تبصرۂ کتب 19-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Saturday, July 27, 2019

تبصرۂ کتب 19-2019


تبصرۂ کتب

نام کتاب:               سفر انگلستان… مشاہدات وتاثرات
تالیف:                    ڈاکٹر عبدالغفور راشد
صفحات:                   40 صفحات        میڈیم سائز‘ کارڈ کور
تبصرہ نگار:               جناب مولانا محمد ابرار ظہیر
پروفیسر ڈاکٹر عبدالغفور راشدd ان شخصیات میں سے ہیں جوعرصہ درازسے ہمارے دل کے مکین ہیں۔ میٹھی شخصیت کی میٹھی باتیں ان کے علم کی پختگی، مطالعہ کی وسعت اور مشاہدہ کی گہرائی کی دلیل ہیں۔ تاریخ اہل حدیث پر انہیں پورا عبور ہے۔ اکابرین اہلحدیث کے کار ہائے نمایاں سے نوجوان نسل کو روشناس کرواتے رہنا اپنا فرض منصبی سمجھتے ہیں۔ ایک عرصہ تک قوم کے نونہالوں کی تعلیمی راہنمائی کے بعد حال ہی میں محکمہ تعلیم سے باعزت واکرام منصبی فراغت پائی ہے۔
آپ نے تنظیمی سفر کاآغاز شائد جمعیت طلبہ اہل حدیث سے کیا تھا۔ اہل حدیث یوتھ فورس کے مرکزی مناصب پر خدمات سرانجام دیں اور پھر مرکزی جمعیت اہلحدیث پاکستان کے کلیدی عہدوں پر فائز ہوکر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔مرکزی جمعیت اہل حدیث کے ناظم انتخابات بھی رہے‘ آج کل ناظم ذیلی تنظیمات کے منصب جلیلہ پر فائز ہیں۔ جماعت سے بے لاگ اور بے لوث وابستگی آپ کاتعارف ہے۔ آپ قائد اہل حدیث حضرت علامہ پروفیسر ساجدd کے بااعتماد اور ناظم اعلیٰ ڈاکٹر حافظ عبدالکریمd کے باوفا رفقا ء میں سے ہیں۔
پروفیسر ڈاکٹر عبدالغفور راشدd جامعہ محمدیہ اوکاڑہ سے سندیافتہ جید عالم دین، تاریخ اہل حدیث کے مستند راوی، بہترین قلم کار، اعلی پائے کے نثر نگار، مخاطب کا دل موہ لینے والے بہترین خطیب اور کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔ حال ہی میں ان کا ایک سفر نامہ بعنوان’’سفر انگلستان مشاہدات وتاثرات‘‘شائع ہوا۔
ان کی شفقت کہ ایک کاپی مجھ ناچیز کیلئے بھی عطیہ ہوئی۔ مطالعہ کے بعد حاصل مطالعہ کو چند الفاظ میں جو میرے دل کی تختی پر ابھرے رقم کر رہا ہوں۔ (یہ کتاب برائے تبصرہ نہیں کہ میں ڈاکٹر صاحب کی کتاب پر تبصرہ کے قابل ہی نہیں ہوں۔) یہ محض میرے دل کے خیال ہیں جو بیان کررہا ہوں۔
۱۱ سے ۲۱ اپریل ۲۰۱۸ء تک کے’’سفر انگلستان‘‘ میں انگلستان کی یادیں کم اور جماعت کی تاریخ، دیار فرنگ میں بیٹھ کر قرآن وسنت کی روشنی پھیلانے والے اکابرین جماعت کی خدمات کے تذکرے زیادہ ہیں۔ ۴۸ صفحات کے اس کتابچے میں صاحبان ذوق کیلئے سوچ وفکر کے دروازے کھولتے کئی سوال موجودہیں تو انگلینڈ کے باسی مسلمانوں کے حالات و واقعات کے سلسلے میں کئی سوالوں کے جواب بھی پائے جاتے ہیں۔ برطانیہ کے کلچر ، رہائشیوں کے رہن سہن،لوگوں کے لباس‘ طرز بود وباش اور افراد کے رویوں پر بھی خاصی راہنمائی موجود ہے۔ امت مسلمہ کے کھوئے ہوئے وقار کا نوحہ بھی ہے تو اس کی وجوہات کا تذکرہ بھی ہے۔ مسلمانوں کی طرف سے خرید کردہ چرچز میں بنی ہوئی مساجد کا ذکر حوصلوں کو بڑھاتا ہے تو مسلمان معاشروں میں بے آباد مساجد کا ذکر دل کو رلاتا ہے۔ ایڈمبرا میں’’سکاٹش نیشنل وار میموریل‘‘نامی میوزیم میں سلطان ٹیپو کے مجسمے اور شمشیر کی باتوں اور ان کی بہادرانہ تاریخ کے تذکرے نے رلادیا۔ اسی ضمن میں برصغیر کے خاک نشین مولویوں کی شاندار تاریخ کا تذکرہ انگوٹھی میں نگینے کی طرح فٹ بیٹھا ہے۔ انگریز کی طرف سے مسلمانوں کی طبقاتی تقسیم اور اس کے نقصانات کا ذکر بھی از بس ضروری ہے تاکہ نوجوان نسل اپنے اس ماضی کی طرف پلٹے جو انتہائی شاندار ہے اور ڈاکٹر صاحب نے اس تذکرے میں اپنے خون جگر کی روشنائی استعمال کی ہے۔ مختلف شہروں میں ملنے والے میزبانوں کی محبت کا ذکر یقینا’’ من لم یشکرالناس لم یشکر اللہ ‘‘کہ عملی تصویر ہے۔ دیار فرنگ میں بسنے والے علما اور ان کی اولادوں کی دین سے شیفتگی اور لگاؤ کے تذکرے نے دل خوش کر دیا۔ ڈاکٹر صاحب سفر کے آخر میں محسن ملت جناب ڈاکٹر بہاؤالدین محمد سلیمان اظہر کی خدمت میں بھی حاضر ہوئے۔ ان سے تعلق کی داستان اور ان کی خدمات کا تذکرہ بھی اس کتابچے میں ایک خاصے کی چیز ہے‘‘۔
ہاں اس کتابچے کے آغاز میں مدیر اہل حدیث حضرت بشیر انصاریd کی تقریظ یا مقدمے نے اس کی اہمیت کو دو چند کردیا ہے۔ انہوں نے برطانیہ میں مرکزی جمعیت اہل حدیث کے بانی مولانا محمود احمدؒ میرپوری کا خوب تذکرہ کیا اوراپنی تاریخ سے نا آشنا ہم ایسے طالب علموں کو بہت سی معلومات مہیا کی ہیں۔
الغرض یہ سفر نامہ مختصر تو ہے مگر جامع بہت ہے۔ تاریخ کے طالبعلموں کو خاص کر اور برطانیہ کے مسافروں کو بالعموم اس کا ضرور مطالعہ کرنا چاہئے۔

نام کتاب:               تذکرہ اکابرین اہل حدیث
تالیف:       مولانا عبدالرحمن ثاقبd
صفحات:      336 صفحات   میڈیم سائز‘ مضبوط جلد
ناشر:           مؤسسۃ الخادم الخیریۃ، بھریا روڈ‘ سندھ
تبصرہ نگار:               جناب حافظ محمد اسلم شاہدرویؔ d  (معاون ناظم طبع وتالیف مرکزی جمعیت اہل حدیث پنجاب)
اہل حدیث دو لفظوں سے مرکب ہے‘ اس سے مراد حدیث والے ہیں۔ قرآن پاک حدیث ہے اور سنت نبوی بھی حدیث ہے۔ ان دونوں کے حاملین اہل حدیث ہیں۔ اہل حدیث کی قدامت اس طرح ہے کہ جب سے حدیث ہے اس وقت سے اہل حدیث ہیں۔
قرآن وحدیث کے حاملین اور ان پر عاملین کی تاریخ قدیم ہے۔ لیکن زیر تبصرہ کتاب میں اس عظیم سلسلے اور قافلے کے ان مرحومین یا موجودین کا تذکرہ ہے جو مرکزی جمعیت اہل حدیث (مغربی) پاکستان کے امراء‘ ناظمین‘ صوبائی ذمہ داران یا نائب امراء ونائب ناظمین رہے۔ نائبین میں سے چند ہی مذکور ہیں۔
مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان (مغربی) کی بنیاد ۱۹۴۸ء ہی رکھی گئی۔ اس کے پہلے صدر مولانا سید محمد داؤد غزنوی اور ناظم اعلیٰ پروفیسر عبدالقیوم منتخب کیے گئے۔ ان کے بعد تاریخی ترتیب سے جو اصحاب علم وفضل جماعتی ذمہ داریوں کے ساتھ وابستہ رہے ان کے سوانح واحوال کا نہایت دلنشیں تذکرہ ہے جو مولانا عبدالرحمن ثاقب (خطیب اعظم مارچ بازار سکھر) نے قلم بند فرمایا ہے۔ موصوف مرکزی جمعیت اہل حدیث صوبہ سندھ کے ناظم تبلیغ ہیں۔  ع
اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ
ثاقب صاحب نے جو خدمت انجام دی ہے یہ اس سے زیادہ اس موضوع پر کام کا تقاضا کرتی ہے‘ اس میں موضوع کا مکمل احاطہ نہیں کیا جا سکا اور اس کے احاطہ کے لیے کئی جلدیں اور دفاتر درکار ہیں۔ البتہ ثاقب صاحب نے جو کچھ کیا ہے وہ نہ کرنے سے بہتر ہے اور ان کی یہ محنت اس موضوع پر کام کرنے والوں کے لیے دلیل راہ ضرور بن گئی ہے۔ ان شاء اللہ!
یہ کتاب ہر جماعتی ذمہ دار فرد‘ مرکزی وصوبائی نیز ضلعی وتحصیلی عہدیداران اور کارکنان جماعت ویوتھ فورس ودیگر ذیلی تنظیمات کے مطالعہ سے ضرور گذرنی چاہیے۔

نام کتاب:               نبی کریمؐ سے محبت اور اس کی علامتیں
تالیف:                    پروفیسر ڈاکٹر فضل الٰہیd
صفحات:                   128 صفحات   میڈیم سائز‘ کارڈ کور
ناشر:           ادارہ تبلیغ اسلام‘ جام پور‘ ضلع راجن پور
تبصرہ نگار:               جناب حافظ محمد اسلم شاہدرویؔ d  (معاون ناظم طبع وتالیف مرکزی جمعیت اہل حدیث پنجاب)
رسول اکرمe سے محبت جزو ایمان اور ایمان کی بنیاد ہے‘ مومن کا ایمان اس محبت کے بغیر کامل نہیں ہوتا بسا اوقات ثابت ہی نہیں ہوتا۔ چونکہ محبت کا زیادہ تعلق دل سے ہے لیکن پھر بھی کچھ ایسے اعمال ہیں جو اس محبت کے حصول کے لیے ممد ومعاون ہوتے ہیں۔ ان اعمال کے وجود کو ہم اس محبت کے لیے علامات سے تعبیر کر سکتے ہیں۔
ڈاکٹر صاحب نے نبی کریمe کے ساتھ مخلوق سے زیادہ محبت کی فرضیت‘ آپe کی محبت کے ثمرات وفوائد‘ اس عظیم محبت کی علامتیں‘ آپe کے دیدار کی تمنا‘ آپe پر جان ومال نچھاور کرنے کے لیے ہر دم تیار رہنا‘ آپe کے اوامر کی تعمیل اور نواہی سے اجتناب‘ سنت کی نصرت اور شریعت کا دفاع اور شان مصطفیe کے بیان میں راہِ اعتدال سے نہ ہٹنا۔ اس کتاب کے چند بنیادی عنوانات مقرر کیے ہیں۔
ان بنیادی عنوانات کے تحت بہت سے ذیلی عنوانات ہیں‘ آیات واحادیث کے دلائل بہت عمدگی سے اردو ترجمہ کے ساتھ تحریر کیے ہیں۔ یہ کتاب اپنے موضوع پر نہایت عمدہ اور مؤثر ترتیب پر مرتب کی گئی ہے۔
آنحضرتe کے ساتھ محبت کی علامات میں سے جس پر زیادہ زور دیا گیا ہے وہ آپ کی فرمانبرداری اور اطاعت ہے یہی محبت رسولe کا اصل مظہر ہے اور یہی دنیا وآخرت میں کامیابی کی بنیاد ہے۔
یہ کتاب مفت حاصل کرنے کے لیے مذکورہ بالا موبائل نمبر پر رابطہ کیا جائے۔


No comments:

Post a Comment

View My Stats