سرزمین اندلس ... چند یادیں چند باتیں 18-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Saturday, July 27, 2019

سرزمین اندلس ... چند یادیں چند باتیں 18-2019


سرزمین اندلس ... چند یادیں چند باتیں

تحریر: جناب پروفیسر محمد یٰسین ظفر
سیر وسیاحت شاندار مشغلہ ہے بشرطیکہ انسان کے پاس وقت اور پیسہ ہو۔ دنیا عجائبات سے بھری ہوئی ہے اس میں اللہ تعالیٰ کی صنعائی کے شاہکار ہیں جنہیں دیکھ کر بندہ مبہوت ہو جاتا ہے۔ سرسبز پہاڑ ‘ابلتے چشمے ‘صاف شفاف آبشاریں ‘نیلگو جھیلیں ‘بل کھاتے دریا یہ سارے قدرتی مناظر اور وجد آفریں حسین نظارے بار بار دیکھنے کی دعوت دیتے ہیں۔ اس کے ساتھ انسانی ہاتھوں کے کمالات‘ فن تعمیر کے اعلیٰ نمونے‘ سنگ تراشی ‘ہیرے جواہرات سے مزین فن پارے ‘بلند و بالا اور حسین و جمیل عمارتیں‘ پر شکوہ درو دیوار‘ بے مثال اور نقش و نگار سے آراستہ چھتیں اور پرہیبت ستون ‘ پرکشش باغات انسانی کاریگری کی لازوال نشانیاں ہیں۔ ماضی بعید اور قریب کے آثار دنیا بھر میں موجود ہیں‘ کوئی ملک ایسا نہیں جو ان نوادرات سے خالی ہو۔ مختلف خطوں میں پائے جانے والے ان آثار قدیمہ کی اپنی تاریخ‘ پس منظر اور کشش ہے۔ جنہیں دیکھنے کے لیے دنیا بھر سے لوگ کشا کشا چلے آتے ہیں۔ اس سے جہاں لوگ خوبصورت ماحول اور فضا سے لطف اندوز ہوتے ہیں وہاں بہت سارے مقامات سے عبرت بھی پکڑتے ہیں۔
قرآن حکیم میں بھی اللہ تعالیٰ نے تقریباً ۳۵ مرتبہ ’’سیرواً‘‘ سیر کرو اور دیکھو کا تذکرہ کیا ہے۔
سیر و سیاحت کا مقصد یہ ہے کہ ان لوگوں کا انجام دیکھو جنہوں نے انبیاء کی تکذیب کی اور اللہ تعالیٰ کی توحید سے انکار کیا۔ کسی جگہ فرمایا کہ ماضی میں ایسے واقعات و حادثات ہو چکے لہٰذا چل پھر کر انکا انجام دیکھو۔ ایک جگہ فرمایا کہ زمین میں گھومو پھرو اور اپنے قلوب واذہان سے غور کرو۔ آخر کیا وجہ ہے کہ یہ لوگ برے انجام سے دو چار ہوئے۔ ایک اور جگہ اس سیر و سیاحت کی غرض وغایت ہی یہ بتائی کہ ذرا ان اقوام کا انجام تو دیکھو جو تم سے زیادہ قوت اور وسائل رکھتے تھے لیکن کہاں گئے؟! سورۃ محمد میں بتا دیا کہ ان کی نالائقیوں اور غلط کرتوتوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے انہیں تباہ و برباد کر دیا۔ غرض کہ سیر و سیاحت کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ ہم سابقہ امتوں اور اقوام کی تباہ شدہ املاک‘ محلات اور دیگر نشانیوں کو عبرت کی نگاہ سے دیکھیں‘ سبق حاصل کریں اور وہ طرز زندگی اختیار نہ کریں جس کی بدولت وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کے مستحق بنے۔ خاص طور پر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور انبیاء کی تکذیب اور توہین ہی قوموں کے زوال اور تباہی کا سبب بنی۔ ان کی اعلیٰ شان دارعمارتیں ‘بلند و بالا پہاڑوں کو تراش کر بنائے گئے گھر‘ حیرت انگیز مکانات اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے نہ بچا سکے۔ ایسی لا تعداد نشانیاں جابجا بکھری ہوئی ہیں لیکن ہے کوئی عبرت حاصل کرنے والا۔!
اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے دنیا کو بہت خوبصورت اور حسین بنایا ہے‘ بلند و بالا برف پوش پہاڑ‘ اونچائی سے گرتی آبشاریں ‘ ٹھنڈے ‘گرم ‘میٹھے اور کھارے چشمے ‘ نیلے کالے‘ گلابی اور سفید پانیوں سے بھری جھیلیں ‘ سرسبز و شاداب اور پھولوں سے بھرے پہاڑ جنہیں دیکھ کرمزاج میں تازگی اور بنانے والے کی کبریائی کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔
ماضی میں تو بہت سے ایسے مقامات لوگوں کی نظروں سے اوجھل تھے جہاں رسائی ناممکن تھی۔ لیکن موجودہ دور کی ترقی اور ان مقامات تک بآسانی رسائی نے لوگوں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔ حکومتوں نے بھی سیاحت کے کام کو باقاعدہ انڈسٹری کی شکل دے دی۔ تمام جگہوں پر بے شمار آرام دہ ہوٹل اور ریسٹورنٹ بنا دیئے۔ آمد و رفت کے لیے آرام دہ گاڑیاں اور سواریاں مہیاکر دیں۔ لوگ جوق در جوق ان مقامات کو دیکھنے آتے ہیں‘ حکومتیں کروڑوں روپیہ سالانہ کماتی ہیں اور لوگ بھی تفریح طبع کے لیے ان جگہوں کا رخ کرتے ہیں۔
قدرتی  مناظر کے ساتھ ساتھ اگر انسانی ہاتھوں کی کاریگری اور فن کاری بھی شامل ہو تو اور بھی زیادہ کشش پیدا ہو جاتی ہے۔ ایسے مقامات کی بھی دنیا میں کمی نہیں۔ لیکن یہ تمام مقامات جہاں بھی ہیںان کی تعمیر صدیوں پہلے ہوئی اور بنانے والے جدید وسائل سے محروم تھے۔ سب کام دستی اور انسانی ہاتھ سرانجام دیتے‘ کیا کمال فن کار تھے‘ ان کا حسن ذوق ‘اعلیٰ مہارت ‘ حسن ترتیب‘ قومی ثقافت کی آئینہ دار ہوتی تھی‘ ان مقامات کوشمار کرنا چاہیں تو ممکن نہیں۔
اللہ تعالیٰ کا خاص فضل و کرم اور احسان ہے کہ اس نے مجھ خاکسار کو بے وسیلہ ہونے کے باوجود بہت اہم اور تاریخی مقامات کے حامل ممالک میں جانے کے اسباب پیدا کئے اور ان مقامات کو قریب سے دیکھنے اور ان کی تاریخی حیثیت کو جاننے کا موقعہ ملا۔ اس پر جتنا شکر ادا کروں کم ہے۔ الحمد والشکر للہ تعالیٰ۔
ان میں سے اہم ترین ممالک میں سعودی عرب‘ ترکی‘ اردن اور سپین ہیں۔ موخر الذکر ملک (سپین) میں چند ماہ قبل جانے کا اتفاق ہوا جس کے بارے اپنے احساسات ‘ خیالات اور تاثرات پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ یہ جانتے ہوئے کہ نہ تو میں ادیب اور سفر نگار ہوں بلکہ سپین کے بارے میں بہت سے سفر نامے موجود ہیں۔ ان کے ہوتے ہوئے میں کیا اضافہ کر سکتا ہوں۔ لیکن اس جذبے کے تحت کہ مجھے بھی اپنے اسلاف سے ایک تعلق ہے۔ اس بہانے ان کا ذکر خیر ہو گا اور ان کی چھوڑی ہوئی میراث اور حسین یادگاروں کی منظر کشی کروں گا۔ احباب جانتے ہیں کہ میں عرصہ دراز سے جامعہ سلفیہ میں تاریخ اسلام کا درس دیتا ہوں۔ خصوصاً اندلس کی تاریخ میری کمزوری ہے۔ جس کی تدریس کے دوران مسلمانوں کی عالمی برتری ۔۔ عسکری قوت ‘ علمی تعلیمی ‘دعوتی ‘اصلاحی سرگرمیوں‘ سائنسی علوم کی سرپرستی ‘ معاشرتی زندگی میں اعلیٰ معیار ‘ سیاسی پختگی‘ عدالتی نظام میں انصاف کی امیر و غریب تک فراہمی‘ مالیاتی نظام میں شفافیت ‘ فنون لطیفہ سے متعلق لوگوں کی حوصلہ افزائی‘ شہری آبادی میں آب رسانی اور نکاسی کا نظام‘ ذرائع مواصلات میں سڑکوں اور آبی گزرگاہوں پر پلوں کی تعمیر‘ زراعت پیشہ سے وابستہ زمینداروں کی حوصلہ افزائی ‘ کھیت کھلیان سے منڈیوں تک بآسانی رسائی‘ امن و امان کے قیام کے لئے گزرگاہوں پر سپیشل پولیس کی تقرری‘ دینی علوم اور اس سے وابستہ اساتذہ اور طلبہ کے لیے خصوصی وظائف‘ ممتاز علماء‘ محدثین اور فقراء کے لیے سرکاری پروٹوکول اور ایوان اقتدار تک رسائی ‘ مجالس مشاورت میں ان کی شمولیت‘ عربی زبان کو سرکاری مقام دینا‘ غیر مسلموں کے حقوق اور ان کے ساتھ شائستہ رویہ تعلیم کے فروغ کے لے مدارس کا قیام‘ مسلمانوں کے لیے روحانی مراکز میں جامع مسجد قرطبہ اور غرناطہ میں جامع مسجد الحمراء کی تعمیر‘ ایوان اقتدار کی ہیبت میں اضافے کے لیے قرطبہ میں مدینۃ الزہراء اور غرناطہ میں قصرالحمراء جو آج بھی مسلمانوں کے عہد کی لازوال نشانیاں ہیں۔ کم و بیش ۳۵ سال سے تدریس کے شعبے سے وابستہ ہوں۔ ہر سال یہ خواہش اور زیادہ شدت اختیار کر جاتی کہ میں سپین جاؤں اور ان مقامات کو اپنی آنکھوں سے دیکھوں۔ قریب سے مشاہدہ کروں کہ کس طرح ان ماہرین نے ان عمارتوں کو دوام بخشا۔ اس کے لیے دعا بھی کرتا کہ اللہ تعالیٰ کوئی اسباب پیدا کریں اور یہ سفر آسان بھی ہو۔
میں ذات باری تعالیٰ کا لاکھوں بار شکر گزار ہوں جس نے یہ موقعہ فراہم کیا اور ایسے مہربان ساتھی بھی مہیا کیے جن کی بدولت کوئی تکلیف اور مشکل پیش نہ آئی۔ ہر کام کا وقت مقرر ہے اور اللہ تعالیٰ کی رحمت خاص سے ہی ہر کام انجام کو پہنچتا ہے۔ ہم اسباب کی دنیا میں رہتے ہیں‘ کوئی نہ کوئی سبب اور وجہ کسی کام کا ذریعہ بن جاتا ہے ۔ ہوا یوں کہ گذشتہ کچھ عرصے سے ائرفورٹ یونیورسٹی جرمنی کے ساتھ تعلیمی و تربیتی الحاق ہوا۔ ذاتی طور پر ائرفورٹ یونیورسٹی جانے اور یونیورسٹی کو دیکھنے کا موقعہ ملا۔ اس کے بعد جامعہ سے طلبہ کے وفود بھی جاتے رہے جو واپسی پر پوسٹ تربیتی ورکشاپ منعقد کرتے رہے‘ یہ کم از کم چھ ایسی ورکشاپس تھیں جوبہت کامیاب رہیں۔ ان کے اختتام پر یونیورسٹی نے چند منتخب اساتذہ کو مدعو کیا تاکہ سابقہ کارروائی کی روشنی میں مستقبل کی منصوبہ بندی کی جا سکے۔ اس ضمن میں دس دسمبر ۲۰۱۷ء سے ۱۶ دسمبر ۲۰۱۷ء تک ایک اہم اجلاس ایئرفورٹ یونیورسٹی جرمنی میں رکھا گیا جس میں خاکسار کو بھی شمولیت کی دعوت دی گئی۔ موقعہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے میں نے جرمنی کے علاوہ بلجیئم اور سپین جانے کا بھی پروگرام ترتیب دیا۔ لیکن اس کے لیے باقاعدہ ویزے کی ضرورت تھی۔ لہٰذا اس منصوبہ بندی میں بلجیئم میں موجود عزیز القدر برادرم حبیب اللہ صاحب کو شامل کیا جنہوں نے کمال محبت سے وہ تمام دستاویزی ضروریات مکمل کیں جس میں ہوائی سفر کے ٹکٹ  کے علاوہ ہوٹل کی بکنگ وغیرہ شامل ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ویزے کے تمام مراحل بآسانی طے ہوئے اور ویزہ مل گیا۔
میں دس دسمبر ۲۰۱۷ء کو قطر ائرویز کے ذریعے براستہ دوحہ قطر فرینکفرٹ جرمنی کے لئے روانہ ہوا۔ پاکستان میں بھی موسم بہت حد تک خنک اور اچھا تھا جبکہ قطر میں گرمی محسوس ہو رہی تھی۔ جب فلائٹ فرینکفرٹ پر اتری تو دن کے دس بج رہے تھے اور شدید برف باری جاری تھی۔ تقریباً پورے یورپ میں برف باری کا طوفان تھا‘ غالباً یہ موسم سرما کی پہلی برف باری تھی‘ ہر چیز نے سفید چادر اوڑھ لی۔ موسم بہت ٹھنڈا اور یخ بستہ ہوائیں چل رہی تھیں ضروری کارروائی سے فارغ ہو کر باہر نکلا توبعض دوست میرے انتظار میں کھڑے تھے۔ جو خاص طور پر ائرفورٹ سے مجھے لینے تشریف لائے۔ فرینکفرٹ سے بذریعہ ٹرین ائرفورٹ جانا تھا اور گاڑی چلنے میں ابھی کافی وقت تھا۔ لہٰذا مناسب سمجھا ہلکا پھلکا لنچ کر لیا جائے۔ لہٰذا فش برگر اور کافی کا آرڈر دیااور گپ شپ میں مصروف ہو گئے۔ مقررہ وقت پر ہم ٹرین  میں سوار ہوئے جو برف باری‘ خراب موسم کے باوجود ٹھیک ٹائم پر پلیٹ فارم پر پہنچ گئی‘ چند لمحوں میں فرینکفرٹ کے مرکزی اسٹیشن پر پہنچ گئی جہاں سے یہ ائرفورٹ کے لیے روانہ ہوئی۔ چونکہ دن کا سماں تھا‘ برف باری جاری تھی‘ نہایت ہی دلکش منظر جو زندگی میں پہلی مرتبہ دیکھ رہا تھا۔ ریل میں درجہ حرارت مناسب جبکہ باہر منفی ۲ تھا‘ ہم تین گھنٹے میں ائرفورٹ پہنچ گئے جہاں سٹیشن پر دیرینہ رفیق اور میرے مہربان جناب حسنین بخاری استقبال کے لیے موجود تھے۔ سورج تقریبا غروب ہو چکا تھا‘ جرمن میں دن مختصر اور راتیںلمبی تھیں۔ ہم بذریعہ میٹرو ٹرین ہوٹل پہنچے‘ گھر سے لیکر ہوٹل پہنچنے تک تقریباً ۲۴ گھنٹے ہو چکے تھے ‘ تھکاوٹ خوب اور پاؤں پر ورم تھے۔ لہٰذا آرام کرنے کے علاوہ کوئی پروگرام نہ تھا حتی کہ رات کا کھانا بخاری صاحب نے کمرے میں پہنچا دیا‘ گرم پانی سے نہایا جس سے بہت حد تک سکون ملا۔ کھانا کھایا اور نیند کی وادی میں اتر گیا۔ حسب عادت پانچ بجے اٹھ بیٹھا‘ یہ سمجھ کر کہ کہیں فجر کا وقت نہ نکل جائے‘ باہر مسلسل اندھیرا تھا‘ پونے گھنٹے بعد نماز فجر پڑھی اور دوبارہ سو گیا۔ اب جب آنکھ کھلی تو آٹھ بجے تھے لیکن سورج نہیں نکلا تھا۔ بہت حیران ہوا‘ اس کے بعد گوگل پر ریسرچ کی تو معلوم ہوا کہ سورج طلوع ہونے کا وقت ساڑھے آٹھ بجے ہے لیکن زندگی رواں دواں تھی۔ اس لیے کہ دفتروں دکانوں اور سکولوں کا وقت آٹھ بجے شروع ہو جاتا ہے۔
صبح برف باری تو رک چکی تھی البتہ بوندا باندی جاری تھی۔ میں ناشتے کے لیے نیچے ڈائنگ ہال میں پہنچا تو لوگ ناشتے میں مصروف تھے اس لیے کہ انہوں نے مختلف جگہوں میں جانا تھا۔ ناشتے سے فراغت کے بعد میں چہل قدمی کے لیے باہر نکلا تو موسم نہایت سرد تھا۔ سرد ہوائیں چل رہی تھیں اور ابھی سورج نکل چکا تھا لیکن کہیں نام و نشان نہ تھا یہ آرام کا دن تھا۔ میں تقریباً ایک گھنٹہ سیر کر کے واپس کمرے میں آیا۔ پانچ دن مختلف اوقات میں پروگرامز جاری رہے اور نہایت مصروف وقت گزرا۔
۱۶ دسمبر ۲۰۱۷ء دن گیارہ بجے ائرفورٹ سے فرینکفرٹ بذریعہ ٹرین روانہ ہوا‘ یہ بھی بہت خوشگوار دن تھا۔ فرینکفرٹ سے برسلز بلجیئم بھی ٹرین کا سفر اختیار کیا تاکہ راستے میں خوبصورت مناظر سے لطف اندوز ہو سکوں‘ یہ تقریباً ساڑھے تین گھنٹے کا سفر جو پلک جھپکتے گزر گیا۔ برسلز میں برادرم حبیب اللہ اسٹیشن پر موجود تھا‘ ہلکی بارش جاری تھی اور سردی بھی خوب! ہم پہلے ان کی دکان پر گئے۔ تھوڑی دیر ٹھہرے اور اس کے بعد گھر گئے۔ منہ ہاتھ دھویا‘ تازہ دم ہوئے‘ نمازیں ادا کیں اور رات کا کھانا باہر کھانے کا پروگرام بنایا‘ ایک لمبا چکر لگا کر ہم برسلز کے سنٹر میں واقع سکوائر میں پہنچے‘ کافی دور پارکنگ ملی اور پیدل بازار نکل آئے‘ رات آٹھ بجے مارکیٹں بند ہو جاتی ہیں البتہ ریسٹورنٹ اور کافی شاپ کھلے رہتے ہیں چونکہ کرسمس قریب تھا لہٰذا بازار کو نہایت خوبصورتی سے سجایا ہوا تھا اور رنگ برنگی لائٹیں روشن تھیں۔ برسلز کے سنٹرل چوک میں خوب اژدھام تھا۔ جہاں لائٹوں کے ذریعے تاریخی عمارتوں کو سجایا گیا تھا اور یہ منظر بھی دیدنی تھا۔ کافی دیر ادھر ادھر گھومنے کے بعد فیصلہ ہوا کہ اب کھانا کھا لیا جائے۔ ہم نیل ریسٹورنٹ پہنچے‘ باہر ہلکی بارش جاری تھی جبکہ اندر ہاؤس فل تھا‘ ہمیں انتظار کے لیے کہا گیا۔ قریبا بیس منٹ کے بعد میز خالی ہوئی تو بیٹھ گئے یہ مصری ریسٹورنٹ تھا‘ لوگ بہت بااخلاق اور روانی کے ساتھ فرنچ بول رہے تھے۔ حبیب نے پسند یدہ چیزوں کا آرڈر دیا‘ گرما گرم کھانا عمدہ اور لا جواب خوشبو اور بہت ہی مزیدار ذائقہ ! خوب سیر ہو کر کھایا‘ سردی کی وجہ سے پیاس نہ ہونے کے برابر جبکہ بھوک خوب چمکتی ہے۔ بہر حال ہم رات گیارہ بجے کے قریب گھر پہنچے اور اہل خانہ سے خوب گپ شپ ہوئی‘ حبیب کے تین بیٹے اور ایک بیٹی ہے جو نہایت فرمانبردار اور مؤدب ہیں۔ نماز ‘ تلاوت  کا اہتمام ہے ان کی اہلیہ بھی پڑھی لکھی اور نہایت سمجھ دار خاتون ہیں‘سردی کا تقاضا تھا کہ گرم گرم کافی پی جائے لہٰذا حسب منشا کافی مل گئی۔
دوسرے دن ۱۷ دسمبر ۲۰۱۷ء کو علی الصبح ہمیں سپین کے لیے نکلنا تھا لہٰذا فجر سے قبل گھر سے نکلے۔ چونکہ فلائٹ آٹھ بجے روانہ ہونی تھی‘ ائرپورٹ قریب تھا‘ میٹرو کے ذریعے ہم بآسانی پہنچ گئے۔ بورڈنگ اور سیٹ پہلے ہی کنفرم تھی لہٰذا ہم لاؤنج میں بروقت چلے گئے بلکہ ہلکا پھلکا ناشتہ بھی کیا اور فلائٹ کا انتظار کرنے لگے‘ یہ میری زندگی کا اہم ترین سفر تھا۔ سپین جانا اور تاریخی مقامات کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا بڑی آرزو تھی جو آج پوری ہونے جا رہی تھی۔ لہٰذا دل میں بے پناہ خیالات اور تصورات ابھرتے‘ کبھی قصر الحمراء‘ کبھی مسجد قرطبہ‘ کبھی مدینہ الزہرا اور کبھی مسجد الحمراء اور کبھی وسوسے بھی آتے‘ جبھی یہ اعلان ہوا کہ Arinair کا جہاز مالقہ جانے کے لیے تیار ہے‘ جہاز میں سوار ہوئے‘ اس وقت بلجیئم میں موسم سرد تھا۔ تین گھنٹے کی پرواز کے بعد ہم مالقہ انٹرنیشنل ائرپورٹ پر اترے تو خوب دھوپ نکلی ہوئی تھی اور موسم خوشگوار تھا۔ سپین کا ہوائی ٹکٹ لیتے ہوئے برادرم حبیب نے گاڑی کی بکنگ کرائی تھی۔ ائرپورٹ سے ان کی گاڑی ہمیں آفس لے گئی جہاں ضروری کاغذات اور فارم کی تکمیل کے بعد ہمیں گاڑی دے دی گئی۔ یہاں سے ہمیں غرناطہ جانا تھا‘ مالقہ سے نکلتے ہی میں تصورات و خیالات کی دنیا  میں گم ہو گیا اور اندلس کی تاریخ دماغ میں گھومنے لگی۔
یہ ان دنوں کی بات ہے جب یورپ تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا۔ غربت ‘افلاس اور جہالت کی وجہ سے عوام الناس کا لانعام تھے۔ جینے کا حق امراء یا مذہبی پیشواؤں کو حاصل تھا۔ معاشرے میں عام لوگوں کی حیثیت محض جانوروں کی سی تھی‘ کام کریں اور میسر خوراک کھائیں۔ پڑھنے کی قطعاً اجازت نہ تھی‘ سوچوں پرکڑا پہرہ تھا‘ ان کے مستقبل کا فیصلہ امراء یا مذہبی پیشوا مل کر کرتے تھے۔ کسی کو اس پر احتجاج کی اجازت نہ تھی۔ مذہب کے نام پر لوٹ مار کا بازار گرم تھا‘ ان کے پادری کفارے کی آڑ میں لوگوں سے خون پسینے کی کمائی وصول کرتے‘ گرجا گھروں میں دولت کے انبار تھے۔ ایک ایک پادری سینکڑوں محافظوں کے جلو میں بڑے کردفر کے ساتھ شہروں میں گشت کرتا۔ اپنی حیثیت منانے کے لیے دولت کی خوب نمائش ہوتی‘ سونے چاندی سے مزین سواری پر سوار ہوتا‘ لوگ پہلے سے بھی زیادہ خوف زدہ ہو جاتے اور ان ناہنجار اور نام نہاد مذہبی پیشواؤں کی ہر بات ماننے پر مجبور ہو جاتے‘ یہ لوگوں کی جہالت کا خوب فائدہ اٹھاتے۔ مؤرخین نے لکھا ہے کہ اس دور میں ان کے گرجا گھر پری خانے تھے‘ دنیا کی حسین ترین خواتین رہباؤں کی شکل میں ان کی خدمت پر مامور ہوتیں کہ مذہب کی آڑ میں ان کا استحصال کرتے۔ یہ خواتین بن بیاہیاں داشتوں کا کام دیتیں لیکن کسی کی مجال نہیں کہ ان کے خلاف زبان کھولے۔ دنیا کی بہترین شراب صرف گرجا گھروں میں میسر تھی۔ سونے چاندی‘ ہیرے جواہرات کے ڈھیر لگے رہتے۔ لباس فاخرہ زیب تن کرتے۔ اپنی قوت اور سطوت کا مظاہرہ کرتے۔ جبکہ لوگ بھوک سے مر رہے ہوتے فاقہ کشی عام تھی‘ توہم پرستی‘ بد عقیدگی کی وجہ سے بیماری کا باقاعدہ علاج نہ کراتے بلکہ عجیب و غریب طریقے سے مریضوں کو مارتے … مذہب کا اس قدر غلبہ کہ ایوان اقتدار میں موجود کوئی فرد کوئی ضابطہ یا قانون اس وقت تک نہ بنا سکتا جب تک مذہبی رہنماؤں کو راضی نہ کر لیتے ہر ضابطے اور قانون میں اپنا تحفظ پہلے کرتے اور امراء کو تحفظ دینے کے لے مذہبی تعلیمات بدل ڈالتے۔ بلا شبہ یورپ کے عوام امراء اور مذہب کے درمیان بری طرح پھنسے ہوئے تھے جہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ دکھائی نہ دیتا۔  ……( جاری )


No comments:

Post a Comment