اداریہ 26/2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Sunday, July 07, 2019

اداریہ 26/2019



افغان صدر کا دورۂ پاکستان اور افغان امن عمل

افغانستان اور پاکستان دونوں ہمسایہ ہی نہیں بلکہ اسلام کے رشتے میں جڑے دو برادر ملک ہیں۔ دونوں کے ما بین دیرینہ جغرافیائی اور تاریخی تعلقات ہیں۔ دونوں ممالک میں آج تک سرحد یا ڈیورنڈ لائن صرف نقشوں تک محدود تھی عملاً یہ ایک ہی ملک لگتا تھا۔ سرحد کے دونوں جانب آباد قبائل کے درمیان رشتے ناطے بہت مضبوط ہیں لیکن دونوں ممالک کے سربراہان مملکت کے تعلقات میں ہمیشہ سرد مہری کا عنصر غالب رہا ہے۔ تخت کابل کا جھکاؤ ہمیشہ دہلی کی طرف رہا ہے‘ اسے بھارت کی عمدہ سفارت کاری یا چانکیہ کی فطری عیاری کہہ لیں۔ بھارت آج بھی وہاں بڑی مضبوطی سے پنجے گاڑے ہوئے ہے۔
ان حالات میں افغان صدر اشرف غنی کے د ورۂ پاکستان سے دونوں ممالک کے درمیان آلودہ فضا کو کسی حد تک کم کرنے کے امکانات پیدا ہوئے ہیں لیکن اس کے ساتھ زمینی حقائق یہ ہیں کہ اشرف غنی افغانستان کے صدر ضرور ہیں مگر ان کے پاس اختیارات بالکل نہیں۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ انہیں امریکہ نے صدارتی بیساکھیاں مہیا کر رکھی ہیں جن کے سہارے وہ قائم ہیں۔ بہرحال ’’دیر آید درست آید‘‘ انہوں نے برف کو پگھلانے اور حالات کو درست سمت لے جانے کے لیے دورہ پاکستان کا انتخاب کیا‘ اس سے امید ہے کہ بہت سی غلط فہمیاں دور ہوں گی۔
اس دورہ کی تکلیف سب سے زیادہ بھارت کو ہوئی ہے۔ اس دورے کے ثمرات کو زائل کرنے کے لیے بھارتی ایجنسیوں نے کابل کو خون میں نہلا دیا۔ یہ بالکل اسی طرز کا حملہ تھا جیسا ۱۶ دسمبر کو پشاور میں پبلک آرمی سکول پر حملہ کرایا گیا اور ایک سو سے زائد بچوں کو شہید کر دیا گیا۔ کابل میں بھی سکول کے بچوں سے بھارتی ایجنسیوں نے خون کی ہولی کھیلی۔ ہم اس سانحہ کی بھر پور مذمت کرتے ہیں اور افغان انتظامیہ سے استدعا کرتے ہیں کہ اب وقت آگیا ہے کہ افغانستان اپنے دوستوں اور دشمنوں کو پہچانے۔ بھارت کو افغانوں کے مسائل دکھ درد سے کوئی سروکار نہیں۔ وہ تو صرف پاکستان کو گھیرنے اور بلوچستان کو توڑنے کے لیے اس کے ساتھ افغانوں کو ورغلا کر ہمارے خلاف استعمال کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
صدر اشرف غنی کی آمد کے موقع پر پاکستان اور افغانستان کے درمیان کرکٹ ورلڈ کپ کا میچ ہوا اور اس میں بھی بھارتی ’’را‘‘ نے پوری طرح فائدہ اٹھایا اور افغان وپاکستان شائقین کو ایک دوسرے سے لڑانے کی پوری کوشش کی۔ اس پر سوشل میڈیا پر بدقسمتی نے افغانوں کے خلاف بہت کچھ زہریلا پروپیگنڈہ بھی کیا گیا۔ اہل پاکستان کو چاہیے کہ وہ بڑا بھائی ہونے کے ناطے بڑے پن کا مظاہرہ کریں جو ہمارا ہمیشہ سے خاصہ رہا ہے۔
روس نے جب افغانستان کو روندا تھا اور اس کے قہر وغضب سے کوئی محفوظ نہ تھا تو یہ پاکستان ہی تھا جو اپنے بھائیوں کی مدد کے لیے ایک سپر پاور کے سامنے آن کھڑا ہوا۔ اس وقت تقریبا پچاس لاکھ افغانوں کو پاکستان نے پناہ دی۔ آج ان کی نسلیں پاکستان میں ہی رچ بس گئی ہیں۔ اسی طرح جب امریکہ نے افغانستان کو تباہ وبرباد کیا تب بھی لاکھوں کی تعداد میں مزید افغانوں کو پاکستان نے ہی پناہ دی۔ یہ کوئی احسان نہیں تھا بلکہ برادر اسلامی ملک ہونے کے ناتے ہماری ذمہ داری تھی۔
ہم نے جس طرح اپنے افغان بھائیوں کا مصائب وآلام میں ساتھ دیا ایسے ہی افغانستان کے حکمرانوں کو چاہیے تھا کہ وہ پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط اور مثبت رکھتے‘ لیکن کابل نے ہمیشہ پاکستان کی محبت کا جواب نفرت سے دیا۔ دنیا جانتی ہے کہ ٹی ٹی پی جیسی دہشت گرد تنظیموں کی پرورش افغانستان میں ہوئی۔ ہماری بہادر فوج نے جب دہشت گردوں کے خلاف آپریشن رد الفساد اور ضرب عضب کیا تو ارض پاک پر ان دہشت گردوں کے لیے کوئی جگہ محفوظ نہ رہی تو وہ افغانستان فرار ہوئے۔ افغانستان نے بھارت کی ایما پر پاکستان دشمنی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان دہشت گردوں کو افغانستان میں پناہ دی بلکہ را کے قائم کردہ دہشت گردی کے مراکز میں تربیت کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔
اشرف غنی صاحب کو دور اندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مستقبل قریب کے جنوبی ایشیا کے بدلتے حالات کو سامنے رکھنا چاہیے۔ امریکہ جو ان کا گرینڈ فادر ہے اس کے لیے افغانستان میں رہنا ممکن نہیں رہا۔ اس کے جانے کے بعد بھارت کے قدم بھی اکھڑ جائیں گے۔ ایسی صورت میں پاکستان ہی ایسا ملک ہے جو پڑوسی ہونے کے سبب افغانستان کی مشکلات میں اس کا ساتھ دے سکتا ہے۔ اس کے مسائل میں ہاتھ بٹا سکتا ہے۔ لہٰذا اشرف غنی صاحب! آپ بھی پاکستان کے مسائل کو سمجھیں اور افغانستان سے جو دشمنی کا رویہ اپنا رکھا ہے اس میں تبدیلی لائیں۔ بھارت کو جس طرح سر پر چڑھا رکھا ہے اسے اس کی اوقات میں رکھیں۔ بھارت کی ایجنسیوں کے کردار کو ختم کر کے نہ صرف افغانستان میں قتل وغارت کو روکیں بلکہ پاکستان پر جو دہشت گردی وہاں سے مسلط کی گئی ہے اسے بھی جڑ سے اکھاڑنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ اس وقت امن دونوں ملکوں کی ضرورت ہے‘ امن ہو گا تو تجارت کو فروغ ملے گا۔ لوگوں کے مسائل ختم ہوں گے۔ امن کی صورت میں نو آزاد ریاستوں کا گوادر کے ذریعے تجارت کا خواب پورا ہو گا اور گیس پائپ لائن پاکستان تک پہنچائی جا سکے گی۔ امن ہی کی صورت میں افغانستان کی تعمیرو ترقی کا آغاز ہو سکے گا جس میں پاکستان کو مرکزی کردار ادا کرنا چاہیے۔


No comments:

Post a Comment