درس قرآن وحدیث 18-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Saturday, July 27, 2019

درس قرآن وحدیث 18-2019


درسِ قرآن
نیکیوں کا موسم بہار
ارشادِ باری ہے:
﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَۙ۰۰۱۸۳﴾ (البقرة)
’’اے ایمان والو!تم پر روزے رکھنا فرض کیا گیا ہے جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیا گیا تھا تاکہ تم تقوی اختیار کرو‘‘
ماہ و سال ‘روز و شب اور لمحاتِ زندگی گذر رہے ہیں۔ انسان حسب استطاعت نیکیوں یا برائیوں کے ساتھ اپنی فانی زندگی کے لمحات گذار رہا ہے۔ اس کے سامنے طرح طرح کے امتحانات بھی ہیں ‘ مشاکل اور مصائب بھی ہیں ۔خطاؤں اور لغزشوں کی وجہ سے انسان گناہوں کے بوجھ تلے دبتا چلا جاتا ہے ۔لیکن اللہ رحیم و کریم ہے جو اپنے بندے سے اس قدر پیار کرتا ہے کہ اسے بار باربخشش کے مواقع فراہم کرتا ہے کہ میرا بندہ اپنے گناہوں کی بخشش اور معافی کا سامان کرکے میرے پاس آئے تاکہ میں اسے نعمتوں والی جنت میں جگہ دوں۔ انہی مواقع میں سے ایک رمضان المبار ک بھی ہے جس کا ہر ہر لمحہ قیمتی اور ایک ایک عمل کئی کئی گنا زیادہ اجروثواب کا باعث بنتا ہے اور مسلمان تقوی کے مدارج طے کرتے ہوئے اللہ کا قرب اور اسکی رضا حاصل کرتا ہے اور یہ روزے کا مقصد حقیقی ہے کہ: لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ  ’’ تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو‘‘
عبودیت رب کی بدولت مسلمان صفت تقوی سے متصف ہوتا ہے اور یہی وہ ذریعہ ہے جو انسان کے عزت وعظمت کا باعث بنتا ہے:
﴿مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْعِزَّةَ فَلِلّٰهِ الْعِزَّةُ جَمِيْعًا﴾ (فاطر)
’’جو کوئی عزت حاصل کرنا چاہتا ہے تو (جان لے کہ)ساری عزت اللہ تعالی ہی کی ہے(عزت کا منبع اللہ کی ذات ہے)‘‘
امام ابن تیمیۃa فرماتے ہیں:
[كلما ازداد العبد تحقيقا للعبودية لله ازداد كماله وعلت درجته.]
’’جس قدر انسان اللہ کے لیے عجزو انکساری اختیار کرتا جاتا ہے اسی قدر اس کی شخصیت میں کما ل اور درجات میں بلندی آتی جاتی ہے‘‘
رمضان المبارک کی ایک ایک گھڑی بندۂ مومن کے لیے عبودیت رب کی گھڑی ہے جس سے مستفید ہوکر انسان اپنی شخصیت میں نکھار اور اخروی فلاح کا بندو بست کر سکتا ہے ۔اس میں انسان کا چھوٹا سا عمل اس کے لیے کئی گنا درجات کی بلندی کا باعث بنتا ہے۔ یہ اللہ کا مسلمانوں پر انعام ہے کہ اس نے انہیں ہر سال میں ایک ایسا مہینہ عطاء کررکھا ہے جو ان کے لیے بخشش کا وافر سامان جمع کرنے کا موقع فراہم کرتاہے اور ہر طرح کی عبادات کا اس ماہ مبارک میں موجود ہونا بھی ایک نعمت ہے کہ انسان ابواب خیر میں سے جس سے سیراب ہونا چاہے ہو جائے ۔

درسِ حدیث
روزے کی فضیلت
فرمان نبویﷺ ہے:
[عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: "كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ يُضَاعَفُ، الْحَسَنَةُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا إِلٰى سَبْعمِائَةِ ضِعْفٍ، قَالَ اللّٰهُ عَزَّ وَجَلَّ: "إِلَّا الصَّوْمَ، فَإِنَّهُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهٖ، يَدَعُ شَهْوَتَهُ وَطَعَامَهُ مِنْ أَجْلِي". لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ: فَرْحَةٌ عِنْدَ فِطْرِهٖ، وَفَرْحَةٌ عِنْدَ لِقَاءِ رَبِّهٖ. وَلَخُلُوفُ فِيهِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللّٰهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ. وَالصِّيَامُ جُنَّةٌ، وَإِذَا كَانَ يَوْمُ صَوْمِ أَحَدِكُمْ فَلاَ يَرْفُثْ وَلاَ يَصْخَبْ، فَإِنْ سَابَّهُ أَحَدٌ أَوْ قَاتَلَهُ، فَلْيَقُلْ إِنِّي امْرُؤٌ صَائِمٌ".] (متفق عليه)
سیدنا ابوہریرہt سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہe نے فرمایا: ’’انسان کے ہر (نیک) کام سے ثواب میں اضافہ کیا جاتا ہے۔ ایک نیکی دس گنا سے سات سو گنا تک بڑھا دی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ’’روزے کے علاوہ، پس وہ میرے لئے ہے میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔ بندہ اپنی خواہش اور اپنا کھانا میری وجہ سے چھوڑتا ہے۔‘‘ روزے دار کے لئے دو خوشیاں ہیں‘ ایک خوشی تو اسے روزہ افطار کے وقت حاصل ہوتی ہے اور ایک خوشی اپنے رب سے ملاقات کے وقت نصیب ہو گی۔ اور روزے دار کے منہ سے آنے والی بو اللہ تعالیٰ کے ہاں کستوری کی خوشبو سے بھی زیادہ پاکیزہ ہے اور روزہ ڈھال ہے۔ جب تم میں سے کسی کا روزہ ہو تو وہ بدکاری نہ کرے، نہ بلند آواز سے گفتگو کرے، اگر کوئی اسے گالی دے یا لڑائی کرے تو وہ اسے کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں۔‘‘
یہ حدیث اپنے مفہوم میں بڑی واضح ہے، انسان کے ہر نیک عمل میں اضافہ کیا جاتا ہے، ایک نیکی کا ثواب دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک بڑھا دیا جاتا ہے۔ جتنا خلوص زیادہ ہو گا اتنا ہی ثواب بڑھ جائے گا، ثواب کا کم از کم درجہ دس گنا ہے جو کہ سات سو گنا تک بڑھتا رہتا ہے مگر روزے کا ثواب اس سے بھی زیادہ ہے۔ تمام نیک اعمال کا اجر و ثواب اللہ کے فرشتے اسی کے حکم کے مطابق نامۂ اعمال میں لکھ دیتے ہیں مگر جب روزے کا ثواب دینے کی باری آتی ہے تو اللہ تعالیٰ خود اس کا اجر دیتا ہے جس کا کوئی حساب ہی نہیں ہے۔ ہر انسان نیک اعمال اللہ کی رضا کے لئے ہی کرتا ہے مگر اللہ کا یہ فرمانا کہ روزہ میرے لیے ہے‘ اس کا سبب ہے کہ روزہ ایسا عمل ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو علم نہیں ہوتا‘ گویا کہ یہ اللہ اور بندے کا معاملہ ہے کسی تیسری ذات کو علم نہیں ہوتا۔ بندہ اپنی خواہشات اور کھانا پینا محض اللہ کے لئے چھوڑتا ہے۔ اس لئے اللہ نے فرمایا کہ روزہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا اجر دوں گا۔ روزے دار سے اللہ بڑی محبت کرتا ہے اس کے منہ سے معدہ خالی ہونے کی بنا پر جو بو آتی ہے، اللہ کو کستوری کی خوشبو سے بھی زیادہ پیاری لگتی ہے لہٰذا اپنے روزے کو بے کار اور فضول باتوں اور لڑائی جھگڑے سے محفوظ رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔


No comments:

Post a Comment

View My Stats