تربیتی کنونشن .. جمعیت اساتذہ 17-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Saturday, July 27, 2019

تربیتی کنونشن .. جمعیت اساتذہ 17-2019


تربیتی کنونشن ... جمعیۃ اساتذہ پاکستان

رپورٹ: جناب خلیل الرحمن ثاقب
جمعیت اساتذہ پاکستان کا مرکزی تعلیمی وتربیتی کنونشن ۳۱ مارچ بروز اتوار صبح ۱۰ بجے مرکزی دفتر ۱۰۶ راوی روڈ لاہور کے ابراہیم میر ہال میں منعقد ہوا۔ قاری عمران سلفی کی تلاوت قرآن پاک سے پروگرام کا آغاز کیا گیا۔ بعد میں حافظ عبدالعظیم ربانی نے نعت رسول کریمe پیش کی۔ پروفیسر عبدالباسط ظہیر نے سٹیج سیکرٹری کے فرائض ادا کیے۔ پہلا خطاب غازی اسلام رانا محمد شفیق خاں پسروری مرکزی رہنما مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان نے فرمایا۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ آپ معلم ہیں‘ آپ کی ذمہ داری ہے کہ طلبہ کی کردار سازی پر زور دیں اور نماز کی پابندی اختیار کریں۔ پروفیسر حافظ عثمان ظہیر صدر جمعیۃ اساتذہ پنجاب نے اپنے خطاب میں کہا کہ علماء انبیاء کے وارث ہیں۔ مدارس کے اساتذہ کو چاہیے کہ طلبہ کے اندر سے احساس کمتری کو ختم کریں تا کہ وہ معاشرے میں اہم کردار ادا کر سکیں۔ طلبہ کو عصری علوم سے آراستہ کریں۔ اس کے بعد اسٹیج سیکرٹری کی ذمہ داری حافظ عبدالجبار زاہد ڈپٹی سیکرٹری جنرل نے نبھائی اور انہوں نے محمد رضوان کو دعوت دی جو کہ ASF کے ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اہل حدیث سٹوڈنٹس فیڈریشن مرکزی جمعیت کی ذیلی تنظیم ہے جو کہ طلبہ کے امور کی نگرانی کرتی ہے۔ ہم طلبہ میں اسلامی روح کو بیدار کر رہے ہیں اور اساتذہ کا احترام سکھا رہے ہیں۔ اس کے بعد شمالی پنجاب کے سیکرٹری جنرل حافظ سیف الرحمن بٹ نے اپنے خطاب میں اساتذہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ تعلیمی اداروں میں دینی اور قومی فریضہ انجام دے رہے ہیں۔ آپ جماعتی نظم میں آئے ہیں آپ سکول سسٹم میں مثبت تبدیلی پیدا کریں۔ عبدالشکور صاحب بہاولپور نے بیان کیا کہ اساتذہ طلبہ کی دینی تربیت کا اہتمام کریں۔ قاری شبیر انجم نے کہا کہ استاد کو جہاں یہ فکر ہے کہ تنخواہ میں اضافہ کیوں نہیں ہو رہا وہاں یہ بھی فکر ہونی چاہیے کہ طلبہ میں دینی فکر کیوں نہیں اجاگر ہو رہی۔ حافظ راشد علی میڈیا کو آرڈی نیٹر نے کہا کہ پہلے ریڈیو‘ ٹی وی تشہیری سلسلے تھے مگر ۲۰۰۲ء سے لے کر اب تک پرائیوٹ ٹی وی چینل اس قدر بڑھ گئے ہیں کہ شمار میں نہیں۔ اب تو اینڈرائڈ فون ہی سب کچھ ہے۔ اس کے بعد مرکزی انتخاب کا مرحلہ شروع ہوا۔ چیئرمین مجلس شوریٰ جناب ڈاکٹر امان اللہ بھٹی نے موجودہ عہدیداروں کی برخاستگی کا اعلان کیا اور کہا کہ اب پروفیسر عتیق اللہ عمر صدر اور پروفیسر عطاء الرحمن ظہیر جنرل سیکرٹری نہیں رہے۔ اب اراکین مجلس شوریٰ آئندہ دوسال کے لیے پہلے صدر کا انتخاب کریں گے اور بعد میں جنرل سیکرٹری کا۔ انہوں نے اراکین سے صدر کے لیے نام پیش کرنے کا کہا تو حافظ عبدالباسط ظہیر نے پروفیسر عتیق اللہ عمر کا نام پیش کیا اور خلیل الرحمن ثاقب‘ پروفیسر عثمان ظہیر نے تائید کی‘ صدر کے لیے دوسرا نام عبدالواحد ندیم نے پروفیسر شفیق الرحمن کا نام پیش کیا لیکن انہوں نے اپنا نام واپس لے لیا اور حافظ عتیق اللہ کی تائید کی۔ اس طرح حافظ عتیق اللہ عمر صدر منتخب ہو گئے۔
جنرل سیکرٹری کے لیے قاری شبیر انجم نے پروفیسر عطاء الرحمن ظہیر کا نام پیش کیا۔ کئی لوگوں نے تائید کی اور پروفیسر عطاء الرحمن ظہیر جنرل سیکرٹری منتخب ہو گئے۔ اس کے بعد پروفیسر عتیق اللہ عمر نے اپنے مختصر خطاب میں اراکین شوریٰ کا شکریہ ادا کیا اور دعا کی درخواست کی۔ پروفیسر عطاء الرحمن ظہیر نے بھی شکریہ ادا کیا کہ مجھ پر دوبارہ اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ پروفیسر مزمل احسن شیخ کی دعاء کے ساتھ پہلی نشست کا اختتام ہوا۔
نماز ظہر کے بعد دوسری نشست کا آغاز پروفیسر مزمل احسن شیخ کے بیان سے ہوا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں فر مایا کہ آپ اللہ کی عبادت کریں۔ رسول اللہe کی اطاعت کریں‘ آپ اللہ کے دین کے لیے نکالے گئے ہیں۔ آپ منبر ومحراب کے وارث ہیں آپ مدرس بھی ہیں‘ اور مربی بھی ہیں۔ اس کے بعد شیلڈز تقسیم کی گئیں۔ مکتبہ دار السلام کے ڈائریکٹر مولانا عبدالمالک مجاہد نے شرکت کرنا تھی مگر مصروفیت کی وجہ سے کراچی میں تھے ان کی نمائندگی ان کے بیٹے عکاشہ مجاہد نے اور پروفیسر حضرات کو شیڈز اور کتابوں کا سیٹ پیش کیا۔ اس کے بعد پروفیسر اکرام اللہ ساجد‘ خواجہ راشد ایوب‘ پروفیسر ڈاکٹر عثمان خالد‘ ڈاکٹر شفیق الرحمن‘ ڈاکٹر نصر اللہ خاں مظفر‘ ڈاکٹر سعید احمد چنیوٹی‘ پروفیسر عبدالعظیم جانباز‘ مولانا غضنفر آف خانیوال نے اپنے مختصر خطاب میں اساتذہ کی ذمہ داریوں کو بیان کیا۔ اس کے بعد پروفیسر عطاء الرحمن ظہیر نے اپنے خطاب میں کہا کہ میں چاہتا تھا کہ مجھے چھٹی دے دی جاتی مگر آپ نے دوبارہ ذمہ داری سونپ دی ہے لہٰذا ادا کرنے کی بھر پور کوشش کروں گا۔ انہوں نے تعلیمی پالیسی اور اصلاحات کے حوالے سے تفصیل سے بیان کیا۔ پروفیسر ڈاکٹر عبدالرحیم اشرف نے پروفیسرز اینڈ لیکچرارز کے مطالبات میں دھرنے کی تائید کی۔ ڈاکٹر امان اللہ بھٹی چیئرمین مجلس شوریٰ نے کہاکہ آج یقین ہو گیا ہے کہ اہل حق اساتذہ کا اجتماع ہے۔ کام کرنا ہے بھر پور انداز سے اور اپنے اپنے اداروں کو چلانا۔ جھوٹی باتوں میں الجھنا نہیں ہے۔ کلاس میں جا کر بچوں کا ذہن اپنے ساتھ ملانا ہے۔ اس کے بعد پروفیسر عتیق اللہ عمر نے ان کے نام پکارے جن کو شیلڈز دی گئیں۔ پروفیسر ڈاکٹر عبدالغفور راشد‘ عکاشہ مجاہد‘ پروفیسر مزمل احسن شیخ‘ ڈاکٹر امان اللہ بھٹی‘ انہوں نے دوسروں کو بھی شیلڈز دیں۔ شفیق بھائی دفتر والے‘ ابوبکر جمیل‘ ثناء الرحمن بھٹہ‘ سید عبدالغفار شاہ ملتان‘ حامد اللہ کمیر پوری‘ محمد یوسف گوہر‘ حافظ محمد افضل طور‘ حافظ زکریا قصوری‘ حافظ سیف الرحمن بٹ‘ پروفیسر عطاء الرحمن ظہیر‘ حافظ عزیز الرحمن ‘ ڈاکٹر عبدالرزاق فیصل آبادی‘ رفیق احمد‘ عنصر محمود‘ عبدالغفار فردوسی‘ ڈاکٹر نصر اللہ مظفر‘ پروفیسر سیف الرحمن بٹ‘ ڈاکٹر نثار مصطفی‘ ڈاکٹر انصر جاوید گھمن‘ اکرام اللہ ساجد‘ پروفیسر عثمان خالد شیخوپوری‘ محمد طارق جاوید‘ فاروق احمد‘ عبدالقیوم صابر‘ فیض اللہ غوری کو کتابوں کا تحفہ دیا گیا۔ ASF کے لیے منیب صاحب‘ عبدالواحد ندیم‘ سیف اللہ طیب‘ غضنفر محمود‘ نذیر احمد بہاولنگر ودیگر۔
پروفیسر عتیق اللہ عمر نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ لوگ قافلے کے ساتھ مل رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمارے کارواں کو نظر بد سے بچائے۔ انتخابی بورڈ کا شکریہ جس میں ڈاکٹر سعید احمد چنیوٹی اور حافظ عطاء الرحمن عامر بھی شامل ہیں۔


No comments:

Post a Comment