خطبۂ حرم 18-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Saturday, July 27, 2019

خطبۂ حرم 18-2019


ماہِ شعبان ... رمضان کی تیاری کا مہینہ

امام الحرم المکی فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبداللہ البعیجان d
حمد و ثناء کے بعد!
قرآن کریم ہی بہترین بات اور کلام ہے۔ اللہ کے یہاں قابل قبول دین، دین اسلام ہی ہے اور بہترین طریقہ، ہمارے نبی محمد e ہی کا طریقہ ہے۔
’’لوگو! بچو اپنے رب کے غضب سے ڈرو اور اُس دن سے جبکہ کوئی باپ اپنے بیٹے کی طرف سے بدلہ نہ دے گا اور نہ کوئی بیٹا ہی اپنے باپ کی طرف سے کچھ بدلہ دینے والا ہوگا‘ فی الواقع اللہ کا وعدہ سچا ہے‘ پس یہ دنیا کی زندگی تمہیں دھوکے میں نہ ڈالے اور نہ دھوکہ باز تم کو اللہ کے معاملے میں دھوکا دینے پائے۔‘‘ (لقمان: ۳۳)
اے مسلمانو! اللہ تعالیٰ نے وقت کو اعمال کا رجسٹر بنایا ہے۔
’’پھر جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ برابر بدی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا۔ (الزلزلۃ: ۷-۸)
ناکام وہی ہے جو افضل ترین اوقات سے فائدہ حاصل کرنے میں ناکام ہو جائے۔ محروم وہی ہے جو نیکیوں کی بہار سے محروم رہ جائے۔ اللہ تعالیٰ نے زمانے کو اپنی فرماں برداری کا وقت اور ذریعہ بنایا ہے، یہی وقت غافلوں کے لیے حسرت اور ندامت کا سبب بن جاتا ہے۔ تو اللہ کی فرماں برداری سے اپنے نفس کو زندگی بخشو، کیونکہ دل اللہ کے ذکر ہی سے زندہ ہوتے ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
’’تم اپنی عاقبت کے لیے جو بھلائی کما کر آگے بھیجو گے، اللہ کے ہاں اسے موجود پاؤ گے۔‘‘ (البقرۃ: ۱۱۰)
اللہ کے بندو! کچھ مہینے، کچھ دن اور کچھ گھڑیاں دوسری گھڑیوں سے نسبتاً زیادہ افضل ہوتے ہیں۔ زندگی گزارنے اور وقت کو نفع بخش بنانے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ نیک اعمال کیے جائیں، بھلائیاں کی جائیں اور فرماں برداری کی جائے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
’’وہی ہے جس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کا جانشین بنایا، ہر اس شخص کے لیے جو سبق لینا چاہے، یا شکر گزار ہونا چاہے۔‘‘ (الفرقان: ۶۲)
سنو! تم ایک فضیلت والے مہینے میں ہو۔ سنو! تم ایک فضیلت والے مہینے میں ہو۔ جس سے اکثر لوگ غافل رہتے ہیں اور غفلت تو محروم لوگوں کا سامان ہوتا ہے، گھاٹا پانے والوں کی تجارت ہوتی ہے۔ سنو! تم ایک عظیم مہینے میں ہو، جس میں پروردگار عالم کی طرف اعمال اٹھائے جاتے ہیں۔ اس مہینے کو توبہ اور نیک اعمال پر ختم کرو۔ تاکہ اللہ تعالیٰ آپ کی عمریں بھی ایسے ہی اعمال پر ختم کرے۔ سنو! تم ایک عظیم مہینے میں ہو، جس میں رسول اللہ e بڑے اہتمام سے روزے رکھتے تھے۔ اسامہ بن زید w سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں: میں نے کہا: اللہ کے رسول! جتنے روزے آپ ماہِ شعبان میں رکھتے ہیں، میں نے آپ کو اتنے روزے کسی دوسرے مہینے میں رکھتے ہوئے نہیں دیکھا۔ آپ e نے فرمایا: یہ رجب اور رمضان کے درمیان ایک ایسا مہینہ ہے جس سے لوگ غافل رہتے ہیں، جبکہ یہ وہ مہینہ ہے جس میں پروردگار عالم کی طرف لوگوں کے اعمال اٹھائے جاتے ہیں۔ مجھے یہ پسند ہے کہ جب میرے اعمال پیش ہوں تو میں روزے سے ہوں۔ (مسند احمد)
سیدہ عائشہ r بیان کرتی ہیں: رسول اللہ e روزے رکھنے لگتے تو یوں لگتا کہ اب وہ کبھی روزہ نہ چھوڑیں گے،  پھر روزے چھوڑتے تو ہمیں لگتا کہ آپ کبھی روزے نہیں رکھیں گے۔ مگر میں نے آپ e کو رمضان کے علاوہ کسی مہینے کے مکمل روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا۔ اور نہ ماہِ شعبان سے زیادہ روزے کسی اور مہینے میں رکھتے دیکھا۔ (مسلم)
انہیr سے روایت ہے‘ بیان کرتی ہیں: رسول اللہ e کو شعبان کے روزے سب سے زیادہ پسند تھے۔ (ابوداؤد)
اے مسلمانو! ماہِ شعبان کے وسط میں اللہ تعالیٰ کی معافی تمام اہل ایمان کے لیے عام ہوتی ہے۔ اس معافی سے صرف دشمنیاں کرنے والے، دلوں میں کینہ اور بغض رکھنے والے اور کافر ہی محروم رہتے ہیں۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعری t روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ e نے فرمایا:
’’شعبان کی درمیانی رات میں اللہ تعالیٰ اہل زمین کو دیکھتا ہے، مشرکوں اور کینہ پروروں کے علاوہ سب کو بخش دیتا ہے۔‘‘ (ابن ماجہ‘ جبکہ امام ابن حبان اور امام البانی نے اسے صحیح کہا ہے۔)
اللہ کے بندو! معاف کرو اور درگزر کرو۔ دوسروں کی زیادتیوں سے صرف نظر کرو اور رحم کرو۔ نرمی کرو اور صلہ رحمی کرو۔ ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، قیمت بڑھانے کے لیے بولی نہ لگاؤ۔ ایک دوسرے کے ساتھ بغض نہ کرو اور ایک دوسرے سے جھگڑے نہ کرو۔ اللہ کے بندو! بھائی بھائی بن جاؤ۔
سیدنا ابو ہریرہ t روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہe نے فرمایا:
’’ہر سوموار اور جمعرات کو جنت کے دروازے کھلتے ہیں، پھر اللہ تعالیٰ ہر اس شخص کو معاف کر دیتا ہے جو اس کے ساتھ شرک نہیں کرتا، سوائے اس شخص کے جو اپنے کسی بھائی سے ناراض ہو، کہا جاتا ہے: جب تک یہ صلح نہیں کر لیتے، ان کے اعمال مؤخر کیے رکھو۔ جب تک یہ صلح نہیں کر لیتے، ان کے اعمال مؤخر کیے رکھو۔ جب تک یہ صلح نہیں کر لیتے، ان کے اعمال مؤخر کیے رکھو۔‘‘ (مسلم)
اللہ کے بندو! شعبان اسلام کے ایک اہم رکن کا مقدمہ ہے۔ یہ ماہ رمضان کے روزوں کا مقدمہ ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں آیات نازل فرمائی ہیں۔ یہ تیاری اور مشق کا مہینہ ہے۔ یہ بہتری اور استعداد کا مہینہ ہے۔ یہ ماہِ ایمان کے لیے متنبہ کرتا ہے اور ماہِ رمضان کے استقبال کا مہینہ ہے۔ رمضان کے ساتھ شعبان کا وہی مقام ہے جو فرض نماز سے پہلے سنتوں کا ہے۔ یہ ماہِ رمضان کے لیے روزوں کی عادت ڈالتا ہے تاکہ روزوں کی مشقت اور تھکاوٹ کم ہو جائے۔ تاکہ روزوں کی لذت اور مٹھاس زیادہ ہو جائے۔ تاکہ تیاری کے بعد ہر شخص پوری قوت اور توانائی کے ساتھ ماہ رمضان کا استقبال کرے۔
اے مسلمانو! جس نے ابھی تک پچھلے رمضان کے چھوڑے ہوئے روزے قضا نہیں کیے، وہ رمضان سے پہلے پہلے قضا کرنے میں جلدی کرے۔ اس میں سستی کرنا کوتاہی کی ایک شکل ہے۔ سیدہ عائشہ r بیان کرتی ہیں: میرے رمضان کے کچھ روزے چھوٹ جاتے تو میں رسول اللہ e کا خیال کرتے ہوئے انہیں قضا ہی نہ کر پاتی، یہاں تک کہ شعبان آ جاتا۔
تو اللہ آپ کی نگہبانی فرمائے! نیک اعمال کرنے میں جلدی کرو، اس سے پہلے کہ موت کا وقت آ جائے۔
’’دوڑ کر چلو اُ س راہ پر جو تمہارے رب کی بخشش اور اُس جنت کی طرف جاتی ہے جس کی وسعت زمین اور آسمانوں جیسی ہے، اور وہ اُن خدا ترس لوگوں کے لیے مہیا کی گئی۔‘‘ (آل عمران: ۱۳۳)
دوسرا خطبہ
اے مسلمانو! اللہ تعالیٰ نے سن دو ہجری کے اسی مہینے میں، یعنی ماہِ شعبان میں، رمضان کے روزے فرض کیے۔ اس طرح رسول اللہ e نے سات سال رمضان کے روزے رکھے۔ پھر اپنے پروردگار سے جا ملے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو! تم پر روزے فرض کر دیے گئے، جس طرح تم سے پہلے انبیا کے پیروؤں پر فرض کیے گئے تھے‘ اس سے توقع ہے کہ تم میں تقویٰ کی صفت پیدا ہوگی۔ چند مقرر دنوں کے روزے ہیں اگر تم میں سے کوئی بیمار ہو، یا سفر پر ہو تو دوسرے دنوں میں اتنی ہی تعداد پوری کر لے اور جو لوگ روزہ رکھنے کی قدرت رکھتے ہوں (پھر نہ رکھیں) تو وہ فدیہ دیں‘ ایک روزے کا فدیہ ایک مسکین کو کھانا کھلانا ہے اور جو اپنی خوشی سے کچھ زیادہ بھلائی کرے تو یہ اسی کے لیے بہتر ہے لیکن اگر تم سمجھو، تو تمہارے حق میں اچھا یہی ہے کہ روزہ رکھو۔ رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو انسانوں کے لیے سراسر ہدایت ہے اور ایسی واضح تعلیمات پر مشتمل ہے جو راہ راست دکھانے والی اور حق و باطل کا فرق کھول کر رکھ دینے والی ہیں۔ لہٰذا اب سے جو شخص اس مہینے کو پائے، اُس کو لازم ہے کہ اِس پورے مہینے کے روزے رکھے اور جو کوئی مریض ہو یا سفر پر ہو تو وہ دوسرے دنوں میں روزوں کی تعداد پوری کرے۔ اللہ تمہارے ساتھ نرمی کرنا چاہتا ہے، سختی کرنا نہیں چاہتا‘ اس لیے یہ طریقہ تمہیں بتایا جا رہا ہے تاکہ تم روزوں کی تعداد پوری کرسکو اور جس ہدایت سے اللہ نے تمہیں سرفراز کیا ہے، اُس پر اللہ کی کبریا ئی کا اظہار و اعتراف کرو اور شکر گزار بنو۔‘‘ (البقرۃ: ۱۸۳-۱۸۵)
سیدنا ابن عمر w روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہe نے فرمایا:
’’اسلام کی عمارت پانچ چیزوں پر قائم کی گئی ہے: اللہ کی عبادت کی جائے اور اس کے علاوہ ہر معبود کا انکار کیا جائے۔ نماز قائم کی جائے، زکوٰۃ ادا کی جائے ، بیت اللہ کا حج کیا جائے اور رمضان کے روزے رکھے جائیں۔‘‘ (مسلم)
اسی طرح سیدنا ابو ہریرہ t سے روایت ہے کہ رسول اللہ e نے فرمایا:
’’جو ایمان اور حصول ثواب کی نیت سے روزے رکھتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے پچھلے گناہ معاف فرما دیتا ہے۔ جو ایمان اور حصول ثواب کی نیت سے رمضان کی راتوں میں عبادت کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے پچھلے گناہ معاف فرما دیتا ہے۔ جو ایمان اور حصول ثواب کی نیت سے لیلۃ القدر کی عبادت کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے پچھلے گناہ معاف فرما دیتا ہے۔‘‘ (بخاری)
بعد ازاں! اللہ کے بندو! اس مہینے کی آمد میں بس چند دن ہی بچے ہیں۔ چنانچہ ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ اس مہینے کی تیاری کرے۔ اس کا شوق اپنے دل میں پیدا کرے۔ اس میں اللہ کی فرماں برداری کرنے میں دوسروں کے ساتھ مقابلہ کرے۔ وہ شخص تو مبارکباد کے قابل ہے جو رمضان کو پا لے۔ وہ شخص بھی مبارکباد کے لائق ہے جسے رمضان میں نیک اعمال اور بھلائیاں کرنے کی توفیق مل جائے۔ تو اے نیکی کرنے والے! آگے بڑھ۔ اور اے برائی کا ارادہ رکھنے والے! رک جا! سب اللہ تعالیٰ کو بھلے بن کر دکھاؤ۔ بدبخت وہ ہے جو اپنے پروردگار کی فرماں برداری سے محروم ہو جائے، غفلت میں نیکی کی بہار کو گزار دے، اور اپنے نفس پر زیادتیاں کرتا رہے یہاں تک کہ موت اسے آ لے اور اس نے اپنے گناہوں سے ابھی توبہ نہ کی ہو۔
’’دوڑ کر چلو اُ س راہ پر جو تمہارے رب کی بخشش اور اُس جنت کی طرف جاتی ہے جس کی وسعت زمین اور آسمانوں جیسی ہے، اور وہ اُن خدا ترس لوگوں کے لیے مہیا کی گئی۔‘‘ (آل عمران: ۱۳۳)
اے اللہ! ہمیں اور تمام مسلمانوں کو رمضان المبارک تک زندگی نصیب فرما! اے اللہ! ہمیں اور تمام مسلمانوں کو رمضان المبارک تک زندگی نصیب فرما! اے اللہ! ہمیں اور تمام مسلمانوں کو رمضان المبارک تک زندگی نصیب فرما! اس کے روزے رکھنے اور اس کی راتوں میں تہجد پڑھنے میں ہماری مدد فرما۔ اے پروردگار عالم! اس کی عبادتیں اپنی بارگاہ میں قبول فرما۔ اے پروردگار عالم! اس کی عبادتیں اپنی بارگاہ میں قبول فرما۔ اے پروردگار عالم! اس کی عبادتیں اپنی بارگاہ میں قبول فرما! آمین!


No comments:

Post a Comment