خطبہ حرم 17-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Saturday, July 27, 2019

خطبہ حرم 17-2019


سعودی عرب اور پاکستان کے دیرینہ تعلقات

امام الحرم المکی فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبداللہ عواد الجہنیd
حمد و ثناء کے بعد!
توحید اللہ کا حق ہے جس کی ادائیگی ہر بندے پر فرض ہے۔ یہی وہ مضبوط بنیاد ہے جس پر شاہ عبد العزیز بن عبد الرحمٰن الفیصلa کے دور میں سعودی عرب قائم ہوا اور پھر اس کی نیک اولاد کے ادوار میں قائم رہا اور اب اللہ! خادم حرمین کو طویل زندگی عطا فرمائے اور انہیں دین اسلام کرنے کی توفیق عطا فرمائے، ان کے دور میں بھی قائم ہے۔ یہ ایک مضبوط درخت ہے جس کی بنیاد انتہائی مضبوط اور شاخیں آسمان میں پھیلی ہوئی ہیں۔ یہ بنیاد توحید کی بنیاد ہے اور پھل لوگوں کو فائدہ پہنچانے والی چیزیں ہیں۔ کلمہ توحید لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ ہے۔ یہی اللہ سے محبت کا ذریعہ ہے، یہی قربِ الٰہی کمانے کا طریقہ ہے، اسی عقیدے کے مطابق عمل ہونا چاہیے اور اسی پر جان نچھاور ہونی چاہیے۔ یہ وہ پرچم ہے جس سے قومیں زندہ اور امن وامان میں رہتی ہیں اور ایسی ہی قوموں سے اللہ بھی راضی ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ سعودی عرب کی نگہبانی فرمائے۔ اس نے توحید کو اپنا منہج بنایا ہے۔ شریعت نافذ کی ہے۔ اسی منہج سے قومیں زندہ اور خوش رہتی ہیں۔ سعودی عرب نے انسانیت کی علمی اور عملی خدمت کو ہمیشہ اپنا شعار رکھا ہے۔
اسلامی جمہوریہ پاکستان کا حال بھی اس سے کچھ مختلف نہیں۔ اس کا نام، اس کے حال کے عین مطابق ہے۔ الحمد للہ! یہ بھی توحید کے نام پر بنا، اس کا علم سر بلند کرنے اور اس کی حفاظت کرنے کے لیے قائم ہوا۔ اہل پاکستان کے چہروں، دلوں اور کاموں میں یہ چیز واضح طور پر نظر آتی ہے۔ میں اللہ سے دعا گو ہوں کہ وہ پاکستان کو اپنی نگہبانی اور امن میں رکھے۔ آمین!
اے مسلمانو! پاکستان پر اور اس احوال پر غور کرنے والے کو با آسانی معلوم ہو جاتا ہے کہ اس کا شعار توحید ہے۔ ہر قریب اور بعید کو عیاں طور پر نظر آتا ہے۔ یہ سرزمین بھی لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ پر قائم ہوئی۔ یہ ایک بابرکت سرزمین ہے جس کی حکومت اور عوام کی اللہ تعالیٰ نے بڑی تکریم فرمائی ہے، انہیں اپنی محبت نصیب فرمائی، اپنے دین کی نصرت اور توحید کے لیے کام کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔ بس یہی نہیں، بلکہ اس ملک کے دستور میں اسلامی شعائر کی تعظیم بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ ملک اسلامی شعائر کی خدمت کرتا ہے، ان کی حفاظت اور نگہبانی کرتا ہے۔ یہ ہماری آسان شریعت کے احکام پر اور سنت نبی کریمe کے منہج پر قائم ہے۔ اس کا پیغام لوگوں کے لیے سکینت اور اطمینان کا پیغام ہے۔
اے پاکستان کے لوگو! اے پاکستان کے لوگو! اے بھلے لوگو! اے امن اور ایمان والو! اے اللہ سے محبت رکھنے والو! اے نبی اکرمe کے نقش قدم پر چلنے والو! اللہ نے آپ پر خاص احسان کیا ہے اور آپ کو حافظ اور قاری کے القاب سے نوازا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
’’جو زمین اچھی ہوتی ہے وہ اپنے رب کے حکم سے خوب پھل پھول لاتی ہے اور جو زمین خراب ہوتی ہے ا س سے ناقص پیداوار کے سوا کچھ نہیں نکلتا‘ اس طرح ہم نشانیوں کو بار بار پیش کرتے ہیں اُن لوگوں کے لیے جو شکر گزار ہونے والے ہیں۔‘‘ (الاعراف: ۵۸)
اللہ مجھے اور آپ کو قرآن عظیم کے ذریعے برکت عطا فرمائے! اس کی آیات اور ذکر حکیم سے فائدہ حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ سید المرسلینe کی تعلیمات اور آپ کی حکمت بھری باتوں سے فیض یاب فرمائے۔ میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں۔ اپنے لیے، آپ کے لیے اور تمام مسلمانوں کے لیے اللہ سے ہر گناہ سے معافی مانگتا ہوں۔ آپ بھی اسی سے معافی مانگیے۔ یقینًا وہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔
دوسرا خطبہ
حمد وصلوٰۃ کے بعد:
اس بابرکت ملک نے دہشتگردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے قائم ہونے والے اسلامی عسکری اتحاد کا حصہ بن کر وسطیت اور اعتدال پر قائم ہونے کا ثبوت دیا ہے۔ اس اتحاد کا ایک ثمرہ یہ ہے کہ سعودی عرب اور پاکستان کی قیادتوں میں مکمل تعاون سامنے آ جائے گا۔ ہم مکمل طور پر اُس بات کو سمجھتے ہیں جس کی یقین دہانی پاکستانی قیادت اور پاکستانی عوام نے کرائی ہے کہ وہ مکمل طور پر سرزمین حرمین کے دفاع کے لیے تیار ہیں۔ الحمد للہ! الحمد للہ! سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان، عسکری، معاشی اور دیگر اہم میدانوں میں بڑھتا ہوا تعاون نظر آ رہا ہے۔ اس بات کی اس سے بڑھ کر اور کیا دلیل ہو سکتی ہے کہ سعودی عرب کے ولی عہد عالی جاہ جناب امیر محمد بن سلمان بن عبد العزیز حفظہ اللہ نے خود یہاں کا دورہ کیا۔ یقینا! یہ دونوں ملکوں کی دوستی تعاون کی بہترین مثال ہے۔
اے اللہ! ہمیں ہمارے ملکوں میں امن نصیب فرما! ہمارے اماموں اور حکمرانوں کی اصلاح فرما! حق کے ساتھ ہمارے امام اور حکمران کی تائید فرما! اے اللہ! اسے ہدایت کے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرما اور اس کے کام اپنی خوشی کے مطابق بنا۔ صحت وعافیت کی پوشاک اسے ہمیشہ پہنائے رکھنا۔ اے اللہ! اے پروردگار عالم! اسے اور اس کے نائب کو ان کاموں کی توفیق عطا فرما جن میں ہر جگہ اسلام اور مسلمانوں کا بھلا ہو۔


No comments:

Post a Comment