اداریہ 19-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Saturday, July 27, 2019

اداریہ 19-2019


رمضان المبارک کی آمد

سیدنا سلمان فارسیt سے روایت ہے کہ ماہِ شعبان کی آخری تاریخ کو نبی اکرمe نے ہمارے سامنے خطبہ ارشاد فرمایا:
’’اے لوگو! تم پر ایک با عظمت اور بابرکت مہینہ سایۂ فگن ہو چکا ہے۔  اس میں ایک ایسی رات ہے جو ہزار مہینوں سے افضل واشرف ہے۔ اس ماہ کے روزے اللہ تعالیٰ نے تم پر فرض کیے ہیں اور رات کے قیام (نماز) کو نفل ٹھہرایا ہے جس نے اس ماہِ مبارک میں نفلی عبادت کی اور قرب الٰہی کے لیے نیک کام کیا‘ اس کا اجر وثواب فرض کے برابر ہے اور جس نے اس ماہ مبارک میں ایک فریضہ ادا کیا اس کو دوسرے مہینوں کے ستر فرضوں کے برابر ثواب ملے گا۔ یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا بدلہ جنت ہے۔ ایک دوسرے سے محبت وہمدردی کرنے کا مہینہ ہے۔ اس میں مومن کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے۔ جو شخص اس ماہِ مبارک میں کسی روزے دار کا روزہ افطار کرائے گا یہ عمل اس کے لیے گناہوں کی بخشش اور جہنم سے آزادی کا ذریعہ ہو گا۔ روزہ افطار کرانے والے کو روزہ رکھنے والے کے برابر ثواب ملے گا اور روزے دار کے ثواب میں کوئی کمی واقع نہیں ہو گی بلکہ دونوں کو پورا پورا اجر ملے گا۔ جو شخص روزہ دار کو پیٹ بھر کر کھانا کھلائے گا اللہ تعالیٰ اسے میرے حوض کوثر سے پانی پلائے گا پھر اسے جنت میں داخل ہونے تک پیاس محسوس نہیں ہو گی۔ آپe نے یہ بھی فرمایا کہ جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں‘ جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں اور شیطان زنجیروں سے جکڑ دیئے جاتے ہیں۔ جو شخص اس ماہ مبارک میں اپنے ماتحتوں کے کام میں تخفیف کرے گا اللہ تعالیٰ اسے معاف کر دے گا اور جہنم سے آزاد کر دے گا۔ (مشکوٰۃ‘ الترغیب والترھیب)
نیز فرمایا:
’’اس مہینے میں چار کام کثرت کے ساتھ کرو۔ اولاً: لا الہ الا اللہ کی صدق دل سے گواہی۔ ثانیاً: استغفار۔ ثالثاً: جنت کی درخواست۔ رابعاً: دوزخ سے پناہ مانگنا۔‘‘ (ابن خزیمہ)
جب یہ شمارہ آپ تک پہنچے گا، اس وقت رمضان المبارک کا مقدس مہینہ اللہ پاک کی بے پایاں عنائتوں، رحمتوں، بخششوں اور برکتوں کے ساتھ ہم پہ سایہ فگن ہو چکا ہوگا۔ بڑے خوش قسمت ہیں وہ لوگ جنہوں نے اپنی زندگی میں اس بابرکت مہینے کو پا لیا۔ آج جب ہم اپنے گردوپیش پر نظر ڈالتے ہیں تو کتنے ہی احباب ایسے ہیں جو پچھلے سال رمضان المبارک کی سعادتوں سے بہرہ ور ہو رہے تھے آج وہ اس دنیا میں موجود نہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ جہاں اس مہینے کے روزے رکھنا اسلام کا ایک بنیادی رکن ہے وہاں یہ مہینہ اللہ تعالیٰ کی برکات اور بے شمار سعادتوں کے باعث تمام مہینوں سے افضل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس مہینے کا تعارف ہی یوں کروایا ہے: {شَھْرُ رَمَضَانَ الَّذِیٓ اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْاٰنُ} یعنی قرآن پاک کا نزول اللہ رب العالمین کی طرف سے رحمۃ للعالمینe پر اسی ماہِ مبارک میں ہوا جو پوری انسانیت کے لئے دلیل راہ ہے۔ چودہ سو سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود آج بھی قرآن مجید کی کشش، تاثیر اور حقانیت اسی طرح قائم ہے جس طرح رسول پاکe کے زمانے میں تھی۔ جب کہ اس میں کسی زیر زبر کا بھی فرق موجود نہیں‘ کیونکہ اس کی حفاظت کا ذمہ خود اللہ تعالیٰ نے لے رکھا ہے۔ یہ وہی بابرکت مہینہ ہے جس میں ایک رات ایسی بھی ہے جو عبادت کے اعتبار سے ایک ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید کا ارشاد ہے: {لَیْلَۃُ الْقَدْرِ خَیْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَھْر} پھر اس رات حضرت جبریل اور بے شمار فرشتے اللہ تعالیٰ کے احکام بجا لانے کیلئے نزول فرماتے ہیں۔
بلاشبہ یہ مہینہ مسلمانوں کیلئے نیکیوں کا موسمِ بہار ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا کرم اور رحمت ہے کہ اس نے مسلمانوں کے دشمن کو اس ماہ میں بیحد کمزور کر دیا ہے۔ اس ماہ مبارک میں جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں‘ جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں اور شیاطین کو جکڑ دیا جاتا ہے۔ صرف یہی بات نہیں، پوری فضا سازگار کر دی جاتی ہے۔ راتوں کو تراویح، دن کو روزے، سحری کا اہتمام، افطاری کا اشتیاق اور قدم قدم پر نیکیوں کا احساس‘ یہ ساری چیزیں ایک مومن کیلئے تقویٰ کے حصول میں ممد و معاون ثابت ہوتی ہیں۔ وہ لوگ واقعی بڑے بدقسمت ہیں جو گلستان رمضان میں پہنچ کر بھی سعادتوں کے پھولوں سے تہی دامن رہتے ہیں۔
غوروفکر کا مقام ہے کہ اسلام کے اس اہم فریضہ سے مقصود و مطلوب یہ نہیں کہ روزے دار کو بھوکا پیاسا رکھ کر کسی مشکل سے دوچار کیا جائے جبکہ اسلام کسی تنگی اور مشکل کا نام نہیں بلکہ ’’اَلدِّیْنُ یُسْرٌ‘‘ دین سراسر آسان ہے۔ روزے رکھنا انسانی فطرت کا تقاضا بھی ہے تا کہ اس میں تقویٰ اور خشیتِ الٰہی کا عنصر جاگزیں ہو جائے اور جہنم کی آگ سے بچ کر جنت میں داخل ہو جائے۔ قرآن مجید نے اسے عظیم کامیابی قرار دیا ہے۔ روزہ جس قدر بہت بڑا عمل ہے اسی قدر اس کی جزاء بھی بہت بڑی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: [اَلصَّوْمُ لِیْ وَاَنَا اَجْزِیْ بِہٖ] روزہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا۔‘‘ یوں تو ہر عبادت اللہ کے لئے ہے اور وہی اس کی جزا دیتا ہے۔ یہاں خصوصیت کے ساتھ ذکر اس لئے آیا ہے کہ روزے کا تعلق صرف روزے دار اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہے۔ ذرا غور فرمائیں کہ طلوعِ فجر سے لے کر غروب آفتاب تک مسلمان کیلئے کھانا پینا اور ازدواجی تعلقات کو اسلام نے حرام کر رکھا ہے۔ اگر ایک روزہ دار کو مکمل تنہائی میسر ہو، موسم کی شدت میں پیاس نے اسے لاچار کر دیا ہو، انواع و اقسام کے مشروبات اس کی دسترس میں ہوں مگر وہ پانی پینے کی جرأت نہیں کرتا۔ اسے یقین ہے کہ مجھے کوئی انسان نہیں دیکھ رہا، لیکن خالق کائنات جس کی رضا کے لئے روزہ رکھا ہے وہ تو اسے دیکھ رہا ہے‘ میں اس سے تو چھپ نہیں سکتا۔ یہی تقویٰ ہے جو روزے سے مقصود ہے۔ روزہ دار جن پابندیوں کو بخوشی قبول کرتا ہے اس سے انسان کی تربیت و اصلاح ہوتی ہے۔ رسول اللہe کا ارشاد گرامی ہے کہ لوگو! اگر تم روزہ کی حالت میں فضول و بے ہودہ امور اور لغویات سے باز نہ رہے تو اللہ تعالیٰ کو تمہارے بھوکا، پیاسا رہنے کی کوئی پروا نہیں۔
بعض غیر مسلم لوگ صحت کے لئے مفید سمجھ کر روزہ رکھ لیتے ہیں مگر مسلمان تو اللہ کی رضا اور اس کا حکم سمجھ کر روزہ رکھتا ہے۔ بلاشبہ روزہ سے انسان کے اندر ضبط نفس کا ملکہ پیدا ہوتا ہے، اسے غریب کی غربت اور محتاج کی محتاجی کا احساس ہوتا ہے۔ روزے سے باہمی اخوت، محبت، مساوات، حسنِ سلوک اور انفاق فی سبیل اللہ کا درس ملتا ہے۔ حقیقی بات یہ ہے کہ روزہ کی ادائیگی سے امیر و رئیس کو ان لوگوں کا احساس ہوتا ہے جو ماہِ صیام کے علاوہ دو وقت کی روٹی سے بھی محروم رہتے ہیں۔ مشکوٰۃ میں روایت ہے کہ روزہ افطار کرانے والے کو روزہ دار کے مانند اجر ملے گا لیکن روزہ دار کا ثواب کچھ بھی کم نہ ہوگا۔
آخرمیں ارباب اقتدار سے گزارش کریں گے کہ وہ رمضان المبارک میں ضروریات زندگی کی اشیاء کے نرخ بڑھنے نہ دیں۔ ہوٹلوں اور دوسری نشست گاہوں میں اس بات کا خصوصاً اہتمام کیا جائے کہ رمضان المبارک کا احترام مجروح نہ ہونے پائے۔ ثقافتی شو اور ٹی وی پر مخرب الاخلاق ڈرامے اور دوسری لغویات بند کی جائیں۔ سحری، افطاری اور نماز تراویح کے اوقات میں لوڈشیڈنگ نہ کی جائے۔ وما علینا الا البلاغ۔


No comments:

Post a Comment