احکام ومسائل 18-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Saturday, July 27, 2019

احکام ومسائل 18-2019


احکام ومسائل

جناب مولانا الشیخ حافظ ابومحمد عبدالستار الحمادd
خط وکتابت:  مرکز الدراسات الاسلامیہ ۔ سلطان کالونی‘ میاں چنوں‘ خانیوال‘ پاکستان  ای میل:  markaz.dirasat@gmail.com

حادثہ میں ہلاک ہونے والے ورثاء کا ترکہ
O حوادث میں ایک سے زائد لوگ ہلاک ہو جاتے ہیں۔ ان میں میاں بیوی‘ باپ بیٹا اور بھائی وغیرہ فوت ہو جاتے ہیں۔ ایسے حالات میں وراثت کے احکام کیا ہوں گے؟ کیا مرنے والوں کو ایک دوسرے کا وارث قرار دیا جائے گا؟!
P علم فرائض کی اصطلاح میں وراثت کے تین ارکان حسب ذیل ہیں:
\          مورِّت … اس سے مراد مرنے والا یا جو میت کے حکم میں ہو‘ جیسے گم شدہ انسان۔
\          وارث … وہ زندہ افراد جو مرنے والے کا ترکہ لیتے ہیں‘ اس کے لیے ضروری ہے کہ مورث کی موت کے وقت زندہ ہو۔
\          موروث … میت کی چھوڑی ہوئی منقولہ یا غیر منقولہ جائیداد یا سامان وغیرہ۔
ترکہ لینے کے لیے ضروری ہے کہ مورث کی موت کا یقین ہو جائے اور اس کی موت کے وقت وارث کا زندہ ہونا بھی ضروری ہے۔ حادثاتی اموات میں اس بات کا علم نہیں ہوتا کہ کس رشتہ دار کا انتقال کب ہوا ہے جیسا کہ فضائی حادثات اور بم دھماکوں میں ایسا ہوتا ہے۔ ایسے حوادث میں مرنے والوں کی چند ایک صورتیں حسب ذیل ہیں:
\          وارث اور مورِّث کا ایک ساتھ انتقال ہو جائے۔
\          ان کے متعلق کچھ بھی معلوم نہ ہو۔
\          ان کا انتقال آگے پیچھے ہو لیکن تعیین نہ ہو سکے کہ کس کی وفات پہلے اور کس کی بعد میں ہوئی۔
ان تینوں میں وہ ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوں گے اور ان کا مال ان کے زندہ شرعی وارثوں میں تقسیم کیا جائے گا۔ اس قسم کے اجتماعی حادثہ میں مرنے والوں کو ا یک د وسرے کا وارث نہیں بنایا جائے گا۔ جیسا کہ سیدنا زید بن ثابتw بیان کرتے ہیں: ’’سیدنا ابوبکر صدیقt نے جنگ یمامہ میں مرنے والوں اور سیدنا عمر فاروق t نے طاعون عمواس میں فوت ہونے والوں کے متعلق فیصلہ دیا کہ زندہ افراد کو ان فوت شدہ کا وارث بنائیں اور ان کو آپس میں ایک دوسرے کا وارث نہ بنائیں۔‘‘ (بیہقی: ج۲‘ ص ۲۲۲)
بہرحال جو لوگ کسی اجتماعی حادثہ میں فوت ہو جائیں اور ایک دوسرے کی موت کے متعلق یقین نہ ہو کہ کون پہلے فوت ہوا اور کون بعد میں چل بسا تو انہیں ایک د وسرے کا وارث نہیں بنایا جائے گا بلکہ زندہ افراد کو ان کا ترکہ دیا جائے گا۔ واللہ اعلم!
مطلقہ عورت کا خاوند اگر دوران عدت فوت ہو جائے؟!
O ہماری بہن کو اس کے خاوند نے طلاق دے دی‘ وہ ابھی دوران عدت تھی کہ اس کا خاوند فوت ہو گیا‘ اب کیا میری بہن کو عدت وفات گذارنا ہو گی اور کیا وہ اپنے خاوند کے ترکہ سے اپنا حصہ پائے گی؟ جبکہ اس کا خاوند لا ولد فوت ہوا ہے۔
P ہمارے ہاں مشہور ہے کہ طلاق دیتے ہی بیوی اپنے خاوند سے الگ ہو جاتی ہے اور ان کا نکاح ٹوٹ جاتا ہے۔ یہ خیال غلط اور بے اصل ہے بلکہ طلاق دینے کے بعد دوران عدت مطلقہ عورت بدستور خاوند کی بیوی رہتی ہے اور اس کا نان ونفقہ بھی خاوند کے ذمہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دوران عدت رجوع کرنے کے لیے تجدید نکاح کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ پہلے نکاح سے ہی وہ اپنا گھر آباد کر سکتے ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اور مطلقہ عورتوں کے خاوند‘ عدت کے دوران‘ انہیں اپنی زوجیت میں لینے کے زیادہ حقدار ہیں بشرطیکہ وہ اصلاح کا ارادہ رکھتے ہوں۔‘‘ (البقرہ: ۲۸)
اس کا مطلب یہ ہے کہ دوران عدت‘ خاوند اگر تعلقات استوار کرنے پر آمادہ ہو تو وہ رجوع کرنے کا زیادہ حق رکھتا ہے۔ اگر عدت گذر جائے تو نکاح ختم ہو جاتا ہے اور پھر تجدید نکاح سے رجوع ہو سکتا ہے بشرطیکہ پہلی یا دوسری طلاق ہو‘ کیونکہ تیسری طلاق تو فیصلہ کن ہوتی ہے۔ دوران عدت اگر خاوند فوت ہو جائے تو اسے عدت وفات گذارنا ہو گی جو چار ماہ دس دن ہے اور اگر حاملہ ہے تو اس کی عدت وضع حمل ہے۔ صورت مسئولہ میں مطلقہ عورت کا خاوند‘ دوران عدت فوت ہوا اور لا ولد تھا‘ اس بناء پر مطلقہ عورت اس کی بیوی ہے اور اسے مرحوم کی جائیداد سے چوتھا حصہ ملے گا۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اور اگر تمہاری اولاد نہ ہو تو بیویوں کا چوتھا حصہ ہے۔‘‘ (النساء: ۱۲)
بہرحال مطلقہ عورت‘ دوران عدت اپنے خاوند کی زوجیت میں رہتی ہے اور عدت کے بعد نکاح ختم ہوتا ہے۔ دوران عدت‘ خاوند کے ذمے مطلقہ عورت کے اخراجات بھی ہیں اور اگر خاوند دوران عدت فوت ہو جائے تو اس مطلقہ عورت کو حسب ضابطہ اس کے ترکہ سے حصہ دیا جائے گا۔ واللہ اعلم!
ایک حدیث کا مفہوم
O ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہe نے فرمایا کہ ’’اگر مجھے اپنی والدہ کے ساتھ حسن سلوک نہ کرنا ہوتا تو میں کسی کا غلام بن کر زندگی گذارتا۔ جبکہ آپ کی والدہ ماجدہ تو پہلے ہی وفات پاچکی تھیں؟ اس حدیث کا کیا معنی ہے؟!
P اس حدیث کے متعلق اپنی گذارشات پیش کرنے سے قبل مکمل حدیث پیش خدمت ہے‘ سیدنا ابوہریرہt بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہe نے فرمایا: ’’نیک غلام کے لیے دوہرا اجر ہے‘ اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے‘ اگر اللہ کے راستہ میں جہاد کرنا اور حج بیت اللہ نیز اپنی والدہ کے ساتھ اچھا برتاؤ نہ کرنا ہوتا تو میں یہ پسند کرتا کہ کسی کا غلام بن کر زندگی بسر کرتا۔‘‘ (بخاری‘ العتق: ۲۵۴۸)
اس کی وضاحت ایک دوسری حدیث میں اس طرح ہے کہ رسول اللہe نے فرمایا: ’’جو غلام اللہ تعالیٰ کا حق اور اپنے آقاؤں کا حق ادا کرتا ہے اسے دوہرا اجر ملے گا۔‘‘ (بخاری‘ العتق: ۲۵۴۷)
اس ڈبل اجر کے پیش نظر رسول اللہe نے درج بالا خواہش کا اظہار کیا۔
مذکورہ حدیث پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ رسول اللہe کی والدہ ماجدہ تو آپe کے بچپن میں ہی وفات پاچکی تھیں تو حدیث کے مطابق اپنی والدہ سے نیکی کرنے کے کیا معنی ہیں؟
محدثین کرام نے اس کا جواب بایں طور دیا ہے کہ مذکورہ کلام رسول اللہe کا نہیں جیسا کہ بادی النظر معلوم ہوتا ہے بلکہ یہ سیدنا ابوہریرہt کا مقولہ ہے جو کسی راوی کے تصرف سے مرفوع حدیث کا حصہ بن گیا ہے۔ اسے محدثین کی اصطلاح میں ادراج کہا جاتا ہے۔ اس کی وضاحت ایک دوسری روایت میں ہے۔ رسول اللہe نے فرمایا: ’’نیک اور صالح غلام کو دوہرا اجر ملتا ہے۔‘‘
اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں ابوہریرہt کی جان ہے اگر اس کی راہ میں جہاد اور حج نہ ہوتا‘ نیز اپنی والدہ سے نیکی کرنا ضروری نہ ہوتا تو میری خواہش یہی تھی کہ میں غلامی میں فوت ہوتا۔‘‘ (مسلم‘ الایمان: ۱۶۶۵)
سیدنا ابوہریرہt کا مطلب یہ ہے کہ غلام پر حج فرض نہیں‘ اسی طرح جہاد بھی اس کے فرائض میں شامل نہیں‘ غلام اپنی ماں کی خدمت بھی آزادی سے نہیں کر سکتا۔ اس لیے اگر یہ باتیں نہ ہوتیں تو میں آزادی کی نسبت کسی کا غلام رہنا پسند کرتا تا کہ دوہرا ثواب ملتا۔ واللہ اعلم!
پانی میں ملکیت جاری ہونا
O کیا پانی میں ملکیت جاری ہوتی ہے؟ جبکہ ایک حدیث میں ہے کہ تمام مسلمان نمک‘ گھاس اور پانی میں شریک ہیں۔ اگر یہ حدیث صحیح ہے تو کیا پانی کو فروخت کرنا جائز ہے؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں اس کی وضاحت کریں۔
P متقدمین میں سے کچھ اہل علم کا موقف ہے کہ پانی میں ملکیت جاری نہیں ہوتی۔ ان کے نزدیک پانی کا ہبہ کرنا‘ صدقہ کرنا یا اس کے متعلق وصیت کرنا جائز نہیں۔ جیسا کہ سوال میں بھی اس حدیث کا حوالہ دیا گیا ہے کہ تمام مسلمان‘ نمک‘ گھاس اور پانی میں شریک ہیں۔ (ابن ماجہ‘ الرھوں: ۲۴۷۲)
لیکن علی الاطلاق‘ حدیث کا مفہوم یہ نہیں بلکہ پانی کی کئی اقسام ہیں جن کی تفصیل یہ ہے:
\          جس کا کوئی مالک نہ ہو بلکہ تمام لوگ اس میں شریک ہوتے ہیں جیسا کہ دریا اور سمندر وغیرہ۔
\          وہ پانی جو برتنوں‘ ٹینکوں اور مشکیزوں میں محفوظ کر لیا جاتا ہے۔ ایسا پانی‘ اسی شخص کا ہے جس نے اسے محفوظ کیا ہے۔ اس میں کسی دوسرے کا کوئی حق نہیں۔
اگر اس طرح کا محفوظ شدہ پانی کسی نے ضائع کر دیا تو اسے تاوان دینا ہو گا۔ اس آخری قسم کا پانی فروخت بھی کیا جا سکتا ہے۔ اسے صدقہ کرنا بھی جائز ہے اور اس کے متعلق وصیت بھی کی جا سکتی ہے۔
سوال میں جس حدیث کا ذکر ہے اس سے مراد پہلی قسم کا پانی ہے‘ اس میں کسی کی اجارہ داری نہیں۔ امام بخاریa نے ایک عنوان بایں طور قائم کیا ہے: ’’جس نے پانی کا صدقہ کرنا‘ ہبہ کرنا اور اس کے متعلق وصیت کرنے کو جائز خیال کیا۔ (بخاری‘ المساقاۃ‘ باب نمبر ۱)
بہرحال پانی کے احکام میں تفصیل ہے جیسا کہ اوپر بیان ہوا ہے۔ واللہ اعلم!


No comments:

Post a Comment