ختم نبوت قرآن وسنت کی روشنی میں 26/2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Sunday, July 07, 2019

ختم نبوت قرآن وسنت کی روشنی میں 26/2019


ختم نبوت ... قرآن وحدیث کی روشنی میں

تحریر: مولانا عبیداللہ لطیف
قارئین ! اﷲ رب العزت نے اپنے تمام انبیاء و رسل کو ایک جگہ جمع کرکے وعدہ لیا کہ اگر تمھاری نبوت کے دوران میرا آخری نبی آجائے تو تمھیں نہ صرف اس پر ایمان لانا ہوگا بلکہ ہر طرح سے ا س کی مدد بھی کرنا ہوگی۔ یعنی اس کے دور نبوت میں تمھاری نبوت نہیں چل سکے گی۔ اس بات کا تذکرہ رب ذوالجلال نے قرآن مقدس میں اس طرح کیا ہے:
 پہلی آیت:
﴿وَ اِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِيْثَاقَ النَّبِيّٖنَ لَمَاۤ اٰتَيْتُكُمْ مِّنْ كِتٰبٍ وَّ حِكْمَةٍ ثُمَّ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهٖ وَ لَتَنْصُرُنَّهٗ١ؕ قَالَ ءَاَقْرَرْتُمْ وَ اَخَذْتُمْ عَلٰى ذٰلِكُمْ اِصْرِيْ١ؕ قَالُوْۤا اَقْرَرْنَا١ؕ قَالَ فَاشْهَدُوْا وَ اَنَا مَعَكُمْ مِّنَ الشّٰهِدِيْنَ۰۰۸۱﴾ (ال عمران)
’’جب اﷲ تعالیٰ نے نبیوں سے عہد لیا کہ جو کچھ میں تمھیں کتاب و حکمت سے دوں ، پھرتمہارے پاس وہ رسول آئے جو تمھارے پاس کی چیز کو سچ بتائے تو تمھارے لیے اس پر ایمان لانا اور اس کی مدد کرنا ضروری ہے۔ فرمایا کہ تم اسکے اقراری ہو اوراس پر میرا ذمہ لے رہے ہو؟ سب نے کہا: ہمیں اقرار ہے۔فرمایا: توا ب گواہ رہو میں بھی تمھارے ساتھ گواہوں میںسے ہوں۔‘‘
قارئین ! مرزا قادیانی نے اپنی کتاب حقیقۃ الوحی میں یہی آیت درج کر کے جو ترجمہ کیا ہے ملاحظہ ہو۔ چنانچہ مرزا قادیانی لکھتا ہے کہ
﴿وَ اِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِيْثَاقَ النَّبِيّٖنَ لَمَاۤ اٰتَيْتُكُمْ مِّنْ كِتٰبٍ وَّ حِكْمَةٍ ثُمَّ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهٖ وَ لَتَنْصُرُنَّهٗ١ؕ قَالَ ءَاَقْرَرْتُمْ وَ اَخَذْتُمْ عَلٰى ذٰلِكُمْ اِصْرِيْ١ؕ قَالُوْۤا اَقْرَرْنَا١ؕ قَالَ فَاشْهَدُوْا وَ اَنَا مَعَكُمْ مِّنَ الشّٰهِدِيْنَ۰۰۸۱﴾
’’اور یاد کر جب خدا نے تمام رسولوں سے عہد لیا کہ جب میں تمہیں کتاب اور حکمت دوں گا اور پھر تمہارے پاس آخری زمانہ میں میرا رسول آئے گا جو تمہاری کتابوں کی تصدیق کرے گا‘ تمہیں اس پر ایمان لانا ہو گا اور اس کی مدد کرنی ہو گی اور کہا کیا تم نے اقرار کر لیا اور اس عہد پر استوار ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اقرار کر لیا تب خدا نے فرمایا کہ اب اپنے اقرار کے گواہ رہو اور میں بھی تمہارے ساتھ اس بات کا گواہ ہوں۔‘‘ (حقیقۃ الوحی)
مرزا قادیانی مزید ایک مقام پر لکھتا ہے کہ
’’خداتعالی نے اللہ کے نام کی قرآن شریف میں یہ تعریف کی ہے کہ اللہ وہ ذات ہے جو رب العالمین اور رحمن اور رحیم ہے جس نے زمین اور آسمان کو چھ دن میں بنایا اور آدم کو پیدا کیا اور رسول بھیجے اور کتابیں بھیجیں اور سب کے آخر میں حضرت محمد e کو پیدا کیا جو خاتم الانبیاء اور خیر الرسل ہے۔‘‘ (حقیقۃ الوحی)
دوسری آیت:
اﷲ تعالیٰ نے سورۃ البقرہ کی ابتدائی آیات میں متقین کی صفات کا تذکرہ کرتے ہوئے جن چیزوں کو ایمان کی شرائط کے طور پر بیان کیا ہے، ان میں سابقہ انبیاءo اور ان پر نازل ہونے والی کتب، نبی رحمتe اور قرآن مقدس پر ایمان لانا ہے۔ اگر کوئی نبی بعد میں بھی آنا ہوتا تو اﷲ تعالیٰ یہاں پر اس کا تذکرہ ضرور فرما دیتے۔ جہاں تک تعلق ہے عیسیٰu کی دوبارہ آمد کا تو وہ بطور امتی ہی نازل ہوں گے ۔ چنانچہ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے :
﴿وَ الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَيْكَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ١ۚ وَ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ يُوْقِنُوْنَؕ۰۰۴﴾ (البقرة)
’’اور جو لوگ ایمان لاتے ہیں اس پر جو آپ پر اتارا گیا اور جو آپ سے پہلے نازل کیا گیا اور وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔‘‘
تیسری آیت:
ایک اور مقام پر اﷲ رب العزت نے اپنے پیارے پیغمبر سید الاولین والآخرین امام الانبیاء ، خاتم النبینe کا نام لے کر آپ کوآخری نبی قرار دیتے ہوئے فرمایا:
﴿مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِيّٖنَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمًا۰۰۴۰﴾ (الاحزاب)
’’تمہارے مَردوںمیں سے محمد (e) کسی کے باپ نہیں، لیکن آپ اﷲ تعالیٰ کے رسول ہیں  اور تمام نبیوں کو ختم کرنے والے ہیں۔ اﷲ تعالیٰ ہر چیز کو بخوبی جانتا ہے۔‘‘
ان تمام آیات کریمہ سے مسئلہ ختم نبوت بالکل واضح ہو جاتا ہے ۔ یہاں پر یہ بھی یاد رہے کہ منکرین ختم نبوت ’’خاتم النبین‘‘ کامعنیٰ ’’نبیوں پر مہر لگانے والا‘‘ کرتے ہیں۔ اگر یہ مفہوم تسلیم کر لیا جائے تو معنیٰ یہ کرنا پڑے گا کہ نبی رحمتe نے پہلے انبیاء کی تصدیق وتائید کرکے ان پر مہر لگا دی ۔ بعد میں نبوت کا دعویٰ کرنے والوں کو تو آپ نے کذاب اور دجال قرار دیا ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ خاتم النبین کا صحیح مفہوم تو نبیوں کے سلسلے کو ختم کرنے والا ہی بنتا ہے، کیونکہ نبی رحمت نے اپنے فرامین میں [لَا نَبِیَّ بَعْدِی] کہہ کراس مفہوم کو واضح کردیا ہے۔
آئیے ! اب مرزا قادیانی کی طرف سے اس آیت کا کیا جانے والا ترجمہ بھی ملاحظہ کریں۔ چنانچہ مرزا قادیانی لکھتا ہے کہ
﴿مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِيّٖنَ١ؕ ۰۰۴۰﴾ (الاحزاب)
’’محمد e تم میں سے کسی مرد کا باپ نہیں مگر وہ رسول اللہ ہے ختم کرنے والا نبیوں کا ۔ ‘‘
یہ آیت صاف دلالت کر رہی ہے کہ بعد ہمارے نبی e کوئی رسول دنیا میں نہیں آئے گا۔ (ازالہ اوہام ‘ مندرجہ قادیانی خزائین)
مرزا قادیانی مزید ایک مقام پر لکھتا ہے کہ
[الا تعلم ان الرب الرحیم المتفضل سمّٰی نبیناﷺ خاتم الانبیاء بغیر استثناء وفسرہ نبینا فی قولہ لا نبي بعدی ببیان واضح للطالبین؟ ولو جوزنا ظھور نبی بعد نبیناﷺ لجوزنا انفتاح باب وحی النبوۃ بعد تغلیقھا وھذا خلف کما لا یخفی علی المسلمین وکیف یحئ نبی بعد رسولناﷺ وقد انقطع الوحی بعد وفاتہ وختم اللہ بہ النبین ؟]
’’کیا تو نہیں جانتا کہ فضل اور رحم کرنے والے رب نے ہمارے نبیe کانام بغیرکسی استثناء کے خاتم الانبیاء رکھا اور آنحضرت eنے لانبی بعدی سے طالبوں کے لیے بیان واضح سے اس کی تفسیر کی ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں اور اگر ہم آنحضرت e کے بعد کسی نبی کے ظہور کو جائز قرار دیں تو وحی نبوت کے دروازہ کے بند ہونے کے بعد ان کاکھلنا جائز قرار دیں گے۔ جو بالہدایت باطل ہے‘ جیسا کہ مسلمانوں پر مخفی نہیں۔ ہمارے رسولؐ کے بعد کوئی نبی کیسے آسکتا ہے جب کہ آپ کی وفات کے بعد وحی منقطع ہو گئی ہے اور اﷲ نے آپ کے ذریعے نبیوں کا سلسلہ ختم کردیا ہے۔‘‘
ایک اور مقام پر مرزا قادیانی خود ہی اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ
’’آنحضرت e نے بار بار فرمادیاکہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور حدیث [لَا نَبِیَّ بَعْدِی] ایسی مشہور تھی کہ کسی کو اس کی صحت میں کلام نہ تھا اور قرآن شریف جس کا لفظ لفظ قطعی ہے۔ اپنی آیت کریمہ [ولكن رسول الله وخاتم النبيين] سے بھی اس کی تصدیق کرتا تھا۔ کہ فی الحقیقت ہمارے نبی e پر نبوت ختم ہو چکی ہے‘‘ (کتاب البریہ حاشیہ‘ مندرجہ قادیانی خزائین)
چوتھی آیت:
﴿اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَ رَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا﴾ (الاحزاب)
’’آج ہم نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کر دیا اور اپنی نعمتیں تم پر پوری کر دیں اور تمہارے لئے اسلام کو دین پسند فرمایا۔‘‘
قارئین !اسی آیت کا تذکرہ کرتے ہوئے آنجہانی مرزا قادیانی لکھتا ہے کہ
’’ایسا ہی آیت [اليوم أكلمت لكم دينكم] اور آیت [ولكن رسول الله وخاتم النبيين] میں صریح نبوت کو آنحضرت e پر ختم کر چکا ہے اور صریح لفظوں میں فرما چکا ہے کہ آنحضرت e خاتم الانبیاء ہیں۔‘‘ (تحفہ گولڑویہ‘ مندرجہ قادیانی خزائین)
قارئین !یہ تو تھیں چند آیات مبارکہ عقیدہ ختم نبوت کے متعلق۔ اب آئیے ! ذرا ان فرامین نبویہ eکا بھی مطالعہ کریں جن میں عقیدۂ ختم نبوت کی وضاحت موجود ہے۔
پہلی حدیث:
سیدنا ابو ہریرہt سے روایت ہے کہ رسول اللہ  e نے فرمایا :
[فُضِّلْتُ عَلَى الْأَنْبِيَاءِ بِسِتٍّ: أُعْطِيتُ جَوَامِعَ الْكَلِمِ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ، وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ، وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ طَهُورًا وَمَسْجِدًا، وَأُرْسِلْتُ إِلَى الْخَلْقِ كَافَّةً، وَخُتِمَ بِيَ النَّبِيُّونَ.] (مسلم)
’’مجھے چھ چیزوں کے ساتھ فضیلت دی گئی ہے‘ مجھے جامع کلمات دئے گئے ہیں اور رعب کے ذریعے سے میری مدد کی گئی ہے‘ مال غنیمت کو میرے لیے حلال کیا گیا ہے ، میرے لئے ہی تمام زمین پاک ،مطہراور مسجد بنا دی گئی ہے اور مجھے تمام مخلوق کی طرف بھیجا گیا ہے اور میرے ساتھ نبوت کا اختتام ہو گیا ہے۔‘‘
دوسری حدیث:
سیدنا جبیر بن مطعمt سے روایت ہے کہ نبی کریمe نے فرمایا:
[لِي خَمْسَةُ أَسْمَاءٍ: أَنَا مُحَمَّدٌ، وَأَحْمَدُ وَأَنَا المَاحِي الَّذِي يَمْحُو اللَّهُ بِي الكُفْرَ، وَأَنَا الحَاشِرُ الَّذِي يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى قَدَمِي، وَأَنَا العَاقِبُ.] (بخاري)
’’میرے پانچ نام ہیں: میں محمد‘ احمد‘ اور ماحی ہوں (یعنی مٹانے والا ہوں) کہ اللہ تعالیٰ میرے ذریعہ کفر کو مٹائے گا اور میں حاشر ہوں کہ تمام انسانوں کا (قیامت کے دن) میرے بعد حشر ہو گا۔ اور میں ’’عاقب‘‘ ہوں یعنی خاتم النبیین ہوں‘ میرے بعد کوئی نیا نبی دنیا میں نہیں آئیگا۔‘‘
 تیسری حدیث:
سیدنا جبیر بن مطعمt سے روایت ہے کہ نبی کریمe نے فرمایا:
[أَنَا مُحَمَّدٌ، وَأَنَا أَحْمَدُ، وَأَنَا الْمَاحِي، الَّذِي يُمْحَى بِيَ الْكُفْرُ، وَأَنَا الْحَاشِرُ الَّذِي يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى عَقِبِي، وَأَنَا الْعَاقِبُ وَالْعَاقِبُ الَّذِي لَيْسَ بَعْدَهُ نَبِيٌّ.] (مسلم)
’’میں محمد ہوں،میں احمد ہوں ،میں ماحی ہوں یعنی اللہ تعالی میرے ذریعے کفر کو مٹائے گا ،اور میں حاشر ہوں ،لوگوںکا حشر میرے قدموں میں ہوگا اور میں عاقب ہوں اور عاقب وہ ہے جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو ۔‘‘
چوتھی حدیث:
سیدنا جابرt سے روایت ہے کہ نبی کریمe نے فرمایا:
[مَثَلِي وَمَثَلُ الْأَنْبِيَاءِ، كَمَثَلِ رَجُلٍ بَنَى دَارًا فَأَتَمَّهَا وَأَكْمَلَهَا إِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَةٍ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَدْخُلُونَهَا وَيَتَعَجَّبُونَ مِنْهَا، وَيَقُولُونَ: لَوْلَا مَوْضِعُ اللَّبِنَةِ " قَالَ رَسُولُ اللهِﷺ: فَأَنَا مَوْضِعُ اللَّبِنَةِ، جِئْتُ فَخَتَمْتُ الْأَنْبِيَاءَ.(صلوات الله وسلامه عليهم أجمعين.)] (مسلم)
’’میری مثال اور دوسرے انبیائے کرام کی مثال اس آدمی کی طرح ہے کہ جس نے ایک گھر بنایا اور اسے پورااور کامل بنایا سوائے ایک اینٹ کی جگہ کے کہ وہ خالی رہ گئی لوگ اس گھر کے اندر داخل ہوکر اسے دیکھنے لگے اور وہ گھر ان کو پسند آنے لگا وہ لوگ کہنے لگے کہ یہ ایک اینٹ کیوں نہ رکھ دی گئی رسول اللہ e نے فرمایا میں ہی اس اینٹ کی جگہ آیا ہوں اور میں نے انبیائے کرام کی آمد کا سلسلہ ختم کر دیا ہے ۔‘‘
پانچویں حدیث:
سیدنا ابوہریرہt سے روایت ہے کہ رسول اﷲe نے فرمایا:
[لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُبْعَثَ دَجَّالُونَ كَذَّابُونَ قَرِيبٌ مِنْ ثَلَاثِينَ، كُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنَّهُ رَسُولُ اللهِ.] (مسلم)
’’قیامت قائم نہ ہوگی جب تک کہ قریباً تیس دجال وکذاب پیدا نہ ہو جائیں۔ ان میں سے ہر ایک گمان کرے گاکہ وہ نبی ہے۔‘‘
چھٹی حدیث :
سیدنا ثوبانt سے روایت ہے کہ :
[وَإِذَا وُضِعَ السَّيْفُ فِي أُمَّتِي لَمْ يُرْفَعْ عَنْهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَلَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَلْحَقَ قَبَائِلُ مِنْ أُمَّتِي بِالْمُشْرِكِينَ، وَحَتَّى تَعْبُدَ قَبَائِلُ مِنْ أُمَّتِي الْأَوْثَانَ، وَإِنَّهُ سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي كَذَّابُونَ ثَلَاثُونَ، كُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ، وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ لَا نَبِيَّ بَعْدِي، وَلَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي عَلَى الْحَقِّ -قَالَ ابْنُ عِيسَى: "ظَاهِرِينَ" ثُمَّ اتَّفَقَا- لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَالَفَهُمْ، حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ.] (أبوداود)
’’جب میری امت میں تلوار رکھ دی جائے گی تو وہ اس سے روز قیامت تک نہ اٹھائی جائے گی اور قیامت قائم نہ ہوگی حتی کہ میری امت کے بعض قبائل مشرکوںکے ساتھ نہ مل جائیںاور بتوں کی عبادت نہ کرنے لگیں۔ اور بے شک عنقریب میری امت میں تیس کذاب پیدا ہوں گے ان میںسے ہر ایک یہ گمان کرے گا کہ وہ اﷲ کا نبی ہے۔ جبکہ میں خاتم النبین ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا اور میری امت کا ایک گروہ حق پر رہے گا اور وہ غالب ہوں گے ۔جو ان کی مخالفت کریں گے وہ ان کو ضرر نہ پہنچا سکیں گے حتی کہ اﷲ کا حکم آجائے۔‘‘
ساتویں حدیث:
سیدنا سعد بن ابی وقاصt سے روایت ہے :
[خَلَّفَ رَسُولُ اللهِ ﷺ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ تُخَلِّفُنِي فِي النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ؟ فَقَالَ: "أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى؟ غَيْرَ أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي".]
’’رسول اﷲ e نے سیدنا علیt کو مدینہ میں اپنا نائب مقرر کیا۔ جب آپe غزوہ تبوک کو تشریف لے گئے تو سیدنا علیt نے عرض کیا: یارسول اﷲ eآپe مجھ کو عورتوں اور بچوں میں چھوڑ کر جاتے ہیں؟ آپe نے فرمایا: تم اس بات پر خوش نہیں کہ تمہارا درجہ میرے ہاں ایسا ہی ہو جیسے سیدنا ہارون کا موسیٰi کے ہاں تھا۔مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں۔‘‘ (مسلم)
آٹھویں حدیث:
سیدنا ابوہریرہt سے روایت ہے کہ نبیe نے فرمایا:
[كَانَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ تَسُوسُهُمُ الأَنْبِيَاءُ، كُلَّمَا هَلَكَ نَبِيٌّ خَلَفَهُ نَبِيٌّ، وَإِنَّهُ لاَ نَبِيَّ بَعْدِي، وَسَيَكُونُ خُلَفَاءُ فَيَكْثُرُونَ.]
’’بنی اسرائیل کے انبیاء ان کی سیاسی رہنمائی بھی کیا کرتے تھے۔ جب بھی ان کا کوئی نبی فوت ہو جاتا تواس کی جگہ دوسرا نبی آجاتا لیکن یاد رکھو میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا مگر نائبین بکثرت ہوں گے۔‘‘ (بخاري)
نویں حدیث:
سیدنا عقبہ بن عامرt سے روایت ہے کہ رسول اللہ e نے فرمایا:
[لَوْ كَانَ نَبِيٌّ بَعْدِي لَكَانَ عُمَرَ بْنَ الخَطَّابِ] (جامع الترمذي)
’’اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمرؓ بن خطاب ہوتا۔‘‘
دسویں حدیث:
ایک اور حدیث مبارکہ میں نبی کریم eنے فرمایا:
[إِنَّ الرِّسَالَةَ وَالنُّبُوَّةَ قَدْ انْقَطَعَتْ فَلَا رَسُولَ بَعْدِي وَلَا نَبِيَّ.] (جامع الترمذي)
’’رسالت اور نبوت کا سلسلہ منقطع ہو چکا ہے۔ میرے بعد اب نہ کوئی رسول ہے اور نہ کوئی نبی۔‘‘
اس حدیث مبارکہ میں نبی اور رسول دونوں کی نبی آخر الزمان eکے بعد آنے کی نفی کی گئی ہے۔ آئیے ذرا اس بات پر غور کریں کہ نبی اور رسول میں کیا فرق ہوتا ہے۔ اس ضمن میں اس دور کے سب سے بڑے کذاب داعی نبوت مرزا قادیانی کا اپنا بیان قابل توجہ ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی رقم طراز ہے:
’’خدا تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ کوئی رسول دنیا میں مطیع اور محکوم ہو کر نہیں آتا بلکہ وہ مطاع اور صرف اپنی اس وحی کا متبع ہوتا ہے جواس پر بذریعہ جبریل نازل ہوتی ہے۔‘‘  (ازالہ اوہام)
مرزا قادیانی نبی کی تعریف میں یوں رقم طراز ہے کہ
’’نبی کے معنٰی صرف یہ ہیںکہ خدا سے بذریعہ وحی خبر پانے والا ہو اور شرف مکالمہ اور مخاطبہ الٰہیہ سے مشرف ہو، شریعت کا لانا اس کے لیے ضروری نہیں اور نہ یہ ضروری ہے کہ صاحب شریعت رسول کا متبع ہو۔‘‘ (ضمیمہ براہین احمدیہ‘ مندرجہ روحانی خزائن)
قارئین! قادیانی دجال کے مندرجہ بالا بیانات سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ رسول صاحب شریعت کا متبع ہوتا ہے ا ور نہ ہی وہ نئی شریعت اپنے ساتھ لاتا ہے۔ ان دونوں معنوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے حدیث کے الفاظ پر توجہ دیں تو نتیجہ یہ نکلے گا کہ نبی کریم ﷺکے بعد نہ صاحب شریعت نبی آ سکتا ہے اور نہ ہی صاحب شریعت رسول ‘رسول اور نبی دونوں کے آنے کی نفی کی ہے۔ جب کہ مرزا قادیانی نے نہ صرف نبوت کا دعویٰ کیا ہے بلکہ صاحب شریعت ہونے کا بھی مدعی ہے۔ جس کی تفصیل مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت میں موجود ہے۔
قارئین! ان تمام احادیث سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ نبی کریم eآخری نبی ہیں ۔ ان کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور جو بھی دعویٰ نبوت کرے گا وہ بمطابق فرمان نبوی کذاب و دجال ہوگا۔ اگر کوئی انسان اتنے واضح اور بین دلائل کے باوجود عقیدہ ختم نبوت کا منکر ہوتا ہے اور نبی رحمت eکے بعد کسی اور کو شریعتی یا غیر شریعتی ، ظلی یا بروزی نبی مانتاہے تو وہ نہ صرف کھلم کھلا قرآن و حدیث کا انکار کرتا ہے بلکہ وہ دائرہ اسلام سے ہی خارج ہے، کیونکہ اس پر اجماع صحابہ اور اجماع امت ہے، جس کی واضح دلیل تو یہ ہے کہ دور نبوی میں ہی جب مسیلمہ کذاب نے نبوت کا دعویٰ کیا اورنبی کریم e کے پاس پیغام بھیجا کہ میں آپ کو نبی مانتا ہوں لیکن اس نبوت میں میں بھی حصہ دار ہوں ۔ آدھی زمین نبوت کے لیے میری ہے اور آدھی آپ کی تو نبی کریم eنے جواب میں اسے کذاب کے لقب سے پکارا اور پھر طلیحہ اسدی جس نے کلمہ بھی پڑھا تھا اور شرف صحابیت بھی حاصل ہوا لیکن بعد میں مرتد ہو کردعویٰ نبوت کردیا تو دور صدیقی میں ان کے خلاف کھلا اعلان جنگ کیا گیا اور ان مرتدین سے کئی جنگیں ہوئیں ۔ جس کے نتیجہ میں سینکڑوں صحابہ کرام اور امت مسلمہ کے جرنیل صحابہ شہید ہوئے۔ مسیلمہ کذاب کو وحشی بن حرب tنے واصل جہنم کیا اور طلیحہ اسدی سچی توبہ کرکے دوبارہ مسلمان ہوگیا۔ نیزنبی کریمe کی حیات مبارکہ میںہی یمن میں اسودعنسی نے دعویٰ نبوت کیاتو حکم نبوی e کے تحت اسے بھی فیروزدیلمی نے واصل جہنم کیا۔الغرض یہ واقعات ثابت کرتے ہیں کہ اب جو بھی دعویٰ نبوت کرے گا وہ دجال اور کذاب ہوگا۔ وہ اوراس کے پیروکار دائرہ اسلام سے خارج اور مرتد ہوں گے اور ایسے لوگوں کے ساتھ وہی سلوک کرنا چاہیے جو سیدنا ابوبکر صدیقt نے اپنے دور خلافت میں کیا۔



No comments:

Post a Comment