اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے 18-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Saturday, July 27, 2019

اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے 18-2019


اسلام ... ایک مکمل ضابطۂ حیات

یہ حقیقت ہے کہ اسلام ایک مکمل دین اور جامع ضابطۂ حیات ہے۔ زندگی کا کوئی شعبہ اور کوئی گوشہ اس کی اعلیٰ تعلیمات کے دائرہ سے باہر نہیں۔ خواہ اس کا تعلق سیاست سے ہو یا نظامِ معیشت سے‘ تدبیر منزل سے ہو یا بین الاقوامی امور سے۔ بعض شعبوں کے متعلق اس کی مستقل ہدایات موجود ہیں اور بعض میں بنیادی اصول فراہم کر دیئے گئے ہیں جن کی روشنی میں حالات وظروف کے مطابق طریق کار اختیار کیا جا سکتا ہے۔ یہ سچی بات ہے کہ اسلام پوری انسانیت کے لیے امن وسلامتی‘ عدل وانصاف‘ آزادی‘ عزت وتکریم‘ فوز وفلاح ودیگر امور کے حوالہ سے محافظ ونگران ہے۔ وہی ہے جو اعلیٰ طبقوں کے ا نسانیت کش عزائم واعمال کا اپنے حکیمانہ انداز میں رستہ روک سکتا ہے۔ ایسے حالات میں بعض مغرب زدہ لوگوں کا اعتراض ہے کہ اسلام کے عقائد‘ تہذیب‘ روایات اور خیالات چودہ سو سال پرانے ہیں اور زمانے کے تقاضے نئے ہیں‘ اس لیے انہیں جدید ماحول کی روشنی میں ڈھالنا ضروری ہے۔ یہ اعتراض بیحد سطحی اور حقائق سے بعید ہے کیونکہ اسلام اتنا ہی قدیم دین ہے جتنا کہ جدید ہے۔ بلاشبہ اسلام ایک متحرک اور عالمگیر دین ہے جو ترقی پذیر اور ہر لمحہ تغیر پذیر زندگی کے لیل ونہار کی رہنمائی کر سکتا ہے۔ اسلام زمانے کے بدلتے ہوئے تقاضوں میں خود نہیں ڈھلتا بلکہ اپنی عالمگیر اور نکتہ رس حکمت وتدبیر کے سانچوں میں ان تقاضوں کو ڈھال لیتا ہے کیونکہ ہر دور کے تقاضوں کی تکمیل واصلاح کے بغیر اس کی ابدیت واکملیت پر حرف آتا ہے۔ جبکہ اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ دین صرف اسلام ہے۔ {اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰہِ الْاِسْلَام} چنانچہ یہ بات علیٰ وجہ البصیرت کہی جا سکتی ہے کہ انسانیت کی فلاح ونجات‘ تعمیر وترقی‘ فکر وعمل کی بہتری اسلام اور صرف اسلام سے وابستہ ہے۔ یہی وہ دین ہے جسے خالق کائنات نے انسان کی رشد وہدایت اور رہنمائی کے لیے پسند فرمایا ہے۔ اسی دین کی تبلیغ واشاعت کے لیے انبیاء کرامo مبعوث کیے گئے۔ اسلام کی آخری اور مکمل ترین صورت دنیا کو صاحب ختم نبوت نبی کریمe کے ذریعے حاصل ہوئی۔ ارشاد خداوندی ہے: {اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا} یعنی ’’آج میں نے دین کو تمہارے لیے مکمل کر دیا ہے اور اپنی نعمت کا اتمام کر دیا ہے اور اسلام کو تمہارے لیے پسند کیا ہے۔‘‘
اتمام نعمت اور دین اسلام‘ امت محمدیہ کے لیے بہت بڑا اعزاز ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دین کے علاوہ کوئی دوسرا دین‘ انسانیت کی حقیقی فوز وفلاح اور دارین میں سرخروئی کا ضامن نہیں بن سکتا۔ انسانیت کی بھلائی کا راز صرف اور صرف اسلام کی اتباع میں مضمر ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ بھٹکی ہوئی انسانیت‘ رشد وہدایت کے اس سرمدی چشمے سے اپنی لب تشنگیاں کب دور کرتی ہے؟ اس بات کا انحصار بڑی حد تک ان لوگوں کے طرز فکر وعمل پر ہے جو اپنے آپ کو دین حق کا علمبردار سمجھتے ہیں۔ اگر یہ لوگ صحیح معنوں میں اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہو جائیں تو وہ نہ صرف خود دین ودنیا کی کامیابیوں سے اپنے دامن کو مالا مال کر سکتے ہیں بلکہ بھٹکی ہوئی انسانیت کو ضلالت وگمراہی سے نکال کر فلاح وکامرانی سے ہمکنار کر سکتے ہیں۔
اس میں شک نہیں کہ اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو زندگی کے ہر موڑ پر انسان کی رہنمائی کرتا ہے اور ایسے اصول اور ایسا اسلوب حیات پیش کرتا ہے جس کی نظیر دوسرے کسی مذہب میں نہیں ملتی۔ اسلام ہی وہ دین ہے جو انسانی مساوات اور عالمی اخوت وبھائی چارے کا پیغامبر ہے۔ رسول اللہe نے فرمایا کہ ’’تمام انسان اللہ کے نزدیک برابر ہیں‘ گورے کو کالے پر اور عربی کو عجمی پر کوئی فوقیت نہیں مگر تقویٰ ہی وجہ امتیاز ہے۔‘‘ جیسا کہ قرآن مجید کا ارشاد ہے: {اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقَاکُمْ} یعنی ’’اللہ تعالیٰ کے نزدیک صاحب عزت وتکریم وہ ہے جو تقویٰ میں سب سے آگے ہے۔‘‘
ابراہیم لنکن نے دنیا میں اس وجہ سے بڑی شہرت حاصل کی تھی کہ اس نے شمالی امریکہ میں غلاموں کو آزادی دی تھی۔ حالانکہ رسول اکرمe نے صدیوں پیشتر یہ عمل کیا تھا اور تکریم انسانیت کے پیش نظر غلاموں کو خرید کر آزاد کر دیا کرتے تھے۔ اس وقت معاشرے میں غلاموں کو جس قدر حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا تھا اسی قدر ان کو عظمت عطاء کی۔ حقیقی بات یہ ہے کہ اسلام کی زریں تعلیمات کے سبب آقا وغلام کے امتیازات مٹ گئے۔ بنی آدم کو اس کا کھویا ہوا وقار بحال ہوا۔ زید بن حارثہ‘ اسامہ بن زید‘ بلال حبشی‘ سلیمان فارسی اور صہیب رومی] کے ساتھ رسول اللہe کو جو انس ومحبت تھی اس پر تاریخ اسلام کو ناز رہے گا۔ سیدنا بلال حبشیt کو اس معاشرے میں وہ عظمت نصیب ہوئی کہ انہیں مؤذن بنا کر بلند وبالا کر دیا جبکہ ان کا تلفظ بھی درست نہیں تھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ رسول اکرمe ظاہری الفاظ پر نہ جاتے تھے بلکہ ان کی نظریں اس جذبہ پر تھیں جو سیدنا بلال کے دل کی گہرائیوں میں کروٹیں لے رہا تھا۔
اس وقت دنیا میں دو بڑے معاشی نظام برسر پیکار ہیں۔ ایک طرف سرمایہ دارانہ نظام ہے‘ د وسری طرف سوشلزم جو کیمونزم کی ترقی یافتہ شکل ہے۔ دونوں نظامہائے زندگی انسانیت کو تباہی کی طرف لے جا رہے ہیں اور دنیا اس حقیقت کو فراموش کر چکی ہے کہ اسلام ہی وہ فطری نظام زندگی ہے جو انسانیت کو تباہی اور ہلاکت سے بچا سکتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اسلامی اقدار کو زندگی کا محور بنایا جائے۔ ارشاد خداوندی ہے: {وَمَنْ یَّبْتَغِ غَیْرَ الْاِسْلَامِ دِیْنًا فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْہُ} یعنی ’’اسلام کے علاوہ کوئی اسلوب حیات اور طریق زندگی اللہ تعالیٰ کے نزدیک قابل قبول نہیں۔ نبی اکرمe کی بعثت کا مقصد یہ تھا کہ دنیا کو گمراہی سے نکال کر اسلام کے رستہ پر گامزن کریں۔


No comments:

Post a Comment