور صبر ایوبی کے درمیان ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں نبیوں کے متعلق فرمایا:
’’بہترین بندہ، کثرت سے اپنے رب کی طرف رجوع کرنے والا۔‘‘ (صٓ)
یہ مت دیکھو لوگ تمہارے بارے میں کیا سوچتے ہیں، بلکہ یہ دیکھو کہ اللہ کے یہاں تمہارا کیا مقام ہے۔ دنیا کی فکر مت کرو، کیونکہ دنیا وآخرت اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے۔ رزق کی فکر نہ کرو، کیونکہ وہ اللہ کے یہاں طے شدہ ہے۔ مستقبل کی فکر بھی نہ کرو، کیونکہ وہ بھی اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اسباب پر عمل کرو اور اپنی خواہش کے مطابق نہیں، بلکہ حکمِ الٰہی کے مطابق ثابت قدم رہو۔ تمہارا دکھ کوئی دوست نہیں بانٹے گا، تمہارا درد کوئی طبیب یا حبیب برداشت نہیں کرے گا۔ اپنا خیال خود رکھ۔ اپنی ذمہ داری خود پوری کر۔ تمہارا رزق تمہارے علاوہ کوئی نہیں لے سکتا۔ تم مطمئن ہو جاؤ۔ تمہارا کام تمہارے سوا اور کوئی نہیں کرے گا۔ تو اس میں محنت کر۔ کوئی تمہاری جگہ نہیں لے گا، اللہ کے یہاں اپنے معاملات کے تم خود ذمہ دار ہو۔ جب تک انسان کے اندر استعداد اور قابلیت نہ ہو، بیرونی عوامل کا اس پر کوئی اثر نہیں ہو سکتا۔
’’حقیقت یہ ہے کہ اللہ کسی قوم کے حال کو نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے اوصاف کو نہیں بدل دیتی۔‘‘ (الرعد)
پیارے بھائیو! عمل کا میدان اور جنت کا راستہ، بہت طویل، کشادہ، آسان اور کھلا ہے۔ اس کی کوئی سرحد نہیں اور اس کا اندازہ لگانا ممکن نہیں۔ تو نیکی کرو، کیونکہ ہر شخص کے لیے وہ کام آسان بنا دیا گیا ہے جس کے لیے اسے پیدا کیا گیا تھا۔ یاد رکھو کہ مسجدیں مکمل ادارے ہیں اور ادارے بھی مساجد ہی ہیں۔ گھر تربیت گاہیں ہیں اور والدین، بالخصوص مائیں، اساتذہ، اہل فضل اور رہنما، سب کے سب معاشرے کے انتہائی معزز اور قابل قدر افراد ہیں۔
اصلاح کرنے والا با عمل انسان امت کی نیابت نہیں، بلکہ اس کی قیادت کرتا ہے۔ نیک کام تو گنتی سے بھی زیادہ ہیں۔ ان کی فضیلت اندازوں سے بالا تر ہے۔ ان کی تاثیر کو جاننا ممکن نہیں۔ وضو سے گناہ جھڑتے جاتے ہیں اور نیکیاں بڑھتی جاتی ہیں۔ مسجد کی طرف بڑھتے قدموں سے برائیاں مٹتی جاتی ہیں اور درجے بلند ہوتے جاتے ہیں۔ ارشاد نبویe ہے کہ اندھیروں میں مسجدوں کی طرف جانے والوں کو روزِ قیامت نورِ کامل کی بشارت دے دو۔ نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا ہی حقیقی پہرہ داری ہے۔
جتنا ہو سکے، قرآنی آیات کی تلاوت کرو اور ان پر غور وخوض کرو۔ نبی اکرمe کی احادیث کاایک حصہ روزانہ کی بنیادوں پر ضرور پڑھتے رہو۔ علم کی مجلسوں سے پیوستہ رہو۔ کسی محروم کے ہاتھ بھرو۔ کسی مصیبت زدہ کی مدد کرو۔ والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو۔ صلہ رحمی کرو۔ پرہیز گاروں کا ساتھ اپناؤ۔ اپنے بھائیوں کو سیدھا راستہ دکھاؤ۔ مریضوں کی عیادت کرو۔ دوسروں کو خوش کرو۔ عیبوں کی پردہ پوشی کرو۔ مظلوم کی نصرت کرو۔ دوسروں کو نصیحت کرو۔ گمراہ کو راہ دکھاؤ۔ دوسروں کو پانی ہی پلا دو۔ راستے سے اذیت ناک چیز ہٹا دو۔ اللہ کے سامنے گریہ زاری کرو۔ صبح وشام اور رات کے آخری پہر زبان پر اذکار جاری رکھو۔ دو لفظ ہیں جو زبان پر بڑے ہلکے ہیں، میزان میں بہت بھارے ہیں، رحمٰن کو بہت پسند ہیں۔ سبحان اللہ وبحمدہ، سبحان اللہ العظیم، (اللہ بہت پاکیزہ ہے، اسی کے لیے ساری تعریف ہے۔ عظیم اللہ بہت پاکیزہ ہے) حق کو زبان پر لا کر اور اس پر عمل پیرا ہو کر اسے زندہ کرو۔ باطن سے روک کر اور اسے چھوڑ کر اسے مار دو۔ بحث مباحثے سے پرہیز کرو۔ تم جو بھی بولو یا کرو، اسے اپنے خلاف نہیں، بلکہ اپنے حق میں گواہی دینے والا بناؤ۔ بھلائی کی کنجی اور برائی کا تالا بنو۔ یاد رکھو کہ سب سے پہلی رکاوٹ اور حوصلہ شکن جذبات نفس کی جانب سے آتے ہیں۔
’’یہ تمہارا کیا حال ہے کہ جب تم پر مصیبت آ پڑی تو تم کہنے لگے یہ کہاں سے آئی؟ حالانکہ (جنگ بدر میں) اس سے د و گنی مصیبت تمہارے ہاتھوں (فریق مخالف پر) پڑ چکی ہے۔ اے نبی! اِن سے کہو، یہ مصیبت تمہاری اپنی لائی ہوئی ہے۔‘‘ (آل عمران)
پیارے بھائیو! جو چیز مسلمان کو مشکل لگتی ہے، وہ اللہ کے یہاں آسان ہوتی ہے۔ جسے وہ بہت بڑا سمجھتا ہے، اللہ کے یہاں وہ بہت چھوٹا ہوتا ہے۔ جسے وہ سخت اور طاقتور سمجھتا ہے، اللہ کے یہاں وہ بہت ہلکا اور ضعیف ہوتا ہے۔ بندے کے ذمے تو صرف دستک دینا ہے۔ اللہ اپنی حکمت سے ٹوٹے دلوں کو جوڑ دیتا ہے، ضعیف کو طاقت سے نواز دیتا ہے۔ اللہ سے لگائی جانے والی کوئی امید نہیں ٹوٹتی، ہر سختی کے بعد آسانی ضرور آتی ہے۔ جب مولیٰ کریم اپنا دروازہ کھولتا ہے، تو خوب دیتا ہے۔ مؤمن کی امید کبھی نہیں ٹوٹتی، چاہے مایوسی کے اسباب بہت زیادہ ہی کیوں نہ ہو جائیں، کیونکہ وہ اللہ کی حکمتوں پر بھروسہ رکھتا ہے، چاہے وہ اس کی سمجھ سے بالا تر ہی کیوں نہ ہوں۔ بلکہ بعض بزرگ تو فرماتے ہیں: اگر دنیا کی مصیبتیں نہ ہوتیں تو ہم آخرت میں مفلس ہی رہتے۔
اے مسلمانو! اگر معاملہ ایسا ہی ہے تو مزید غور و خوض کے لیے اس شخص کے حال پر غور کیجیے جو بذات خود یہ سمجھتا ہے کہ وہ امت کے احوال کا فکر مند ہے۔ مگر جب بھی وہ بات کرتا ہے تو دوسروں کی ذمہ داریوں کے بارے میں بولتا ہے۔ چاہے وہ ذمہ دار چھوٹے ہوں یا بڑے۔ پھر اسے جہاں کوئی غلطی نظر آتی ہے، یا جس چیز کو بھی وہ غلط سمجھتا ہے اس کی وجہ انہیں ہی ٹھہراتا ہے۔ وہ اس دہری غفلت اور محدود نظر میں ایک بڑی ذمہ داری اور انتہائی اہم شرعی فریضے کو پس پشت ڈال دیتا ہے۔ وہ اپنی ذمہ داری، اپنے واجبات، اپنی صلاحیتوں، اپنے اندر موجود توانائی اور قابلیت کو پس پشت ڈال دیتا ہے۔ وہ دہری غفلت کا شکار یہ بھول جاتا ہے کہ دوسروں کی کوتاہیوں اور غلطیوں سے اس کا واجب ساقط نہیں ہو جائے گا۔ وہ اپنی شدید غفلت اور گہرے پردے کے پیچھے ہونے کی وجہ سے وہ اپنی ذمہ داریوں سے مشغول ہو جاتا ہے، اپنے کام میں کوتاہی کرتا ہے اور اپنے واجبات سے غافل ہو جاتا ہے۔ تم سب ذمہ دار ہو اور ہر ایک کو اس کی ذمہ داری کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ تم سب امت کی حفاظت کے لیے اپنا اپنا کردار ادا کر رہے ہو۔
پھر دیکھو اور غور کرو، کس طرح یہ شخص اپنی غفلت میں ڈوب جاتا ہے، لڑائیوں، جھگڑوں اور بحث مباحثے کا شکار ہو جاتا ہے اور اس طرح وہ خود بھی گمراہ ہو جاتا ہے اور دوسروں کو بھی گمراہ کرتا ہے۔
اے اللہ کے بندے! حق کی تلاش میں رہنا تمہاری ذمہ داری ہے۔ اس کے متعلق ثقہ علماء سے دریافت کرو۔ یاد رکھو کہ کسی چیز کاپھیل جانا، لوگوں میں عام ہو جانا اور ہر ایک کے عمل میں نظر آنا، اس کے جواز کی دلیل نہیں ہے، ان کے رنگ میں رنگ جانے کا بہانا نہیں۔ اس کی وجہ سے حق کی تلاش سے پیچھے نہیں رہنا چاہیے۔ سوشل میڈیا کی ہمت شکن پوسٹوں، مایوسی پھیلانے والے، شکوک وشبہات پیدا کرنے والے اور مسائل بڑھانے والے منشورات کی ضرورت سے زیادہ فالونگ نہیں کرنی چاہیے ۔ اپنے وقت کی حفاظت کرو۔ علم نافع حاصل کرو۔ نیک اعمال پر عمل پیرا رہو۔ وہ جھگڑے، لڑائیاں اور مباحثے، جو ہر جگہ نظر آتے ہیں، مسلمان کو ان کے پیچھے نہیں پڑنا چاہیے۔ انہیں اہل علم اور ذمہ داروں پر حملوں کا بہانہ نہیں بنانا چاہیے۔ صرف اُنہیں ان اختلافات کا ذمہ دار نہیں ٹھہرانا چاہیے کیونکہ ہر کوئی ذمہ دار ہے۔ بعض لوگوں کی مبالغہ آرائی، تساہل یا کوتاہی دین اور اس کے احکام پر حملے کو جائز نہیں کرتے۔ اعتدال پسندانہ رویہ ہر اس شخص کے لیے واضح اور ظاہر ہے جس کی نیت اچھی ہو، ارادہ نیک ہو، اعمال صالح ہوں اور جس کا اللہ پر بھروسہ ہو۔
اللہ کے بندو! ایمان، صبر اور توکل ثابت قدمی کا قلعہ ہیں۔ آزمائش جتنی بڑی ہو گی، اجر اتنا ہی زیادہ ہو گا۔ نبی اکرمe نے اپنے چچا عباسt بن عبد المطلب کو خوب نصیحت فرمائی تھی کہ ’’چچا! اللہ سے دنیا وآخرت میں عافیت کا سوال کرو، جو نیکیوں پر قائم ہے، وہ اللہ کا شکر ادا کرے، تاکہ اسے مزید نیکیوں کی توفیق ملے اور جو برائیوں میں لگ گیا ہو، وہ معافی مانگے اور توبہ کرے، کیونکہ توبہ پچھلے گناہوں کو مٹا دیتی ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:
’’پھر کیا تم لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ یونہی جنت کا داخلہ تمہیں مل جائے گا، حالانکہ ابھی تم پر وہ سب کچھ نہیں گزرا، جو تم سے پہلے ایمان لانے والوں پر گزر چکا ہے؟ اُن پر سختیاں گزریں، مصیبتیں آئیں، ہلا مارے گئے، حتیٰ کہ وقت کارسول اور اس کے ساتھی اہل ایمان چیخ اٹھے کہ اللہ کی مدد کب آئے گی اُس وقت انہیں تسلی دی گئی کہ ہاں اللہ کی مدد قریب ہے۔‘‘ (البقرۃ)
دوسرا خطبہ
حمد وصلوٰۃ کے بعد:
اے مسلمانو! انسان کو جتنی بھی سختیاں جھیلنا پڑتی ہیں، مصیبتیں اور تنگیاں دیکھنا پڑتی ہیں، بعد میں یہ سب بھول جاتی ہیں۔ حدیث میں ہے: ایسے جنتی کو لایا جائے گا جو دنیا میں سب سے زیادہ مصیبتیں دیکھ چکا ہو گا۔ اسے جنت کا ایک چکر لگوایا جائے گا اور پھر پوچھا جائے گا: اے ابن آدم! کیا تو نے کبھی کوئی مصیبت دیکھی ہے؟ کبھی تم پر سختی بھی آئی ہے؟ وہ کہے گا: نہیں! اللہ کی قسم! اے میرے پروردگار! میں نے نہ کبھی مصیبت دیکھی ہے اور نہ کبھی سخت دن دیکھے ہیں۔ مختلف ادوار اور ممالک میں جو دشمنوں کا تسلط نظر آتا ہے، جہاں وہ باطل کو اتنا پھیلا دیتے ہیں کہ وہ خود کو فاتح تصور کرنے لگتے ہیں، یہ سب اسی لیے ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کا امتحان لے لے۔ ایسے حالات میں اہل ایمان جان لیتے ہیں کہ وہی صحیح راستے پر ثابت قدم ہیں اور جنت کے مشکل راستے پر گامزن ہیں۔
’’اِس وقت اگر تمھیں چوٹ لگی ہے تو اس سے پہلے ایسی ہی چوٹ تمہارے مخالف فریق کو بھی لگ چکی ہے‘ یہ تو زمانہ کے نشیب و فراز ہیں جنہیں ہم لوگوں کے درمیان گردش دیتے رہتے ہیں تم پر یہ وقت ا س لیے لایا گیا کہ اللہ دیکھنا چاہتا تھا کہ تم میں سچے مومن کون ہیں، اور ان لوگوں کو چھانٹ لینا چاہتا تھا جو واقعی (راستی کے) گواہ ہوں کیونکہ ظالم لوگ اللہ کو پسند نہیں ہیں اور وہ اس آزمائش کے ذریعہ سے مومنوں کو الگ چھانٹ کر کافروں کی سرکوبی کر دینا چاہتا ہے۔‘‘ (آل عمران)
اے اللہ! رحمتیں، برکتیں، اور سلامتیاں نازل فرما اپنے بندے اور رسول، حبیب مصطفیٰ، نبی مجتبیٰe پر، پاکیزہ اہل بیت پر، آپe کی بیویوں اور امہات المؤمنین پر۔ اے اللہ! چاروں خلفائے راشدین، ابو بکر، عمر، عثمان اور علی، تمام صحابہ کرام اور تابعین عظام اور قیامت تک ان کے نقش قدم پر چلنے والوں سے راضی ہو جا! اے سب سے بڑھ کر کرم فرمانے والے! اپنے رحم وکرم اور احسان سے ہم سب سے بھی راضی ہو جا!


No comments:

Post a Comment