سرزمین اندلس ... چند یادیں چند باتیں 19-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Saturday, July 27, 2019

سرزمین اندلس ... چند یادیں چند باتیں 19-2019


سرزمین اندلس ... چند یادیں چند باتیں

(قسط دوئم)          تحریر: جناب پروفیسر محمد یٰسین ظفر
دوسری طرف اسلامی فتوحات کا سلسلہ مصر سے نکل کر پورے افریقہ میں پھیل چکا تھا۔ عقبہ بن نافع جن کی پیش قدمی بحراوقیانوس تک پہنچ گئی‘ مغرب اقصیٰ (موجودہ مراکش) کو فتح کرنے کے بعد ساحل سمندر میں گھوڑے کو ڈال کر تلوار کھینچ لی اور باآواز بلند کہا: اللہ اکبر‘ اللہ اکبر‘ اللہ اکبر‘ خدایا! اگر مجھے یہ سمندر نہ روک لیتا تو مغرب کی طرف اس ملک میں بڑھتا چلا جاتا۔ جہاں نامعلوم کون بادشاہت کرتا ہے‘ تیرے پاک نام کی کبریائی ظاہر کرتا اور ان لوگوں کو تیری طرف راستہ دکھلاتا جو تیرے سواء دوسروں کو پوجتے ہیں (تاریخ اندلس ۱۳۴)
موسیٰ بن نصیر ایسے پاک باز جرنیل‘ بہادر سپہ سالار‘ زہد و تقویٰ کے پیکر ‘ انسانیت کے غم خوار اور اخلاق عالیہ کے حامل ایسے مدبر رہبر نے افریقہ کی کایا پلٹ دی۔ بربری قوم جو کسی بھی لشکر کشی کو تفریح سے زیادہ حیثیت نہ دیتے تھے اور ہر آنے والے لشکر سے خون ریز جنگ کے لیے تیار رہتے تھے شکست اور قتل و غارت کے باوجود دوبارہ صف آراء ہو جاتے۔ بربریوں کواس سے قبل بزنطینوں سے پالا پڑا تھا جو محض لوٹ مار کرتے‘ ان کی املاک کو نقصان پہنچاتے‘ خواتین اور بچوں کو غلام بناتے اور واپس چلے جاتے۔ بربری یہ سمجھنے میں حق بجانب تھے کہ مسلمان بھی اسی طرح کا طرز عمل اختیار کریں گے لیکن موسیٰ بن نصیر نے انہیں باور کرایا اور اپنے تاریخی خطاب میں فرمایا کہ ہم لینے نہیں تمہیں تمہارا حق دینے آئے ہیں۔تمہیں زندگی کے مقاصد سے آگاہ کرنے آئے ہیں۔ تمہاری جانیں‘ مال اور عزتوں کو تحفظ دینے آئے ہیں۔ تمہاری آزادی اورحریت کے محافظ بن کر آئے ہیں۔ بربریوں کے لیے یہ بالکل نیا تجربہ تھا کہ دنیا میں ایسے لوگ بھی ہیں جن کا لشکر فاتح ہونے کے باوجود ہماری چوکیداری کرے گا۔ موسیٰ بن نصیر جیسے بیدار مغز قائد اور دور اندیش رہنما نے ستر سے زائد ایسے علماء مبلغین اور داعی ان علاقوں کی طرف روانہ کر دیئے جہاں کی زبانیں وہ بآسانی بول سکتے تھے۔ جن کی بصیرت افروز تبلیغ اور حکیمانہ گفتگو سے بڑے بڑے قبائل حلقہ بگوش اسلام ہوئے اور افریقہ میں دلوں کو فتح کرنے کا یہ عمل مسلسل جاری رہا۔ دنیا میں بڑے بڑے معرکے ہوئے ‘ انسانی سروں کے مینار بنائے گئے‘ انسانوں کی بے حرمتیاں ہوئیں لیکن بڑے سے بڑے لشکر جرار دلوں کو فتح نہ کر سکے مگر موسیٰ بن نصیر کیسے سپہ سالار تھے جنہوں نے افریقی سورماؤں کو اپنا گرویدہ بنا لیا ۔ انہی سپوتوں میں طارق بن زیادہ ایسے لافانی کردار تخلیق ہوئے  جنہوں نے اپنے اخلاق و کردار اور پیش قدمی سے تاریخ کا دھارا بدل دیا۔
اچانک خیال آیا کہ میں تو اس وقت سرزمین اندلس میں ہوں‘ دوپہر کا وقت ہوا چلا‘ بھوک اور پیاس کا احساس ہواتو مشورے سے ایک سروس اسٹیشن پر رک گئے۔جہاں کافی و دیگر مشروبات کے ساتھ  بسکٹ اور حلال چیزوں کا انتخاب کیا تھوڑی دیر آرام کرنے کے بعد دوبارہ عازم سفر ہوئے۔ برادرم حبیب اللہ ماشاء اللہ بہت حاضر دماغ اور اچھے گائیڈ ہیں۔ نہایت سبک رفتاری سے گاڑی چلا رہے تھے۔ ہمارے ارد گرد حدنظر تک زیتون کے باغات بڑی ترتیب سے نظر آ رہے تھے۔ موٹروے پر رک کر تصاویر بنانا قانوناً جرم ہے جس کی رعنائیاں باغ و بہار اور زیتون جیسے کارآمد اور قیمتی درخت کا اندلس میں آنا مسلمانوں کا مرہون منت ہے۔
کبھی اندلس بھی انسانی قدر و منزلت اور اس کے مقام سے ناآشنا تھا۔ وہاں بھی وہی حالت تھی تو یورپ میں پائی جاتی تھی جبکہ اندلس کے پڑوس میں دنیا کی سب سے زیادہ قابل فخر تہذیب اور عقیدہ پروان چڑھ رہا تھا ایسی روشنی تھی جو دلوں کو منور کر رہی تھی‘ بندوں میں مساوات کا تصور اجاگر ہو گیا تھا اور برتری کا معیار صرف اور صرف تقویٰ تھا۔
عقبہ بن نافع کے ہاتھوں’’قیروان‘‘ جیسا ثقافتی‘ تعلیمی‘ تجارتی‘ سیاسی اور عسکری شہر وجود میں آیا۔ صدیوں بعد بھی یہ شہر اپنے ماضی سے جڑا ہوا ہے: ’’جامع قیرواں‘‘ جس نے مسجد سے یونیورسٹی کا سفر طے کیا اور اب تک لاکھوں نوجوانوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کر چکی ہے۔ ایسے بلند پایہ علماء جن کی کاوشوں سے دین اسلام کی تعلیمات کو استحکام نصیب ہوا۔
افریقہ میں استحکام اور قیام امن کے بعد اسلامی لشکر کے کمانڈر انچیف موسیٰ بن نصیر جنہوں نے معروف شہر ’’سبتہ‘‘ کو فتح کرنے کی کوشش کی مگر اپنی مضبوطی اور قلعہ بند ہونے کے باعث کامیاب نہ ہو سکے۔ یہ واحد شہر ہے جسے مسلمانوں نے اس کے حال پر چھوڑ دیا۔ بزنیطنی اثرورسوخ ختم ہونے کے بعد ’’سبتہ‘‘ کے گورنر کاؤنٹ جولین نے مجبوراً اندلس کے شاہ راڈرک سے دفاعی معاہدہ کیا اور ان کا باجگزاربن گیا۔ شاہ راڈرک بہت مکار اور چالاک آدمی تھا‘ اس نے اندلس کے اصل شاہی خاندان سے حکومت ہتھیا لی تھی۔ وہ جانتا تھا کہ وہ تمام چھوٹی ریاستیں جو اس کی باجگز ارہیں کسی وقت ہاتھ سے نکل سکتی ہیں لہٰذا انہیں اپنا دست نگر رکھنے کے لیے شرط رکھی کہ وہ اپنی اولاد کو اندلس کے دارالحکومت طلیطلہ (موجودہ نام (Toledo)) شاہی دربار بھیج دیں تاکہ سرکار کی زیر نگرانی ان کی تعلیم و تربیت کا اہتمام ہو سکے۔ (Ceuta) کے گورنر کی نرینہ اولاد نہ تھی‘ ایک اکلوتی بیٹی کو مجبوراً راڈرک کے پاس بھیج دیا۔ حسین و جمیل گورنر کی بیٹی پر شاہ راڈرک کی نظر تھی۔ کچھ وقت گزرا کہ اس کے اندر کا شیطان جاگ اٹھا اور دست درازی کرنے لگا جس کی خبر گورنر ’’سبتہ‘‘ کو ہو گئی‘ لہٰذا سرد موسم اور برسات کی پروا کئے بغیر کاونٹ‘ جولین شاہ راڈرک کے پاس پہنچا اور بہانہ بنایا کہ میری اہلیہ موت و حیات کی کیفیت میں ہے لہٰذا بنفس نفیس بیٹی کو لینے آیا ہوں ۔ مجبوراً  اسے جانے کی اجازت دے دی گئی۔ واپس ’’سبتہ‘‘ پہنچ کر راڈرک سے انتقام لینے کی منصوبہ بندی کرنے لگا‘ لیکن جانتا تھا کہ وہ اکیلا راڈرک کو شکست نہیںدے سکتا۔ اب ایک ہی راستہ تھا کہ موسیٰ بن نصیر سے مدد طلب کرے یہ جانتے ہوئے کہ موسیٰ اس سے قبل ’’سبتہ‘‘ کو فتح کرنے کی کوشش کر چکا ہے اور ان کے درمیان واضح دشمنی تھی۔ لیکن حقیقی دشمن سے انتقام لینے کے لیے گورنر ’’سبتہ‘‘ نے موسیٰ بن نصیر کے دربار میں حاضری کا فیصلہ کیا اور اجازت طلب کی۔ گورنر اپنے رفقاء کے ہمراہ قیروان پہنچا‘ موسیٰ بن نصیر سے ملا اور اپنا مدعا بیان کیا۔ اس کے ساتھ بتایا کہ اندلس نہایت سرسبز‘ خوبصورت چشموں کی سرزمین ہے۔ جہاں نہایت میوہ جات معدنیات کی فراوانی ہے۔ نہریں اور دریا بہتے ہیں۔ موسم نہایت شاندار ہے۔ بڑے بڑے شہر تجارتی مال و متاع سے بھرے ہوئے ہیں۔ لوگ خوبصورت ہیں‘ آمد ورفت کے ذرائع وسیع ہیں‘ نقل و حمل بآسانی ہو سکتی ہے۔ لوگ بادشاہ کے طرز عمل سے ناخوش ہیں اور کسی نجات دہندہ کی راہ دیکھ رہے ہیں۔ اس نے پیش کش کی کہ وہ تمام وسائل فراہم کرے گا اور موسیٰ کی قیادت میں اندلس پر حملہ آور ہونے کے لیے بالکل تیار ہے اور ’’سبتہ‘‘ کی چابیاں دینے کو تیار ہے۔ موسیٰ نے بات سنی اور کہا کہ ہم اپنے خلیفہ کے حکم کے پابند ہیں‘ پہلے ان سے بات کریں گے اگر اندلس پر حملہ کرنے کی اجازت مل گئی تو مزید گفتگو اور شرائط طے کریں گے۔
خلیفہ المسلمین ولید بن عبدالملک نے بخوشی اندلس پر حملے کی اجازت دے دی‘ ساتھ ہی یہ تاکید کی کہ دیکھنا سمندر پار حملہ آور ہونے کے لیے تمام ذرائع میسر ہونے چاہئیں‘ مبادا مسلمان لشکر بے یارومددگار مارا جائے تمام حفاظتی انتظامات پہلے سے کر لیے جائیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے اسلاف جہاد کے لیے اسلامی لشکر کو روانہ کرنے سے پہلے اس بات کا خاص اہتمام کر لیتے کہ مسلمانوں کا کم سے کم نقصان ہو‘ یہ نہیں کہ لشکر اس لیے روانہ ہو رہا ہے جس نے شہید ہونا ہے اس میں شامل ہو جائے جیسا آج ہمارے عہد میں بعض ابن دنیار ودرہم نے شہادت کی دکانیں کھول رکھی ہیں اور لوگوں کو شہید ہونے کی دعوتیں دی جا رہی ہیں‘ یہ محض طنز نہیں بلکہ ایک حقیقت کا اظہار کر رہا ہوں۔ شہادت ایسا رتبہ ہے جو کسبی نہیں‘ اس کی تمنا آرزو اور دعا کی جا سکتی ہے۔ لیکن ایسا نہیں کہ کوئی تنظیم یا لشکر حتی کہ حکومت بھی اپنے تمام وسائل خرچ کر کے یہ مرتبہ دلوا سکے۔
موسیٰ بن نصیر نے ’’سبتہ‘‘ کے گورنر کو خبر دی کہ ہمیں خلیفہ المسلمین سے اجازت مل گئی ہے۔ اب اندلس پر حملہ کے لیے طریقہ کار اور شرائط طے کر لی جائیں۔ چونکہ مسلمان اندلس کے حالات‘ موسم‘ جغرافیہ سے ناواقف تھے۔ حملہ آور ہونے کے لیے خلیج اندلس کو پار کرنا از حد ضروری ہے جس کے لیے کشتیوں کی ضرورت تھی۔ مزید عسکری افرادی قوت بھی کوئی زیادہ نہ تھی لہٰذا کاونٹ جولین کو اس بات کا پابند کیا گیا کہ وہ خود اپنی فوج کی قیادت کرے گا نیز کشتیاں فراہم کرنا بھی اس کی ذمہ داری ہو گی۔ لیکن موسیٰ بن نصیر نے نہایت حکیمانہ انداز سے یہ مطالبہ کیاکہ بڑے حملے سے قبل حالات کا جائزہ لینے کے لیے آپ کچھ فوجی دیں‘ ہمارے کمانڈر اپنے سپاہیوں کے ساتھ اندلس جائیں گے۔ مقصد یہ تھا کہ کاونٹ جولین کی فوجیں ہمراہ ہونگی تو راڈرک کی نظر میں یہ مجرم بن جائے گا اور مسلمانوں کو دھوکہ نہ دے سکے گا۔ لہٰذا ابتدائی کارروائی کے بعد بڑے لشکر کی تیاری کی گئی‘ مسلمانوں کا لشکر سات ہزار نفوس پر مشتمل تھا جس کی قیادت وقت کے بہادر جرنیل طارق بن زیاد کر رہے تھے جبکہ ’’سبتہ‘‘ کے فوجیوں کی قیادت کاونٹ جولین کر رہا تھا۔ یہودیوں کی قیادت قولہ اور دیگر لوگ جو اندلسی حکومت سے نالاں تھے ان کی قیادت مغیث رومی کر رہا تھا۔ اس طرح یہ قافلہ سمندر پار اس پہاڑی پر اترا جسے آج جبل طارق (Gibraltar) کہا جاتا ہے۔ مؤرخین نے بڑی تفصیل سے اس جنگ کا نقشہ کھینچا ہے جس میں ایک معمولی لشکرنے ایک لاکھ سے زائد لشکر کو جو ہر طرح سے مسلح اور سوار تھا انتہائی بری طرح شکست دی۔ ہزاروں لوگ مارے گئے اور باقی قیدی بنا لیے گئے‘ وقت کا حکمران راڈرک دریا برد ہوا ۔ جس کی وجہ سے گاتھ فوج کے بقیہ لوگ بھاگ نکلے‘ اس کا قیمتی گھوڑا جو سونے چاندی اور ہیرے جواہرات سے مرصع تھا مسلمانوں کے ہاتھ لگا‘ یہ اندلس کی فتح کا آغاز تھا اس کے بعد مسلمانوں نے پیش قدمی جاری رکھی۔
میں نے غرناطہ کے سفر میں یہ پوری تفصیل بیان کی تو حبیب حیران رہ گیا کہ آپ نے تو تمام واقعات کو اس کی جزئیات کے ساتھ بیان کر دیا ہے اور اندلس کی عظیم الشان تاریخ کس آسانی کے ساتھ انجام پذیر ہوئی‘ اسی اثناء میں ہم غرناطہ شہر میں داخل ہو چکے تھے۔ بہت خوبصورت شہر‘ رنگ برنگے پھولوں سے بھرا ہوا‘ نہایت کشادہ سڑکیں اور صاف ستھرا ماحول‘ جگہ جگہ رہنمائی کے لئے سائن بورڈ نصب تھے۔ ہم رنگ روڈ پر تھے اور یہاں سے پورا شہر ہماری نگاہوں میں تھا۔ بلند و بالا عمارتیں ‘پلازے ہوٹل‘ چھوٹے چھوٹے گھر جن کی چھتیں تکونی تھیں سرخ گلابی رنگ کے ساتھ کریمی اور سفید دیواریں سب جاذب نظر مناظر تھے۔
ہم نے گاڑی میں رہنمائی کے لیےG.P.S لگایا ہوا تھا لہٰذا کسی سے پوچھنے کی نوبت نہ آئی اور ہم سیدھے اندرون شہر (قدیم شہر غرناطہ) میں داخل ہوئے۔ وہاں چھوٹی گلیوں میں ہوٹل ہیں‘ قدیم عمارتوں کو نہایت سلیقے سے ہوٹل میں تبدیل کیا گیا‘ یکطرفہ ٹریفک کی وجہ سے رش اور ٹریفک بلاک نہیں ہوتی البتہ اگر بھول کر گلی چھوڑ دی تو لمباچکر لگا کر آنا ہوتا ہے۔ بہر حال تقریباً سہہ پہر اپنی قیام گاہ پہنچ گئے۔ سامان رکھا تھوڑا آرام کیا‘ نماز ظہر اور عصر ادا کی اور باہر گھومنے چلے گئے۔ شہر کا چکر لگایا اور الحمراء کی طرف نکل گئے‘ یہ محل جسے قصر الحمراء سے موسوم کیا جاتا ہے غرناطہ کے شمال کی طرف پہاڑی پر واقع ہے۔ فن تعمیر کا شاہکار ہے‘ جگہ کا انتخاب بھی بتاتا ہے کہ اس کے بانی فن تعمیرمیں اعلیٰ ذوق رکھتے تھے مسلمان حکمرانوں کی خصوصیات میں یہ بات شامل ہے کہ وہ دیگر علوم پر دسترس رکھنے کے ساتھ ساتھ بلند پایہ معمار اور اعلیٰ نقشہ نویس تھے‘ لہٰذا اس محل کا نقشہ اور تعمیر بھی مسلمان حکمران ابو عبداللہ محمد الاول۔ (محمد بن یوسف بن محمد بن احمد بن نصرالاحمر) نے شروع کی۔ دسویں صدی عیسوی میں شروع ہونے والی تعمیر مختلف مراحل میں ایک سو پچاس سال میں مکمل ہوئی۔ یہ محض محل نہیں تھا بلکہ قلعہ بند شہر تھا۔ اس میں مختلف عمارتیں تھیں جو فن تعمیر کا نادر نمونہ تھیں۔ ان کی دیواروں پر نہایت منقش پتھر لگائے گئے جن میں نقش و نگار پھول جالیاں اور خوبصورت شکل میں قرآنی آیات لکھی ہوئی ہیں۔ 14,200 میٹر مربع پر محیط یہ قلعہ جس میں مختلف محل اور باغات ہیں جن میں سب سے زیادہ خوبصورت جنت العریف ہے یہ محل جس کے سامنے مستطیل باغیچہ ہے جس میں خوبصورت فوارے اور چھوٹے تالاب ہیں۔
قصر الاحمر کی وجہ تسمیہ کے بارے مختلف رائے ہیں چونکہ اس کے بانی بنو احمر سے تعلق رکھتے تھے اس لیے قصرالاحمر ہے۔ بعض نے کہا کہ جہاں یہ محل تعمیر ہوا یہ زمین سرخ رنگ کی ہے اور بعض نے کہا کہ دراصل اس کی تعمیر سے قبل یہاں مختلف قلعے تھے جنہیں مونیہ الحمراء کہا جاتا تھا۔
صحیح بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ اس کے بانی ابو عبداللہ محمد اول جو کہ محمد بن نصر الاحمر کے نام سے معروف تھے اور ان کی داڑھی سرخی مائل تھی‘ اس نے موحدین کی حکومت کے خاتمے پر وہاں قبضہ کیا۔ مقامی لوگوں نے اس کا شاندار استقبال کیا مرحبابک یایہا المنتصر کے نعرے لگائے‘ جو ابا انہوں نے کہا ’’لاغالب الا اللہ‘‘ اور یہی ان کا شعار ٹھہرا۔ یہی وجہ ہے کہ قصر الاحمر کی دیواروں پر جا بجا   ’’لاغالب الا اللہ‘‘ لکھا ہوا ہے۔ ساتویں صدی ہجری میں محمد بن محمد الغالب باللہ نے شاہی محل کے ساتھ شاندار مسجد تعمیر کی لیکن صد افسوس کہ آج یہ مسجد کلیسا (سانتا ماریا) میں بدل گئی۔
یہ محل دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ مسلمان ماہرین تعمیر نے جس خوبصورتی سے تعمیر کیا آج ہزاروں سہولتوں کے باوجود ایسی مثالی اور لازوال تعمیر ممکن نہیں۔ سنگ سفید‘ سنگ سرخ اور سنگ گلابی کا جا بجا استعمال جن میں قرآنی آیات منقش تھیں۔ ان میں ’’وما النصر الامن عنداللہ العزیز الحکیم‘ ان الحکم الاللہ نمایاں ‘ جبکہ بعض جگہوں پر وقت کے حکمرانوں کے نام تحریر ہیں۔ الحمد للہ علی نعمۃ الاسلام بھی کثرت سے لکھا ہوا ہے۔ اس محل کے ساتھ خوبصورت برآمدے جن کے ستون بہت خوبصورت سنگ مرمر کو تراش کر بنائے گئے‘ محل کے درمیان فوارے ہیں جو پیالے کی شکل میں ہیں اور انہیں شیروں نے اٹھا رکھا ہے۔
اس محل کا حیرت انگیز کام پانی کی سپلائی ہے جو کہ بہت ہی پر اسرار ہے۔ آج کی سائنس بھی اسے سمجھنے سے قاصر ہے۔ یہ پانی قریبی پہاڑی کے چشموں سے آتا ہے مختلف جگہوں سے ہوتا ہوا فواروں میں اچھلتا نالیوں سے بہتا ہوا باغات کو سیراب کرتا ہے۔ بعض جگہوں پر آج بھی پانی کے گرنے کی آواز آتی ہے لیکن مقام معلوم نہیں۔ نہایت ہی ٹھنڈا میٹھا پانی صدیوں سے رواں دواں ہے‘ یہاں کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے بعد یہ شہر میں داخل ہو جاتا ہے۔
قصر الحمراء کو دیکھنے کے بعد ہم واپس ہوٹل آگئے‘ اب رات کے کھانے کا مرحلہ تھا لہٰذا میں اور حبیب گرم کپڑے پہن کر باہر نکلے سردی زیادہ نہ تھی۔ بہت اچھا موسم تھا‘ ہم خوب گھومے اور مختلف بازاروں سے ہوتے ہوئے ایک ترکی ریسورنٹ پر پہنچے‘ وہاں سلاد برگر اور دیگر لوازمات مل گئے۔ کھانے سے فراغت کے بعد واپس ہوٹل آ گئے۔ صبح کے  ناشتہ سے فارغ ہو کر دوبارہ سیر و تفریح کے لیے نکلے‘ میں غرناطہ کے مرکزی چوک میں اس مجسمے کی تصویربنا رہا تھا جس میں ملکہ ازابیلا غرناطہ کے آخری فرمانروا ابو عبداللہ سے معاہدے کی دستاویز وصول کر رہی ہے‘ وہ خود کرسی پر براجمان ہے۔ جبکہ ابو عبداللہ بے بسی کی تصویر بنا جھکا ہوا ہے۔ یہ منظر نہایت ہی کربناک‘دکھی کرنے والا تھا اور دل خون کے آنسو رو رہا تھا۔ میں اس منظر کو دیکھ کر صدیوں پہلے رونما ہونے والے اس دلخراش منظر کے بارے میں مستغرق تھا۔ یہ 2جنوری 1492ء کا منحوس دن تھا جب سقوط غرناطہ کا عظیم سانحہ رونما ہوا۔ مؤرخ لکھتا ہے کہ جب عیسائی اپنے صلیب کے ساتھ ایک دروازے سے داخل ہو رہے تھے تو دوسرے دروازے سے مسلمان قرآن حکیم اٹھائے نکل رہے تھے۔ ابو عبداللہ نے بوجھل دل کے ساتھ غرناطہ کی چابیاں پیش کرتے ہوئے کہا: [ہذہ لک ایہا الملک وفقا لمشیئۃ اللہ، فاستخدم انتصارک برافۃ واعتدال]۔
اس کے بعد اپنے خاندان اور مختصر سی جمعیت کے ساتھ شہر سے نکل گیا۔ شہر سے باہر شمالی جانب پہاڑی کی بلندی پر پہنچ کر اس نے غرناطہ پر آخری نظر ڈالی‘ وہ غرناطہ جسے اس کے آباؤ اجداد نے اسلام کا ثقافتی تعلیمی ‘ علمی  تہذیبی مرکز بنایا تھا‘ وہ غرناطہ جو فن تعمیر میں لا ثانی تھا۔ جس میں عالیشان مساجد ‘مدارس تھے اور جس میں قصر الحمراء شامل تھا۔ اس کا کلیجہ منہ کو آیا اور آنکھوں سے آنسو ٹپکنے لگے۔ اس کی والدہ نے یہ منظر دیکھا تو بے ساختہ کہہ اٹھی [حسناً۔۔ ابک مثل النساء علے مَلَکاً مضاعا ۔۔۔ لم تحافظ علیہ مثل الرجال] ’’جو بادشاہ مرد بن کر غرناطہ کی حفاظت نہ کر سکا اس کا عورتوں کی طرح رونا تو بنتا ہے۔‘‘
آج تاریخ نے اس بوڑھی عورت کی بات کو ضرب المثل بنا دیا لیکن دوسری طرف اسپین کے معروف مؤرخ (Leonardo villena) نے اپنے مقالہ جو تاریخی جھوٹ کے عنوان سے رقم کیا ہے کہ ابو عبداللہ کا غرناطہ کے باہر جا کر رونا اور اس کی والدہ کی طرف منسوب بات غلط ‘من گھڑت اور جھوٹ ہے۔ اس کی کوئی حقیقت نہیں‘ یہ بعض عیسائی مؤرخوں نے محض اپنی بھڑوتی کے لیے لکھا ہے۔
میں ان خیالات میں تھا کہ اچانک کسی نے میرے کندھے پہ ہاتھ رکھا اور السلام علیکم کہا۔ میں نے حیرت وتعجب بھری نظروں سے اس اجنبی کو دیکھا جو پینٹ کوٹ اور اوپر Long cortپہنے ہوئے تھا۔ چہرے پر داڑھی جو نہایت سلیقے سے تراشی ہوئی تھی اور ہاتھ میں ایک کتاب … علیکم السلام کیف الحال… وغیرہ وغیرہ مکالمہ کا آغاز اور باہمی تعارف ہوا۔ معلوم ہوا کہ یہ صاحب مراکش سے تعلق رکھتے ہیں اور آج کل بسلسلہ روزگار اسپین میں موجود ہیں۔ چونکہ یہاں بھی بے روزگاری ہے  لہٰذا آج کل کسی مسجد میں بچوں کو قرآن حکیم پڑھاتے ہیں۔ میں نے بھی اپنا اور حبیب کا تعارف کرایا‘ بہت خوش ہوئے انہوں نے پوچھا کیا آپ نے یادگار مدرسہ دیکھا ہے؟ ہم نے پوچھا وہ کہاں ہے۔ کہنے لگے یہ چند قدم پر… یہ جگہ ہمارے ہوٹل سے قریب ہے اور صبح ہم وہاں سے گزرے لیکن یہ معلوم نہ تھا کہ یہ کیا ہے۔ بہرحال ان کی رہنمائی میں ہم مدرسہ دیکھنے گئے جس میں داخلے کی فیس پانچ یورو تھی وہ ادا کی اور بے تاب ہو کر مدرسہ میں داخل ہوئے۔ مدرسہ کیا تھا ایک شاندار محل‘ نہایت خوبصورت ‘ کشادہ روشن اور ہوا دار بلند نقش و نگار سے مزین چھتیں جن پر آیات قرآنی اور بہت عمدہ پھول بنائے گئے۔ مدرسہ کی دیواروں پر بھی پتھر کو تراش کر جالیاں اور ان میں مختلف قرآنی آیات ‘ احادیث اور لاغالب الا اللہ‘ اور الحمد للہ علی نعمۃ الاسلام لکھا ہوا تھا۔ یہ سب چیزیں گلابی رنگ کے پتھر پر کندہ بہت جاذب نظر ‘فرش پر جو ٹائل استعمال ہوئی اس میں بھی خوبصورت گہرے کلر تھے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ صدیاں بیت گئیں کیسے مشکل دور آئے لیکن کوئی چیز متاثر نہ ہوئی۔ ہم دوسری منزل پر گئے تو سیڑھیاں کشادہ اور نہایت آسان‘ دوسری منزل پر طلبہ کی رہائش گاہیں ‘ جو اعلیٰ ترین ذوق کی آئینہ دار‘ مضبوط چھتو ں کے نیچے لکڑی کا منقش اور کٹاس رنگ استعمال ہوئے‘ انسان دیکھتا ہی رہ جاتا ہے۔ اس دور کے یہ کاریگر کیسے فنکار تھے اور کیا ہی اعلیٰ ذوق رکھتے تھے۔ ایسی نقش ونگاری اور ہر چیز ایک دوسرے سے بڑھ کر کمروں کے دروازے اور کھڑکیاں لکڑی کی تھیں جو صدیوں سے زیر استعمال ہیں۔ یہ صحیح معنوں میں تعلیمی دانشگاہ معلوم ہوتی جہاں اعلیٰ پائے کے علماء تفسیر‘ حدیث ‘فقہ ‘ادب تشریف فرما ہوتے اور دور دراز سے تشنگان علوم آ کرسیراب ہوئے‘ مدرسہ کے درمیان میں مختصر حوض تھا۔ جہاں تازہ پانی داخل ہوتا اور دوسرے راستے سے باہر نکل جاتا۔ پوچھنے پر بتایا گیا کہ یہ وضو کے لیے استعمال ہوتاہے ۔ ہم ایک گھنٹہ اس میں موجود رہے اور خاکسار تاریخ کے اوراق میں گم ہو گیا کہ اندلس میں ہر مسجد کے ساتھ ایک عظیم الشان مدرسہ قائم کیا جاتا۔ میں سوچ رہا تھا کہ اس مدرسہ کے ساتھ بھی کوئی مسجد ہو گی‘ میرے استفسار پر عرب دوست نے بتایا کہ یہ سامنے عظیم الشان جامع مسجد الحمراء ہی تو ہے۔ لیکن اب گرجا میں تبدیل ہو چکی ہے وہاں جانا مناسب نہیں۔ اب دل میں ایک تڑپ پیدا ہوئی کہ مسجد الحمراء کی زیارت از حد ضروری ہے۔ ہم نے عرب مہربان کو رخصت کیا اور شکریہ کے ساتھ کچھ نقدی بھی دی جس پر وہ بہت خوش ہوا۔
اس کے بعد میں اور حبیب مسجد الحمراء دیکھنے نکلے۔ مرکزی دروازے پر دس یورو فی کس ادا کیے اور اندر داخل ہو گئے۔ سبحان اللہ۔ کیا جامع مسجد تعمیر کی؟ بلا شبہ فن تعمیر کا لازوال شاہکار‘ نہایت وسیع اور بلند و بالا چھت‘ اس کے ستون پُر ہیبت اور مضبوط ہیں‘ اندر سے ساری مسجد سفید ہے‘ اس کا فرش بھی سفید ٹائلوں سے بنایا گیا۔
محراب کے علاوہ تین اطراف میں نہایت وسیع بالکونیاں ہیں جہاں مختلف فن کے علماء تشریف فرما ہوتے اور طلبہ اپنے ذوق کے مطابق ان سے درس لیتے۔ اس مسجد کی خوبی یہ ہے کہ محراب میں کھڑے ہو کر بات کریں تو پوری مسجد میں یکساں سنائی دیتی ہے۔ موسم کے مطابق مسجد کو گرم رکھنے کا معقول انتظام تھا لیکن سقوط غرناطہ کے بعد جسے آج 526 سال مکمل ہو چکے ہیں اسے گرجا گھر میں تبدیل کیا گیا۔ اسپین کی حکومت نے مسجد کی اصلی حالت کو تبدیل نہیں کیاکیونکہ وہ اس کے ذریعے لاکھوں یورو ماہانہ کماتے ہیں۔ لیکن مسجد کے درمیان میں گرجا کی شکل میں مختصر تعمیر کی ہے جہاں بڑے بڑے بت ہیں اور ان پر گولڈن کلر لگا رکھا ہے۔ بلکہ مسجد کے اطراف میں بہت قیمتی پھول نقش کئے گئے اور ان میں بڑے بڑے بت ہیں‘ یہ سب دیکھ کر دل خون کے آنسو رویا لیکن بے بسی اور امت مسلمہ کی بے حسی پر ماتم ہی کیا جا سکتا ہے۔ ہم تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ مسجد میں گزارنے کے بعد باہر نکلے تو شام کے سائے ڈھل چکے تھے۔ دل بوجھل اور ہرطرف اداسی نظر آرہی تھی۔ کوئی چیز اچھی نہیں لگ رہی تھی۔ میں نے حبیب سے کہا چلو گاڑی پر ذرا شہر سے باہر نکلتے ہیں لہٰذا ہم نے شہر سے باہر جانے کے لیے پارکنگ سے گاڑی نکالی تو ایک صاحب اور مل گئے۔ انہوں نے یہ دیکھ کر کہ ہم یہاں اجنبی ہیں اور محض سیر کے لے آئے ہیں مشورہ دیا کہ آپ عباسیہ ضرور جائیں‘ یہ غرناطہ کی خوبصورت ترین جگہ ہے۔ جو بلند چوٹی پر قدیم آبادی ہے اور جسے اسی حالت میں رکھا گیا ہے۔ یہاں ایک مسجد بھی ہے جہاں مسلمان نماز پڑھتے ہیں لہٰذا ہم نے اس طرف کا رخ کیا۔ یکطرفہ ٹریفک کی وجہ سے باہر نکلتے کافی وقت لگا اور سورج غروب ہو گیا‘ شاید یہ ہمارے لیے اچھا ہوا کیونکہ وہاں سے شہر کا نظارہ رات کو ہی اچھا لگتا ہے۔ ہم تقریباً ایک گھنٹہ کی ڈرائیونگ کے بعد عباسیہ پہنچ گئے۔ صحیح بات یہ ہے کہ وہاں سے شہر غرناطہ ہمیں اپنے قدموں میں لگا۔ روشن اور خوبصورت جگمگاتا غرناطہ۔… جب کہ عباسیہ بہت قدیم آبادی کا خوبصورت حصہ‘ چھوٹی گلیاں چھوٹے چھوٹے گھر اور کہیں کہیں مختصر دکانیں۔ پہاڑ پر موجودیہ بستی کسی دور میں امراء کا رہائشی علاقہ تھا‘ اب بھی یہاں آنے جانے کے لیے گاڑی ضروری ہے‘ بہت سحر انگیز جگہ ہم گاڑی میں ان گلیوں میں گھومتے رہے‘ مسجد تلاش کی لیکن نہ مل سکی اور رات گئے ہم اپنے ہوٹل لوٹ آئے۔ہمارا ہوٹل پرانے غرناطہ میں موجود تھا جس کی گلیاں زیادہ بڑی نہ تھیں‘ یکطرفہ ٹریفک میں ایک گاڑی باآسانی گزر سکتی تھی۔ پختہ اینٹ سے بنی یہ گلیاں بہت صاف ستھری‘ ہم ان گلیوں میں گھومنے لگے۔ مجھے یہ عمل بہت اچھا لگا گویا آج سے صدیوں پہلے کے دور میں پہنچ گیا ہوں۔ لوگوں کی آمد و رفت جاری تھی‘ کھانے پینے کی دکانیں کھلی تھیں‘ دوسرے دن ہمیں قرطبہ جانا تھا لہٰذا ہوٹل واپس آ گئے۔
ہم علی الصبح بیدار ہوئے‘ نماز سے فراغت کے بعد میں صبح غرناطہ دیکھنے باہر نکل گیا‘ ٹھنڈی ہوا اور فضا میں کافی خنکی تھی۔ تقریباً ایک گھنٹہ سیر کے بعد واپس آیا‘ گرم پانی دستیاب تھا لہٰذا تازہ دم ہوئے ناشتہ کیا اور قرطبہ کی طرف رواں دواں ہوئے۔ ……… (جاری)


No comments:

Post a Comment