منزل کی تمنا ہے تو کر جہد مسلسل 17-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Saturday, July 27, 2019

منزل کی تمنا ہے تو کر جہد مسلسل 17-2019


منزل کی تمنا ہے تو کر جہد مسلسل

سینئر نائب ناظم اعلیٰ مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان مولانا محمد نعیم بٹ میانوالی میں

مرکزی جمعیت واہل حدیث یوتھ فورس ضلع میانوالی کے زیر اہتمام مرکز اہل حدیث میانوالی میں تنظیمی تربیتی اجلاس منعقد ہونا طے تھا۔ جس کی اطلاع اور دعوت نامے بروقت ذمہ داران کو پہنچ گے تھے۔ مرکز کی طرف سے سنیئر نائب ناظم اعلیٰ مولانا محمد نعیم بٹ اور نائب ناظم مرکزیہ حافظ محمد یونس آزاد اجلاس میں شرکت فرما رہے تھے جو کہ ما شاء اللہ قبل از وقت ہی مرکز اہل حدیث میں تشریف لے آئے۔ نماز عصر کی امامت حافظ محمد یونس آزاد نے کروائی۔ نماز عصر کے بعد اجلاس کی باقاعدہ کارروائی کا آغاز حافظ جابر مدنی صدر AYF میانوالی کی تلاوت قرآن مجید سے ہوا۔ پروفیسر محمد خالد مدیر مرکز اہل حدیث نے کارروائی کو آگے بڑھاتے ہوئے نائب ناظم مرکزیہ حافظ محمد یونس آزاد کو گفتگو کی دعوت دی۔ بعد از حمد وصلوٰۃ انہوں نے کہا کہ دنیا کا نفیس ترین مسلک اہل حدیث ہے‘ اس لیے کہ کتاب وسنت کا مطلب مسلک اہل حدیث ہے‘ اس کی اساس اللہ کا قرآن اور نبی کریم کا فرمان ہے۔ ذاتی پسند اور ناپسند اور خواہشات کا ترک کر دینا‘ غمی‘ خوشی‘  عبادات ہر لمحہ قرآن وسنت سے رہنمائی حاصل کرنا مسلک اہل حدیث ہے۔ یہ تو ممکن ہے کہ عملی طور پر ذاتی کسی سے کوتاہی ہو سکتی ہے مگر مسلک میں ہرگز نہیں۔ لہٰذا ہماری ذمہ داری ہے کہ دعوت کو نفیس انداز میں فلاح انسانیت کے لیے اعلیٰ نشر واشاعت کے ذریعے آگے لے کر چلیں۔ ایک پلیٹ فارم مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کو مضبوط کریں اور تنظیمی طور پر ایک قوت بن کر دعوت کو پھیلائیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر تنظیم سازی نہ ہو تو فتوحات‘ توحید کا پرچار‘ فتح قیصر وکسریٰ نہ ہوتے۔ حافظ محمد یونس آزاد نے کہا کہ جیسے ہمارا مسلک اہل حدیث نفیس ہے ایسے ہی ہمارا اسٹیج مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان نفیس ہے۔ یہ اندرونی وبیرونی تسلط ودباؤ سے پاک ہے۔ اپنی ہر پألیسی میں قرآن وسنت کے سوا کسی کی پابند نہیں۔ اپنی مرکزی مجلس شوریٰ کے فیصلوں پر عمل پیرا ہے۔ کسی ادارہ یا غیر ملکی قوتوں سے ڈکٹیشن کی قطعاً ضرورت نہ ہے۔ جیسا کہ آپ کئی تنظیموں کو دیکھ رہے ہیں کیسے خوار ہو رہی ہیں اورا پنے کیے پر پچھتا رہے ہیں۔ سینئر نائب ناظم اعلیٰ مولانا محمد نعیم بٹ نے اپنی گفتگو کا آغاز درود وسلام سے کرتے ہوئے {لَیْسَ لِلْاِنْسٰنِ اِلَّا مَا سَعٰی} کی تفسیر پیش کی۔ ایک خوبصورت مثال کے ذریعے احباب کی توجہ احساس ذمہ داری کی طرف مبذول کروائی۔ کہا کہ ایک بادشاہ نے اپنے ملازموں کو حکم دیا کہ آج میں کسی بیوقوف آدمی سے ملنا چاہتا ہوں۔ تلاش کر کے لاؤ اور مجھے ملواؤ۔ چنانچہ لایا گیا‘ بادشاہ نے اس سے کچھ دیر گفتگو کی اور خوش ہو کر اسے ایک قیمتی ہار انعام میں بطور تحفہ دیا کہ واقعی یہ آدمی احمق اور بیوقوف ہے۔ وزراء نے دیکھا کہ اس آدمی کو بادشاہ نے ہار گلے میں پہنایا ہے تو وہ اسے بڑی عزت سے رخصت کر آئے۔ کچھ عرصہ بعد اسی شخص نے سنا کہ ملک کا بادشاہ بیمار ہے سوچا کہ کیوں نہ اس کی تیمار داری کر آؤں؟ بادشاہ نے مجھے انعام سے نوازا تھا لہٰذا عیادت ضروری ہے۔ پہنچا‘ حال احوال دریافت کیا۔ بادشاہ نے کہا کہ حال کیا ہے بس بیماری طول پکڑ گئی ہے۔ اب تو اگلی منزل ہی ٹھکانہ ہے۔ چلو چلی کا وقت ہے۔ اس شخص نے پوچھا: بادشاہ سلامت واپسی کب ہو گی؟ بادشاہ نے جواب دیا کہ وہاں سے کبھی کوئی واپس نہیں آیا۔ اب واپسی ناممکن ہے۔ اس نے سوال کیا: پھر تو آپ نے اس اگلی منزل کے لیے بہت تیاری کی ہو گی جہاں سے واپسی ناممکن ہے؟ کہا نہیں وہاں کے لیے تو میری کوئی تیاری نہیں‘ بھولا ہی رہا۔ بادشاہ نے جس شخص کو بیوقوف سمجھ کر ہار گلے میں پہنایا تھا اس نے فورا ہار اتارا اور بادشاہ کے گلے میں ڈال دیا۔ کہا: مجھے تو آپ سے زیادہ کوئی بیوقوف معلوم نہیں ہوتا یہ ہار آپ کا حق ہے۔ اس عارضی زندگی کے لیے اتنی فکر اور انتظام اور اس اگلی زندگی کے لیے کوئی تیاری نہیں اور واپس چل دیا۔ بادشاہ کے پاس سوائے رونے اور افسوس کے کوئی چیز نہ تھی۔ اس مثال کے بعد مولانا محمد نعیم بٹ نے کہا کہ غور کریں‘ سب مل کر سوچیں کہ ہم بھی اس بادشاہ کی طرح زندگی تو بسر نہیں کر رہے؟ اللہ کریم نے ہمیں اپنی نعمت دین اسلام سے نوازا۔ سچی شرعی پاکیزہ سوچ دی۔ شورائی نظام والی جماعت اور پلیٹ فارم دیا۔ اچھی قیادت دی تو پھر ہم اپنے فرائض کی ادائیگی میں سستی کیوں کریں؟ علم حق کو لہرانے میں کوتاہی کیوں کریں؟ جماعتی پالیسی کے پرچار سے کیوں ہچکچائیں؟ اٹھو کہ ہم سب کا آپس میں روحانی رشتہ‘ ایک زنجیر کی کڑیاں ہیں۔ باہم مل کر مرکزی جمعیت واہل حدیث یوتھ فورس کے پلیٹ فارم کو مضبوط تر بنائیں اور کتاب وسنت کی تعلیم کو خوب پھیلائیں تا کہ اگلی منزل کی کامیابی کے لیے تیاری مکمل ہو سکے۔ قرآن وسنت کی چوکیداری میں ہی فلاح وکامرانی ہے۔ آخر میں انہوں نے ضلعی جماعت کا شکریہ ادا کیا کہ مختصر نوٹس پر ما شاء اللہ اتنا بھر پور اجلاس ذمہ داران‘ عہدیداران‘ علماء وخطباء تشریف فرما ہیں اور نوجوان قیادت نے بھی خصوصی دلچسپی لی ہے سب کے لیے اللہ کے حضور دعا گو ہوں۔ اجلاس کا اختتام مولانا شفیع اللہ سلفی سابق امیر ضلع میانوالی کی دعائے خیر پر ہوا جبکہ اجلاس کی صدارت میاں محمد اکرم امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث ضلع میانوالی نے فرمائی۔ اجلاس میں حافظ عبدالقدوس ناظم ضلع میانوالی‘ حافظ جابر مدنی صدر AYF محمد بشیر خان امیر تحصیل میانوالی‘ قاری جاوید صدیقی ناظم تبلیغ‘ قاری محمد ایوب ناظم مالیات‘ محمد عارف ناظم خدمت خلق‘ پروفیسر محمد خالد‘ محمد احسان کے علاوہ بیالیس عہدیداران وذمہ داران نے شرکت کی۔


No comments:

Post a Comment

View My Stats