احکام ومسائل 26/2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Sunday, July 07, 2019

احکام ومسائل 26/2019


احکام ومسائل

جناب مولانا الشیخ حافظ ابومحمد عبدالستار الحمادd
خط وکتابت:  مرکز الدراسات الاسلامیہ ۔ سلطان کالونی‘ میاں چنوں‘ خانیوال‘ پاکستان  ای میل:  markaz.dirasat@gmail.com

کتا پالنا؟!
O ہمارے ہاں کتے رکھنے کا رواج ہے‘ جبکہ رسول اللہe نے انہیں قتل کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس مسئلہ کی وضاحت کریں کہ کتے پالنے کی کس حد تک اجازت ہے؟ کتاب وسنت میں ان کے متعلق کیا ہدایات ہیں۔
P شریعت اسلامیہ میں شوقیہ اور فیشن کے طور پر کتا رکھنے کی اجازت نہیں۔ ہاں جن کتوں سے کوئی فائدہ وابستہ ہو انہیں اس فائدے کے پیش نظر رکھنے کی اجازت ہے۔ قدیم زمانہ میں کھیتی‘ ریوڑ کی حفاظت اور شکار کے لیے کتے رکھے جاتے تھے۔ شریعت نے ان ہر سہ فوائد کے لیے کتا رکھنے کی اجازت دی ہے۔ چنانچہ رسول اللہe کا ارشاد گرامی ہے: ’’جس شخص نے ریوڑ کی حفاظت والے کتے یا شکاری یا کھیتی کی نگرانی کے علاوہ کوئی کتا رکھا تو اس کے اجر سے روزانہ ایک قیراط کم کیا جاتا رہے گا۔‘‘ (بخاری‘ الحدیث: ۲۳۲۲)
ایک روایت کے مطابق دو قیراط کی مقدار اجر وثواب کی کمی ہوتی رہتی ہے۔ (بخاری‘ الذبائح: ۵۴۸۰)
دور حاضر میں تفتیشی کتے بھی رکھے جاتے ہیں۔ فوج میں سراغ رسانی کے لیے انہیں استعمال کیا جاتا ہے۔ ان کتوں کے علاوہ جو مذکورہ جائز کام سرانجام نہیں دیتے ان میں سے خالص سیاہ رنگ کے کتے جس کی آنکھوں کے اوپر دو نقطے ہوں انہیں مارنے کا حکم ہے۔ اس صفت کے حامل کتوں کو شکار‘ کھیتی باڑی اور ریوڑ کی حفاظت کے لیے بھی نہیں رکھنا چاہیے۔ انہیں شیطان کہا گیا اور انہیں مار دینے کا حکم ہے۔ رسول اللہe کا ارشاد گرامی ہے: ’’تم دو نقطوں والے سیاہ کتے کو قتل کرو کیونکہ وہ شیطان ہے۔‘‘ (مسلم‘ المساقاۃ: ۱۰۲۰)
اسی طرح کاٹنے والے باؤلے کتے کو بھی مار دینے کا حکم ہے۔ حدیث میں ہے: ’’پانچ چیزیں موذی اور ضرر رساں ہیں انہیں حرم اور غیر حرم میں مار ڈالا جائے۔ سانپ‘ کوا‘ چوہیا‘ چیل اور کاٹنے والا کتا‘ انہیں مار دینا چاہیے۔‘‘ (بخاری‘ بدء الخلق: ۳۳۱۵)
ان کے علاوہ جو عام کتے ہوں جو نقصان نہ کرتے ہوں انہیں مارنا جائز نہیں۔ چنانچہ رسول اللہe نے جب کتوں کو مارنے کا حکم دیا‘ یہاں تک کہ دیہات سے جب کوئی عورت اپنے کتے کے ساتھ مدینہ طیبہ آتی تو صحابہ کرام] اسے بھی مار ڈالتے۔ رسول اللہe نے انہیں قتل کرنے سے منع کر دیا۔ (مسلم‘ المساقاۃ: ۴۰۱۹)
کتا رکھنے سے ثواب میں جو کمی ہوتی ہے اس کے کئی ایک اسباب ہیں۔ مثلاً
\          کتا رکھنے سے رحمت کے فرشتے گھر میں داخل نہیں ہوتے۔
\          ان کتوں سے مسافروں کو تکلیف ہوتی ہے۔
\          کثرت نجاسات کی وجہ سے بدبو کا باعث ہوتے ہیں۔
\          بعض کتوں کو شیطان کہا گیا ہے جیسا کہ سابقہ ایک حدیث میں اس کی صراحت ہے۔
\          اہل خانہ کی غفلت کی وجہ سے برتنوں کو سونگھتا پھرتا ہے اور انہیں پلید کرتا ہے۔
ہاں جن کتوں سے کوئی فائدہ پہنچتا ہو وہ اس سے مستثنیٰ ہیں۔ مصلحت کو ان کے فساد پر ترجیح دی گئی ہے۔ ہمارے رجحان کے مطابق شوقیہ اور فیشن کے لیے کتا رکھنا اس وعید کی زد میں آتا ہے۔ واضح رہے کہ حدیث میں قیراط یا دو قیراط ثواب میں کمی کا ذکر ہے۔ قیراط کی صحیح مقدار تو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے البتہ اس مقام پر ایک تصور دلایا گیا ہے کہ ایسا کام کرنے سے ثواب میں اتنی کمی ہو جائے گی۔ واللہ اعلم!
ہدیہ کا بدلہ دینا
O کسی شخص کو تحفہ دے کر اس سے تحفہ کی توقع رکھنا شرعا کیسا ہے؟ کیا شریعت میں اس کی گنجائش ہے؟ وضاحت کریں۔
P ھبہ‘ ھدیہ اور صدقہ ضرورت مند حضرات سے تعاون کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔ کتاب وسنت میں اس کے متعلق بہت ترغیب دی گئی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’جب تمہیں کوئی تحفہ دے تو جواب میں تم اس سے بہتر یا کم از کم اس جیسا واپس کرو۔‘‘ (النساء: ۸۶)
رسول اللہe کا ارشاد گرامی ہے: ’’تم آپس میں ہدایا اور تحائف کا تبادلہ کیا کرو کیونکہ ایسا کرنے سے محبت میں اضافہ اور دلوں سے نفرت وکدورت دور ہوتی ہے۔‘‘ (الادب المفرد: ۵۹۴)
رسول اللہe کی سیرت طیبہ کا ایک پہلو بایں الفاظ بیان ہوا ہے کہ رسول اللہe ہدیہ قبول کرتے تھے اور اس کا بدلہ بھی دیتے تھے۔ (بخاری‘ الہبہ: ۲۵۸۵)
اگر کوئی شخص اپنی رضامندی سے کسی کو کوئی چیز ہبہ کرتا ہے اور جس کو تحفہ دیا گیا ہے اسے بخوشی قبول کر کے اس پر قبضہ کر لیتا ہے تو ہبہ کی ہوئی چیز دینے والے کی ملکیت سے نکل کر لینے والے کی ملکیت میں آجاتی ہے‘ اس کے بعد اس کی واپسی کا مطالبہ کرنا انتہائی مکروہ حرکت ہے۔ حدیث میں اس کے متعلق بہت بڑی مثال بیان ہوئی ہے۔ رسول اللہe کا ارشاد ہے: ’’جو شخص ہدیہ دے کر اسے واپس لے‘ اس کی مثال اس کتے جیسی ہے جس نے کوئی چیز کھائی‘ جب خوب پیٹ بھر گیا تو اسے قے کر کے نکال دیا پھر خود اسے چاٹنے لگا۔‘‘ (ابوداؤد‘ البیوع: ۳۵۳۹)
مکارم اخلاق کا تقاضا یہی ہے کہ ہدیہ دے کر اسے واپس نہیں لینا چاہیے‘ بہرحال تحائف کے تبادلے کی اس کریمانہ سنت کا رواج بہت کم نظر آتا ہے۔ بہرحال رسول اللہe کی سیرت طیبہ کا تقاضا ہے کہ ہدیہ قبول کرنے کے بعد ہدیہ دینے والے کو بدلے میں کچھ دیا جائے۔ نیز ہدیہ دینے والا اگر ضرورت مند ہے تو وہ اپنے ہدیے کے بدلے کی توقع بھی رکھ سکتا ہے اس میں چنداں حرج نہیں۔ واللہ اعلم!
جائز اور ناجائز وصیت
O ہمارے بزرگ جو وصیت کر جاتے ہیں‘ اس پر عمل کرنا ضروری خیال کیا جاتا ہے۔ اس سلسلہ میں شریعت کا ضابطہ کیا ہے؟ کس قسم کی وصیت قابل عمل ہوتی ہے؟ کتاب وسنت کی روشنی میں اس کی وضاحت کر دیں۔
P شریعت میں وصیت کو تین لغوی معنوں میں استعمال کیا جاتا ہے جس کی تفصیل حسب ذیل ہے:
\          کسی کو اچھے کام کرنے اور برے کاموں سے اجتناب کرنے کی تاکید کرنا‘ اسے اخلاقی وصیت کہا جاتا ہے۔ بزرگ حضرات کی وصیت اسی قسم کی ہوتی ہے۔
\          کسی کو اپنی زندگی ہی میں اپنے مرنے کے بعد کسی کام کی ذمہ داری سونپنا‘ اسے معاشرتی وصیت کہا جاتا ہے۔ مثلاً مرنے کے بعد بچوں کی نگرانی کرنے کی وصیت کرنا۔
\          کسی غیر وارث کو اپنی جائیداد سے مخصوص حصہ دینے کی تاکید کرنا۔ اسے مالی وصیت کا نام دیا جاتا ہے۔
ہمارے ہاں وصیت سے مراد یہ آخری وصیت ہوتی ہے۔ اس مالی وصیت میں ایک کی طرف سے دوسرے کو انتقال ملکیت ہوتا ہے۔ ہمارے نزدیک انتقال ملکیت کی دو صورتیں ہیں: 1 اختیاری اور 2 غیر اختیاری۔
Ý          اختیاری: انتقال ملکیت اگر معاوضے سے ہے تو اسے خرید وفروخت کہا جاتا ہے اور اگر معاوضے کے بغیر ہے تو اس کی دو قسمیں ہیں:
|          پہلی قسم یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی میں معاوضہ کے بغیر اپنی کوئی چیز کسی دوسرے کی ملکیت میں دے دے۔ اسے عطیہ یا ہبہ کہا جاتا ہے۔
|          اگر مرنے کے بعد عمل میں آئے تو اسے وصیت کہتے ہیں۔
Þ          غیر اختیاری: انتقال ملکیت وراثت کی شکل میں سامنے آتا ہے‘ دین اسلام میں وصیت کا ایک ضابطہ ہے جس کی تفصیل حسب ذیل ہے:
|          جس کے حق میں وصیت کی گئی ہے‘ وہ شرعی طور پر میت کے ترکہ کا وارث نہ ہو کیونکہ اس نے ترکہ سے حصہ لینا ہے۔ اسے دوہرا حصہ دینے کی ضرورت نہیں۔ رسول اللہe نے شرعی وارث کے لیے وصیت کرنے سے منع فرمایا ہے۔
|          انسان کو اپنے مال یا جائیداد سے زیادہ سے زیادہ ½ حصہ کی وصیت کرنے کا حق ہے اس سے زیادہ وصیت کرنے کا حق کسی کے پاس نہیں۔ اگر کوئی اس سے زیادہ کی وصیت کرتا ہے تو تہائی کے اندر ہی اس کی وصیت پوری کی جائے گی۔
|          وصیت کسی ناجائز کام کے لیے نہ ہو۔ اگر کسی حرام یا مکروہ کام کی وصیت کی ہے تو اسے پورا نہیں کیا جائے گا۔ مثلاً مرنے والا وصیت کر جائے کہ مجھے ریشمی کفن دیا جائے یا میری قبر کو پختہ کیا جائے یا دھوم دھام سے چہلم کیا جائے تو اس صورت میں وصیت پر عمل نہیں ہو گا۔ کیونکہ ان میں سے کوئی چیز بھی شریعت کی رو سے جائز نہیں۔
|          ایسی وصیت بھی کالعدم ہو گی جس کے ذریعے کسی وارث کی حق تلفی ہوتی ہے۔ چنانچہ قرآن کریم نے وصیت اور قرض کی ادائیگی کا حکم بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کسی کو نقصان پہنچانے والا نہ ہو۔
ہمارے رجحان کے مطابق اگر کسی بزرگ نے غلط یا ناجائز وصیت کی ہے تو پس ماندگان کا فرض ہے کہ وہ اس کی اصلاح کریں اور اصلاح کے بعد اسے نافذ کریں۔ اسے جوں کا توں نافذ کرنا عقل مندی نہیں۔ قرآن کریم میں اس کی صراحت ہے۔ (البقرہ: ۱۸۰)


No comments:

Post a Comment