طب وصحت ... آڑو 17-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Saturday, July 27, 2019

طب وصحت ... آڑو 17-2019


طب وصحت ... آڑو!

رپورٹ: جناب حکیم راحت نسیم سوہدروی
موسم گرما کا آغاز ہوتے ہی پھلوں کی بہار آ جاتی ہے جو نہ صرف خوش ذائقہ بلکہ صحت کے لیے مفید ہوتے ہیں۔ موسم گرما میں پھلوں کا استعمال نہ صرف گرمی کی شدت سے بچاتا ہے بلکہ مزاج کو معتدل رکھتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کئی امراض سے محفوظ کرتا ہے۔ ان پھلوں میں ایک آڑو ہے جو چیری اور خوبانی کے خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔ اس کا گودا پیلا جبکہ رسیلا ہوتا ہے۔ آڑو میں گٹھلی بھی ہوتی ہے جسے کھایا نہیں جاتا۔ آڑو کی کاشت چین سے شروع ہوئی جبکہ اب ساری دنیا میں پایا جاتا ہے۔
٭…  جلد کی حفاظت:
آڑو میں حیاتین الف اور ح ہوتی ہے جو صحت اور توانائی قائم رکھتی ہے۔ جلد پر پڑی جھریاں گھٹاتا ہے اور بڑھاپے کی رفتار روکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بڑھاپے کی رفتار کم کرنے والی جتنی اشیاء بنتی ہیں ان میں آڑو شامل ہوتا ہے۔ آڑو جلد کو نئی تازگی دیتا ہے۔ دھوپ میں کام کرنے والوں کے لیے بہت فائدہ مند ہے۔ دھوپ کی مضر شعاعوں کے اثرات کو روکتا ہے۔ آڑو کو کھانے کے علاوہ اسے پیس کر چہرے پر بھی لگایا جاتا ہے۔ آڑو کا استعمال جلد کو تازہ‘ چکنا اور ملائم رکھتا ہے۔
٭…  قوت مدافعت بڑھانا:
آڑو قوت مدافعت بڑھاتا ہے جس سے انسان بہت سے امراض سے محفوظ رہ سکتا ہے۔ اس میں موجود اجزاء جست اور حیاتین الف‘ ب‘ ت اور ج کے باعث مدافعت بڑھتی ہے۔ حیاتین ج نزلہ‘ زکام سے بچاتی اور ماحولیاتی آلودگی کے اثرات سے محفوظ بناتی ہے۔ مدافعتی نظام کی مضبوطی بہت سے امراض سے بچاتی ہے اور جسم کو صحت مند اور توانا رکھتی ہے۔
٭…  دل کے لیے مفید:
آڑو خون میں بڑھے ہوئے کولسٹرول کو کنٹرول کرتا ہے‘ اس کا متوازن ہونا قلب کے لیے مفید ہے۔ اس طرح قلب کے امراض اور ذیابیطیس (شوگر) سے بچا جا سکتا ہے اور ایک صحت مند زندگی گزاری جا سکتی ہے۔ آڑو میں مضر قلب کولسٹرول (LDL) کو کم کرنے اور مفید قلب کولسٹرول (MDL) کو بڑھانے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ آڑو میں پوٹاشیم کی زیادتی اور سوڈیم کی کمی کے باعث جسم میں پانی متوازن رہتا ہے جس سے بلڈ پریشر نہیں بڑھتا۔ اس طرح بلڈ پریشر کے مریضوں کے لیے یہ ایک تریاق ہے۔ یہ خون میں سرخ ذرات بڑھاتا ہے۔
آڑو میں جست‘ میگنیشیم اور فولاد شامل ہے۔ اسی لیے یہ خون میں سرخ ذرات بڑھاتا ہے۔ فولاد کی کمی کے شکار لوگوں کے لیے موسم گرما میں یہ پھل کسی طرح بھی ایک نعمت سے کم نہیں۔ فولاد خون کے سرخ ذرات بڑھاتا ہے پھر حیاتین ج کی موجودگی کے باعث جسم میں فولاد آسانی سے جذب ہو جاتا ہے۔
٭…  نظام ہضم:
آڑو میں فائبرز (ریشہ) کی مناسب مقدار ہوتی ہے جس سے یہ قبض نہیں ہونے دیتا اور آنتوں کی حرکت درست رکھتا ہے۔ پیٹ کے زخم میں فائدہ مند ہے۔ بڑی آنت‘ گردوں اور جگر سے زہریلے مادوں کو بھی خارج کرتا ہے۔ مثانہ اور گردوں کو صاف رکھتا ہے۔
٭…  سرطان سے بچاتا ہے:
ایسے آزار مضر خلیے جو سرطان کا باعث ہوتے ہیں‘ آڑو ان کو ختم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ آڑو میں ایسے مرکبات پائے جاتے ہیں جو مانع سرطان اور مانع رسولی ہوتے ہیں۔ آڑو پھیپھڑوں‘ سینے اور بڑی آنت کے کا سرطان کو نہیں ہونے دیتا۔ آڑو میں موجود ایک عنصر خصوصی طور پر پھیپھڑوں کے سرطان سے بچاتا ہے۔
٭…  وزن بڑھنے سے روکتا ہے:
آڑو میں کیلوریز بہت کم ہوتے ہیں اس لیے موٹاپا نہیں کرتا‘ جو لوگ موٹاپے کے خوف سے میٹھا استعمال نہیں کرتے ہوں وہ آڑو استعمال کریں۔ اس میں چکنائی نہ ہونے کے برابر ہے۔ جو لوگ ڈائٹنگ کرتے ہیں اور ہلکی پھلکی توانائی بخش چیزیں کھانا چاہتے ہیں تو آڑو استعمال کریں۔ یہ موٹاپا نہیں کرتا۔
٭…  بصارت کے لیے مفید:
آڑو میں موجود حیاتین الف اور ج کے علاوہ بیٹاکیروٹین بھی ہوتی ہے جس سے بصارت کو فائدہ ہوتا ہے جن کی بصارت کمزور ہو وہ آڑو کا ا ستعما کریں۔ بیٹا کیروٹین رنگ دینے والا وہ مادہ ہے جو گاجر میں بھی پایا جاتا ہے۔ بیٹاکیروٹین پردہ چشم (Retina) کو توانائی دیتا ہے اور جراثیم کو ختم کرتا ہے۔ خون کی روانی (گردش) کو بہتر بناتا ہے۔ جس سے بصارت بڑھتی ہے اس طرح موتیا بند ہونے کا خدشہ کم ہو جاتا ہے۔ یہ بڑھاپے کی رفتار کو کم کرتا ہے‘ جلد کو خشک ہونے سے محفوظ رکھتا ہے۔


No comments:

Post a Comment