خطبۂ حرم 19-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Saturday, July 27, 2019

خطبۂ حرم 19-2019


نیکیوں کا موسم بہار

امام الحرم المکی فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبداللہ البعیجان d
حمد و ثناء کے بعد!
اللہ کے بندو میں آپ سب کو خلوت و جلوت میں تقوی الٰہی کی نصیحت کرتا ہوں، اللہ تعالی نے پہلے گزر جانے اور بعد میں آنے والے سب لوگوں کو اسی کی نصیحت فرمائی ہے:
﴿وَ لَقَدْ وَصَّيْنَا الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ اِيَّاكُمْ اَنِ اتَّقُوا اللّٰهَ﴾ (النسآء)
’’یقیناً ہم نے تم سے پہلے کتاب دیئے جانے والے لوگوں کو اور تمہیں یہی نصیحت کی ہے کہ تقوی الہی اختیار کرو۔‘‘
اللہ کے بندو! اللہ تعالی نے اپنی عنایتوں ،مہربانیوں اور بندگی کیلیے خصوصی بہاریں بنائی ہیں، ان میں رحمتیں نازل ہوتی ہیں اور سب کو برکتیں ملتی ہیں، ان پاکیزہ بہاروں اور اوقات میں ایک ایسا مہینہ بھی ہے جس میں جہنم کے دروازے اچھی طرح بند کر دئیے جاتے ہیں اور جنت کے دروازے چوپٹ کھول دئیے جاتے ہیں، یہ مہینہ انتہائی قریب آ گیا ہے اس کے شروع ہونے میں چند دن ہی باقی ہیں۔
اللہ کے بندو! اس لیے اب کمر کس لو! سستی اور کاہلی سے اپنے آپ کو بچاؤ، یہ گنتی کے دن ہیں، یہ کوئی لمبا چوڑا وقت نہیں ہے، اس معمولی وقت میں لہو و لعب میں پڑنے کی گنجائش نہیں ، اس میں سستی اور کاہلی کا کوئی موقع نہیں، یہ ماہ گناہوں اور برائیوں کیلیے نہیں ؛ کیونکہ اس میں کسی بھی عمل کا بدلہ بڑھا کر دیا جاتا ہے۔
﴿وَ مَنْ يَّبْخَلْ فَاِنَّمَا يَبْخَلُ عَنْ نَّفْسِهٖ﴾ (محمد)
’’اب کوئی بخل سے کام لے گا تو وہ اپنے آپ سے بخیلی کرے گا۔‘‘
﴿وَ مَنْ يَّكْسِبْ اِثْمًا فَاِنَّمَا يَكْسِبُهٗ عَلٰى نَفْسِهٖ﴾
’’اور گناہ کا ارتکاب کرنے والا اپنا ہی نقصان کرے گا۔‘‘(النساء)
اب خود ہی اللہ تعالی کو اپنا مثبت کردار دکھاؤ؛ کیونکہ اس ماہ میں رحمت الٰہی سے محروم کر دیا جانے والا شخص بد بخت ہے!!
اس ماہ کیلیے تیاری انتہائی ضروری ہے اور تیاری کے لیے سچی توبہ کے ساتھ تقوی مل جائے تو یہ بہترین زادِ راہ ہے:
﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَۙ۰۰۱۸۳﴾
’’اے ایمان والو! تم پر روزے اسی طرح فرض کئے گئے ہیں جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تا کہ تم متقی بن جاؤ۔‘‘ (البقرۃ)
اللہ کے بندو! اللہ تعالی نے تم پر روزے اس لیے فرض نہیں کیے کہ تم بھوکے ، پیاسے اور نقاہت سے چور ہو جاؤ، بلکہ فرضیت کا مقصد تقوی ہے، لہٰذا روزوں کے فرض کرنے کا ہدف متقی بنانا ہے، تو بہت سے روزے دار ایسے بھی ہیں جنہیں روزے سے بھوک پیاس کے علاوہ کچھ نہیں ملتا!! اور کتنے ہی قیام کرنے والے ہیں جنہیں قیام کی وجہ سے تھکاوٹ اور بے خوابی ہی میسر آتی ہے!!
رسول اللہ e کا فرمان ہے:
’’جو شخص خلاف شریعت بات کہنے اور بولنے سے احتراز نہ کرے تو اللہ تعالی کو اس کے بھوکے پیاسے رہنے کی کوئی ضرورت نہیں ۔‘‘
’’روزہ ڈھال ہے، چنانچہ جب تم میں سے کسی کا روزہ ہو تو بیہودہ باتیں کرنے اور چیخنے چلانے سے گریز کرے اور اگر کوئی اسے گالی دے یا لڑائی کرے تو اسے بتلا دے کہ میں روزے سے ہوں۔‘‘
لہٰذا روزے کی حالت میں محض کھانے پینے جیسے جائز امور چھوڑ کر مکمل قربِ الٰہی حاصل نہیں ہوگا، بلکہ اس کے لیے ان تمام گناہوں کو چھوڑنا بھی ضروری ہے جو ہر حال میں حرام ہیں‘ جیسے کہ جھوٹ بولنا، ظلم کرنا، لوگوں پر زیادتی کرنا، چاہے ان کا تعلق خون، مال اور عزت آبرو کسی بھی چیز سے ہو۔
لہٰذا رمضان کے روزے رکھو تو روزوں کا خیال بھی کرو:
﴿وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ مُّلٰقُوْهُ﴾
’’اللہ تعالی سے ڈرو اور جان رکھو کہ تم اس سے ملنے والے ہو۔‘‘ (البقرہ)
سیدنا ابو ہریرہt سے مروی ہے کہ رسول اللہ e نے فرمایا:
’’جو شخص رمضان کے روزے ایمان کے ساتھ ثواب کی امید سے رکھے تو اس کے گزشتہ تمام گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں۔ جو شخص رمضان میں قیام ایمان کے ساتھ ثواب کی امید سے کرے تو اس کے گزشتہ تمام گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں، اور جو شخص لیلۃ القدر کا قیام ایمان کے ساتھ ثواب کی امید سے کرے تو اس کے گزشتہ تمام گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں۔‘‘
اللہ کے بندو! روزہ افضل ترین عبادت اور اطاعت ہے، اس کا ثواب بھی سب سے عظیم ہے۔ روزہ صبر کرنے والوں کی عبادت، متقی لوگوں کا زادِ راہ، کامیاب لوگوں کے لیے ذخیرۂ آخرت ہے۔ روزے کا ثواب بہت بڑا ہے، اس سے ملنے والی بھلائی بہت زیادہ ہے، ثواب میں اس کا کوئی ثانی نہیں۔
روزہ بیماریوں سے شفا کا باعث ہے، روح اور جسم کی صحت، طاقت اور علاج کا ذریعہ ہے، نیز جسمانی تربیت بھی ہے، پھر ان سب سے بڑھ کر پروردگار کی اطاعت اور گناہوں کی مغفرت کا باعث بھی ہے۔
روزے کی فضیلت میں اتنا ہی کافی ہے کہ اللہ تعالی نے ابن آدم کے اعمال دو قسموں میں تقسیم کئے ہیں، اور روزوں کو مستقل الگ قسم قرار دے کر اسے اپنی طرف منسوب فرمایا ، جبکہ ابن آدم کے دیگر تمام اعمال کو دوسری قسم میں شامل فرمایا، چنانچہ سیدنا ابو ہریرہt سے مروی ہے کہ رسول اللہ e نے فرمایا:
’’ابن آدم کی تمام نیکیاں دس گنا سے سات سو گنا تک بڑھا دی جاتی ہیں، لیکن اللہ تعالی کا فرمان ہے: سوائے روزے کے؛ کیونکہ روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا اجر دوں گا، روزے دار میری وجہ سے اپنی خواہشات اور کھانا پینا چھوڑتا ہے، روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں: ایک خوشی روزہ افطار کرتے ہوئے اور دوسری خوشی اپنے پروردگار سے ملاقات کے وقت۔‘‘
’’روزہ دار کے منہ کی مہک اللہ تعالی کے ہاں کستوری سے بھی زیادہ اچھی ہے۔‘‘
جنت میں اللہ تعالی نے روزے داروں کے لیے ایک دروازہ مختص کر دیا ہے، وہاں سے کوئی اور داخل نہیں ہو گا، اسی طرح روزے داروں کے لیے خصوصی مہمان نوازی بھی تیار کی ہوئی ہے جس میں کوئی اور شریک نہیں ہوگا، چنانچہ سیدنا سہل بن سعدt بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہe نے فرمایا: ’’بیشک جنت میں ایک دروازہ ہے جسے ریان کہا جاتا ہے، یہاں سے قیامت کے دن روزے دار داخل ہوں گے، ان کے ساتھ کوئی اور داخل نہیں ہو گا، کہا جائے گا: روزے دار کہاں ہیں؟ تو روزے دار اس میں سے داخل ہو جائیں گے ، جب آخری روزے دار داخل ہو جائے گا تو وہ دروازہ بند کر دیا جائے گا اور روزے داروں کے علاوہ کوئی بھی وہاں سے داخل نہیں ہو سکے گا، اس دروازے سے داخل ہونے والا پانی پیے گا اور جو پانی پی لے گا اسے کبھی پیاس نہیں لگے گی۔‘‘
اللہ کے بندو! رمضان مغفرت کا مہینہ ہے، اس میں گردنوں کو آزاد کیا جاتا ہے، اس لیے رمضان میں اللہ تعالی کی رحمتیں لوٹ لو ، حصولِ رحمت کے اسباب اور ذرائع اپناؤ؛ بیشک وہ بہت ہی سخی، کرم کرنے والا اور عطا کرنے والا ہے۔
سیدنا انسt کہتے ہیں کہ: ’’نبی e منبر پر چڑھے اور فرمایا: (آمین) پھر دوسری سیڑھی چڑھے اور فرمایا: (آمین) پھر تیسری سیڑھی چڑھے اور فرمایا: (آمین)، پھر آپ منبر پر بیٹھ گئے، تو صحابہ کرام نے پوچھا: آپ نے کس چیز پر آمین کہا؟ تو آپ e نے فرمایا: (میرے پاس جبریل نے آ کر کہا:
اس شخص کا ستیاناس ہو جس کے پاس آپ کا ذکر کیا جائے اور وہ آپ پر درود نہ پڑھے تو میں نے کہا: آمین۔
پھر جبریل نے کہا: اس شخص کا ستیاناس ہو جو اپنے والدین کو پا کر جنت میں نہ جا سکے، تو میں نے کہا: آمین۔
پھر جبریل نے کہا: اس شخص کا ستیاناس ہو جو رمضان تو پائے لیکن اس کی مغفرت نہ ہو سکے، تو میں نے کہا: آمین، اس محرومی، رسوائی ، برے فیصلے اور ناکامی سے ہم اللہ کی پناہ چاہتے ہیں۔
گزشتہ رمضان میں کوتاہی برتنے والے! اب سابقہ رمضان تو گزر چکا ، لیکن اللہ تعالی نے ایک بار پھر زندگی میں رمضان کا موقع دیا ہے، اللہ کی اس نعمت پر شکرانہ ادا کرو، اچانک موت آنے سے پہلے اپنے رب سے ناتا جوڑ لو، مبادا عمر ضائع ہو جائے، تو اس وقت واویلہ کرتے ہوئے ہائے افسوس! ہائے بربادی! ہائے مر گئے! ہائے تباہ ہو گئے! کہنے کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔
﴿رَبِّ لَوْ لَاۤ اَخَّرْتَنِيْۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِيْبٍ١ۙ فَاَصَّدَّقَ وَ اَكُنْ مِّنَ الصّٰلِحِيْنَ۰۰۱۰﴾ (المنٰفقون)
’’پروردگار! کاش تو مجھے تھوڑی سی مہلت دے دیتا تو میں صدقہ خیرات کر کے نیک لوگوں میں شامل ہو جاتا۔‘‘
﴿رَبِّ ارْجِعُوْنِۙ۰۰۹۹ لَعَلِّيْۤ اَعْمَلُ صَالِحًا فِيْمَا تَرَكْتُ كَلَّا١ؕ اِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَآىِٕلُهَا١ؕ وَ مِنْ وَّرَآىِٕهِمْ بَرْزَخٌ اِلٰى يَوْمِ يُبْعَثُوْنَ۰۰۱۰۰﴾ (المؤمنون)
’’پروردگار! مجھے واپس لوٹا دے، امید ہے کہ میں چھوڑی ہوئی دنیا میں جا کر نیک عمل کر لوں۔ ہر گز ایسا نہیں ہو گا، یہ تو ایک بات ہے جو اس نے کہہ دی ہے، اور ان کے دوبارہ جی اٹھنے تک ایک رکاوٹ حائل ہو چکی ہے۔‘‘
﴿وَ لَنْ يُّؤَخِّرَ اللّٰهُ نَفْسًا اِذَا جَآءَ اَجَلُهَا﴾ (المنٰفقون)
’’اور اللہ تعالی کسی نفس کا وقت آنے پر ہرگز تاخیر نہیں فرماتا۔‘‘
آہ !! افسوس در افسوس ہے ایسے شخص پر!!!
اللہ کے بندو! نیکی کی تھکاوٹ، مشقت اور تکان ختم ہو ہی جاتی ہے لیکن اس کی لذت اور اجر اخروی زندگی کے لیے ذخیرہ اور خزانہ بن جاتی ہے۔
جبکہ گناہ کی لذت وقتی ہوتی ہے لیکن اس کے بداثرات ہمیشہ اور پوری زندگی رہتے ہیں، نیز آخرت میں عذاب اور عقاب کا باعث بھی بنتے ہیں:
تَفْنَى اللَّذَاذَةُ مِمَّنْ نَالَ صَفْوَتَهَا
مِنَ الْحَرَامِ وَيَبْقَى الوِزْرُ وَالْعَارُ
حرام کام سے لذت حاصل کرنے والے کی لذت ختم ہو جاتی ہے جبکہ حرام کام کا گناہ اور اس کی عار باقی رہتی ہے:
تَبْقَى عَوَاقِبُ سُوْءٍ فِيْ مَغَبَّتِهَا
لَا خَيْرَ فِيْ لَذَّةٍ مِنْ بَعْدِهَا النَّارُ
حرام کام کے برے نتائج باقی رہتے ہیں، اور ایسی لذت میں کوئی خیر نہیں جس کے بعد آگ ملے:
﴿مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهٗ حَيٰوةً طَيِّبَةً١ۚ وَ لَنَجْزِيَنَّهُمْ اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ۰۰۹۷﴾ (النحل)
’’کوئی مرد ہو یا عورت ایمان کی حالت میں وہ نیک عمل کرے تو ہم اسے پاکیزہ زندگی عطا فرمائیں گے، اور ہم اسے اس کے اعمال کا اعلی ترین اجر لازمی نوازیں گے۔‘‘
دوسرا خطبہ
حمد وثناء کے بعد:
تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں، اللہ تعالی نے امن کو ایمان کے ساتھ منسلک کرتے ہوئے فرمایا:
﴿اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ يَلْبِسُوْۤا اِيْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ اُولٰٓىِٕكَ لَهُمُ الْاَمْنُ وَ هُمْ مُّهْتَدُوْنَؒ۰۰۸۲﴾ (الانعام)
’’جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان کو ظلم [شرک] سے داغ دار نہیں کیا تو انہی لوگوں کے لیے امن ہے اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔‘‘
اللہ کے بندو! عبادت میں اطمینان، سکون اور امن کی ضرورت ہوتی ہے‘ چنانچہ اگر دلوں میں دہشت ، رعب، خوف و ہراس گھر کر جائے تو عبادت میں خشوع و خضوع پیدا نہیں ہوتا، بلکہ رکوع و سجود میں لذت ہی نہیں رہتی۔
اللہ تعالی نے ہم پر ڈھیروں نعمتیں برسائیں، ہمیں امن و امان کی دولت سے نوازا، اس وقت جن فتنوں سے دیگر لوگ نبرد آزما ہیں ہمیں ان سے محفوظ رکھا ، ان فتنوں کی وجہ سے ان کے مال و جان، املاک اور اتفاق و اتحاد سب کچھ تباہ و برباد ہو گیا ہے۔
امن و امان بہت بڑی اور انمول نعمت ہے‘ اس کی قدر اسی کو معلوم ہے جن کا امن و امان چھن گیا؛ اس لیے ہمیں ہر وقت اور ہر لمحے اللہ کا شکر ادا کرنا واجب ہے، امن و امان اور نعمتِ ایمان پر یا اللہ ! تیرا ہی شکر کرتے ہیں، اللہ! تو نے ہمیں رمضان ایک بار پھر نصیب فرمایا ، اس پر بھی ہم تیرا شکر کرتے ہیں۔
ہم سب کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ جو بھی ہمارے امن و امان سے کھلواڑ کرنے کی کوشش کرے تو ہم اس کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جائیں، جو ہمارے اتفاق و اتحاد میں رخنے ڈالنے کی کوشش کرے یا ہمیں کمزور کرنے کی سازش کرے ہم اس کے خلاف متحد ہو جائیں۔
بھائیو! اغیار کا ہدف ہمارا عقیدہ اور دین ہے، جب بھی مسلمان اپنے کسی مذہبی تہوار کے لیے تیاری کرتے ہیں تو اس کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے مکاریاں کی جاتی ہیں، مسلمانوں کے خلاف فتنہ پروری کی کوشش کی جاتی ہے۔
ارکان اسلام کی اجتماعی ادائیگی، ماہِ رمضان کی رونق اور حج عمرے کی پر امن ادائیگی یہ سب امور (اس ملک کے حق میں) شاہد عدل ہیں۔
اللہ تعالی پر مکمل اعتماد کے بعد ہم اپنی ملکی قیادت اور عقیدے پر بھروسا کرتے ہوئے کہہ سکتے ہیں کہ دھوکا باز کبھی کامیاب نہیں ہو ں گے، ان کے حصے میں ہمیشہ ناکامی ہی آئے گی، ان کی مکاری انہی کی تباہی کا باعث بنے گی۔
اپنے نفس کے دھوکے میں آنے والا! شیطان کے دھوکے میں آ کر اس ملک کے امن و امان اور استحکام کے خلاف مکاریاں کرنے والا ہمیشہ اپنے کھودے ہوئے گڑھے میں گرے گا؛ کیونکہ:
﴿وَ لَا يَحِيْقُ الْمَكْرُ السَّيِّئُ اِلَّا بِاَهْلِهٖ﴾ (فاطر)
’’مکاری کی تباہی مکار کو ہی لے ڈوبتی ہے۔‘‘
اللہ کے حکم سے ہمارا ملک اپنے عقیدے اور اتحاد پر ذرہ برابر بھی لچک نہیں دکھائے گا، اور اللہ تعالی ہمارے ملک کے امن و امان اور دین کو تحفظ عطا کرے گا۔
﴿فَلْيَعْبُدُوْا رَبَّ هٰذَا الْبَيْتِۙ۰۰۳ الَّذِيْۤ اَطْعَمَهُمْ مِّنْ جُوْعٍ١ۙ۬ وَّ اٰمَنَهُمْ مِّنْ خَوْفٍؒ۰۰۴﴾ (قریش)
’’وہ اس گھر کے پروردگار کی عبادت کریں۔ جس نے انہیں بھوک میں کھلایا اور دہشت سے امن عطا کیا۔‘‘
اللہ تعالی اس ملک کی‘ شدت پسند بیوقوفوں، دغا بازوں اور شیطان مردود سے حفاظت فرمائے، اکھڑ مزاج اور بد نام زمانہ لوگوں سے اس کی حفاظت فرمائے جو ہمیشہ اس ملک کے خلاف مکاری کرتے ہیں، ان کی یہ مکاری انہی کی تباہی کا باعث ہوگی، اللہ تعالی ان کی عیاری انہی کی بربادی کا باعث بنائے، ان کی نسلیں تباہ و برباد فرمائے اور انہیں دوسروں کے لیے عبرت بنا دے۔
یا اللہ! اس ملک کی خصوصی حفاظت فرما، اس ملک پر خصوصی کرم فرما، یا اللہ! اس ملک کو دائمی امن و امان، اتحاد اور اتفاق عطا فرما، یا اللہ! اپنی رحمت کے صدقے اس ملک کو ظاہری اور باطنی تمام فتنوں سے محفوظ فرما، یا ارحم الراحمین۔


No comments:

Post a Comment