منزل کی تمنا ہے تو کر جہد مسلسل 19-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Saturday, July 27, 2019

منزل کی تمنا ہے تو کر جہد مسلسل 19-2019


منزل کی تمنا ہے تو کر جہد مسلسل

سینئر نائب ناظم اعلیٰ مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان مولانا محمد نعیم بٹ منڈی بہاؤالدین میں

بسلسلہ رابطہ با ضابطہ مرکزی وفد جامع مسجد توحید گنج اہل حدیث کچہری روڈ منڈی بہاؤالدین پہنچا۔ وفد میں مولانا محمد نعیم بٹ سینئر نائب ناظم اعلیٰ اور حافظ محمد یونس آزاد نائب ناظم مرکزی جمعیت اہل حدیث شامل تھے۔ ۲۳ اپریل بروز منگل نماز ظہر کا وقت طے تھا۔ مرکزی وفد اور ضلعی عہدیداران ما شاء اللہ اجلاس میں شرکت کے لیے نماز ظہر میں شریک تھے۔ نماز کے فورا بعد اجلاس کی باضابطہ کارروائی کا آغاز حافظ شمریز اختر سلفی کی تلاوت قرآن مجید سے ہوا۔ نذیر احمد خان سلفی ایڈووکیٹ امیر ضلع منڈی بہاؤالدین نے مرکز سے آنے والے معزز مہمانوں کو تہہ دل سے اہلا وسہلا کہا اور ضلعی اراکین شوریٰ کا شکریہ بھی ادا کیا جو بروقت پوری دلچسپی سے اجلاس میں شریک ہوئے۔ امیر ضلع نے کہا کہ ہم اللہ کے شکر گذار ہیں اور ہم اس پر جتنا بھی اللہ کریم کا شکر ادا کریں کم ہے کہ اس بابرکت ذات نے ہمیں اہل حدیث بنایا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے بڑے احساس اور فکر سے قرار داد پیش کی کہ عمران خان وزیر اعظم پاکستان نے جو ایران میں پاکستان کے اندرونی وخارجی معاملات کے حوالہ سے غیر دانشمندانہ بیان دیا ہے ہم اس کی پر زور مذمت کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ مستقبل قریب میں سزائے موت کا قانون ختم کرنے کے حوالہ سے گورنمنٹ پارلیمنٹ میں بل پیش کرنے جا رہی ہے۔ یہ مغربی پریشر کا نتیجہ ہے جو کہ حکومت برداشت نہیں کر رہی۔ ہم اس ذہنی شکست خوردی کی مذمت کرتے ہیں اور قطعا برداشت نہیں کریں گے کہ ایسا بل پاس ہو۔ ہم بھر پور مخالفت کریں گے۔ یہ آئین شریعت کے خلاف ہے۔ ضلعی امیر نذیر احمد سلفی نے ہاؤس کی وساطت سے حکومت وقت سے مطالبہ کیا کہ معاشی معاملات کنٹرول کرے۔ مہنگائی آسمان سے باتیں کر رہی ہے۔ مزید مہنگائی عوام کی قوت برداشت سے باہر ہے۔ حکومت ہوش کے ناخن لے اور قوم پر ناجائز بوجھ ڈالنے سے باز رہے۔ ورنہ عوامی رد عمل کا یہ حکومت سامنا نہیں کر سکے گی۔ آخر میں انہوں نے پھر مہمانان گرامی اور ضلعی جماعت کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ نائب ناظم مرکزیہ حافظ محمد یونس آزاد نے بعد از حمد وصلوٰۃ ہاؤس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اہل حدیث ایک عظیم عقیدہ وسٹیج کے حامل ہیں۔ ان حاملین کتاب وسنت کے لیے لازم ہے کہ یہ مبارک دعوت دوسرے افراد تک بھی پہنچا دیں۔ یہ منہج اس وقت تک اقوام عالم تک نہیں پہنچ سکتا جب تک منظم طریقہ سے اس کی آبیاری نہ ہو گی۔ رحمت عالم نے صحابہ کرام کو منظم کیا جس کی وجہ سے مہاجر ہوئے اور فاتح بن کر واپس آئے۔ مکہ فتح ہوا‘ دعوت مشرق ومغرب میں پہنچ چکی تھی۔ یہ سب نظم وضبط سے ہوا۔ اب آپ کے پاس ایک منظم حاملین کتاب وسنت کا پلیٹ فارم موجود ہے جس کا مرکز ۱۰۶ راوی روڈ لاہور ہے۔ جبکہ امیر حضرت حافظ علامہ پروفیسر ساجد میر ہیں اور ناظم اعلیٰ حافظ ڈاکٹر عبدالکریم ہیں۔ آپ احباب اس نظم کے ساتھ منسلک ہو کر ایک منظم دعوت کا کام کر سکتے ہیں۔ یہ وہ جماعت ہے جس کی اساس مولانا داؤد غزنویa‘ مولانا محمد اسماعیل سلفیa جیسے کبار اسلاف نے رکھی جو ہر قسم کے تسلط سے پاک اور خود مختار ہے جسے کہیں سے ڈکٹیشن لینے کی ضرورت نہیں۔ جماعت کی مجالس شوریٰ وعاملہ اس کی پالیسیاں ترتیب دیتی ہیں۔
آخر میں سینئر نائب ناظم اعلیٰ مرکزیہ مولانا محمد نعیم بٹ نے ’’جیسا کرو گے ویسا بھرو گے‘‘ کو عنوان بنا کر کہا کہ سارے نظریات اور مسالک فرش پر بنے ہیں اور ایک مسلک اہل حدیث عرش پر بنا ہے۔ عرش والے نے ہماری کچھ ذمہ داریاں لگائی ہیں جو ہمیں فکر مندی سے پوری کرنا چاہئیں اور اس مشن کو لے کر گلی گلی کوچہ کوچہ بستی بستی اس کی تشہیر کرنا چاہیے۔ ہم اسی غرض سے پورے ملک میں ضلعی شہری تحصیلی لیول پر گھوم رہے ہیں اور آپ کے دلوں پر دستک دے رہے ہیں۔ اس کا سہرہ مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے سر ہے۔ انہوں نے کہا کہ وطن عزیز میں اس وقت حالات انتہائی مخدوش ہو چکے ہیں۔ موجودہ حکومت کی اسمبلی میں وہ کام ہوا جو قیام پاکستان سے لے کر آج تک نہیں ہوا کہ اسرائیل کو تسلیم کیا جائے۔ ساری زندگی ہم فلسطینیوں کی ہمدردی میں جیتے رہے کہ ان کا خون پانی سے ارزاں بنا دیا گیا۔ انہیں گاجر مولی کی طرح کاٹا جا رہا ہے‘ عزتیں تار تار ہو رہی ہیں۔ ہم مسلمان برداشت نہیں کر سکتے اور اس وقت ہمیں اسرائیلی حمایت کا درس د یا جا رہا ہے؟ آج عقیدہ ختم نبوت سے بھی منظم سازش کے تحت غداری کی جا رہی ہے۔ اس کی چوکیداری کی گدی نشینی‘ آستانوں کے مجاورں نے نہیں کرنی بلکہ یہ فقط اہل حدیث کا اعزاز ہے۔ تاریخ گواہ ہے اس کے لیے ہمارے اسلاف نے کیسے قربانیاں دیں۔ آج ہم اخلاف بھی اسی طرح ہر قربانی کے لیے میدان عمل میں ہیں۔ قدم تو سب بڑھاتے ہیں مگر دیہاڑی لگانے والے اور خون بہانے والے میں فرق ہوتا ہے۔ مولانا محمد نعیم بٹ نے کہا: دنیا پر نگاہ دوڑائیں شکاری کئی شکلوں میں ہیں اور شکار ا یک یعنی مسلمان ہے۔ ہندو شکاری‘ عیسائی شکاری‘ یہودی شکاری‘ بدھ شکاری مگر غزال مسلمان ہے۔ اب ہوش کے ناخن لینا ہوں گے‘ کوئی نہیں نکلے گا۔ عقیدہ ختم نبوت‘ فلسطین وکشمیر وبرما کے مظلوموں اور اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے آپ ہی کو نکلنا ہو گا اور اپنی قیادت کا بھر پور ساتھ دینا ہو گا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ میری جماعتی زندگی کا نچوڑ ہے کہ ہماری جماعت کی کوئی ایک بھی پالیسی ایسی نہیں جس پر شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ اس کا تعلق ملکی یا بین الاقوامی سطح کا ہو۔ برعکس اس کے آپ کو کئی دیگر جماعتوں کے ورکرز شرمندہ اور منہ چھپاتے پھرتے ملیں گے۔ ایران میں وزیر اعظم پاکستان کے حالیہ بیان غداری کے مترادف ہے اور یہ ایسا نالائق ترین سلیکٹڈ وزیر اعظم ہے کہ اسلام دشمن‘ مسلمان دشمن بھارتی مودی وزیر اعظم کی تعریف اور حمایت کرتا پھرتا ہے جو کہ قابل مذمت ہے۔ انہوں نے ڈیوٹی لگائی کہ آپ احباب اپنے اپنے مقام پر جماعتی کام کو منظم انداز میں انجام دیں اور اتنی کوشش کریں کہ آپ کے ضلع کا کوئی اہل حدیث جماعت کے نظم سے لا تعلق نہ رہے۔ اللہ کریم ہم سب کا حامی وناصر ہو۔
آخر میں انہوں نے ساری جماعت بالخصوص امیر ضلع کا شکریہ ادا کیا۔ اجلاس کی صدارت نذیر احمد خان سلفی امیر ضلع نے فرمائی جبکہ دیگر ذمہ داران حافظ محمد فہد ناظم ضلع‘ مولانا اکرام اللہ ساجد نائب امیر ضلع‘ پروفیسر ضیاء اللہ گورائیہ صدر جمعیۃ اساتذہ‘ مولانا ثناء اللہ سٹی ناظم‘ حافظ محمد عبداللہ طاہر‘ حافظ محمد کامران‘ عبدالمجید‘ ملک احسان الحق ظہیر‘ حافظ محمد وقاص‘ حافظ محمد رفیع‘ محمد آصف سعید‘ قاری محمد عمر‘ حافظ ابتسام الٰہی تبسم‘ حافظ محمد احسان فاروقی کے علاوہ دیگر عہدیداران شریک اجلاس تھے۔ جماعت کی طرف سے پر تکلف ظہرانہ کے بعد مہمانان گرامی کو خلوص بھری دعاؤں سے الوداع کیا گیا۔


No comments:

Post a Comment