آہ ... مولانا عبدالمجید محمود کوٹی 17-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Saturday, July 27, 2019

آہ ... مولانا عبدالمجید محمود کوٹی 17-2019


آہ ... مولانا عبدالمجید محمود کوٹی

تحریر: جناب حافظ ریاض احمد عاقب
مرکزی جمعیت اہل حدیث ضلع ملتان کے ناظم علامہ عنایت اللہ رحمانی کے والد گرامی مولانا حکیم عبدالمجید محمود کوٹی ۱۱ فروری ۲۰۱۹ء بروز سوموار بقضائے الٰہی وفات پا گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!
موت ایک اٹل حقیقت ہے جس سے کسی کو استثناء حاصل نہیں‘ جو دنیا میں آیا ہے اس نے وقت مقررہ پر رب کے حضور پیش ہونا ہے۔ اس دنیا فانی میں لاکھوں‘ کروڑوں لوگ آئے بالآخر وہ اس دنیا سے کوچ کر گئے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا نظام ہے جو قیامت تک جاری رہے گا۔ دنیا سے جانے والے بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کے اُٹھ جانے سے بڑا خلا پیدا ہوتا ہے اور ان کی یادیں انمٹ ہوتی ہیں۔ ایسے ہی افراد میں مولانا حکیم عبدالمجید محمود کوٹی تھے۔ مولانا موصوف ایک سادہ مزاج عالم دین‘ باوقار واعظ اور مخلص مدرس تھے جنہوں نے ساری زندگی دینی اور تبلیغی خدمات میں بسر کی۔ آج سے تقریبا دس سال قبل جب راقم نے مولانا عبدالتواب محدث ملتانیa کی سوانح عمری مرتب کرنے کا آغاز کیا تو مجھے معلوم ہوا کہ مولانا ملتانی کے شاگردوں میں حکیم عبدالمجید صاحب حیات ہیں۔
چنانچہ راقم نے ۲۳ اپریل ۲۰۰۹ء بروز جمعرات حکیم صاحب سے ان کے علاقے قصبہ محمود کوٹ ضلع مظفر گڑھ جا کر ملاقات کی۔ یہ قصبہ مظفر گڑھ میں بجانب مغرب بیس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ نماز ظہر مولانا کے قائم کردہ مدرسہ عربیہ محمودیہ میں ادا کرنے کے بعد ان سے طویل مجلس ہوئی جس میں راقم نے ان کا انٹرویو لیا۔ اس کی تفصیل مولانا عبدالتواب محدث ملتانی (ص ۱۴۰-۱۴۹) میں دیکھی جا سکتی ہے۔ راقم کی کتاب پڑھ کر جماعت کے معروف عالم دین شیخ الحدیث مولانا ابراہیم بھٹی آف کراچی اور جامعہ سلفیہ فیصل آباد کے مدرس اور ہمارے دوست مولانا فاروق الرحمن یزدانی نے محمود کوٹ کا باقاعدہ سفر کیا اور مولانا حکیم عبدالمجید محمود کوٹی سے اجازۂ حدیث اخذ کی۔ چونکہ حکیم صاحب مولانا عبدالتواب محدث ملتانی کے شاگرد تھے اسی نسبت سے ان حضرات نے حکیم صاحب سے اجازۂ حدیث حاصل کی۔ مولانا موصوف ۱۹۲۶ء کے پس وپیش بستی کدنہ ضلع مظفر گڑھ میں مولانا محمدمحمود کے گھر پیدا ہوئے۔مولانا محمد محمود آل انڈیا اہل حدیث کانفرنس کے مبلغ وواعظ تھے جو مختلف مقامات پر دینی وتبلیغی خدمات انجام دیتے رہے۔ حکیم صاحب نے ابتدائی تعلیم اپنے والد گرامی سے حاصل کی۔ بعد ازاں وہ مولانا عبدالتواب محدث ملتانی کی خدمت میں ملتان حاضر ہوئے۔ مولانا عبدالتواب ملتانی ان دنوں محلہ قدیر آباد میں فروکش تھے۔ ان کے پاس بیرونی طلبہ بھی زیر تعلیم تھے۔ حکیم صاحب نے مولانا ملتانی سے قرآن مجید کا پہلا پارہ پڑھا اور ان کی علمی مجالس سے مستفید ہوئے۔
بعد ازاں ملتان کی مشرقی جانب وہاڑی روڈ پر واقع بستی چٹھہ میں مولانا حافظ عبدالبر ملتانی برادر صغیر مولانا عبدالتواب ملتانی سے قرآن حکیم کی تکمیل کی۔ ان دنوں آپ کے والد محترم مولانا محمد محمود ’’بستی مان والا‘‘ میں امامت وخطابت کے فرائض انجام دیتے تھے۔ حکیم صاحب نے مولانا شجاع آبادی سے دینی تعلیم حاصل کی اور حکیم عبدالرحیم سے طبابت کا کورس مکمل کیا۔ طبابت کا کورس مکمل کرنے کے بعد مولانا عبدالمجید اپنے علاقے میں واپس لوٹ آئے اور اپنے والد کی خدمت میں مصروف رہے۔
۱۹۵۳ء کے پس وپیش اپنے والد کی وفات کے بعد بستی کدنہ کی سکونت ترک کر کے قصبہ محمود کوٹ آبسے اور یہیں آکر رشتۂ ازدواج سے منسلک ہوئے۔ ان دنوں قصبہ محمود کوٹ میں صرف ایک دو گھر اہل حدیث تھے جن میں چوہدری نتھو خان اور چوہدری محمد شعیب قابل ذکر ہیں۔ مولانا حکیم عبدالمجید کے بقول قصبہ میں کوئی اہل حدیث مسجد نہ تھی وہ دیوبندیوں کی مسجد میں نماز پڑھتے تھے لیکن بعض مسائل کے تنازعہ پر ان سے الگ ہو گئے اور محمود کوٹ میں برلب سڑک مسجد کے لیے جگہ خریدی اور مسجد تعمیر کی۔ بعد ازاں اسی جگہ مولانا موصوف نے اپنے رفقاء جماعت سے مل کر اپنے والد مولانا محمد محمود کوٹی کے نام پر مسجد عربیہ محمودیہ کی بنیاد رکھی اور یہاں ابتدائی طور پر شعبہ تحفیظ القرآن کی کلاس کا اجراء کیا۔ مولانا حکیم عبدالمجید صاحب ایک متحرک اور زندہ دل شخصیت کے مالک تھے۔ انہوںنے مسجد ومدرسہ کی تعمیر کے بعد اس علاقے میں قرآن وسنت کی نشر واشاعت کے لیے سالانہ کانفرنسز کا آغاز کیا۔ ہر سال ۱۹۶۰ء سے لے کر ۱۹۸۰ء تک باقاعدہ اس جگہ کانفرنس منعقد ہوتی تھی اور بڑے بڑے علمائے کرام اس کانفرنس میں اسٹیج کی رونق ہوتے تھے جن میں علامہ بدیع الدین شاہ راشدی‘ مولانا سلطان محمود محدث جلال پوری‘ مولانا ملک عبدالعزیز مناظر ملتانی‘ مولانا معین الدین لکھوی‘ مولانا حافظ اسماعیل ذبیح‘ مولانا عبدالقادر روپڑی‘ مولانا ابراہیم کمیرپوری‘ مولانا عبداللہ گورداس پوری‘ مولانا عبدالرزاق ہاشمی‘ مولانا شمس الحق افغانی‘ مولانا حافظ یحییٰ میر محمدی‘ مولاناابوحفص عثمانی‘ مولانا محمد رفیق مدن پوری‘ مولانا عبدالرشید صدیقی اور مولانا محمد حسین شیخوپوریS قابل ذکر ہیں۔
اس کانفرنس کے دور رس اثرات ظاہر ہوئے۔ مسلک قرآن وسنت کی خوب اشاعت ہوئی۔ اکثر لوگ بدعتی عقائد سے تائب ہو کر اہل توحید بن گئے۔ حکیم صاحب طبابت کے ساتھ اس جگہ خطابت کے فرائض بھی انجام دیتے تھے۔ ان کی دیرینہ خواہش تھی کہ اس جگہ شعبہ درس نظامی کا بھی آغاز کیا جائے۔ بالآخر ۲۰۰۷ء میں ان کی یہ خواہش بھی پوری ہوئی۔ مدرسہ عربیہ محمودیہ میں شعبہ علوم اسلامیہ کا آغاز ہوا اور طلبہ اس ادارے میں پڑھنے لگے۔ راقم جن دنوں موصوف سے انٹرویو لینے گیا تھا ان دنوں مولانا نے پیرانہ سالی کی وجہ سے خطابت وامامت کے فرائض چھوڑے ہوئے تھے۔ وہ پیرانہ سالی کے باوجود بڑے چوکس اور متحرک تھے۔ اپنے ادارہ کا خیال رکھتے تھے۔ مولانا گرامی نے اپنی زندگی کا اکثر حصہ دینی خدمات میں گذارا۔ مولاناکے فرزند ارجمند مولانا عنایت اللہ رحمانی ملتان میں رہائش پذیر ہیں۔ ان کے بقول ہم نے کافی دفعہ ابوجان سے فرمائش کی کہ اب آپ ہمارے پاس ملتان تشریف لے آئیں لیکن انہوں نے دیہی زندگی کو ہمیشہ ترجیح دی۔ وہ بڑے سادہ مزاج اور درویش صفت انسان تھے۔ اہل علاقہ بھی ان کے بڑے مداح ہیں۔ انہوں نے کبھی کسی کو اپنی مسجد میں آنے سے نہیں روکا۔ ان کا کہنا تھا کہ مسجد اللہ کا گھر ہے یہاں کسی کو آنے کی روک ٹوک نہیں۔
مولاناموصوف کو اللہ تعالیٰ نے دو بیٹے اور چار بیٹیاں عطا کیں۔ آپ کے بڑے فرزند ارجمند مولانا عنایت اللہ رحمانی جو عالم فاضل شخصیت ہیں اور دینی پروگراموں میں متحرک ہیں وہ قصبہ محمود کوٹ میں ہی عربی ٹیچر ہیں اور عرصہ دراز سے مرکزی جمعیت اہل حدیث ملتان کے ناظم ہیں۔ آگے ان کی اولاد میں قاری ہدایت اللہ رحمانی یوتھ فورس ضلع ملتان کے جنرل سیکرٹری ہیں۔ اور دوسرے بیٹے قاری محمد عبداللہ شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ان کے کالم روزنامہ پاکستان میںشائع ہوتے رہتے ہیں۔ حکیم صاحب کے دوسرے فرزند حکیم عبیداللہ ہیں جو بڑے شریف النفس شخصیت کے مالک ہیں۔ وہ والد صاحب کی جگہ طب کا پیشہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ حکیم صاحب کے سگے بھتیجے مولانا عبدالرحمن شاہین صاحب۔ جن کا ملتان میں جامعہ اسلامیہ کے نام سے ایک دینی ادارہ ہے وہاں کے وہ مہتمم اور شیخ الحدیث ہیں۔ غرض مولانا حکیم عبدالمجید محمود کوٹیa کا سارا خاندان دینی خدمات میں سرگرم ہے۔ اللہ تعالیٰ مولانا گرامی کی دینی وتبلیغی خدمات قبول فرمائے اور ان کے لیے ذخیرۂ آخرت بنائے۔ مولانا کے جنازے میں کثیر تعداد میں علمائے کرام‘ طلبہ مدارس اسلامیہ کے علاوہ زندگی کے ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے شرکت کی۔ نماز جنازہ ان کے فرزند ارجمند مولانا عنایت اللہ رحمانی نے پر سوز آواز میں پڑھائی‘ بعد ازاں اس ممتاز عالم دین کو قصبہ محمود کوٹ کے قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔


No comments:

Post a Comment