رمضان کریم ... بخشش الٰہی کا مہینہ 18-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Saturday, July 27, 2019

رمضان کریم ... بخشش الٰہی کا مہینہ 18-2019


رمضان ... بخشش الٰہی کا مہینہ

تحریر: جناب مولانا لیاقت علی باجوہ
اﷲ تعالیٰ نے بہت سے مہینے بنائے مگر جوفضیلت رمضان المبارک کو ملی وہ دوسرے مہینوں کونہیں ملی۔ اس متبرک مہینہ میں اﷲتعالیٰ نے اپنی مقدس کتاب قرآن کو نازل فرمایا۔اسی مہینہ میں اﷲتعالیٰ نے لیلۃ القدر جیسی نعمت عطا فرمائی۔ یہ ماہِ رمضان اﷲتعالیٰ کی خاص رحمتوں اور برکتوں والا مہینہ ہے۔یہ صبر، فراخی رزق، ایک دوسرے سے خیر خواہی کا مہینہ ہے۔
یہ ماہِ مقدس ہر سال اپنی گوناگوں خصوصیات کے ساتھ آتا اور چلا جاتا ہے۔ لیکن خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو اس ماہ مقدس کو پاتے اور اپنے رب سے اپنے گناہوں کو بخشوالیتے ہیں اور اپنی مغفرت کا پروانہ حاصل کرلیتے ہیں۔ بد نصیب ہیں وہ لوگ جو اس ماہ مقدس کو لہو و لعب اور شیطانی کاموں کی نذر کردیتے ہیں اور بعد میں کفِ افسوس ملتے ہیں۔
اس ماہ مقدس کی فضیلت و اہمیت قرآ ن و حدیث میں متعدد اسلوب میں بیان کی گئی ہے۔ اﷲتعالیٰ کا ارشاد ہے:
{شَہْرُ رَمَضاَنَ الَّذِی اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْاٰنُ ہُدًی لِّلنَّاسِ} (البقرہ: ۱۸۵)
’’ماہِ رمضان ہی وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو لوگوں کے لئے باعث ہدایت ہے۔‘‘
اور فرمایا:
{حٰمٓ وَالْکِتٰبِ الْمُبِیْن٭ اِنَّا اَنْزَلْنٰہُ فِی لَیْلَۃٍ مُّبَارَکَۃٍ٭} (الدخان: ۳)
’’حم قسم ہے (اس) کتاب ِ واضح کی کہ ہم نے اس کو ایک برکت والی رات میں اتارا۔‘‘
مزید فرمایا:
{اِنَّا اَنْزَلْنٰہُ فِیْ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ} (القدر: ۱)
’’بے شک ہم نے اسے (قرآن کو) شبِ قدر میں اتا را ہے۔‘‘
ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ رمضان المبارک اتنا اہم ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے اپنی محبوب کتاب قرآن کو اسی ماہ میں نازل فرمایا۔
رَمَضاَن: لفظ رمض، سے مشتق ہے جس کے لغوی معنیٰ حرارت اور تپش کے ہیں۔ اس مہینے کا نا م رمضان اس لئے رکھا گیا کہ یہ گناہوں کو اس طرح جلا دیتا ہے جس طرح انسان کے جسم کو آفتاب کی تپش جلادیتی ہے۔روزہ جفا کشی سکھاتا ہے، حق پر ثابت رہنے کی قوت پیدا کرتاہے اور نظم و ضبط کی تعلیم دیتا ہے۔ روزہ انسان کی دنیوی، روحانی، مادی، طبی،اخلاقی اورنفسیاتی ہر قسم کی برائیوں اور بیماریوں سے محفوظ رکھتا ہے۔
اس ماہ مقدس کی اہمیت کاا ندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ آپ نے فرمایا:
[اِذا دَخَلَ رَمَضَانُ فُتِحَتْ اَبْوابُ السَّمَائِ وَغُلِّقَتْ اَبْوَابُ جَہَنَّمَ وَسُلْسِلَتِ الشَّیَاطِیْنُ]
’’جب رمضان آتا ہے تو آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اورجہنم کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں اورشیاطین قید کردیئے جاتے ہیں۔‘‘
اور ایک روایت میں ہے کہ
[اِذَا جاَئَ رَمَضاَنُ فُتِحَتْ اَبْوابُ الجَنَّۃِ۔] (بخاری: ۱۸۹۸)
’’جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں۔‘‘
حضرت شاہ ولی اﷲ محدث دہلوی a حجۃ اﷲ البالغہ میں اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’روزہ چوں کہ ایک عمومی اور اجتماعی شکل کی حیثیت رکھتا ہے، اس لئے وہ رسوم کی دسترس سے محفوظ ہے، اگر کوئی جماعت اور قوم اس کی پابندی کرتی ہے تو اس کے لئے جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں ،جہنم کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں اورشیاطین قید کردیئے جاتے ہیں۔‘‘
دوسری جگہ لکھتے ہیں:
’’مسلمانوں کے مختلف طبقوں اور مختلف جماعتوں کا ایک وقت میں ایک چیز پر اجماع اور اجتماع جس میں سب ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں روزہ کو ان کے لئے آسان بنادیتا ہے، اور اس سے ان کی بہت ہمت افزائی ہوتی ہے۔‘‘
اسی طرح ان کی یہ اجتماعیت خواص و عوام دونوں کے لئے ملکوتی برکتوں کے نزول کا باعث ہے۔ اس میں اس کا امکان بھی بڑھ جاتاہے کہ ان کے کاملین و واصلین پر جو انوار نازل ہوں وہ ان سے نیچے والوں کو بھی فیضیاب کرتے جائیں اور ان کی دعائیں ان کے پیچھے والوں تک پہنچتی رہیں۔‘‘ (افادات از: ارکانِ اربعہ)
اس ماہ مقدس کی اہمیت اس بات سے روشن ہوجاتی ہے کہ قرآن مقدس جو اﷲتعالیٰ نے امتِ محمدیہ کو دیا اس کا نزول اور اسی طرح دیگر مقدس کتابوں کا نزول بھی اسی ماہ مقدس کے اندر ہوا۔روزہ جو دیگر ادیان میں بھی تھا اس کی فرضیت اسی ماہ مقدس میں ہوئی۔اس مہینہ کو قیام اللیل (نمازِتراویح)سے نوازا گیا جو دوسرے مہینوں میں نہیں۔اس مہینہ کی طاق راتوں میں سے ایک رات ’’لیلۃ القدر‘‘ اور ’’لیلۃ مبارکۃ‘‘ ہے جس میں عبادت، ہزار مہینوں کی عبادت سے بہتر ہے۔اس ماہ میں عبادت کا ثواب بڑھادیا جاتا ہے۔اس ماہ کو صدقات و خیرات اور فطروں سے فضیلت دی۔اس مہینہ میں ایک خاص عبادت اعتکاف کو رکھا۔
روزے کی فضیلت
روزے کی فضیلت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ جس طرح آج کل دنیا میں کچھ خاص مہمانوں کے لئے کسی خاص موقع پران کے استقبال کے لئے الگ سے دروازے بنائے جاتے ہیں ، خصوصی اہتمام کیا جاتا ہے، اسی طرح اﷲتعالیٰ نے روزہ داروں کے استقبال میں ایک خصوصی دروازہ بنا رکھا ہے جس سے قیامت کے دن صرف روزہ دار ہی داخل ہوں گے۔ جیسا کہ مندرجہ ذیل حدیث سے واضح ہوتا ہے:
[عَنْ سَہل بنِ سَعْدٍ قَالَ: قاَلَ رَسُولُ اللّٰہِﷺ اِنَّ فِی الْجَنَّۃِ باَباً یُقَالُ لَہُ الرَّیَّانُ، یَدخُلُ مِنْہُ الصَّائمُونَ یَومَ القِیاَمۃِ لاَیدخُلُ مِنْہُ اَحدٌ غَیرُہُمْ۔]
سیدنا سہل بن سعدt کہتے ہیں کہ رسول اﷲe نے فرمایا: ’’جنّت میں ایک خصوصی دروازہ بنایا گیا ہے جس کا نام ’’ریّان‘‘ ہے جس سے قیامت کے دن روزہ دار گزریں گے۔ ان کے علاوہ اس دروازے سے کوئی دوسرا نہیں گزرے گا۔‘‘ (بخاری: ۱۸۹۷)
روزہ ایک ایسی عبادت ہے جس کا اجر اﷲ تعالیٰ خود عطاکریں گے۔اس کے اجر کی کوئی حد نہیں۔جس کو جتناچاہیں گے عنایت کریں گے۔
سیدنا ابوہریرہt سے روایت ہے کہ رسول اﷲe نے فرمایا:
ابن آدم کا ہر عمل اس کے لئے کئی گنا بڑھایا جاتا ہے یہاں تک کہ ایک نیکی دس گنا تک اور دس گنا سے سات گنا تک بڑھائی جاتی ہے ، لیکن اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ روزے کا معاملہ اس سے جُدا ہے، کیوں کہ وہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا۔روزہ دار اپنی شہواتِ نفس اور اپنے کھانے پینے کو میرے لئے چھوڑتا ہے۔ روزہ دار کے لئے دوفرحتیں ہیں: ایک فرحت افطار کے وقت کی اور دوسری فرحت اپنے رب سے ملاقات کے وقت کی۔ روزہ دار کے منہ کی بساند(بو) اﷲ تعالیٰ کو مشک کی خوشبوسے زیادہ پسند ہے۔ روزے ڈھال ہیں، پس جب کوئی شخص تم میں سے روزے سے ہو تو اسے چاہئے کہ نہ اس میں بدکلامی کرے اور نہ دنگا فساد کرے۔اگر کوئی شخص اس سے گالی گلوچ کرے یا لڑے تو وہ اس سے کہہ دے کہ بھائی میں روزے سے ہوں۔‘‘ (بخاری: ۱۹۰۴)
صوم کے لغوی اور اصطلاحی معنیٰ
صوم کے لغوی معنیٰ ہیں امساک یعنی کسی چیز سے رکنا، بچنا، باز رہنا۔ اسی لئے اگر کوئی شخص بولنے یا کھانے سے رکا رہے تو اسے لغت میں صائم کہتے ہیں۔ اس کی مثال قرآن کریم میں
{اِنِّیْ نَذَرْتُ لِلرَّحْمٰنِ صَوْمًا} (مریم: ۲۶)
’’میں نے اﷲسے صوم کی منت مانی ہے۔یعنی خاموش رہنے اور کلام نہ کرنے کی۔‘‘
اصطلاحی تعریف:
شریعت اسلامی میں صو م یا روزہ یہ ہے کہ آدمی صبح صادق سے سورج غروب ہونے تک کھانے پینے اور شہوتِ نفسانی(عورت سے مباشرت کرنے)کے پورا کرنے سے روزہ کی نیت کے ساتھ رکا رہے۔
اسلام کے بنیادی پانچ ارکان میں سے روزہ بھی ایک رکن ہے‘ اس کا منکر کافر‘ تارک‘ فاسق اور سخت گنہگار ہے۔
رمضان المبارک کا روزہ ہر مسلمان عاقل بالغ مرد اور عورت پر جس میں روزہ رکھنے کی طاقت ہو فرضِ عین ہے، جب تک کوئی شرعی عذر نہ ہو روزہ چھوڑنا درست نہیں۔
روزے کی ابتداء
روزہ ایک ایسی عبادت ہے جو دنیاکے تمام مذاہب میں کسی نہ کسی شکل میں پایا جاتاہے۔ دنیا میں جتنے مذاہب اور امتیں آئیں سب میں روزے کا ثبوت ملتا ہے۔ یہودو نصاریٰ بھی روزے رکھتے تھے یونانیوں کے یہاں بھی روزہ رکھنے کا چلن تھا۔ ہندو دھرم، بدھ مذہب میں بھی بَرت (روزہ) مذہب کا رکن ہے۔
الغرض دنیا کے تمام مذاہب میں روزے کی فضیلت و اہمیت مسلم ہے۔ سیدنا آدمu سے لے کر ہمارے نبی خاتم الانبیاء حضرت محمدe تک ہر قوم و مذہب میں روزے کا وجود کسی نہ کسی شکل میں پایا جاتاہے۔
ہمارے روزے اور غیروں کے روزوں میں فرق یہ ہے کہ ہمارا روزہ تقویٰ اختیار کرنے کی دعوت دیتا ہے اﷲتعالیٰ کا ارشاد: {لَعَلَّکمْ تَتَّقُوْنَ} (البقرہ) سے اسلامی روزہ کی اصل غرض و غایت کی تصریح ہوگئی کہ اس سے مقصود تقویٰ کی عادت ڈالنا اور اُمت و افراد کو متقی بنانا ہے۔تقویٰ نفس کی ایک مستقل کیفیت کا نام ہے جس طرح مضر غذاؤں اور مضر عادتوں سے احتیاط رکھنے سے جسمانی صحت درست ہوجاتی ہے، اور مادّی لذّتوں سے لطف و انبساط کی صلاحیت زیاد ہ پیدا ہوجاتی ہے، بھوک خوب کھل کر لگنے لگتی ہے، خون صالح پیدا ہونے لگتا ہے، اسی طرح اس عالم میں تقویٰ اختیار کرلینے سے عالمِ آخرت کی لذتوں اور نعمتوں سے لطف اُٹھانے کی صلاحیت واستعداد انسان میں پوری طرح پیدا ہوکر رہتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں اسلامی روزہ کی افضلیت تمام دوسری قوموں کے گرے پڑے روزں پر علانیہ ثابت ہوتی ہے۔ مشرک قوموں کے ناقص ، ادھورے اور برائے نام روزوں کا تو ذکر ہی نہیں ، خود مسیحی اور یہودی روزوں کی حقیقت بس اتنی ہے کہ وہ یا تو کسی بلا کو دفع کرنے کے لئے رکھے جاتے ہیں یا کسی فوری اور مخصوص روحانی کیفیت کے حاصل کرنے کو، یہود کی قاموس اعظم جیوش انسائیکلوپیڈیا میں ہے کہ ْ قدیم زمانہ میں روزہ یا تو بطورعلامتِ ماتم کے رکھا جاتاتھا، اور یا جب کوئی خطرہ در پیش ہوتا تھا، اور یا پھر جب سالک اپنے میں قبولِ الہام کی استعداد پیدا کرنا چاہتا تھا ، (تلخیص از تفسیر ماجدی)
روزے کی فرضیت
{یٰاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْ ا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصَّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکمْ تَتَّقُوْنَ}
’’اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں ،جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم متقی بن جاؤ۔‘‘ (البقرہ)
[بُنِیَ الْاِسْلامُ عَلیٰ خَمْسٍ: شَھَادَۃُ اَنْ لاَ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ ُ وَ اَنَّ مُحَمَّداً رَسُوْ لُ اللّٰہِ، وَ اِقَامِ الصَّلاَۃِ، وَاِیْتَاء ِ الزَّکاَۃِ ، وَالْحَجِّ ، وَ صَوْمِ رَمَضَانَ۔ (بخاری: ۸، مسلم: ۱۶، ترمذی: ۲۶۱۲، النسائی: ۸/۱۰۷)
اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے: 1 اس بات کی گواہی دینا کہ اﷲکے سوا کوئی معبو دنہیں اور حضرت محمدe اﷲکے رسول ہیں۔ 2 نماز قائم کرنا۔ 3 زکوٰۃ دینا۔ 4 حج کرنا۔ (اگراستطاعت ہو)۔ 5 رمضان کے روزے رکھنا۔
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ روزہ فرض ہی نہیں بلکہ رُکنِ اسلام بھی ہے۔
رمضان کے روزے کی فرضیت قرآن و حدیث اور اجماعِ امت تینوں سے ثابت ہے۔  شعبان ۲ھ کو مدینہ منورہ میں رمضان کے روزوں کی فرضیت کا حکم نازل ہوا۔
روزے کا مقصد
روزے کا سب سے اہم مقصد یہ ہے کہ انسان کچھ دیر کے لئے تمام اہم لذا ت ِ مادی کی طرف سے بے توجہ ہوکر روح کو اپنی صفائی و پاکیزگی کی جانب متوجہ ہونے کا موقع دے ۔ روزہ تعمیل ِ ارشادِ خدا وندی میں تزکیہ ء نفس ، تربیتِ جسم دونوں کا ایک بہترین دستور العمل ہے۔
نبی کریمe نے مختلف اسلوب میں روزے کے اصل مقصد کی طرف توجہ دِلائی اور یہ سمجھایا کہ مقصد سے ہٹ کر بھوکا پیاسا رہنا کچھ مفید نہیں۔ چناچہ فرمایا:
[مَنْ لَّمْ یَدَعْ قَوْلَ الزُّوْرِ وَالْعَمَلَ بِہ فَلَیْسَ لِلّٰہِ حَاجَۃٌ فِیْ اَنْ یَّدَعَ طَعَامَہ وَ شَرَابَہ۔]
’’جِس کسی نے جھوٹ بولنا اور جھوٹ پر عمل کرنا ہی نہ چھوڑاتو اس کا کھانا اور پانی چھڑادینے کی اﷲ کو کوئی حاجت نہیں۔‘‘ (بخاری: ۱۹۰۳، ابوداود: ۲۳۶۲)
دوسری حدیث میں ہے کہ سرکارe نے فرمایا:
[کَمْ مِّنْ صاَئِمٍ لَیْسَ لَہ مِنْ صِیَامِہ اِلاَّ الظَّمَاُ وَکَمْ مِنْ قاَئِمٍ لَیْسَ لَہ مِنْ قِیَامِہ اِلاَّ السَّہَرُ۔]
بہت سے روزہ دار ایسے ہیں کہ روزے سے بھوک پیاس کے سوا ان کے پلے کچھ نہیں پڑتا اور بہت سے راتوں کو کھڑے رہنے والے ایسے ہیں کہ اِس قیام سے رَت جگے کے سِوا اُن کے پلّے کچھ نہیں پڑتا۔ (مسند احمد: ۲/۴۴۱، سنن دارمی: ۶/۲۷)
امام غزالیa نے اپنے مخصوص اندازِ بیان میں اس حقیقت پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھا ہے: روزہ کا مقصد یہ ہے کہ آدمی اخلاق الٰہیہ میں سے ایک اخلاق کا پرتو اپنے اندر پیدا کرے جس کو ’’صمدیت‘‘ کہتے ہیں‘ وہ امکانی حد تک فرشتوں کی تقلید کرتے ہوئے خواہشات سے دست کش ہوجائے، اس لئے کہ فرشتے بھی خواہشات سے پاک ہیں، اور انسان کا مرتبہ بھی بہائم سے بلند ہے، نیز خواہشات کے مقابلہ کے لئے اس کو عقل و تمیز کی روشنی عطا کی گئی ہے، البتہ وہ فرشتوں سے اس لحاظ سے کم تر ہے کہ خواہشات اکثر اس پر غلبہ پالیتی ہیں، اور اس کو ان سے آزاد ہونے کے لئے سخت مجاہدہ کرنا پڑتا ہے، چنانچہ جب وہ اپنی خواہشات کی رو میں بہنے لگتا ہے تو اسفل سافلین تک جا پہنچتا ہے اور جانوروں کے ریوڑ سے جاملتا ہے‘ جب اپنی خواہشات پر غالب آتا ہے تو اعلیٰ علّیین اور فرشتوں کے آفاق تک پہنچ جاتاہے۔
علامہ ابن القیم ؒ اسی بات کی مزید وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’روزہ سے مقصود یہ ہے کہ نفس انسانی خواہشات اور عادتوں کے شکنجہ سے آزاد ہوسکے، اس کی شہوانی قوتوں میں اعتدال اور توازن پیدا ہو اور اس کے ذریعہ سے وہ سعادت ابدی کے گوہر مقصود تک رسائی حاصل کرسکے اور حیاتِ ابدی کے حصول کے لئے اپنے نفس کا تزکیہ کرسکے، بھوک اور پیاس سے اس کی ہوس کی تیزی اور شہوت کی حدّت میں تخفیف پیدا ہو اور یہ بات یاد آئے کہ کتنے مسکین ہیں جو نانِ شبینہ کے محتاج ہیں، وہ شیطان کے راستوں کو اس پر تنگ کردے، اور اعضاو جوارح کو ان چیزوں کی طرف مائل ہونے سے روک دے جن میں اس کی دنیا و آخرت دونوں کا نقصان ہے، اس لحاظ سے یہ اہل تقویٰ کی لگام، مجاہدین کی ڈھال اور ابرار و مقربین کی ریاضت ہے۔‘‘
علامہ موصوف روزہ کے اسرارو مقاصد پر نہایت بلاغت کے ساتھ روشنی ڈالتے ہوئے مزید لکھتے ہیں:
روزہ جوارح ظاہری اور قوائے باطنی کی حفاظت میں بڑی تاثیر رکھتا ہے، فاسد مادّہ کے جمع ہوجانے سے انسان میں جو خرابیاں پیدا ہوجاتی ہیں، اس سے وہ اس کی حفاظت کرتا ہے، جو چیزیں مانع صحت ہیں ان کو خارج کردیتا ہے، اور اعضاء وجوارح میں جو خرابیاں ہوَا وہوس کے نتیجہ میں ظاہر ہوتی رہتی ہیں ، وہ اس سے دفع ہوتی ہیں، وہ صحت کے لئے مفید اور تقویٰ کی زندگی اختیار کرنے میں بہت ممد و معاون ہے۔(افادات از: ارکانِ اربعہ،)
روزے کی نیت
نیت سے مراد دل کا ارادہ ہے، زبان سے ادائیگی ضروری نہیں ہے‘ نیت سے متعلق مروجہ الفاظ بدعت ہیں‘ یہ خود ساختہ ہیں۔
احکام سحری
سحری اس کھانے کو کہتے ہیں جو صبح سے کچھ پہلے کھایا جائے ۔ سحری کھاناسنت ہے‘ حدیث شریف میں اس کی بڑی فضیلت آئی ہے۔ سیدنا انس بن مالکt فرماتے ہیں کہ رسول اﷲe نے فرمایا:
[تَسَحَّرُوْا فَاِنَّ فِی السَّحُورِ بَرَکَۃٌ۔]
’’سحری کھاؤ کیوں کہ سحر ی کھانے میں برکت ہے۔‘‘ (بخاری: ۱۹۲۳، مسلم: ۱۰۹۵)
سیدنا عمرو بن عاصw سے روایت ہے کہ رسول اﷲe نے فرمایا:
[فصل ما بین صیامنا و صیام اہل الکتاب اکلۃ السحر۔]
’’ہمارے اور اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) کے روزوں کے درمیان فرق کرنے والی چیز سحری کھانا ہے۔‘‘ (یعنی وہ سحری نہیں کھاتے اور ہم کھاتے ہیں۔) (مسلم: ۱۰۹۶، ابوداؤد: ۲۳۴۳، نسائی: ۴/۱۴۶، مسند احمد: ۴/۲۰۲)
سحری کھانا چاہیے کیوں کہ آپe کی سنت ہے‘ اگر بھوک نہ ہو اور کھانے کی خواہش بھی نہ ہو تو اس سنت پر عمل کرنے کے لئے دو ایک چھوہارے کھالے یا صرف پانی کا ایک گھونٹ ہی پی لے تاکہ سنت پر عمل ہوجائے اور ثواب بھی مل جائے۔
سحری کھانے میں تاخیر کرنا مستحب ہے‘ سحری کھانے میں تاخیر کرنے کا مطلب یہ ہے کہ جب تک صبحِ صادق کا یقین نہ ہو اس وقت تک کھاتے پیتے رہنا چاہیے۔ جب صبح ِ صادق نمودار ہوجائے تو پھر کھانا پینا ترک کردینا چاہئے۔
روزے دار کو سحری کا اہتمام کرنا چاہئے ، اس میں اپنا ہی فائدہ اور مفت کا ثواب ہے۔ مگرہر چیز اعتدال سے کرنا چاہئے۔نہ اتنا کم کھائے کہ عبادت میں کمزوری محسوس ہونے لگے اور نہ اتنا زیادہ کھائے کہ دن بھر کھٹی ڈکاریں آتی رہیں۔اس لئے ہر چیز میں میانہ روی اختیار کرے۔
احکامِ افطار
{ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّیامَ اِلیَ اللّیلِ} (البقرۃ: ۱۸۷)
’’پھر روزہ کو رات ہونے تک پورا کرو۔‘‘
افطار اولِ وقت میں کرنا سنت ہے۔ سیدنا سہل بن سعدt سے روایت ہے کہ رسول اﷲe نے فرمایا:
[لاَ یزَال ُ النَّاس بخیر ما عجلو الفطر۔]
’’میری امت کے لوگ خیر پر رہیں گے جب تک کہ روزہ افطار کرنے میں جلدی کریں گے۔‘‘ (نیل ا لاوطار: ۳/۱۹۶)
ایک حدیث میں ہے کہ جب تک مسلمان روزہ افطار میں جلدی کرتے رہیں گے دین کا غلبہ رہے گا۔
سیدنا ابوہریرہt سے روایت ہے کہ رسول اﷲe نے فرمایاکہ ’’اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بندوں میں زیادہ محبوب بندہ وہ ہے جو افطار میں جلدی کرے۔‘‘ (فتح الباری: ۴/۱۹۹)
افطارمیں جلدی کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ آفتاب غروب ہونے سے پہلے ہی روزہ کھول لیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ جب سورج غروب ہوجائے تو پھر افطار میں محض شک و شبہ اور وہم کی بنا پر دیر نہیں کرنی چاہئے۔
افطار میں افضل چیزیں
[عَنْ سَلْمَانَ بن عاَمرقَالَ قاَلَ رَسُولُ اللّٰہِﷺ اِذا اَفْطرَ اَحَدُکُم فَلْیُفْطِر علیٰ تَمرٍ فَاِنَّہ بَرَکُۃٌ، فَاِنْ لَّمْ یَجِدْ فَلْیُفْطِرْ عَلیٰ مَائٍ فَاِنَّہ طُہُورٌ۔] (ترمذی ،ابوداؤد،ابن ماجہ)
سیدنا سلمان بن عامرt روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲe نے فرمایا: ’’جب تم میں سے کوئی شخص افطار کرے تو اُسے چاہئے کہ کھجور سے افطار کرے کیوں کہ اس میں برکت ہے، اور اگر کھجور نہ پائے تو اُسے چاہئے کہ پانی سے افطار کرے کیوں کہ وہ پاک ہے۔‘‘
آپe جب افطار کرتے تو یہ دعا پڑھتے:
[اَللّٰھمَّ لَکَ صُمْتُ وَعَلٰی رِزْقِکَ اَفْطَرْتُ۔]
’’اے اﷲ! میں نے تیرے لئے روزہ رکھا اور تیرے ہی دیے ہوئے رزق سے افطار کیا۔‘‘ (ابوداود: ۲۳۵۸)
افطار کے بعد کی دعا:
سیدناعبد اﷲبن عمرw سے روایت ہے کہ نبی پاکe جب افطار کرتے تو فرماتے:
[ذَھبَ الظَّمَاُ، وَابتَلَّت العرُوْق، وَ ثَبَت الاَجرُ اِنْ شَائَ اللّٰہ۔] (ابوداؤد: ۲۰۶۶)
’’پیاس بچھ گئی اور رگیں آسودہ ہوگئیں اور ان شاء اﷲ اجر ثابت ہوگیا۔‘‘
افطار میں کھانا کم کھایا جائے تاکہ روزہ کے مقاصد حاصل ہوں۔ آج کل لوگ اس قدر مبالغہ اور اسراف سے کام لینا شروع کردیئے ہیں کہ روزہ کا اصل فائدہ اور اس کا اصلاحی اور تربیتی مقصد فوت ہو جاتا ہے ۔ امام غزالی ؒ نے اس نکتہ پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں:
پانچواں ادب یہ ہے کہ افطار کے وقت حلال غذا میں بھی احتیاط سے کام لے اور اتنا نہ کھائے کہ اس کے بعد گنجائش ہی باقی نہ رہے، اس لئے کہ حلق تک بھرے ہوئے پیٹ سے بڑھ کر مبغوض اﷲکے نزدیک کوئی بھری جانے والی چیز نہیں، اگر روزہ دار افطار کے وقت دن بھر کی تلافی کر دے اور جو دن بھر کھانے والا تھا، وہ اس ایک وقت میں کھالے تو دشمن ِ خدا پر غالب آنے اور شہوت کو ختم کرنے میں روزہ سے کیا مدد مل سکے گی؟ یہ عادتیں مسلمانوں میں اتنی راسخ اور عام ہو چکی ہیں کہ رمضان کے لیے بہت پہلے سے سامان ِ خوراک جمع کیا جاتا ہے، اور رمضان کے دنوں میں اتنا اچھا اور نفیس کھانا کھایا جاتا ہے ، جو اور دنوں میں نہیں کھایا جاتا، روزہ کا مقصود تو خالی پیٹ رہنا اور خواہشات نفس کو دبانا ہے، تاکہ تقویٰ کی صلاحیت پیدا ہوسکے۔ اب اگر معدہ کو صبح و شام تک کھانے پینے سے محروم رکھاجائے اور شہوت وبھوک کو خوب امتحان میں ڈالنے کے بعد انواع و اقسام کے کھانوں سے پیٹ بھر لیا جائے تو نفس کی خواہشات اور لذتیں کم نہ ہوں گی اور بڑھ جائیں گی، بلکہ ممکن ہے کہ بہت سی ایسی خواہشات جو ابھی تک خوابیدہ تھیں، وہ بھی بیدار ہوجائیں، رمضان کی روح اور اس کا راز ان طاقتوں کو کمزور کرنا ہے، جن کو شیاطین اپنے وسائل کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور یہ بات تقلیل غذا ہی سے حاصل ہوگی، یعنی یہ کہ شام کو اتنا ہی کھائے جتنااور دنوں میں کھاتا تھا، اگر کوئی دن بھر کا حساب لگاکر ایک ہی وقت میں کھالے تو اس سے روزہ کا فائدہ حاصل نہ ہو گا۔
بلکہ یہ بھی آداب میں داخل ہے کہ دن میں زیادہ نہ سوئے تاکہ بھوک پیاس کا کچھ مزہ معلوم ہو، قویٰ کے ضعف کا احساس ہو، قلب میں صفائی پیدا ہو۔ اسی طرح ہر شب کو اپنے معدہ کو اتنا ہلکا رکھے کہ تراویح اور وظائف میں مشغولی آسان ہو‘ شیطان اس کے دل کے پاس منڈلانہ سکے اور اس صفائی قلب کی وجہ سے عالم قدس کا دیدار اس کے لئے ممکن ہو۔
افطار کرانے والے کا اجر
[عَنْ زَیْدِ بْنِ خَالدٍ قاَلَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہِﷺ مَنْ فَطَّرَ صَائماً اَوْ جَہَّزَ غاَزِیاً فَلَہُ مِثْلُ اَجْرِہ۔] (بیھقی فی السنن: ۴/۲۴۰، مسند احمد: ۴/۱۱۴)
سیدنا زید بن خالدt بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲe نے فرمایا:
’’جو شخص کسی روزہ دار کا روزہ افطار کروائے یا کسی غازی کے لئے سامانِ (جہاد)فراہم کرکے دے تو اس کو ویسا ہی اَجر ملے گا جیسا کہ اس روزہ دار کو روزہ رکھنے کا اور غازی کو جہاد کرنے کا۔‘‘
سیدنا انسt کہتے ہیں کہ رسول اﷲe جب کسی کے ہاں روزہ افطار فرماتے تو یہ دعا دیتے:
[اَفَطَرَ عِنْدَکُم الصَّائِمُون وَاَکَلَ طَعَامَکُمُ الاَبْرَار وَ تَنَزَّلَتْ عَلَیْکُمْ الْمَلاَئِکَۃُ۔] (مسند احمد: ۳/۱۱۸، ابویعلے: ۴۳۱۹)
’’روزہ دار تمہارے یہاں روزہ افطار کرتے رہیں۔ نیک لوگ تمہارا کھانا کھاتے رہیں اور فرشتے تمہارے ہاں (رحمت لے کر) نازل ہوتے رہیں۔‘‘
اللہ تعالی رمضان المبارک میں ہماری عبادات قبول فرما کر ذریعہ نجات بنائے آمین!


No comments:

Post a Comment