اسلام مساوات، رواداری اور امن کا علمبردار ہے 17-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Saturday, July 27, 2019

اسلام مساوات، رواداری اور امن کا علمبردار ہے 17-2019


پاکستانی قوم فوج اور حکومت کو دہشت گردی کی لعنت پر قابو پانے پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ امام کعبہ
لاہور (۱۶ اپریل ۲۰۱۹ء بروز منگل) امام کعبہ الشیخ ڈاکٹر عبداللہ بن عواد الجہنیd نے کہا ہے کہ اسلام مساوات ،رواداری اور امن کا علمبردار ہے، دین میں غلو اور شدت پسندی کی کوئی گنجائش نہیں، پاکستانی قوم‘ فوج اور حکومت کو دہشت گردی کی لعنت پر قابو پانے پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔
مرکز اہل حدیث راوی روڈ لاہور میں پیغام قرآن ٹی وی  کے افتتاح کے موقع پر منعقدہ تقریب میں سورہ بقرہ کی تلاوت سے اپنی گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے امام حرم کعبہ الشیخ ڈاکٹر عبد اللہ بن عواد الجہنیd کا کہنا تھا کہ سعودی عرب اور پاکستان یک جان دوقالب ہیں، علماء کو نفرتیں ختم کرکے بھائی چارے کی فضا کے لیے کردار ادا کرنا،مسلکی اور فرقہ وارانہ اختلافات ختم کرکے متحد ہو نا ہو گا ۔انہوں نے کہا کہ قران ٹی وی کا اجراء خوش آئند ہے،پروفیسر ساجد میر اور انکی جماعت کی تبلیغی و رفاہی خدمات ناقابل فراموش ہیں، پاکستان کی سلامتی دینی قوتوں کی کامیابی کے لیے دعاگو ہیں۔راوی روڈ میں منعقدہ تقریب سے قبل امام کعبہ الشیخ ڈاکٹر عبد اللہ بن عواد الجہنی نے نماز عصر کی امامت فرمائی، شہر لاہور اور گرد و نواح سے ہزاروں شہریوں نے امام بیت اللہ کی اقتدا میں نماز عصر ادا کی،اس موقع پر سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کئے گئے تھے اور پولیس کی بھاری نفری نے مرکز اہل حدیث کے چاروں طرف حصار قائم کیے رکھا ۔ امام کعبہ شیخ عبداللہ عواد الجہنیd نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ علماء نے اللہ کے بندوں کو آپس میں جوڑنا ہے، آپ لوگوں کو جو بھی فتویٰ دیں حق اور سچ پر مبنی ہونا چاہیے۔
اما م کعبہ عبداللہ عواد الجہنیd نے تقریب میں دل گداز انداز میں تلاوت کلام پاک کی اور اتحاد امت کے موضوع پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہاکہ علماء نے اللہ کے بندوں کو آپس میں جوڑنا ہے، علماء نے صبر و یقین سے امت کی رہنمائی کرنی ہے، علمانے ہر دور میں علم پہنچایا، لوگوں کو جو بھی فتویٰ دیں وہ حق اور سچ پر مبنی ہونا چاہیے۔ مسلمانوں کو اتحاد کی شدید ضرورت ہے۔سعودی سفیر نے کہا کہ مسلمانوں میں دہشت گردی کے عفریت میں پھنسنے کا سبب نا اتفاقی ہے، ایسے وقت میں علماکا کردار بہت اہم ہے۔
امام کعبہ ڈاکٹر عبد اللہ عواد الجہنیd نے کہاہے کہ اسلام اخوت اور بھائی چارے کا نام ہے۔ ہمارا مذہب امن و امان سے رہنے کا درس دیتا ہے۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان اور سعودی عرب توحید کی بنیاد پر قائم ہوئے۔ انہوں نے کہاکہ مسلمان تقویٰ اختیار کریں۔اہلِ پاکستان کو اسلام اور اْمت ِمسلمہ کے خلاف ہونے والی سازشوں کا بھرپور ادراک کرتے ہوئے دشمنانِ اسلام کے مکر وفریب کو ناکام بنا دینے کے لئے جمع ہوجانا چاہئے۔ اْنہوں نے اسلام کا مرکزعقیدئہ توحید کو قرار دیا۔ اْنہوں نے فرمایا اسلام اصلاح و تعمیر کا دین ہے، ہلاکت وبربادی سے اس کا دور کا بھی واسطہ نہیں۔ اسلامیانِ پاکستان کو امن وامان کے قیام کے لئے مشترکہ قوت کو کام میں لانا چاہئے کیونکہ امن وامان کے بغیر کوئی قوم سیاسی، تعلیمی اور اقتصادی کسی میدان میں بھی ترقی نہیں کرسکتی۔ اْنہوں نے کہا کہ حقیقی اسلام کتاب وسنت کی بنیاد پر ہی حاصل ہوسکتا ہے۔ اسلام میں جبر و تشدد اوربے جا غلو کی کوئی گنجائش نہیں، سنت ِرسول اللہ پر عمل ہی اْمت ِمسلمہ کو راہِ راست پر عمل پیرا رکھ سکتا ہے اور اسلام میں کسی لسانی اور وطنی گروہ بندی کی کوئی گنجائش نہیں۔ اْنہوں نے اْمت ِاسلامیہ کو علومِ شریعت اور عصری علوم سیکھنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
اْنہوں نے پاکستانی مسلمانوں کے باہمی اتفاق واتحادکے لئے ربّ ِکریم سے خصوصی دعائیں مانگتے ہوئے ان لوگوں سے گلوخلاصی کی دعا کی جو اْمت کو اس کے اصل ہدف سے ہٹانا چاہتے ہیں اور فرمایاکہ تمام عزتیں اللہ اور اس کے رسو ل کے لئے ہیں، لیکن منافق اس سے بے خبرہیں۔ دورِ حاضر کی ترقی ودانش سے فائدہ اْٹھانے اور دنیا بھرمیں اسلام کی تبلیغ کا فریضہ سر انجام دینے کے لئے ہمیں جدید عصری علوم کو بھی سیکھنا چاہئے۔ اسلام کی عالمگیر دعوت کو پہنچانا ہمارا فرض ہے جس سے ہم کوتاہی کے مرتکب ہورہے ہیں۔ اْنہوں نے کہا کہ علم کا بنیادی مقصد نفس کی تہذیب اور معاشروں کی اِصلاح ہے۔ علم امن واشتی اور محبت و رواداری کا پیامبر ہے۔ اْنہوں نے مغرب پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسی علم ودانش جو دنیا کو ہلاکت خیز تباہی سے دوچار کرکے طاقتوروں کو کمزوروں کے خلاف جارحیت پر آمادہ کردے اور بڑے پیمانے پر بربادی پھیلا دے، وہ کبھی علم حقیقی کا مصداق نہیں بن سکتی۔اپنے خطاب میں اْنہوں نے اہل علم کے خصائص کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اہل علم امن وامان، محبت اور مساوات کے داعی ہیں۔ عمدہ اخلاق کے ذریعے یہ لوگ معاشرے میں محبت وروادی کے پیام بر ہیں۔ مسلم معاشرے میں علما کو ہرطرح کا ادب واحترام دیا جانا چاہئے۔ علم کے حصول اور اہل علم کے احترام کے ذریعے ہی معاشرے میں وہ قوت پیدا کی جاسکتی ہے جس سے اس اْمت کے مسائل حل ہونے میں مدد مل سکتی ہے۔ دین کی مذکورہ بالا تعلیمات کو اپنانے والا شخص ہی قابل قدر ہے۔ اْنہوں نے قرآنِ کریم کو ہمہ نوعیت کے امراض، چاہے وہ جسمانی ہوں یا ذہنی وعقلی ،کے لئے نسخہ شفا قرار دیا اور قرآنِ کریم کی تلاوت کے ثواب کا تذکرہ کرنے کے ساتھ اس کے جملہ حقوق کی ادائیگی کی تلقین کی۔
مرکزی جمعیت اہل حدیث کے امیر سینیٹر پروفیسر ساجد میرd نے امام کعبہ کی آمد پر ہدیۂ تہنیت پیش کیا اور کہا کہ حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے ہم ہر قسم کی قربانی دیں گے۔ پاکستان اور سعودی عرب یک جان دو قالب ہیں‘ پاکستان اور سعودی عرب کا استحکام عالم اسلام کا استحکام ہے۔ اس موقع پر امام کعبہ نے پیغام قرآن ٹی وی کا افتتاح کیا اور اسے خوش آئند قرار دیا ۔ قبل ازیں امام کعبہ نے مرکز اہل حدیث 106 راوی روڈ کی جامع مسجد میں نماز عصر کی امامت کرائی جس میں بڑی تعداد میں فرزندانِ توحید نے شرکت کی۔ امام کعبہ نے فقید المثال استقبال کرنے پر پروفیسر ساجد میر اور ان کی جماعت کا شکریہ ادا کیا۔
تقریب میں سعودی سفیر نواف بن سعید المالکیd کے علاوہ صوبائی وزیر سید سعید شاہ‘ حافظ ابتسام الٰہی ظہیر‘ رانا شفیق خاں پسروری‘ مولانا محمد نعیم بٹ‘ ڈاکٹر عبدالغفور راشد‘ مولانا عبدالرشید حجازی‘ مولانا عبدالستار حامد‘ ڈاکٹر حماد لکھوی‘ قاری عزیر‘ قاری محمد ابراہیم میر محمدی‘ قاری صہیب احمد میر محمدی‘ مولانا یٰسین ظفر‘ مولانا یونس بٹ‘ مولانا عبدالرحمن لدھیانوی‘ معتصم الٰہی ظہیر‘ ڈاکٹر ریاض الرحمن یزدانی‘ حافظ بابر فاروق رحیمی‘ حافظ ہشام الٰہی ظہیر‘ قاری حنیف ربانی‘ قاری عبدالحفیظ‘ سید سبطین شاہ نقوی‘ حافظ عبدالحمید عامر‘ رانا خلیق خاں پسروری‘ فیصل افضل شیخ‘ حافظ یونس آزاد‘ بشیر انصاری ایم اے‘ مولانا عنایت اللہ رحمانی‘ حافظ محمد اسلم حنیف‘ سید الطاف الرحمن شاہ‘ حافظ عبدالغفور طاہر‘ مولانا محمد صادق عتیق‘ ودیگر نے شرکت کی۔
دریں اثناء مقامی ہوٹل میں مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے سربراہ سینیٹر پروفیسر ساجد میر کی طرف سے امام کعبہ کے اعزاز میں عشائیہ کا اہتمام کیا گیا جس میں چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس سردار شمیم احمد خاں‘ امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق‘ مولانا عبدالغفور حیدری‘ لیاقت بلوچ‘ سعودی سفیر نواف المالکی‘ مولانا فضل الرحمن خلیل سیاسی‘ صحافتی‘ سماجی اور مذہبی شخصیات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر شرکاء نے امام صاحب کے ساتھ مصافحہ کیا اور تصاویر بنوائیں۔


No comments:

Post a Comment